''ان 4 برسوں میں بہت بار ذلیل ہوا، ٹھوکریں کھائیں مگر ثابت قدم رہا''

0


کہتے ہیں ہزاروں برے دن پر ایک اچھا دن بھاری پڑتا ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے تمام مشکلات اور دکھ کو اگر ایک منزل مل جاتی ہے، گویا ساری تھکان ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن ایک اچھا دن لانے کے لئے یا منزل حاصل کرنے کے لئے مسلسل بغیر تھکے چلنے کی ہمت رکھنی پڑتی ہے۔ ٹوٹ کر بکھر جانے کے بعد بھی خود کو سمیٹ کر آگے بڑھنے میں جرءت ہنا پڑتا ہے۔ یہی ہمت اور حوصلہ جنون میں گھل مل کر آپ کو بڑا بناتا ہے۔ پر سب سے اہم بات یہ کہ آپ بڑے اس وقت کہلاتے، ہیں جب آسمان پر پہنچنے کے بعد بھی آپ اس زمین کو نہیں چھوڑتے، جس میں آپ کی پرانی زندگی اب بھی دھڑک رہی ہوتی ہے۔ ان تمام باتوں کو جوڑ کر اگر کسی ایک شخص کی تصویر بنانے کی کوشش کی جائے، وہ ہیں منوج تیواری۔ زبردست اداکار، بہترین گلوکار، موسیقی کی حیرت انگیز تڑپ اٹھنےوالے، سب کو ساتھ لے کر چلنے والے، محض 43 سال کی عمر میں ملک کی نامور شخصیات میں شامل ہونے والے شخص کا نام ہے منوج تیواری۔

آج کی تاریخ میں دہلی کے شمال مشرقی علاقے کے ایم پی منوج تیواری کے لئے اس منزل کو پانا آسان نہیں تھا۔

کہتے ہیں کہ جو ہمت نہیں ہارتا، جو تمام مشکلوں سے لڑ کر آگے بڑھتے رہنا چاہتا ہے، اس کے لئے راہیں خود بہ خود ہموار ہونے لگتی ہیں۔ یور اسٹوری کے ساتھ ایک خاص بات چیت میں منوج تیواری نے اپنی زندگی کے کچھ ایسے پہلو دنیا کے سامنے رکھے، جو ہر پرےشان حال دل کے لئے متاثر کن ہیں۔

بہار کے كیمور ضلع کے رہنے والے منوج تیواری نے اپنے بچپن کے بارے میں بتایا،

"میرا بچپن بھی گاؤں کے عام بچّوں کی طرح گزرا۔ تمام مشکلوں کے ساتھ پڑھنے کے لئے روزانہ چار کلومیٹر پیدل چل کر اسکول پہنچنا، دن بھر پڑھائی کرنا اور پھر چار کلومیٹر طے کر گھر واپس آنا۔ ہاف پتلون اور بنیان، یہی ہم گاؤں کے بچّوں کی محرومی کا ڈریس کوڈ بن گیا تھا۔ "

منوج تیواری کے مطابق دراصل جس جگہ سے اور جن حالات سے لڑ کر وہ یہاں پہنچے ہیں وہ واقعی کسی خواب سے کم نہیں لگتا۔ وہ کہتے ہیں، ''اب سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ یہ سب اوپر والے کی دین ہے۔ ورنہ جن حالات میں میں پلا بڑھا وہ واقعی تنگدستی کے بہت خراب دن تھے۔''

والد کا سایہ سر سے کم عمری میں ہی اٹھ جانے کے بعد گھر کا پورا دارومدار ماں پر آ گیا۔ ماں نے ماں اور باپ دونوں کی ذمہ داری نبھائی۔ ماں کے بارے میں بات کرتے ہوئے منوج تیواری جذباتی ہو گئے، ان کی آنکھوں سے آنسوں نکل آئے۔ انہوں نے بڑے فخر کے ساتھ یہ کہا،

"آج میں جو بھی ہوں اس میں صرف اور صرف میری ماں کا ہاتھ ہے۔ ماں نے پوری زندگی مجھے ہر موڑ پر سانبھالا ہے اور آج بھی کسی نہ کسی شکل میں وہ مسلسل میرے ہے۔ میں اپنی زندگی میں ہمیشہ سب سے زیادہ پریشان اس وقت ہوا جب ماں کو پریشان دیكھا اور سب سے زیادہ خوش تب ہوں جب ماں کو خوش دیکھتا ہوں۔ اس کےلئے ماں کی ساری خواہشات پوری کرتا ہوں۔ "

منوج تیواری کا کہنا ہے کہ چونکہ اسکول میں حکومت کی جانب سے اسکالر شپ مل گئی تھی، اس لئے ابتدائی تعلیم میں دقت نہیں ہوئی، لیکن آگے کی تعلیم کے دوران انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے،

"میں نے بنارس ہندو یونیورسٹی سے اپنا گریجویشن 1992 میں مکمل کیا۔ اس دوران بھی تنگدستی نے مجھے بار بار ستایا۔ مجھے اس بات کا علم تھا کہ ماں کس مشکل سے پیسے بھیجتی ہے۔ جب اناج فروخت ہوگا تب پیسہ ملےگا اور اس کے بعد ماں مجھے پیسے بھیجے گی۔ کئی بار اناج خراب ہو جانے پر کافی دقت ہو جاتی تھی۔"

تعلیم کسی طرح مکمل تو ہو گئی۔ ملازمت کی بھی کوشش کی، لیکن مسلسل مایوسی ہاتھ لگی۔ اسی دوران منوج تیواری کو احساس ہوا کہ وہ گانا گا سکتے ہیں۔

ایک واقعہ منوج تیواری نے یور اسٹوری بتایا،

 "گریجویشن کرنے کے بعد جب کام نہیں ملا تو سوچا کہ اب کیا کیا جائے۔ اسی وقت 1992 میں ہی میں نے ایک پروگرام میں گانا گایا۔ اس کے عوض میں مجھے 1400 روپے ملے۔ جب میرے ہاتھ میں اتنے پیسے آئے تو مجھے لگا کہ میں گانے کے میدان میں کیوں نہ جاوں۔ اپنے والد کی موسیقی کی روایت کو کیوں نہ آگے بڑھاوں۔ اسی دوران میں دہلی آیا۔ ایک رکن پارلیمنٹ کے سرونٹ کوارٹر میں ره کراپنا گانا لوگوں کو سناتا۔ گانے کے ساتھ ادھر ادھر خوب گھوما۔ ان چار برسوں میں نہ جانے کتنی بار مجھے لوگوں نے ذلیل کیا۔ نہ جانے کتنی بار مجھے لوگوں نے اپنے آفس سے دھکے مار کر باہر کیا۔ لیکن میں نے ہار نہیں مانی۔ میں مسلسل اپنی کوشش میں لگا رہا۔ کہتے ہیں اگر تم میں ہنر ہے تو پھر ایک نہ ایک دن رنگ لائے گا ہی۔ وہی میرے ساتھ بھی ہوا۔ ٹی سریز کے مالک گلشن کمار نے میرا گانا سنا اور پھر میں نے پلٹ کر پیچھے نہیں دیکھا۔ میرا گانا سپر ہٹ رہا۔ "

پنجابی شاعر اوتار سنگھ لوپ نے کہا تھا "سب سے خطرناک ہوتا ہے سپنوں کا مر جانا"۔ منوج تیواری کا بھی ماننا ہے کہ نوجوان پہلے تو طے کریں کہ انہیں کس سمت میں جانا ہے۔ پھر یہ طے کریں کہ جس سمت میں جانا ہے اس میں انہوں نے خواب کیا دیکھا ہے۔ اگر خواب نہیں دیکھ سکیں گے تو انہیں شرمندہ تعبیر کیسے کریں گے۔ منوج تیواری نے کہا،

"میں نے زندگی میں تین ایسے خواب دیکھے جو آخرکار شرمندہ تعبیر ہوہی گئے۔ پہلے میں دیکھتا تھا کہ کسی بڑے گھر کی لڑکی نے میرا گانا سنا اور اس نے خوب پسند كيا۔ اس كے علاوہ میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ امیتابھ بچن سے میں ملوں گا اور وہ اپنے بیٹے ابھیشیک سے میرا تعارف کرائیں گے۔ یہ خواب ہو بہ ہو پورا ہوا۔ میں امت جی سے یش راج فلمز میں ملا۔ ساتھ میں ابھیشیک بچن بھی تھے۔ اور ٹھیک ویسا ہی ہوا جیسا میں نے خواب دیکھا تھا۔''

اسی طرح کا خواب وہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے لئے بھی دیکھتے تھے۔ تاہم اٹل بہاری اب بیمار رہتے ہیں اس لئے ان سے ملاقات تو نہیں ہو پائی، لیکن جب بھی وزیر اعظم کی رہائش گاہ جاتا ہوں تو لگتا ہے اسی جگہ پر اٹل جی بھی رہتے ہوں گے۔ یہ سب سوچ کر میں بہت خوش ہو جاتا ہوں۔ "

پھر بھی منوج تیواری کا ایک خواب ایسا ہے جو اب بھی پورا نہیں ہوا ہے۔ وہ ہے بھوجپوری کو ایک زبان کا درجہ دلوانا۔ ان کا کہنا ہے،

"بھوجپوری ہماری ماں کی طرح ہے۔ اس کی مٹھاس نایاب ہے۔ جب آٹھ ممالک میں بھوجپوری کو تسلیم کیا جاتا ہے تو پھر ہمارے ملک میں کیوں نہیں۔ چونکہ بھوجپوری ماں کی طرح ہے اس لئے ماں کا احترام ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے کی22-24 کروڑ لوگوں کی جو زبان ہے اس پر وزیر اعظم سنجیدگی سے غور کریں گے۔ بھوجپوری کومسلمہ زبان کا درجہ دلانے کی کوشش میں لگا ہوں۔ "

منوج تیواری مانتے ہیں کہ جو بھی کام کر رہے ہوتے ہیں اسے پوریلگن کےساتھ کرتے ہیں۔ اس لئے الگ الگ میدان میں کام کرنے کے بعد بھی ہر کام کو سنجیدگی سے لیا اور یہی وجہ ہے کہ کامیابی ملتی رہی۔ وہ کہتے ہیں،

"جب میں گانا گا رہا ہوتا ہوں تو اس میں مکمل طور پر ڈوبا رہتا ہوں۔ جب میں عوام کے درمیان میں ہوتا ہوں تو مکمل طور پر ان کا ہوتا ہوں۔ تو ہمیشہ حال کی قدر کرتا ہوں۔ "

کامیاب وہی ہوتا ہے جو خود کو ایمانداری سے جج کرتا ہے، بامعنی وہی ہے جو اپنے اندر کی خامیوں اور خوبیوں کو سمجھتا ہے، مضبوط وہی ہے جو زندگی کے تمام جھمیلوں سے ٹکرانے کے بعد بھی کھڑا رہتا ہے اور آگےچل کرمنزل پاتا ہے۔ منوج تیواری نے ان تینوں پہلوؤں پر خود کو ثابت قدم پایا، اس لیے ان کی کامیابی خود سے حاصل کی ہوئی ہے جو کروڑوں کے لئے متاثر کن ہے۔