دوسروں کی تکلیف دیکھی تو اپنا خاندانی مکان فروخت کرکے اسپتال بنایا

0

خود کرانہ دکان چلا کر کرتے ہیں گزارہ-

اسپتال کی تعمیر میں اپنی ساری کمائی لگادی


ہنومان سہائے نے اسپتال کھولنے کے لئے اپنے پشتینی مکان کو بیچ دیا اور ایثار و قربانی کی ایک عمدہ مثال قائم کی ۔آج کل وہ خود کرانہ کی دوکان چلا کر گزر بسرکررہے ہیں . وقت، سماج اور تاریخ ان افراد سے بے بہرہ ہوتے ہیں جن کا تعاون ملک کی فلاح کےلیے نہیں ہوتا ۔ لیکن تاریخ انہیں کبھی نہیں بھولتی جو اپنا تمام سرمایہ ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کردیتے ہیں -ایسے لوگ خود اپنی ذاتی زندگی کو بھی نظر انداز کرکے دنیا کی فلاح چاہتے ہیں ۔ان کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ کچھ ایسا کریں جس سے ملک و قوم کی خدمت ہوسکے- ہم آج آپ کی ملاقات ایسے ہی ایک شخص سے کروانے جارہے ہیں جنہوں نے اپنے بے مثال کارنامے سے سب کو حیرت میں ڈال دیا –ان صاحب کا نام ہے ہنومان سہائے جو جےپور سے 70 کلو میٹر دور شاہ پور قصبے کےپاس گاوں لوہا کناں میں ایک عام کرانہ دکاندار ہیں- لیکن سہائے نے جو کام کیا وہ واقعی غیر معمولی ہے۔

تقریبا پانچ سال پہلے جب ریاستِ بہار کے دار الحکومت پٹنہ میں دکان چلانے والے ہنومان سہائے اپنے بیمار والد کی عیادت کےلیے گاؤں آئے تو پڑوس کی ایک عورت زچگی کی تکلیف سے بے حال تھی اور دور دور تک کوئی اسپتال نہ تھا ۔وہ اسے اسپتال لے گئے ۔تکلیف کی شدت کی وجہ سے وہ تمام راستے چیختی رہی ۔تب ان کے والد نے کہا، کاش گاؤں میں ایک اسپتال ہوتا تو اچھا ہوتا -تبھی ہنومان سہائے نے طے کرلیا کہ گاؤں میں والدین کے نام سے ایک اسپتال تعمیر کروائیں گے -ان کی یہ بھی خواہش تھی کہ یہ اسپتال پرائیویٹ نہیں ہوگا بلکہ سرکاری ہوگا تاکہ لوگوں کو مفت علاج مہیا کروایا جاسکے-

یور اسٹوری کو سہائے نے بتایا

"میرا خاندانی مکان اور ایک دکان جےپور میں تھی ، میں نے دونوں کو فروخت کردیا -گاؤں میں زمیں خرید کر اسپتال تعمیر کروایا - اس کےلیے جےپور بھی جانا پڑا – اس کام کےلیے اکثر میں اسوقت کے وزیرِ اعلیٰ اشوک گہلوت سے ملنے جنتا دربار بھی جایا کرتا تھا -انہیں کی وجہ سے میڈیکل ڈیپارٹمنٹ سے بھی مدد ملی۔ "


کام تو اچھا تھا لیکن روپیہ کہاں سے آتا ؟ ایک عام آدمی کےلیے اتنی بڑی ذمہ داری کو نبھانا کافی مشکل تھا ۔سہاے کے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا -اس پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے گاؤں سوٹے شاہ پور قصبے میں دلی- جے پور ہائی وے پر ایک ہزار گز کے رقبے پر بنے اپنے پشتینی مکان کو 70 لاکھ میں فروخت کردیا -باقی کچھ روپیہ انہوں نے اپنے پاس سےلگایا اور گاؤں میں قریباً ایک کروڑ روپئے کی لاگت سے ایک اسپتال تعمیر کروایا جسمیں 27 کمرے ہیں - ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کےلیے علیحٰدہ رہنے کا انتظام ہے – پانی اوربجلی کا پورا انتظام ہے- اسپتال بن کر تیار تو ہوگیا لیکن ڈاکٹرس کہاں سے آئیں گے ؟ سہائے کے بےغرض، بے لوث اور مخلص رویہ کو دیکھ کر گاؤں والوں نےحکومت پر دباؤ ڈالا - چھ ماہ تک لگاتار میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کے چکر کاٹنے کے بعد اعلیٰ عہدیداروں نے انہیں ڈاکٹروں کی فراہمی کا تیقن دلایا - میڈیکل ڈیپارٹمنٹ سے پتہ چلا کہ جلد ہی وزیرِ اعلیٰ وسندھرا راجے اسکا افتتاح کریں گی- گاؤں والے ہنومان سہائے کی اس سماجی خدمت سے کافی خوش تھے۔گاؤں کے سرپنچ دریاودسنگھ کاکہنا ہے کہ

" یہ جو ہنومان سہائے نے مہم شروع کی ہے، اس سے سبھی لوگ نہایت خوش ہیں-ہم نے بھی ڈاکٹرس کے تقرر کے لئے ان کے ساتھ جگہ جگہ جاکر کوششیں کی ہیں۔گاؤں میں اسپتال ہے، اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوسکتی ہے؟"
ہنومان نے ڈاکٹرس کے اپائنمنٹ کےلیے جی توڑ کوشش کی ۔اس اسپتال سے آس پاس کے تقریباً 25 ہزار گاؤوں کو فائدہ ملا - لوگوں کا کہنا ہے کہ برسات میں پانی کی وجہ سے گاؤں، شہر سے پوری طرح کٹ جاتا ہے- ایسے میں شہر جانا نہایت مشکل ہوجاتا ہے ۔اسکول میں پڑھانے والے ٹیچر بھگونت سنگھ شیکھاوت ہنومان سہائے کے اس کام کو سب سے بڑی سماجی خدمت مانتے ہیں -

آجکل سماج کےلیے کون اتنی بڑی قربانی دیتا ہے؟ انہوں نے توہم گاؤں والوں کے لئے اپنا پشتینی مکان تک بیچ دیا - ہم لوگ انکا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولیں گے ۔اسکوٹر سے چلے آتے ہیں اپنی دکان چھوڑ کر اسپتال تعمیر کرنے کے لئے اسکوٹر پر سوار چلے آتے ہیں۔

کہتے ہیں بڑا کام وہی کرتا ہے جس کی سوچ بامقصد ہو ۔حالانکہ کئی لوگ ایسی سوچ رکھتے بھی ہیں لیکن اسے تکمیل تک پہنچانے کےلیے صحیح راستہ تلاش نہیں کرپاتے ۔ہنومان سہائے نے ایسے لوگوں کو تحریک دینے والا کام کیا ہے جنہوں نے نہ صرف زندگی کا مقصد حاصل کیا بلکہ اسے تکمیل تک بھی پہنچایا ۔ یور اسٹوری کی طرف سے ہنومان سہائے کے اس جذبے کو سلام !!!


تحریر: نیرج سنگھ

مترجم: ہاجرہ نور احمد رزیابؔ