اسٹارٹپ کاروباری دھیان دیں، آپ کے لئے فروخت سے متعلق اہم مشورے

0

حاضر ہے۔

میں کسی پروڈکٹ سےمتعلق اسٹارٹپ نہیں چلاتا ہوں بلکہ یہ کام میرے کچھ دوست انجام دیتے ہیں۔ میں سافٹ ویئر تجزیاتی خدمات سے جُڑی ایک اسٹارٹپ چلاتا ہوں۔ پروڈکٹ اور خدمات سے جُڑے کاروبار میں عام طور پر کچھ چیلینجس تو بالکل عام ہوتے ہیں اور کچھ بہت الگ۔

میری کمپنی اپنی اسٹارٹپ تجزیاتی تجربہ گاہ کے توسط سے اچھی خاصی تعداد میں کاروباریوں اور ان کے اسٹارٹپس کے ساتھ کام کرتی ہے اور اب تک یہ تعداد 27 تک پہنچ چکی ہے جو میرے لئے کافی ہے۔

میں بی2سی کے شعبے میں مختلف پروڈکٹس تیار کرنے والے اپنے دوستوں اور کاروباریوں کے ساتھ بہت آرام سے بیٹھ کر ان کے ساتھ بات چیت کرتا رہتا ہوں اور زیادہ تر مواقعوں پر بی2بی سیگمنٹ کو لے کر ہونے والے ہماری اکثر گفتگوئیں صرف ایک ہی مسئلے کے ارد گِرد گھومتی ہیں۔ جی ہاں،صرف ایک ! ہم ایسا کیا کریں کہ تجزیہ کرنے والا صارف ہمیں ادائیگی کرے؟

· وہ تو ہمیں رقم کی ادائیگی کرنے میں زمانہ لگادے گا۔

· ہم ان کے لئے ہر قسم کی تبدیلی کئے جارہے ہیں اور وہ پھر بھی ادائیگی نہی کر رہے ہیں۔

· آخر کار ہمیں بھی بنیادی ڈھانچے کی لاگت کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔

· زیادہ سائن اپلیکیشنس کے سامنے آنے کے ساتھ ہمارا برن ریٹ بڑھتا جارہا ہے۔ اسے قابو میں رکھنے کے لئے ہمارے پاس پیسہ نہیں رہے گا۔

· ہم بوٹ اسٹریپڈ ہیں۔ آخر کار یہ صارف ادائیگی کب کریں گے؟

· ہوسکتا ہے ان تجزیاتی صارفین کی طلب کی تکمیل میں ہماری ساری توانائی ختم ہوجائے۔

اس کے علاوہ میں کچھ ایسے الفاظ اور جملوں سے بھی روبرو ہوتا رہا ہوں۔

· ہمارے صارف یہ سمجھنے کو کیوں تیار نہیں ہیں کہ ہم ایک خود روزگار ماڈل ہیں۔ اس کے باوجود وہ ہم سے یہ توقع کرتے ہیں کہ ان سے بات کریں ۔ کیوں ؟

· آخر کار ایس ایم بی میں شامل لوگ ایس او ایس ماڈل کو سمجھنے کے اہل کیوں نہیں ہوپارہے ہیں؟

· ہمارا پروڈکٹ بہترین ہے اور وہ لوگ اس کا استعمال بھی کر رہے ہیں لیکن ادائیگی کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ کیوں؟

· ہمارے صارف یہ پوچھتے ہیں کہ جب جی میل مفت ہے تو میں آپ کو ادائیگی کیوں کروں ؟

· اگر موقع ملے تو میں دوبارہ کبھی مفت والا پروڈکٹ تیار ہی نہیں کروں گا۔

ہمارا پروڈکٹ بالکل انوکھا ہے۔ اس کے باوجود صارف اس کا موازنہ دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں۔

ایسا کہنے والے تمام کاروباریوں میں ایک بات مشترک ہے ۔ وہ یہ کہ ان میں سے کوئی بھی فروختگی کا پس منظر نہیں رکھتا۔

ایک پروڈکٹ تیار کرنا اور اسے فروخت کرنا ، دونوں بالکل مختلف کام ہیں اور ایسا نہیں ہے کہ آپ اس حقیقت سے نا واقف ہوں۔ آپ اس سچائی کو اس لئے فراموش کرگئے کیوں کہ آپ کا سارا دھیان صرف پروڈکٹ پر ہی مرکوز تھا۔ فروخت کا کام بالکل ہی مختلف نوعیت کا ہوتا ہے ۔ مثلاً کسی بھی امکانی ملین ڈالر والے صارف سے یہ کہنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ " اس مرحلے کے بعد مفت خدمات کی فراہمی ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔" لیکن حقیقت میں فروخت کے شعبے میں ایسا کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔

بیتابی فروخت کی سب سے بڑی دشمن ہے :

اگر آپ کسی صارف کو جیتنے کےلئے بے حد بیتاب ہیں تو ہوسکتا ہے کہ آپ اس صارف کو یہ موقع دے بیٹھیں کہ وہ آپ کا بہت زیادہ فائدہ اُٹھائے۔

جب آپ یہ سمجھنے میں کامیاب رہیںگے کہ آپ کو ان کی جتنی ضرورت ہے اتنی ہی ضرورت انہیں آپ کی ہے تبھی آپ ایک صحتمند کاروبار کرنے میں کامیاب ہونے کے ساتھ ساتھ سودا کرنے میں بھی کامیاب رہیں گے۔ اگر آپ کا صارف آپ کو ملٹی ملین ڈالر کی ادائیگی کرتے ہوئے آپ کو نا قبول کردیتا ہے تو کوئی بات نہیں۔ آپ نے اپنا اسٹارٹپ اس ایک مخصوص صارف کے لئے تو شروع نہیں کیا ہے۔ یہ آپ کے اسٹارٹپ یا پھر آپ کے کسی کاروباری سفر کا اختتام نہیں ہے۔ میرے خیال میں آپ کےلئے کسی تحریک سے ہاتھ دھونے کی بہ نسبت ایک صارف کو کھونا زیادہ مناسب رہے گا۔

قیمت کا تعین، رعایت اور مفت میں کام کرنا :

آپ مفت میں اسی وقت کام کریں جب یہ زیادہ پیسہ کمانے کی پالیسی ہو اور اس کے بعد انہیں اپنا صارف بنائیں۔ تعریف وغیرہ محض نتیجہ ہیں، پالیسی نہیں۔ اگر آپ کا کاروبار صرف ستائش نامہ ہی دے پارہا ہے تو آخر میں آپ کے پاس صرف ستائش نامے ہیں ہوںگے، پیسے نہیں۔

رعایت ان صارفین کےلئے ہوتی ہے جو آپ کے ساتھ آنا تو چاہتےہ یں لیکن ان کی جیب انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ حالانکہ آپ کو انہیں اپنے ساتھ وابستہ کرکے کافی خوشی ہوتی۔ اگر آپ کا پروڈکٹ صرف اپنی رعایت ہی کی وجہ سے فروخت ہورہا ہے تو آپ کو ایک مرتبہ پھر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

اگر لوگ آپ کا پروڈکٹ محض اس وجہ سے خرید رہے ہیں کیونکہ یہ پھینکنے والے داموں پر مل رہا ہے تو وہ بھی آپ کے پروڈکٹ کو پھینک دیں گے۔ ما قبل کے جملے میں "محض اس وجہ سے" کے فقرے پر غور کیجئے۔

فروخت سے متعلق تمام سرگرمیاں پروڈکٹ کے ارتقاء کے متوازی ہونی چاہئیں :

اپنے پروڈکٹ کو تیار کرتے ہوئے اس کی فروخت کا آغاز کردیں۔ میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ناکام ہونے والے تمام اسٹارٹپس کو اس وقت فروخت شروع کرتے ہوئے دیکھا ہے جب ان کے بانیوں نے سوچا کہ " اب ہمارا راکٹ سیدھا مریخ پر جانے کو تیار ہے۔" آج کے دور میں آپ کے صارف مریخ کا سفر نہیں کرنا چاہتے۔ آپ کو انہیں مریخ کے سفر کے لئے آمادہ کرنے سے قبل چاند اور دوسرے سیاروں کے سفر سے روشناس کروانا ہوگا۔

نئی چیزوں کو سیکھنے میں مدد کرنے کے لئے ماہرین اور مشاورین کو اپنے ساتھ جوڑیں:

جب تک آپ کو فروخت کے کام سے واقفیت نہ ہو، اس کام میں محض ایک معاون بانی ہونے کے ناطے اپنے ہاتھ مت آزمائیے۔ میری مراد یہ ہے کہ آپ کو فروخت کرنا بھی آنا چاہئے لیکن جب آپ آسانی سے اس شعبے کے ماہرین کو اپنے ساتھ جوڑ کر کام کرسکتے ہوں تو پھر ایسا راستہ کیوں چُنیں جس میں خطرات ہوں؟

جُزوی کامیابی خطرنا ک ہوسکتی ہے :

مجھ جیسے کئی کاروباریوں کے لئے جُزوی طور پر کامیاب ہونا ایک بڑا چیلینج ہوتا ہے۔ یہ ایسا لمحہ ہوتا ہے جب کامیابی کا گُمان ہمارے سرچڑھتا ہے اور ہم سوچنے لگتے ہیں کہ میں بغیر کسی کی صلاح یا مشورے کے یہ جانتا ہوں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔

مجھے لگتا ہے کہ میں فروخت کے شعبے میں واقعتاً بہت اچھا کام کر رہا تھا۔ میرے ایک دوست نندن پوجر جو خود ایک اسٹارٹپ کے بانی ہونے کے علاوہ ڈیجیٹل مارکٹنگ کے ماہر بھی ہیں، انہوں نے مجھے چھوٹے موٹے پہلوؤں میں ترمیم کرنے کا مشورہ دیا جنہیں میں بھولتا جارہا تھا۔۔ اس کے بعد سے میرا کاروبار مزید کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

فیصلہ کُن تاثر :

چیف پیپل آفیسر میکِن مہیشوری کے الفاظ مجھے بہت پسند آئے۔ ہم فلپ کارٹ کے ساتھ ان کی موبائل اپلیکیشن اور ویب ٹیسٹنگ میں مدد کرنے کےلئے ان سے وابستہ ہوئے ہیں۔ میں نے 2012 میں پہلی مرتبہ میکن سے ملاقات کے دوران کہا،"ہم فلپ کارٹ کے ساتھ کام شروع کرنے کا موقع دینے کے لئے آپ کے مشکور ہیں۔ ہم ایک اچھی شراکت کی سمت آگے بڑھنے کے لئے تیار ہیں۔" اور انہوں نے نہایت منکسرالمزاجی کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہا،" آپ جو قدر دانی دیں گے وہ آپ کی طویل العمری کا تعین کرے گی۔"

قدر دانی سے میکن کی مراد یہ تھی کہ ہم انہیں ان کے صارفین کی مدد کرنے میں کتنی مدد دیتے ہیں۔ آپ کو بی 2 بی سیگمنٹ میں کام کرنے کے لئے اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ یہ آپ کا فروخت کا میدان ہے۔

ہم فلپ کارٹ کے ساتھ مسلسل کاروبار کررہے ہیں اور یہ اعلان سن کر بہت خوشی ہوئی کہ فلپ کارٹ جی وی ایم سیلس رن ریٹ میں 1 بلین ڈالر کا ہندسہ چھونے میں کامیاب رہا ہے۔ ایک جانب جہاں میں ان سب کاموں میں کامیابی کے پرچم لہرانے میں کامیاب رہا ہوں، وہیں زیورات کا کاروبار کرنے والی میری اہلیہ کی نظروں میں ایک شوہر کے بطور میرا مظاہرہ بہت خراب رہا کیونکہ وہ زیورات کی ڈزائننگ میں بہت اچھی ہیں لیکن فروخت میں نہیں۔ کل شام کو ہی انہوں نے میری اس بات سے اتفاق کیا۔ اگر آپ ایک بیوی کو اپنی بات پر اتفاق کرنے پر راضی کرسکتے ہیں تو آپ پوری دنیا کو اپنا متفق بناسکتے ہیں۔ ( یہ میری شخصیت کا ظریفانہ پہلو ہے۔)

تحریر: پردیپ سوندراراجن

مترجم : خان حسنین عاقبؔ

Write up: Pradeep Sundarajan

Translator: Khan Hasnain Aaqib