ایک روپے کے کرایہ پر ارتھوپیڈک آلات..

0

کچرے کو سونے میں بدلنے کی باتیں تو سنی جا رہی ہیں، مگر اس طرح کے ذیادہ تر سرگرمیاں شخصی یا مالی فائدے کے لئے کی جا رہی، لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو سماج اور معاشرے کے لئے کچھ کر گزرنے کے جزبے کے ساتھ بیکار سمجھی جانے والی چیزوں کو ضرورت مندوں کی مدد کے لئے کام میں لانے کا کام کر رہے ہیں۔

ہوم سائنس ان ٹیکسٹائل ڈیزائننگ کر چکی پھالگنی کی شادی وڈودرا میں ایک بزنس فیملی میں ہوئی تھی۔ پھالگني کے دل میں ہمیشہ معاشرے کے لئے کچھ کر گزرنے کی خواہش تو تھی، مگر انہیں اپنی اس مصروف ترین زندگی میں اتنا وقت نہیں مل پاتا تھا کہ وہ اپنی اس خواہش کو پورا کر سکیں۔ جب ان کے بچے بڑے ہوئے اور انہیں اپنے لئے کچھ وقت ملنے لگا اس وقت انہں اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا موقع ملا۔ ان کے دل میں معاشرے کی فلاح کے لئے کچھ کرنے کا جزبہ ہمیشی زندہ رہا، اور جب وقت ان کی مٹھیوں میں آ گییا تو، انہوں نے اس جزبے کو تازہ کیا۔ اس جزبے نے انہیں آج ایسے مقام پر پہنچایا ہے، جہاں انہوں نے اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کر معاشرے کے لئے خوشی کا باعث بن گئی ہیں۔

یہ کہانی اس وقت شروع ہوئی جب پھالگنی اپنی دوست کے گھر گئی تھیں۔ بات چیت کے دوران ان کی نظر کچھ ایسے آلات پر پڑی جن کا استعمال طویل وقت سے نہیں ہوا تھا. جیسے وہیل چیئر، سٹک، واکر وغیرہ. ان کےاستعمال کے بارے میں معلومات کر نے پر انہیں پتہ چلا کہ وہ آلات ان کی دادی ماں استعمال کرتی تھی، جو اس دنیا میں نہیں ہیں. ان کے دوست نے یہ بھی کہا کہ ان چیزوں کا اب کیا کیا جائے، یہ سمجھ سے باہر ہے۔ تبھی پھالگنی کو خیال آیا کیوں نہ وہ کچھ ایسا کریں کہ ان کا استعمال بھی ہو جائے اور لوگوں کے مدد بھی آ جائے۔ کیوں نہ انہیں کم کرایہ پر لوگوں کو ضروری وقت کے لئے دیا جائے۔

خیال درست تھا۔ بس اس کو عمل میں لانے کے لئے ضروری اقدامات اٹھانا تھا۔ پھالگنی اور ان کی دوست نے اپنے اس منصوبے کو عمل میں لانے کے لئے مفت استعمال اور واپسی 'فری رینٹ' کے اساس پر ارتھوپیڈک سامان کے بارے میں لوگوں کو بتانا شروع کیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی یہ خدمات بہت جلد مشہور ہو گئی۔

پھالگنی اور ان کے دوست نے کچھ نئے اور پرانے سامان خریدے، جس کے ذریعے وہ ضرورت مند لوگوں کی مدد کر سکیں۔

ان خدمات کے دوران پھالگنی اور ان کی دوست کو ایک سخت ناگوار تجربہ ہوا۔ کئی بارایسا ہوتا کہ مفت کرایہ پر دئے گئے آلات بری حالت میں واپس ملتے۔ انہیں سمجھ میں آیا کہ لوگوں کو چیزیں اگر مفت میں مل جائیں تو وہ اس کی قدر نہیں کرتے۔ چاہے وہ کتنی بھی قیمتی کیوں نہ ہوں. انہوں نے تبھی سے ان اشیاء کو 1 روپے یومیہ کرایہ پر دینا شروع کر دیا۔ اس آمدنی کا استعمال اور نئے آلات خریدنے میں کیا جانے لگا۔ انہوں نے اپنی اس خدمت کے اشتہارات اپنے پاس کے ارتھوپیڈک اسپتال میں بھی لگائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان کی اس سروس کا استعمال کر سکیں۔

پھالگنی کی دوست اپنی کسی ذاتی وجوہات سے اس کام میں اپنی شرکت جاری نہیں رکھ پائیں، لیکن پھالگنی نے اکیلے ہی اس پلیٹ فارم کو آگے بڑھانے کا فیصلہ لیا۔ آج ان کے پاس مجموعی طور پر 100 سے بھی زائد ایكوپمینٹس کا ذخیرہ ہے، جس میں شامل ہیں ٹوالیٹ چیئرس، سٹكس، كرچیس، واكرس، وہیل چيئرس، ایئر بیڈس، اسپتال بیڈس وغیرہ جنہیں وہ اکثر کرایہ پر ضرورت مند

افراد کو دیتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم کو کسی منافع کے لئے نہیں، بلکہ ضرورت مند لوگوں کہ مدد کے لئے چلاتی ہیں۔ایسا کرنے سے ان لوگوں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور انہیں ذہنی اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

بقول پھالگنی نئےآلات لینے کے بجائے اگر لوگ استعمال کئے ہوئے آلات کو ترجیح دیتے ہیں تو ایک تو انہیں تاعمر سنبھالنے کہ ضرورت نہیں رہے گی اور استعمال کے بعد وہ انہیں کبھی بھی واپس کر سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ان کے جیب پر بھی زیادہ بوجھ نہیں پڑے۔

وہ کہتی ہیں کہ جب ان کی ماں کو کچھ ایكوپمینٹس کی ضرورت پڑی تھی تو ان کے بھائی نے انہی سے کرایہ پر لے کر ان کے کام کی ہمت افزائی کی تھی۔ ماں نے ان کا استعمال ڈیڑھ سال تک کیا اور ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے بھائی نے انہیں 25000 روپے ڈونیشن کے طور پر دیتے ہوئے اس خدمت کو آگے بڑھانے کی ترغیب دی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کا فائدہ اٹھا سکیں I

پھالگنی نے اپنی اس سروس کے ذریعے معاشرے میں نہ صرف اپنی ایک الگ پہچان پیدا کی بلکہ ضرورت مند لوگوں کی دعائیں بھی انہیں ملیں۔