'سلک سٹی' اڑیسہ کے بنکروں پر پڑا نوٹ بندی کا اثر

جو بنکر ایک ماہ میں کم از کم دس پٹا فروخت کرتے تھے، نوٹ بندی کے بعد ان کی فروخت کم ہو کر تین سے چار پہنچ گئی ہے۔

0

برهامپور کی 'ریشم سٹی' کے بنکروں پر نوٹ بندی کا اثر نظر آنے لگا ہے۔ شادی بیاہ کا موسم ہونے کے باوجود ان کے پاس آرڈر کم آ رہے ہیں۔ نوٹ بندی کی وجہ کوآپریٹیو کمیٹیاں کاریگروں کو روپیہ ادا نہیں کر پا رہی ہیں۔ بینکوں سے نکاسی محدود ہونے کی وجہ سے نقد ادائیگی میں کافی مسائل آ رہے ہیں۔ آل اوڈشا دیوانگ فیڈریشن کے صدر ٹی گوپی نے کہا، 'برهام پوری پٹا کی فروخت 60 فیصد تک گھٹ گئی ہے، جبکہ نوٹ بندی کی وجہ سے تعاون پر مبنی کمیٹیاں بنکروں کو ادا نہیں کر پا رہی ہیں۔'

بیرهامپوری پٹا کی بھاری مانگ رہتی ہے۔ پٹا اور اس کی فروخت زیادہ تر کوآپریٹیو کے ذریعے کی جاتی ہے۔ ان کی سالانہ فروخت تقریبا ڈھائی سے تین کروڑ روپے تک کی ہوتی ہے۔  ایک بنکر نے کہا، 'ہم مہینے میں کم از کم 10 پٹا فروخت کر تے ہیں، لیکن اب یہ گھٹ کر تین سے چار رہ گئی ہے۔'

ادھر دوسری طرف ٹیکسٹائل ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ کونسل نے نوٹ بندی کے اثرات پر قابو پانے کے لیے برآمد یونٹس کو کچھ وقت کے لئے مستقبل فنڈ، ای ایس آئی اور سروس ٹیکس ادائیگی قوانین میں نرمی دینے اور بینکوں سے نکالنے کی حد بڑھانے کی اپیل کی ہے۔ ایکسپورٹ تنظیم نے لباس برآمد کرنے والے شعبے کو نوٹ بندی کے اثرات سے نکالنے کیلئے حکومت کو اپنی سفارشات سونپی ہیں۔ سلے ہوئے لباس کے برآمدکنندگان کو ڈیجیٹل ادائیگی اور کم نقد والی معیشت کے جانب موڑنے کے بارے میں کونسل نے حکومت کو کئی اہم سفارشات سونپی ہیں۔

کونسل نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ برآمد یونٹس کو بینکوں سے زیادہ نکاسی کی اجازت دی جانی چاہیے تاکہ وہ دستکاروں، مال لے جانے والوں، نئے نمونوں کی خریداری اور مال کے کرائے کی چھوٹی رقومات ادا کر سکیں۔

کونسل نے کہا کہ ملک بھر میں جہاں جہاں ایکسپورٹ گروپ کے کارخانے ہیں وہاں واقع بینک شاخوں میں زیادہ نقد پہنچائی جانی چاہیے۔ کونسل نے یہ بھی کہا ہے کہ جہاں جہاں لباس برآمد کنندگان کی اکائیاں کثرت میں ہیں وہاں کاریگروں کے بینک اکاؤنٹ خاص شناخت کی بنیاد پر کھولے جائیں۔