جہاں اے ٹی ایم نہیں وہاں پے ورلڑ سے ملے گا روپیہ

0


ملک کے دور دراز علاقوں میں جہاں اے ٹی ایم کی سہولت دستیاب نہیں ہے، لوگوں کو نقد رقم حاصل کرنے میں پریشانی ہوتی ہے، وہاں پے ورلڈ نے مسئلہ کی تشخیص کرنے کے لئے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ساتھ جمع ادائیگی کی سہولت مہیا کرانے کی پہل کی ہے۔

اس اسکیم سے وزیر اعظم کے جندھن منصوبہ کے تحت روپ ڈیبٹ کارڈ رکھنے والے اکاؤنٹ ہولڈروں کو بھی سہولت ملے گی۔

پے ورلڈ نے ایسے دور دراز علاقے جہاں اے ٹی ایم نہیں ہیں، وہاں گروسری اور دوا کی دکان چلانے والے خوردہ فروشوں کے ذریعے ادائیگی کی سہولت مہیا کروائی ہے۔ اس کے لئے کوئی اضافی جگہ یا بھاری بھرکم بڑی مشین کی ضرورت نہیں ہے۔ دکاندار کو اپنے اسمارٹ فون میں صرف پے ورلڈ کی ایپ ڈاون لوڑ کرنی پڑےگی اور کارڈ ریڈر کے فون کے ساتھ جوڑنا پڑےگا۔ دکاندار کو گاہک کے ڈیبِٹ کارڈ کو سویپ کر بینک سے منظوری ملنے کے بعد گاہک کونقد رقم دستیاب کرانی ہے۔

پے ورلڈ سے جاری اعلامیہ کے مطابق ڈیبٹ کارڈ رکھنے والا کوئی بھی شخص اس منصوبہ کے تحت دور درازکے علاقوں میں 2000 روپے تک نقد رقم حاصل کر سکتا ہے۔ پے ورلڈ چیف آپریٹنگ آفیسر پروین نے کہا کہ شروع میں 500 خریداروں کو اس میں شامل کرنے کا منصوبہ تھا اور اس کے بعد مارچ 2016 تک ملک بھر میں 5000 خوردہ فروشوں کو اس اسکیم میں شامل کیا جائے گا۔ پے ورلڈ 2 ارب ڈالر کی چنئی کی سُگل اینڈ دمانی گروپ کا حصہ ہے۔

دھبانی کے مطابق وزیر اعظم جن دھن منصوبہ کے تحت بہت سے لوگ بینکوں سے منسلک ہیں۔ ان کے پاس روپے کارڈ بھی ہے لیکن دیہی علاقوں میں اے ٹی ایم نہیں ہونے کی وجہ سے وہ کارڈ کا استعمال نہیں کر پاتے ہیں۔ پے ورلڈ کے اس منصوبہ سے انہیں نقد رقم حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ اس منصوبہ میں کسٹمر کسی بھی بینک کے ڈیبٹ کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے پیسہ حاصل کر سکتے ہیں۔