اپنے لئے جئے تو کیا جئے

0

جس کا کوئی نہ ہواس کا تو خدا ہے یارو۔۔۔ مگر لاوارث نعشوں تدفین کرنے والے بدایوں کے شریف میاں گزشتہ 25 سالوں سے لاوارس شوو کا ان کے مذہب کے مطابق آخری رسومات انجام دیتے ہیں۔ اس کام میں وہ کسی کا سہارا بھی نہیں لیتے۔ یہ الگ بات ہے کہ وقت وقت پر کچھ لوگ ان کے ساتھ جڑتے رہتے ہیں کچھ دنوں بعد یہ ذمہ وہ خودہی اٹھاتے ہیں۔

شریف میا (55) بدایوں ضلع کے شہر میں پرانا بس اسٹینڈ کے قریب رہتے ہیں۔ بچپن سے ہی انہیں سماجی کاموں کا شوق تھا۔ 1991 میں انہیں پتہ چلا شہر میں ایک لاوارس نعش ملی ہے، جس کا اپنا کوئی نہیں ہے۔ ان کے دماغ میں ایک سوال آیا کہ اب اس نعش کے آخری رسومات کون کرےگا۔ اس کی تدفین کس طرح ہوگی۔ اور کون کرے گا۔ اسی دن سے شریف میاں کو جہاں سے بھی اس طرح کی خبر ملتی وہ اس کی ذمہ داری اٹھانے کےلئے تیار ہو جاتے۔ اس وقت سے لے کر آج تک لاوارث نعشوں کے آخری رسومات وہ ان کے مذہب کے مطابق کرتے ہیں۔

اس کام کے لئے مختلف ضروریات کچھ لوگ کبھی کبھی پیسہ، لکڑی اور کپڑا دے کر پورا کر دیتے ہیں۔

شریف میاں نے ایک ویان بھی رکھی ہے جو صرف لاوارث لاشو کو لانے کا کام کرتی ہے۔ چاہے کوئی کام ہو وہ اپنا کام چھوڑ کر اس کام میں لگ جاتے ہیں۔

انہونے ایک ادارہ بھی بنایا ہے، جس میں 4 سے 11 ارکان رہتے ہیں ، مگر لاوارث نعشوں کے جنازے کی ذمہ داری وہ خود ہی اٹھاتے ہیں۔

کسی مذہب کی نعش کیوں نہ ہو ان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے شریف میا کہتے ہیں یہی میری خدمت ہے۔

روبی سینگھ