بچّوں کوتعلیم یافتہ اور عورتوں کو خود کفیل بنانے کے جذبے سے سرشار’ گوپال کرشن سوامی

0

اکثر کہا جاتا ہے کہ جس ماحول میں آپ رہتے ہیں اُس کےعادی ہو جاتے ہیں،اور یہ عادت آپ کے معمول میں رچ بس جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور پر لوگ اپنی عادات کے ایسے غلام ہو جاتے ہیں کہ انہیں چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان عادات کو ترک کردیتے ہیں، عیش و آرام کی زندگی سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور پہنچ جاتے ہیں بالکل برعکس حالات میں ۔ وہ انسان جس نے اپنی زندگی کا بیش تر وقت ممبئی جیسے شہر میں گزارا، وہ آج ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہائش پذیر ہے۔ وہ شخص جوتقریباً 40 سالوں تک ایک اعلیٰ ماہر اقتصادیات کے کردار میں تھا، وہ آج غریب اور ناخواندہ بچّوں کو نہ صرف تعلیم یافتہ بنا رہا ہے بلکہ خواتین کو یہ سکھا رہا ہے کہ اقتصادی طور پر وہ کس طرح اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکتی ہیں۔’ گوپال کرشن سوامی‘، یہ نام ہے اُس انسان کا، جو اتراکھنڈ کے دارالحکومت دہرہ دُون اور مسوری کے درمیان ایک گاؤں ’پُركل‘ میں رہ کر اپنے ادارے’ ' پُركل یوتھ ڈیولپمنٹ سوسائٹی‘ اور’ ' پُركل استری شکتی‘ کے ذریعے معاشرے کو اپنی جانب سے کچھ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

’گوپال کرشن سوامی‘ پیشے سے ماہر معاشیات ہیں اور تقریباً 40 سال ممبئی میں رہ کر غیر ملکی کرنسی کے ضابطے میں، امپورٹرس اور ایکسپورٹرس کے ساتھ مشیر کے طور پر کام کر چکے ہیں ۔ جب انہوں نے اپنے اِس کام سے ریٹائرمنٹ کے بارے میں سوچا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ’نوی ممبئی ‘کے اپنے گھر کو بیچ کر ہمالیہ کے علاقے میں رہیں گے اور معاشرے کے لئے کچھ کام کریں گے ۔ بس اُن کی یہی سوچ انہیں اپنے خاندان کے ساتھ دہرہ دون کھینچ لائی اور آج، گزشتہ 20 سالوں سے وہ یہاں رہ کر ناخواندہ بچّوں کو نہ صرف زیورِ تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں، بلکہ یہاں کی خواتین کو خود کفیل بنانے میں بھی مصروف ہیں ۔

’سوامی‘ کا کہنا ہے کہ انہوں نے 20 سالوں سے اتراکھنڈ کے دہرہ دون میں رہ کر معاشرے کے لئے کچھ کرنے کی کوشش ہے۔ ’سوامی‘ یہاں پر  پُركل یوتھ ڈیولپمنٹ سوسائٹی‘ کے لئےکام کر رہے ہیں ۔’پُركل یوتھ ڈیولپمنٹ سوسائٹی‘ تعلیم سے متعلق کام کرتی ہے ، جہاں پر چار سو سے زیادہ بچّے مُفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اِس سال اپریل کے بعد یہ تعداد 5 سو سے تجاوز کرنے کی امید ہے ۔ یہ پری پرائمری کلاس سے لے کر 12 ویں کلاس تک ہے جو کہ ’سی بی ایس سی‘ سے منظور شدہ ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ ان کی تنظیم بھلے ہی اسکول کے طور پر کام کرتی ہو لیکن یہاں پر بچّوں کو تعلیم کے ساتھ اخلاقی تعلیم اور دیگر فنون بھی سکھائے جاتے ہیں۔ اسکول میں پڑھائی کے علاوہ کئی طرح کی سرگرمیاں بھی جاری رہتی ہیں، جس میں ڈانس، یوگا، اسپورٹس اور’ بیکنگ‘ سکھائے جاتے ہیں۔ گزشتہ 16 برسوں سے’سوامی‘ اور اُن کی بیوی اِن بچّوں کی تعلیم و تربیت اور ترقی کے لئےوقف ہیں۔

’گوپال کرشن سوامی‘ نے جب اِس اسکول کی شروعات کی تھی تب یہاں پر دُور دُور تک کوئی اسکول نہیں تھا اور گاؤں والوں کی حالت کافی بدتر تھی، لیکن آج اِس اسکول کے کھلنے سے آس پاس کے بچّوں کو نہ صرف مفت تعلیم دی جاتی ہے بلکہ کپڑے، کھانا اور بس سروس کی سہولت بھی دی جاتی ہے ۔’سوامی‘ نے’ يوراسٹوری‘ کو بتایا،

’’بچّے ہفتے میں 6 دن روزانہ 10 گھنٹے ہمارے ساتھ رہتے ہیں ۔ اِس لئے ہم کوشش کرتے ہیں کہ بچّوں کو تعلیم کے ساتھ ان کی صحت، نيوٹریشن اور پروٹین پر توجہ دیں ۔ اِس کے پسِ پشت سوچ یہ ہے کہ بچّوں کی ترقی صحیح طریقے سے ہو۔ ‘‘

یہی وجہ ہے کہ آج تقریباً 15-16 سالوں سے بچّے ان کے ساتھ رہ رہے ہیں ۔’سوامی‘ کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اسکول کی شروعات کی تھی تب وہ صرف 10 سال سے زیادہ عمر کے بچّوں کو اپنے یہاں رکھتے تھے لیکن اب 3 سے 4 سال کے بچّے بھی ان کے یہاں پڑھنے کے لئے آ رہے ہیں ۔ اِن میں سے کئی بچّےکافی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔’سوامی‘ کی کوشش ہے کہ یہاں پڑھنے والے بچّوں کو ہوسٹل کی سہولت بھی دیں تاکہ بچّوں کی ترقی بہتر طریقے سے ہو۔

’پُركل استری شکتی‘ کے ذریعے خواتین کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا کام کیا جاتا ہے ۔ یہاں پر خواتین ’ پیچ ورک‘ سے متعلق کام کرتی ہیں اور 45 سے زیادہ مصنوعات تیار کرتی ہیں ۔ خواتین کی بنائی مصنوعات کو آرڈر دِلوانے میں یہ اُن کی مدد کرنےکے ساتھ ساتھ اِن مصنوعات کے لئے نئی مارکیٹ تیار کرتے ہیں ۔ آج تقریباً 180 خواتین ان کے ساتھ منسلک ہیں، جنہیں یہ نہ صرف کام کرنے کی جگہ بالکل مُفت دیتے ہیں بلکہ دیگر کئی طرح کی سہولیات بھی مہیا کراتے ہیں تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں ۔ اِس کے علاوہ خواتین نے ان کی مدد سے ’ سیلف ہیلپ‘ گروپ بھی تیار کئے ہیں، جہاں مل کر یہ کئی طرح کی مصنوعات بناتی ہیں ۔

اِس کے علاوہ ’پُركل ‘سے تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر دیگر 2سینٹر بھی ہیں جہاں پر 90 خواتین کام کرتی ہیں ۔ یہاں آنے جانے کے لئے خواتین کو مفت میں بس کی سہولت دستیاب ہے ۔ ساتھ ہی یہاں آنے والی نئی خواتین کو مفت میں کام سكھايا جاتا ہے۔ خواتین کو رعایتی شرح پر کھانا ملتا ہے اور میڈیکل سہولیات بھی مہیا کرائی جاتی ہیں۔ یہاں آنے والی خواتین کے بچّوں کے لئے اسکول میں مفت تعلیم کا انتظام کیا گیا ہے۔

’سوامی‘ نہ صرف تعلیم اور خواتین کے تعلق سے خدمات انجام دے رہے ہیں بلکہ جس کسی گاؤں میں بیت الخلا کی سہولت نہیں ہے وہاں پر اُسے بنوانے کا کام کر رہے ہیں ۔ یہ اب تک اتراکھنڈ میں 50 سے زیادہ گھروں میں بیت الخلا کی سہولت مہیا کراچکے ہیں۔ اِس سال ان کا ہدف ایک قریبی گاؤں ’شیولی‘ میں 20 سے زیادہ ٹوائلیٹ بنانے کا ہے ۔

ویب سائٹ: www.purkal.org

قلمکار : ہریش/مترجم : انور مِرزا..Writer : Harish/Translation by : Anwar Mirza

...............................

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے

’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ دلچسپ کہانیاں بھی آپ کو ضرور پسند آئیں گی۔

تعلیمی عدم مساوات دُور کرنے میں مصروف ’سیما كامبلے‘

آپ کے ’اسٹارٹپ‘ کو فنڈ نہ مِلنے کی ہو سکتی ہیں یہ وجوہات ...

قوّتِ سماعت و گویائی سے محروم انسانوں کے لئے فرشتہ ہیں ’گیانیندرپروہت‘

Related Stories