امرتا پریتم کی یاد میں...

عورت کو مرد بننا ضروری نہیں، اپنی داخلی شخصیت کے امکان کو اجاگر کرنا ضروری

0


معاشرے کی ساخت دیکھیں تو ہمیں ہر چیز دو حصوں میں بنٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے، جیسے دن رات، اچھا- برا، سیاہ - سفید وغیرہ۔ سب سے اہم حصہ عورت اور مرد ہیں، جو سماج کے ہر حصے سے متاثر ہیں اور ہر ایک پہلو کو متاثر کرتے ہیں۔ گھر باہر جہاں تک بھی نظر جاتی ہے، ہم عورت مرد کے تنازعہ / تنقید سے مختلف ہو کر سوچ پانا بہت حد تک ناممكن ہے۔ عورت سے تفریق کو تو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس سے تھوڑا ہٹ کر سوچیں تو سماج کی کئی پرتیں ایسی دکھائی دیتی ہیں، جہاں عورت نے اپنے ساتھ ہوئے تفرقے کو اپنی منزل کے کے راستے کا روڑآ نہیں آنے دیا۔ تاریخ کے صفحات کےہاشئے پر ہی سہی، پر کچھ الفاظ ایسے ملتے ہیں جہاں عورت ایک مثال بن کر ابھری ہے۔ ایسی ہی ایک مثال ہیں امرتا پریتم۔

امرتا پریتم کی پیدائش 31 اگست، 1919 کو گوجران والہ، پنجاب میں ایک عام سے خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد ٹیوٹر تھے اور جب وہ گیارہ سال کی تھیں تو ان کی ماں کا انتقال ہو گیا۔ زندگی کے شروع میں جو مشکلات تھی وہ تو رہیں، لیکن آگے بھی، پھولوں سے لدےسبز باغ ان کا انتظار نہیں کر رہے تھے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ معاشرے کی کہانی عورت کی کہانی نہیں بنتی لیکن، نسوانیت جب خود اپنی کہانی کے لئے اوزار ڈھونڈتی ہے اور انہیں اپنی راہ بنانے میں استعمال کرتی ہے، تو سماج کی کہانی کی نشاندہی کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ امرتا پریتم کی کہانی کو معاشرے کی کہانی کے صفحات پر پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کی شادی کم عمر میں ہوئی۔ یہ واقعہ بھی انہیں زندگی کی رفتار میں روڑا نہیں بن پایا۔ مخالفت کے باوجود ان کا پہلا شاعری- مجموعہ "امرت لہریں" تب شائع ہوا جب وہ محض سولہ سال کی تھیں۔ بچپن میں ایک بار، محبت کے موضوع پر ایک نظم لکھی تووالد نے ان کوخوب ڈانٹا اور الرٹ کیا کی یہ ان کا راستہ نہیں۔ تب ان کو کیا پتہ تھا کی محبت کے قصے کہنا اور محبت میں رہنا ہی ان کا راستہ ہوگا۔ امرتا پریتم کو اس راہ سے کوئی ڈگا نہیں سکا۔ 1936 سے 1960 تک، وہ اپنے شوہر پریتم سنگھ کے ساتھ رہتے ہوئے بھی کبھی گھریلو ڈھانچے میں نہیں ڈھل پائیں۔

ساحر لدھیانوی کے ساتھ ان کی محبت کے چرچے ہر جگہ ہوتے ہیں اور اس معاشرے میں شادی شدہ عورت کسی اور سے محبت کرے، یہ کبھی بھی قبول نہیں کیا گیا۔ امرتا پریتم کی بے حد مضبوط شخصیت نے کبھی بھی کسی بات، تنقید کو اپنی شخصیت پر اثرانداز ہونے نہیں دیا۔ ادب کے ساتھ ان رشتہ اور مظبوط ہوتا گیا۔

امروز کے ساتھ ان کی محبت، ایک منفرد داستان مانی جاتی ہے۔ چالیس سال کے اس سفر میں انی ادبی زندگی اور نکھرتی گئی۔ صرف محبت ہی نہیں، معاشرے کے درد نے بھی انہیں جھكجھوڑا۔ ملک کی تقسیم نے ان کے ذاتی درد کو پیچھے چھوڑ دیا اور وہ پوری-انسانیت کے درد کو محسوس کرنے والی ایک حساس عورت کے طور پر سامنے آئیں۔ ان کی شاعری 'آج وارث شاہ نون'، درد میں ڈوبی لوگوں کی آواز۔ امرتا پریتم نے جس حوصلے سے، معاشرے کی روایات کے برعکس اپنی انفرادی شناخت بنائی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ایک بات صاف کرنا ضروری ہے کہ روایات کے برعکس جانا ہی بڑی بات نہیں پر برعکس جاکر اپنے آپ کو قائم رکھنا اور اس پر ڈٹے رہنا بڑی بات ہے۔

امرتا کو انگنت ایوارڈس سے نوزا گیا ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ مخالف لہر کا بھی اپنا ایک وجود ہوتا ہے اور آخلاص کے ساتھ جئے ہوئے پل شخصیت کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کا فائدہ پہنچاتے ہیں۔ بھلے ہی سماج کے بنائے قوانین کو ٹھکرایا ہو۔ ساہتہ اکیڈمی ایوارڈ (1956)، پدم-شری (1969)، پدما-وبھوشن اور کئی عالمی سطح کے ایوارڈ سے انہیں نوازا گیا- ڈی لٹ کی ڈگری اس بات کا ثبوت ہے کہ جس سماج نے ایک وقت ان کی مخالفت کی، اسی معاشرے نے ان کی ادب تخلیق کو خوب سراہا۔

ساٹھ سال کے ادبی سفر میں، انہوں نے 28 ناول، متعدد شاعری- مجموعہ، مختصر مجموعہ اور کئی منفرد اصناف کا استعمال کرتے ہوئے کئی کتابیں لکھیں۔

امرتا پریتم نے ثابت کیا کہ کہ عورت کی ہمت اور حوصلے کو کوئی بھی سزا توڑ نہیں سکتی۔ روایتی راستے ہی منزل تک نہیں لے جاتے، منزل ان راستوں سے ہو کر بھی ملتی ہے جن پر کبھی کوئی چلا ہی نہیں۔ جو راستے باہر سے دیکھنے میں حالات کے برعکس نظر آتے ہیں، حقیقت میں وہ نظروں کا دھوکہ ہوتے ہیں۔

آخر میں یہی کہوں گی کی امرتا پریتم نے عورت ہونے سے انکار کر مرد کے وجود کی طرف چلنے کی کوشش نہیں کی۔ عورت ہونا کوئی دوسرا درجہ نہیں مانا، اس کے امکانات کو پورے تندہی کے ساتھ سمجھا اور جیا۔ ایک مقام حاصل کرنے کے لئے، عورت کو مرد بننے کی ضرورت نہیں، اندر کے امکان کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ جسے امرتا پریتم نے بخوبی نبھایا۔ عورت ہونے کی خوبصورتی کو انہوں نے سمجھا اور دنیا کو بتایا بھی۔

قلمکار: منی گل....مترجم: زلیخا نظیر

.............................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج      (FACEBOOK ) پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں....

`Love Divorce & carrot juice 'کی ڈائرکٹر مالا پاشا کبھی اسی ڈرامے کی اہم کردار تھیں

روایتی ماحول سے آئی رضیہ نے لکھی کامیابی کی نئی کہانی