’لاوارث وارڈ‘ کے مریضوں کو نئی زندگی دینے والا مسیحا، گُرمیت سنگھ ...

0

’سجدے تو سب نے کئے، تیرا نیا انداز ہے

تُو نے وہ سجدہ کیا، جس پر خُدا کو ناز ہے‘


کہتے ہیں پیدا کرنے والےسے پالنے والا بڑا ہوتا ہے ۔ پالنے والااُس وقت اور عظیم ہو جاتا ہے جب وہ اس بات کی فکر نہیں کرتا کہ سامنے کون ہے اور یکساں جذبے، لگن اور مستعدی سے ہر کسی کی خدمت میں دن رات حاضر رہتا ہو۔ ایسی ہی ایک جیتی جاگتی تصویر کا نام ہے’ سردار گُرمیت سنگھ‘۔بنیادی طور سے ایک پاكستانی خاندان کی تیسری نسل کےفرد’ سردار گُرمیت سنگھ ‘پٹنہ شہر کے بھیڑ بھاڑ والے علاقے’ چِرّياٹانڈ ‘میں کپڑے کی دکان چلاتے ہیں۔ گزشتہ 25 سال سے’ گُرمیت سنگھ‘ مسلسل اور بِلا ناغہ شہر کے مختلف علاقوں میں بے سہارا چھوڑ دئیے گئے لوگوں کو کھانا کھلاتےہیں اور بے لوث جذبے سے اُن کی خدمت کرتے ہیں۔

’سردار گُرمیت سنگھ ‘کی پہنچ ہر اُس شخص تک ہے جو اپنوں کے ستائے ہوئے، بیمار، لاچار اور کھانے کے لئےدانے دانے کو محتاج ہیں۔ اور تو اور ’گُرمیت سنگھ‘ پٹنہ میڈیکل کالج اسپتال کے اُس بدنام ’لاوارث وارڈ‘ میں مرنے کےلئے چھوڑ دئیے گئے انسانوں کے لئے روٹی اور خورد و نوش کی دیگر اشیاء کے ساتھ موجود نظر آتے ہیں جہاں عام آدمی ایک منٹ نہیں ٹھہر سکتا۔’ گُرمیت سنگھ‘ اِس وارڈ میں نہ صرف مریضوں کو روٹی کھلاتے ہیں بلکہ انہیں اشرف المخلوقات ہونے کا احساس بھی دلاتے ہیں۔

’سردار گُرمیت سنگھ‘ کی بے لوث خدمت کے پسِ پردہ ایک جذباتی کہانی ہے ۔’ گُرمیت سنگھ ‘ نے ’يوراسٹوری‘ کو بتایا :

’’اصل میں ہماری زندگی میں بھی ایک غیبی مددگار نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے ۔ ایک اجنبی فرشتے نے ہمارے رشتہ داروں کی اُس وقت مدد کی جب میَں اپنی شدید بیمار بہن کے علاج کی خاطر در در کی ٹھوکریں کھا رہا تھا۔اُس دوران اقتصادی تنگی نے ہمارے خاندان کو جكڑ رکھا تھا۔ میَں سوچتا تھا پیسہ نہ ہو تو انسان کتنا لاچار اور مجبور ہو جاتا ہے ۔ ایسے میں اُس اجنبی فرشتے نے نہ صرف ہماری مدد کی، بلکہ یوں کہیں کہ ہماری بہن کو ایک نئی زندگی دی، اور پھر دنیا کی اِس بھیڑ میں ہمیشہ کے لئے گُم ہو گئے۔‘‘

وہ دن اور آج کا دن، سردار جی نےاپنی زندگی انسانی خدمات کے لئے وقف کر دی۔ آندھی آئے یا طوفان، آگ برسے یا پانی، تمام مخالف حالات میں بھی گُرمیت سنگھ ’پی ایم سی ایچ‘ کے لاوارث وارڈ کے مریضوں کو کھانا کھلانے ضرور جاتے ہیں اور اُن کی خدمت کرتے ہیں۔انسانیت کی خدمت میں مصروف سردار جی کسی سےمالی امداد لئے بغیر، گزشتہ 25 برسوں میں اب تک اپنی کمائی سے 100 لوگوں کو مکمل طور پر صحت یاب کرکے، انہیں اُن کے اہلِ خانہ سے ملا چکے ہیں ۔ 100 لوگ تو محض ایک تعداد ہے، سردار جی کا جذبۂ خدمت اِن اعداد و شمار سے بالاتر ہے۔

ابتدائی دور میں جب’ سردار گُرميت سنگھ نے اپنی محدود کمائی سے یتیموں اور لاوارث لوگوں کو کھانا کھلانا شروع کیا تو اقتصادی تنگی کے سبب کئی بار اِس کام میں مشکلات آئیں ۔ اِس دوران اہلِ خانہ نے بھی مخالفت کی، لیکن اپنی دھُن اور لگن کے پکّے اِس شخص نے ساری مجبوریوں اور مخالفت کے باوجوداِس کارِ خیر کواپنے معمول میں شامل رکھا ۔ کبھی ایسے بھی حالات آئے کہ گھر میں کھانے کو کچھ بھی نہیں تھا پھر بھی پیسوں کا یہاں وہاں سے انتظام کرکے ساگ سبزی خرید لائے، گھر میں ہی کھانا بنوایا اور اسپتال کے وارڈ میں پہنچ کر سب کو کھانا کھلایا ۔ اِس وارڈ میں اکثر ایسے ہی مریض آتے ہیں جو خود اپنے ہاتھ سے کھانا بھی نہیں کھا سکتے ۔

کھانا کھلانے کے بعد’ سردار گُرمیت سنگھ‘ مریضوں کے بِستر اور کپڑے بھی صاف کرتے ہیں ۔ گھنٹوں اُن کے ساتھ وقت گزارتے ہیں ۔ تیج تہوار بھی انہی کے ساتھ مناتے ہیں ۔حالانکہ’ گُرمیت سنگھ‘ کاخود اپنا بھرا پورا خاندان ہے ۔ خاندان میں پانچ بیٹے ہیں۔ جس دن بڑے لڑکے کی شادی تھی، رسموں کے دوران تمام رشتہ دار اور دوست احباب خوشیاں منا رہے تھے۔اُس دن بھی سردارجی اسپتال میں حسبِ معمول اپنا فرض ادا کرنے پہنچ گئے ۔ وارڈ میں موجود مریضوں کو کھانا کھلایا، سب کے ساتھ اپنی خوشیاں بانٹیں، سب کو مٹھائی کھلائی۔ پھر شادی میں شریک ہونے کے لئے گھر واپس آئے۔

’گُرمیت سنگھ‘ بتاتے ہیں :

’’اگر کبھی میَں مصروف ہوتا ہوں اور اسپتال جانے کی پوزیشن میں نہیں رہتا ہوں تو میرے بڑے بیٹے ’ہردیپ سنگھ‘ یہ فرض نبھاتے ہیں ۔ میرا مکمل اعتقاد’ گرو نانك دین جی‘ کی تعلیمات پر ہے۔’مہاراج جی‘ کی صحیح تعلیم بھی انسانی خدمت کو فروغ دیتی ہے ۔ میرے لئے تو پریشان حال مریض کو کھانا کھلانا ہی ایمان ہے ۔ وہی عبادت، وہی میری بندگی ہے ۔

عام آدمی کے گمنام مسیحا، کسی لاوارث کی اطلاع ملنے پر وہاں پہنچ جاتے ہیں اور اُس کا علاج کرواتے ہیں، اُس کی خدمت کرتے ہیں اور صحت مند ہونے پراُسے اُس کے گھر تک پہنچاتے ہیں۔

’سردار گُرمیت سنگھ‘ ان تمام لوگوں کے لئے ایک مثال ہیں جو معاشرے کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ سماج کی خدمت کے لئے سب سے ضروری ہے مضبوط ارادہ اور بے لوث جذبہ۔ پریشان حال لوگوں کے چہرے پر خوشی دیکھ کر جو سکون و اطمینان’ گُرمیت سنگھ‘ کو ملتا ہے ،وہ واقعی زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے۔

قلمکار : کلدیپ بھاردواج

مترجم : انور مِرزا

Writer : Kuldip Bhardwaj

Translation by : Anwar Mirza