زندگی سب سے بڑا تحفہ ہے اس کا احترام کریں: شاہ رخ خان

`میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے اداکاری کا شوق تھا اور مجھے اس کو پیشہ بنانے کا موقع ملا۔ ہر ایک کو ایسا موقع نہیں ملتا، لیکن اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے جو کام ملے اسے اتنا اچھا یا جائے کہ وہ سب سے اچھا ہو جائیں۔ '

0

ہندی فلموں کے سوپر اسٹار شاہ رخ خان نے نوجوانوں سے کہا  کہ ان کی زندگی میں اسی وقت بڑی کامیابی حاصل ہوسکتی ہے جب وہ ہر کام کام کو زندگی کا پہہلا اور آخری کام سمجھ کر پوری قوت لگا دیں اور ہمیشہ اپنے دل کی سنیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ زندگی سب سے بڑا تحفہ ہے اس کا احترام کریں۔

اداکار شاہ رخ کو پیر ۲۶ دسمبر کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) نے اردو زبان اور ثقافت میں ان کی خدمات کے لئے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی۔ مانو کے چھٹے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے شارخ خان نے کہا کہ حیدرآباد شہر میں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرتے ہوئے انہیں فخر کا احساس ہو رہا ہے، کیوں یہی پر ان کی والدہ کی پیدائش ہوئی تھی اور ان کے والد غریب ہونے کے باوجود اردو کے بڑے عالم تھے۔ انہوں نے کہا،

' میرے والد تعلیم کو بہت مانتے تھے۔ وہ مجاہد آزادی تھے۔ ایم اے ایل ایل بی کی ڈگرياں انہوں نے حاصل کی تھیں اور مولانا آزاد کو بہت مانتے تھے۔ وہ بہت خوبصورت اردو بولتے تھے۔ پرانی چیزیں دےكر ان کی اتنی تعریف کرتے تھے کہ میں اس سے متاثر ہو جاتا تھا۔ آج میں جو کچھ بھی بولتا ہوں، سب انہی کی بدولت ہے۔ '

شاہ رخ خان نے کہا کہ ان کے والد نے بچپن میں انہیں ایک پرانا ٹوٹا ہوا شطرنج کا سیٹ دیا تھا۔ اس سے انہوں نے جینے کے کئی راز سیکھے۔ سب سے پہلے تو یہی کہ آپس میں تعاون اور مل جل کر کام کریں۔ زندگی میں کبھی بھی کسی میں کام کو کرنے کا بیڑا اٹھا کر اس سے پیچھے نہ ہٹیں۔ کھیل کے پیادے سکھا دیتے ہیں کہ کوئی بھی انسان چھوٹا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی کامیاب بننے کے لیے جن چیزوں سے لگاو ہو جاتا ہے، ان کو چھوڑنا پڑتا ہے، جیسے کے شطرنج ملکہ کو قربان کرنا پڑتا ہے۔

خان نے اپنے والد کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک چھوٹا سا ٹائپ رائٹر ان کے والد نے دیا تھا، جس میں ٹائپ کرتے ہوئے اگر غلطیاں ہو جاتي تو اسے مٹانا کافی مشکل ہوتا۔ انہوں نے کہا اس ٹائپ رائٹر سے میں نے سیکھا کہ کوئی بھی کام بڑے احتیاط سے کریں تاکہ غطييوں کے لئے جگہ نہ رہے۔ ' ایک كیمرا کا ذکر بھی انہوں نے کیا۔ بتایا کہ اس کیمرے سے  منظر تو بہت خوبصورت نظر آتے تھے، لیکن تصاویر کلک نہیں ہوتی تھیں۔ ان کی سمجھ میں آیا کہ اپنے اندر کی تخلیقی صلاحیتوں کو کچھ اس طرح سے نکھارا جائے کو لوگ اس کو ماننے لگیں۔ انهونے کہا،

`میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے اداکاری کا شوق تھا اور مجھے اس کو پیشہ بنانے کا موقع ملا۔ ہر ایک کو ایسا موقع نہیں ملتا، لیکن اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے جو کام ملے اسے اتنا اچھا یا جائے کہ وہ سب سے اچھا ہو جائیں۔ '

شاہ رخ خان نے اس موقع کو دیکھتے ہوئے کچھ ہنسی کا ماحول بھی پیدا کیا اور کہا کہ ہر شخص میں سینس آف ¿اومر ہونا ضروری ہے۔ بچے کی معصومیت کو زندہ رکھنے سے دنیا خوبصورت ہو جاتي ہے۔ انہوں نے ایک پرانی مزاحیہ غزل کا شعر بھی کہا

میں رویا  تو آنسو سے ٹب بھر گیا تھا

انوں اس میں آکے نہا کے چلے گئے

اداکار نے کہا کہ زندگی میں بہت سے  مقام آتے ہیں۔ ہر حال میں ان مقامات کا احترام کرنا ضروری ہے۔ چاہے وہ اچھا وقت ہو یا برا، اندھیرا ہو اجالا، اس کا احترام کر کے ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ زندگی کو اگر کچھ لوٹانا ہے وہ رحم یا شفقت ہو سکتی ہے۔

اردو کی مشهو رویب سائٹ رےیختہ کے بانی راجیو سراف کو بھی یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری پیش کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اردو میں ہندو ویدوں اور اسلام کے تصوف  کا ایک ایسا مرکب ہے جس میں اس زبان کو منفرد بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس کے ادب کے ڈجٹلایزیشن کا کام سنبھالا اور آج 23000 سے زیادہ کتابوں کا ڈجٹلائزیشن  کا کام جاری ہے۔

مانو وائس چانسلر پروفیسر اسلم پرویز نے بتایا کہ آج 2885 گریجویشن اور ماسٹرز اور 276 ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں پیش کیں۔ 44،235 گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلباء کو بھی ان کی ڈگریاں ا فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا۔

چانسلر ظفر سریشوالا نے طلبا کو ڈگریاں  پیش کیں اور انہوں نے زندگی میں کامیاب بننے کا پیغام دیا۔