جس چیز کو دنیاسمجھتی ہے بیکار ... اسی سےعلیم اللہ صدیقی بناتے ہیں شاہکار

تعلیم اور ملازمت کے ساتھ علیم اللہ صدیقی کی زندگی میں تین سرگرمیاں جاری رہیں

0

کہتے ہیں ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خوبی ہوتی ہے۔ بس ضرورت ہوتی ہے اسے پہچاننے اور پروان چڑھانے کی۔ سرکاری ملازمت میں مگن رہنے والے علیم اللہ صدیقی میں بھی ایک ایسی اضافی خوبی تھی ، جسے انھوں نے اس وقت پہچانا جب دوسروں نے سراہا۔ دراصل ان کے اندر ایک فن کار چھپاہواتھا، مگر اس کو انھوں نے اس وقت تک دبائے رکھاجب تک کہ سرکاری ملازمت سے سبکدوش نہیں ہوگئے۔ سرکاری ذمہ داریوں سے فراغت کے بعد موقع ملاتو انھوں نے اس پر تھوڑی توجہ دی اور ڈرتے ڈرتے عوام کے سامنے پیش کیا۔ بقول صدیقی لوگوں نے ان کے فن پارے دیکھے تو عش عش کراٹھے اور ان کو ایک بڑافن کار بتایا۔ اصرار کرکے قدردانوں نے نمائش لگوائی ۔ پھر کیاتھاعلیم اللہ صدیقی راتوں رات واقعی بڑے فن کاربن گئے۔ حکومت اترپردیش نے ان کے فن کے اعتراف میں پہلے پانچ لاکھ کا انعام دیااور پھر مارچ 2016میں ریاست کے سب سے بڑے شہری اعزاز ’یش بھارتی ‘ سے نوازا۔ علیم اللہ صدیقی گیہوں کے ڈنٹھل (بھوسہ /تنکا) سے شاہکار فن پارے بناتے ہیں ۔

اسٹراآرٹسٹ علیم اللہ صدیقی 10جون 1953کو پیداہوئے ۔ ان کا اصل وطن اترپردیش کا ضلع بلرامپورہے۔ ان کے والد کلیم اللہ صدیقی کتابت اور طغرے بنانے میں ماہر تھے۔ وہ مہاراجہ پاریشوری پرساد کالج میں استاذ تھے۔ اپنے والد سے ان کو آرٹ کی تحریک وترغیب ملی۔

1974-75میں اپنے بڑے بہنوئی کے ساتھ لکھنؤ آگئے اور یہیں سے گریجویشن اور جی آئی ٹی آئی چارباغ سے انگریزی شارٹ ہینڈ کا کورس کیا۔ 1978میں یوپی اردو اکادمی میں لوور ڈویژن اسسٹنٹ کے عہدے پر رہتے ہوئے اردوکی خدمت انجام دی اور 58سال کی عمر میں جون 2011 میں آفس سپرنٹنڈنٹ کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔

تعلیم اور ملازمت کے ساتھ علیم اللہ صدیقی کی زندگی میں تین سرگرمیاں جاری رہیں ۔ ایک نشانے بازی ،دوسرے کھیل (کیرم،بیڈمنٹن،ہاکی) ،تیسرے آرٹ۔ نشانے بازی اور کھیل میں تو بہت سے انعامات ملے لیکن آرٹ کے شعبے میں انھیں کوئی انعام نہیں ملاتھا۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ فن کی خدمت ایک عبادت کی طرح چپکے چپکے کرتے رہے ،اسے کبھی عوام کے سامنے پیش نہیں کیا۔ آرٹ کے شعبے میں پہلے واٹر کلر کے ذریعے مناظر قدرت کی مصوری کرتے رہے پھر فیبرکس پینٹ (کپڑوں پر کی گئی مصوری) اور آخر میں 40برسوں سے گیہوں کے ڈنٹھل کے ذریعے فن کی خدمت کرکے اپنے دل کو مطمئن کرتے رہے۔ اب بھی مستقل طور سے روزانہ چار سے چھ گھنٹے اپنے فن کے ریاض پر صرف کرتے ہیں ۔ طالب علمی کے زمانے میں اس فن کے ذریعے نیم پلیٹ بناکر جیب خرچ بھی نکالاکرتے تھے۔

 اس فن کے بارے میں انھوں نے یوراسٹوری کو بتایا:

’’گیہوں کے ڈنٹھل سے فن پارہ بنانے کے لئے ایک پیچیدہ عمل سے گذرنا پڑتاہے۔ جب کھیتوں میں گیہوں کٹنے لگتاہے تو اس وقت کھیت میں جاکر گیہوں کے ڈنٹھل کی بالی توڑکر الگ کرلیاجاتاہے اور تقریباً آٹھ سے دس دنوں کے لئے پانی میں بھگودیاجاتاہے تاکہ اس کے اندر کا گوداسڑ جائے۔ اس کے بعد اس ڈنٹھل کو پھاڑ کر اس کی پتیاں تیارکرکے کتاب میں رکھ کر دبادی جاتی ہیں ۔ خشک ہونے پر اسے ایک جگہ محفوظ کرلیاجاتاہے اور انھیں پتیوں کو ضرورت کے مطابق چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر کینوس پر چسپاں کرکے مختلف فن پاروں کو بنایاجاتاہے ۔ اس وقت ان کے پاس جتنی بھی تصاویر ہیں وہ تقریباً دس بارہ سال پرانے ڈنٹھل سے تیارکی گئی ہیں ۔ ایک موسم میں ڈھیر ساری پتیاں بنالی جاتی ہیں جو کئی برسوں تک کام آتی ہیں ۔ اگر ڈنٹھل یا اس سے بنی تصاویر کو نمی سے بچاکر رکھاجائے تو وہ کم ازکم پچاس برسوں تک من وعن رہیں گی۔ بلکہ ان کی چمک مزید بڑھ جائے گی اور چاندی کی طرح سفید ہوجائیں گی۔ ڈنٹھل کی ماہیت وکیفیت میں تبدیلی میراذاتی تجربہ ہے ۔ اگر اس تجربے پر سائنسی طریقے سے تحقیق کی جائےتو مزید راز منکشف ہوں گے۔ میرے چالیس سالہ فن پارے لوگوں کے پاس محفوظ ہیں ۔ اگر دیکھاجائے تو میں نے اس فن پر روز بروز ریسرچ کی ہے‘‘۔

وہ ایک شعر سناتے ہیں ؎

سینچاہے اسے خون سے ہم تشنہ لبوں نے

تب جاکے اس انداز سے میخانہ بناہے

اس کے علاوہ علیم اللہ صدیقی نے یوپی بھاشا سنستھان میں ملازمت کرتے ہوئے ممتاز ہندی شاعر اور نغمہ نگارگوپال داس نیرج کے ساتھ کئی ڈرامے کرائے اور ان میں رول بھی اداکئے۔ ان ڈراموں میں ’دلی کا آخری مشاعرہ‘ اور ’میں اردوہوں ‘ کو بہت سراہاگیا۔ یہ ڈرامے لکھنؤ ،آگرہ ،علی گڑھ اور ممبئی وغیرہ میں منعقد کئے گئے۔

علیم اللہ صدیقی نے اپنے فن کو کبھی کاروباری شکل نہیں دی۔ سبکدوشی کے بعد ان کے ذہن میں یہ خیال آیاکہ اس فن کو عام کیاجاناچاہئے ،کیوں کہ بقول ان کےجو شخص بھی ان کےفن پاروں کو دیکھتاہے اسے لوگوں تک پہنچانے کی صلاح دیتاہے۔ لوگوں کا یہاں تک کہنا ہےکہ یہ فن ممالک ِ غیر میں زیادہ مقبول ہوگا۔ لیکن وہ مالی تنگی کے سبب ایساکرنے سے قاصر ہیں ۔ انھوں نےاپنے ’من کی بات‘ کرتے ہوئے بتایاکہ پہلےمیں نے سوچاکہ ہندوستان کے ساتھ ساتھ دنیاکی مشہورعمارتوں کی تصاویر بناکر اپنی ریاست اور اپنے ملک کا نام روشن کروں ،لیکن میری مالی حالت ایسی نہیں ہے کہ اتنابڑابار اٹھا سکوں ۔ پھر سوچاچھوٹی سطح پر وراثت کی شکل میں لکھنؤ کی تاریخی عمارتوں (جو کہ شہر نگاراں کی آن ،بان اور شان ہیں ) کو پہلے تیارکرکے ایک نمائش لگائی جائے ۔ اگر عوام سے شرف قبولیت ملتاہے تو آگے عالمی سطح پر اس کی نشر واشاعت اور توسیع وفروغ کا انتظام کیاجائےگا۔

خیر، علیم اللہ صدیقی کی زندگی میں وہ دن بھی آگیاجس کا انھیں شدت سے انتظارتھا۔ 14-15فروری 2016کواپنے فن پاروں کی دوروزہ نمائش لکھنؤ کے انجینئرنگ بھون میں بعنوان ’لکھنؤ اپنے ماضی کے آئینے میں ‘ لگائی۔ انھوں نے نمائش میں نوابی دور کی جن خوبصورت ،تاریخی اورفن تعمیر کے نادرنمونوں پر مشتمل عمارتوں کی ڈیزائن پیش کی ان میں رومی دروازہ،چھوٹااور بڑاامام باڑہ،مچھلی محل،میڈیکل کالج ،چھترمنزل ،سکندر باغ،رفاہ عام کلب ،پکچر گیلری،ست کھنڈا،گھنٹہ گھراور تاج محل شامل ہیں ۔ انھوں نے اس کے علاوہ قرآنی آیتیں ،مکہ، مدینہ،مہاتماگاندھی کے اقوال، کبیر تلسی اور رحیم کے دوہےاور نپولین ،افلاطون نیز ٹینی سن کے انگریزی میں مقولات ہیں ۔ نمائش کا افتتاح سماج وادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادونے کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ یہ نمائش دیکھ کر گاندھی جی کی یاد تازہ ہوگئی۔ گاندھی جی کا چرخہ چلانے کا مقصد دست کاری کو فروغ دیناتھا۔ لیکن غیر ملکی پالیسی کے آگے ایسے تمام پروگرام ناکام ہوگئے۔

اس نمائش کے ساتھ ہی علیم اللہ صدیقی کے ’اچھے دن ‘ آگئے ۔ ہر طرف ان کی فن کاری کی ستائش ہونے لگی۔ وزیراعلیٰ اکھلیش یادونے ان کو اپنی سرکاری رہائش گاہ پر مدعوکیااور پانچ لاکھ روپئے کا انعام دیا۔ اس کے بعد پھر حکومت اترپردیش نے ریاست کے سب سے بڑے شہری اعزاز’یش بھارتی ‘ سے سرفرازکیا۔ اس کے تحت گیارہ لاکھ روپئے ،توصیفی سند اور پچاس ہزاروروپئے ماہانہ پنشن دی جاتی ہے۔ علیم اللہ صدیقی نے یوراسٹوری کو بتایا:

’’ایس پی سربراہ ملائم سنگھ یادو،ریاست کے وزیراعلیٰ اکھلیش یادو،دیگر وزراء اور محبان فن نے میرے کام کو بہت سراہا۔ سب لوگ میرے فن پارے دیکھ کر بہت متاثر ہوئے ۔ ’نیتاجی‘ نے کہا بتایئے کیاچاہئے ؟انھوں نے عہدوں کی پیشکش کی ۔ لیکن میں نے نہایت ہی انکساری سے کہاکہ میں ایک فن کارہوں ۔ مجھے عہدوں کی ضرورت نہیں ہے۔ جس فن کو میں نے خون ِ جگر سے سینچاہے اس کی بقاکے لئے میں فکرمند ہوں ۔ آپ بس اس کے فروغ کا بندوبست کردیں ۔ مجھے ایک جگہ فراہم کردی جائے جہاں میں یہ فن دوسروں کو سکھاکر آئندہ نسلوں تک منتقل کرسکوں ۔ انھوں نے ہر ممکن مدد کا یقین دلایاہے۔ ‘‘

آج علیم اللہ صدیقی کے فن کا چرچاہر چہارجانب ہے۔ لوگ ان کے فن پاروں کی دل کھول کر تعریف کررہے ہیں ۔ صدیقی صاحب بھی مسرورہیں کہ دیر سے ہی سہی میرے فن کو پذیرائی مل رہی ہے۔ اب ان کا یہ شوق جنون میں تبدیل ہوچکاہے۔ پہلے بھی وہ اپنے فن کو نکھارنے کے لئے راتوں کو جاگ کر آرٹ بنایاکرتے تھے۔ بڑی قربانیوں کے بعد آج وہ اس مقام پر پہنچے ہیں ۔ نمائش کی کامیابی کے بعد ان کے حوصلے مزید بلند ہوگئے ہیں ۔

.................

جد و جہد کے سفر سے کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے FACEBOOK پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

یہ کہانیاں بھی ضرور پڑھیں۔

ملک کی مٹی نے سکھایا دیسی مشروبات کا فن

مولانا جہانگیرعالم قاسمی کاادارہ...جدوجہد کااستعارہ

Related Stories