جب ایک غریب لڑکا ملینئر بن جاتا ہے، سلم بستی کی سچی کہانی

0

'سلم ڈاگ ملينیر' وہ ہے جو ہندوستان کی سلم بستی میں رہنے والے ایک لڑکے کے کروڑپتی بننے کی ایک کہانی پر مبنی ہے. یہ کہانی ایک ناول سے لی گئی۔ خیالی کہانی پربنائی گئی فلم کو دنیا بھر میں بہت سے لوگوں نے پسند کیا۔ فلم کی تعریف بھی ہوئی۔ فلم نے کئی ایوارڈبھی جیتے۔ فلم کو کئی کیٹیگری میں آسکر ایوارڈ بھی ملے۔

لیکن، ایسا بھی نہیں تھا کہ اس فلم کو ہر کسی نے سراہا تھا۔ کچھ لوگوں نے اسے ' مخالف ہندوستان' بھی قرار دیا. کچھ لوگوں نے کہا کہ فلم سے ہندوستان کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ پھر بھی فلم کی بحث دنیا بھر میں ہوئی۔ کہانی دیکھی سنی گئی۔

فلم سے بالکل ہٹ کرایک ایسی ہی سچی کہانی ہے۔ ہندوستان کی ایک بستی میں پلے بڑھے ایک نوجوان کے کروڑپتی بننے کی ایک ایسی کہانی ہے، جو سچی ہے اور لوگوں کے سامنے زندہ جاوید ہے. یہی کہانی آج لوگوں کے لیےایک مثال بن گیی ہے۔ کچھ لوگ اس سے ترغیب بھی حاصل کر رہے ہیں۔ یہ سچی کہانی ہے چینئی کی ایک بستی میں پلے بڑھےسرتھ بابو کی۔ سرتھ نے سلم بستی میں رہ کر تعلیم حاصل کی اور آگے چل کر اپنی قابلیت کے بنیاد پر پہلے بٹس پلانی اور پھر آئی آئی ایم۔احمد آباد میں داخلہ حاصل کر اعلی تعلیم حاصل کی۔ کروڑوں کی نوکری ٹھکرا کر کاروبار شروع کرنے والے سرتھ نے زندگی کا ایک دوسرا پہلوبھی ہے- انہوں نے بہت تکلیفوں کا سامنا کیا۔ محرومیوں کے دور کو دیکھا، لیکن جدوجہد جاری رکھی اور کامیابی کی راہ میں سہولتوں کی عدم دستیابی کوآڑے آنے نہیں دیا. سرتھ کی کامیابی کی کہانی زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متاثرکرنے کی وجہ سے انہیں کئی کتابوں میں جگہ دی گئی ہے۔ یہ کہانی خوب سنی اور سنائی جانے بھی لگی۔ اپنی کامیابی کی وجہ سے کئی انعام اور ایوارڈ پانے والے سرتھ بابو کی پیدائش چینئی کے مڈیپكم علاقے کی ایک بستی میں ہوئی۔ ان کا تعلق دلت برادری سے تھا اور بہت غریب بھی۔ خاندان میں دو بڑی بہنیں اور دو چھوٹے بھائی تھے۔ گھر چلانے کی ساری ذمہ داری ماں پر تھی۔ ماں دن رات محنت کرتی، جس کی وجہ سے پانچوں بچوں کا گزربسرہوتا۔ سرتھ کی ماں دسویں تک پڑھی ہوئی تھیں، اس وجہ سے ان کو ایک اسکول میں مڈ ڈے میل اسکیم کے تحت بچوں کا کھانا بنانے کی نوکری مل گئی۔ اس کام سے انہیں مہینہ 30 روپے ملتے تھے۔ لیکن یہ تیس روپے پانچ بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے نا کافی تھے۔ ماں تمام بچوں کو خوب پڑھانا چاہتی تھی۔ انہیں لگتا تھا کہ اگر بچے پڑھ لکھ جائیں گے تو انہیں روزگار مل جائے گا اور تکلیفوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

بچوں کی تعلیم اور دوسری ضروریات کو پورا کرنے کے مقصد سے ماں نے اسکول میں کام کرنے کے علاوہ صبح میں اڈلی کا کاروبارشروع بھی کیا۔ اتنا ہی نہیں ماں نے شام کو حکومت ہند کے تعلیمِ بالغاں کے پروگرام کے تحت ناخواندہ لوگوں کو پڑھانا بھی شروع کیا۔ اس طرح الگ الگ کام کرسرتھ کی ماں نے اپنے بچوں کی ضروریات کو پورا کیا۔ ماں کی دن رات کی محنت کا سرتھ پرگہرا اثر پڑا۔ وہ جانتے تھے کہ ماں تمام بچوں کو بہترتعلیم دلانے کی خواہشمندتھیں تاکہ انہیں نوکری ملے اور غربت دور ہو۔

سرتھ نے ماں کو کبھی مایوس نہیں کیا۔ اسکول میں ہمیشہ دوسرے بچوں سے اچھا مظاہرہ کرتے۔ وہ ہمیشہ کلاس میں فرسٹ آتے۔

تعلیم کے ساتھ ساتھ سرتھ نے کام میں اپنی ماں کی مدد بھی کی۔ وہ بھی صبح اپنی ماں کے ساتھ اڈلی فروخت کرتے۔ چونکہ سلم کے لوگ ناشتے میں اڈلی کے لئے روپے خرچ نہیں کر سکتے تھے۔ سرتھ ماںکے ساتھ امیر لوگوں کے محلوں میں جاکر اڈلی فروخت کرتے تھے۔

دسویں تک سرتھ نے ہرامتحان میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن، دسویں پاس کرنے کے بعد جب کالج میں داخلے کی باری آئی تو گیارہویں اور بارہویں کی فیس نے سرتھ کو الجھن میں ڈال دیا۔ دسویں تک انہیں اسپیشل فیس نہیں دینی پڑھی تھی. لیکن، اب فیس زیادہ ہو گئی تھی.

فیس ادا کرنے کے لئے سرتھ نے ایک ترکیب ڈھونڈ لی۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں سرتھ نے بک بائنڈنگ کام کرنا شروع کیا۔ سرتھ کا کام اتنا اچھا تھا کہ آرڈرکی تعداد بڑھ گیی۔ وقت پرکام پورا کرنے کے لئے سرتھ نے دوسرے بچوں کو اپنے ساتھ کام پر لگا لیا۔ اس کے بعد گیارہویں اور پھر بارہویں کی تعلیم پوری ہوئی.

چونکہ خاندان میں کوئی بھی زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا اور بستی میں بھی سرتھ کی راہنمائی کوئی نہیں کر سکتا تھا، سرتھ بارہویں کے بعد کی تعلیم کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا تھا۔ سرتھ کے ایک ساتھی نے انہیں بٹس پلانی (برلا ٹیکنالوجی اور سائنس انسٹی ٹیوٹ) کے بارے میں بتایا۔ ساتھی نے یہ بھی کہا کہ اگر سرتھ کو بٹس، پلانی میں داخلہ مل جاتا ہے تو انہیں بڑی نوکری ملے گی، جس سے غربت ہمیشہ کے لئے دور ہو جائے گی۔ سرتھ کے دماغ میں یہ بات گھر کر گئی. اور انہوں نے بٹس پلانی میں داخلے کے امتحان کے لئے تیاری بھی شروع کردی۔ محنت اورلگن کا نتیجہ تھا کہ سرتھ کو بٹس پلانی میں داخلہ مل گیا۔

بستی میں رہنے والا ایک غریب آدمی سب سے پہلے اپنے شہر کے باہر، وہ بھی ملک کے سب سے مشہورادارے میں سے ایک میں پڑھنے جا رہا تھا، لیکن یہاں پر بھی فیس نے سرتھ کے ہوش اڑا دیے۔ انہیں اپنے پہلے ہی سمسٹر کے لئے 42000 روپے چاہئے تھے۔ یہ رقم پورے خاندان کے لئے بہت بھاری رقم تھی۔ سرتھ کی مالی طور پرمدد کرنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ سرتھ کی ایک بہن جس کا شادی ہو گئی تھی، اس نے اپنے زیورات گروی رکھ روپے کا انتظام کیا۔ اس طرح پہلے سمسٹر کی فیس جمع ہوپائی۔ دوسرے سمسٹر کے آنے تک ماں نے سرتھ کو ایک سرکاری اسكولرشپ کے بارے میں بتایا۔ سرتھ نے فوری طور پرعرضی بھیج دی۔ انہیں اسكولرشپ مل بھی گئی۔

اسكولرشپ کی پہلی قسط سے سرتھ نے اپنی بہن کے زیورات چھڑوائے، لیکن اسكولرشپ سے سرتھ صرف ٹیوشن فیس ہی بھر پاتے۔ اپنی دوسری ضروریات، کھانا پینا، کپڑے، روز استعمال ہونے والے سامان خریدنےکے لئے سرتھ کو قرض لینا ہی پڑا۔

بٹس پلانی میں ابتدائی دن آسان نہیں رہے۔ یہاں پڑھنے آئے زیادہ تر بچے امیر یا پھر اوسط طبقے کے خاندانوں سے تھے۔ شاید سرتھ اکیلے ایسے تھے جوسلم بستی سے آئے تھے۔ دوسرے ساتھیوں کا رہن سہن بالکل مختلف تھا۔ان لوگوں کی طرز زندگی بھی مختلف تھی. وہ لوگ کھل کر خرچ کرتے تھے۔ انگریزی بھی آسانی سے اورصاف صاف بہترین بولتے تھے۔

سرتھ کو نہ انگریزی ٹھیک سے بولنا آتا تھا اور نہ ہی وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرح روپے خرچ کرنے کی پوزیشن میں تھے۔

لوگوں کو دیکھ سمجھ کر سرتھ نے بہت کچھ سیکھ لیا۔ بٹس پلانی میں ہر دن ان کے لئے ایک نیا سبق سکھا نےوالا تھا۔ انہونے یہاں بہت کچھ سیکھا۔ کتابی علم کے ساتھ علاوہ سرتھ نے طرح طرح کے لوگوں سےملاقات کی- ان کے خیالات، ان کے کام کاج کے طریقوں کے بارے میں جانا۔

بٹس، پلانی کی ڈگری لینے کے بعد سرتھ کو چینئی کے پولارس سافٹ ویئرمیں نوکری مل گئی، لیکن بٹس پلانی میں تعلیم کے دوران کچھ ساتھیوں نے انہیں آئی آئی ایم میں داخلہ لے کر مینجمنٹ کی ڈگری لینے اور مینجمنٹ کے فن سیکھنے کا مشورہ دیا تھا۔ کئی ساتھی سرتھ کی مینجمنٹ صلاحیتوں سے متاثر تھے۔

ملازمت کرتے کرتے ہی سرتھ نے آئی آئی ایم میں داخلے کے لئے امتحان کی تیاری شروع کی۔ دو بار فیل ہونے کے بعد تیسری کوشش میں سرتھ نے امتحان میں داخلے کے لیے رینک حاصل کرہی لیا۔ آئی آئی ایم وہ ادارے ہیں جہاں کے مینجمنٹ کی بہترین تعلیم دی جاتی ہے۔ سرتھ کو آئی آئی ایم احمد آباد میں داخل ملا۔

آئی آئی ایم احمد آباد میں سرتھ نے مینجمنٹ کےطورطریقے سیکھے۔ چونکہ سرتھ کو کھانے پینے کی اشیاء فروخت کا تجربہ تھا۔ انہیں میس کمیٹی میں بھی جگہ ملی۔ اپنی قابلیت کی وجہ سے وہ کمیٹی کے سیکرٹری بھی بنے۔

آئی آئی ایم احمد آباد میں پڑھائی کے دوران ہی انہیں ملازمتوں کے بہت سارے آفرملے۔ تنخواہ لاکھوں میں تھی، لیکن سرتھ نے نوکری نہ کرنے کا بڑا فیصلہ لیا۔

سرتھ دھیرو بھائی امبانی اور نارائن مورتی سے بہت متاثر تھے اور زندگی میں کچھ بڑا کام کرنا چاہتے تھے۔ اپنی ماں سے تحریک لینے والے انہوں نے کھانے کی اشیاء سپلائی کرنے کا کاروبار کرنے کا فیصلہ لیا۔ لاکھوں کی نوکری چھوڑ کر کاروبار کرنے کے فیصلے کے پیچھے کئی وجوہات تھیں اور نیےمنصوبے تھے.

سرتھ کا ایک منصوبے یہ بھی تھا کہ وہ ان لوگوں کی مدد کریں جن کے ساتھ وہ پلے بڑھے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ سلم بستیوں میں رہنے والے لوگوں کی تکلیفیں کیا ہوتی ہیں؟ وہ ان تکلیفوں کو دور کرنے کی کوشش کرنا چاہتے تھے۔ انھیں یہ بھی لگتا تھا کہ اگر وہ کاروبار کریں گے تو انہیں دوسروں کو نوکریاں دینے کا موقع ملے گا۔ نوکری کرتے ہوئے وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔

لاکھوں کی نوکری چھوڑ کر کاروبار کرنے کا فیصلہ ہمّت کا کم تھا۔ کچھ خطرات بھی تھے لیکن، سرتھ نے ٹھان لیا کہ وہ اپنے خواب اور ارادے کاروبار سے ہی پورے کریں گے۔

سرتھ نے سال 2006 میں اپنی کمپنی کا رجسٹریشن فوڈ کنگ کیٹرنگ سروسس پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے کرایا۔ ایک لاکھ روپے سے اس کمپنی کی شروعات ہوئی۔ پہلے اس کمپنی نے دوسری کمپنیوں میں چائے، کافی اور ناشتہ سپلائی کیا۔ آہستہ آہستہ کاروبار بڑھتا گیا۔ سرتھ کو نئی نئی اور بڑی بڑی کمپنیوں سے آرڈر ملنے لگے۔ انہوں نے جس اداروں میں تعلیم حاصل کی یعنی بٹس۔پلانی اور آئی آئی ایم۔احمد آباد سے بھی انہیں کھانے اور ناشتہ فراہم کرنے کا کام مل گیا۔

اس کے بعد سرتھ نے ہندوستان میں کئی جگہ فوڈ کنگ کیٹرنگ نام سے ریستوراں کھولے۔ لذیذ غذائیں واجب قیمت پر دستیاب کروا کر سرتھ نے خوب نام کمایا۔ ایک لاکھ روپے سے شروع کیا گیا کھانے اور ناشتے کا کاروبار بڑھ کر کروڑوں کا ہو گیا۔

کامیاب کاروباری بننے کے بعد سرتھ نے سماجی خدمات بھی شروع کی. انہوں نے 2010 میں ہنگرفری انڈیا فاؤنڈیشن قائم کیا۔ اس ادارے کا مقصد اگلے بیس برسوں میں ہندوستان کو 'بھوک سے آزاد' بنانا ہے۔ سرتھ آپ کی طرف سے غریبوں اور ضرورت مندوں کی ہر ممکن مدد بھی کر رہے ہیں۔

زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مدد کرنے کے مقصد نے سرتھ سیاست میں بھی کود پڑے۔ انہوں نے اب تک تین انتخابات لڑے، لیکن ہار گئے۔ وہ مایوس نہیں ہیں اور 2016 میں تمل ناڈو میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئے حکمت عملی بنا رہے ہیں۔ کاروبار اور معاشرے کی خدمات مسلسل جاری ہے.

اہم بات یہ بھی ہے کہ سرتھ آج بھی اپنی ماں سے ہی ترغیب حاصل کرتے ہیں۔ سرتھ جب بھی کبھی پریشان ہوتے ہیں یا پھر کسی مسئلہ سے دو چار ہوتے ہیں تو وہ اپنی ماں کو یاد کرتے ہیں۔ ماں کی جدوجہد اور قربانی کی کہانی یاد کر مایوسی اور ناامیدی کو دور بھگاتے ہیں۔

سرتھ کواب بھی وہ دن یاد ہیں جب ان کی ماں صرف پانی پی کر سو جاتی تھی تاکہ پانچوں بچے پیٹ بھر کھانا کھا سکیں۔ ماں نے بچوں کے لئے بہت سی راتیں صرف پانی پی کر کاٹیں۔ بچپن میں ہی سرتھ نے جان لیا کیا تھا کہ ان کی ماں پانی زیادہ پیتی ہیں شروع میں تو سرتھ کو لگا تھا کہ ماں کو پانی پینا بہت پسند ہے اور اسی لیے وہ پانی زیادہ پیتی ہیں لیکن، آگے چل کر انہیں یہ احساس ہوا کہ بچوں کی خاطرانہوں نے پانی پی کر کام چلایا تاکہ بچوں کو پیٹ بھر کھانا ملے اور ان کی دوسری ضروریات پوری ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ سرتھ نے ہمیشہ ماں کا چہرہ سامنے رکھا۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem