دھوپ اور نظر کے چشموں کاکروڑوں ڈالر کا بازار...

0

کہتے ہیں آنکھیں ٹھیک ہیں تو سب کچھ ہے اور اگر آنکھوں میں کوئی تکلیف یا کمزوری ہے تو گویا دنیا کی خوبصورتی، رنگوں کی کشش سب بے معنی ہے۔ آنکھوں کی خوبصورتی پر شاعروں نے نہ جانے کتنی غزلیں اور نظمیں لکھی ہیں۔ بات ہے بھی صحیح ۔ اگر آنکھیں صحیح سلامت نہ ہوں تو پھر اِس دنیا میں رکھا ہی کیا ہے؟ چیزوں کو دیکھنےاور محسوس کرنے کی واقعی بڑی اہمیت ہے ۔ اِدھر کچھ عرصے سے آنکھوں کی تکالیف سے متعلق عام لوگوں میں واقفیت اوربیداری میں اضافہ ہوا ہے ۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ نظر کی کمزوری آج کے مصروف معمولاتِ زندگی کے سبب عام ہو چکی ہے اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے ہر دس میں سے 6 لوگ یا تو چشمہ پہنتے ہیں یا پھر وہ آنکھوں میں كانٹیكٹ لینس کا استعمال کرتے ہیں یا پھر کبھی نہ کبھی وہ اپنی آنکھوں کا آپریشن کرواتے ہیں۔

اگر ترقی پذیر دنیا کی بات کریں تو وہاں بھی ترقی یافتہ دنیا کی ہی طرح ہر 10 میں سے 6 لوگ کسی نہ کسی قسم کے امراضِ چشم سے متاثر ہیں۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ فرق صرف اتنا ہے کہ آنکھوں کے علاج اور دیکھ بھال یا پھر چشموں تک ان کی رسائی بہت محدود ہے ۔ اگر ہم عالمی آبادی کے تناسب میں دیکھیں تو یہ بہت ہی چونکانے والے اعداد و شمار ہیں۔

آخر اتنی بڑی تعداد میں چشمے کون تیار کرتا ہے؟ آنکھوں کے چشموں کی صنعت سے منسلک کسی بھی شخص کا بے ساختہ جواب ’لکسوٹیکا‘ (Luxottica)ہوگا۔ لیکن عام لوگوں کے لئے یہ ایک ناقابلِ حل معمے یا پہیلی جیسا ہے ۔ لیکن ’پراڈا، جیارجيو ارمانی، ورساچے، لینس کرافٹ ‘ وغیرہ ایسے نام ہیں جن سے تقریباً ہر کوئی واقف ہے ۔’لکسوٹیکا‘ یا تو اِن تمام برانڈز کا مالک ہے یا پھر وہ دھوپ کے چشمے بنانے کے علاوہ اُن کے لئے مطلوبہ فریم تیار کرتا ہے ۔

’لکسوٹیکا‘ گروپ در اصل سال 1961 میں قائم ایک اطالوی ’ آئی ویئر‘ کمپنی ہے جو دنیا بھر کے مشہور و معروف چشموں کےبرانڈز میں سے 80 فیصد سے بھی زائد پر غلبہ یا عمل دخل رکھتی ہے ۔ یہ گروپ ’رےبین، پرسول، لینس کرافٹرس، پرلے ویژن‘ وغیرہ کی ملکیت رکھتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ ’شینل، پراڈا، جیارجيو ارمانی، بربري، ورساچے، ڈولسی اینڈ گبانا‘ سمیت کئی دیگر ڈیزائنر برانڈز کے لئے دھوپ کے چشمے اورمطلوبہ فریم بھی تیار کرتے ہیں ۔

’لکسوٹیکا‘ کے 7000 سے بھی زیادہ ’ریٹیل اسٹور ہیں اور 2014 میں ان کا(EBIDT) ’ای بی آئی ڈی ٹی اے‘ 1.7 بلین ڈالر کا تھا ۔ ’لکسوٹیکا‘ کے علاوہ ’ سافیلو، مارک هان‘ اور’ ڈےریگو‘ اِس میدان کے دیگر بڑے اور مشہور و معروف نام ہیں ۔

مارکیٹ کاآن لائن زاویہ

اگر ہم آن لائن مارکیٹ پر نظر ڈالیں تو’ واربے پارکر‘ (Warby Parker) سب سے زیادہ معروف اور سرِ فہرست دکھائی دیتا ہے ۔ ’ واربے پارکر‘ نظر اور دھوپ کے چشمے بیچنے والی ایک ایسی کمپنی ہے جو صارفین تک آن لائن پہنچ بنانے کے علاوہ امریکہ میں ’ریٹیل‘ اسٹورز کے ذریعے بھی لوگوں کی خدمت کرتی ہے ۔ کئی مراحل میں 215 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے بعد ماہِ اپریل میں اس کمپنی کی قدر و قیمت کاتخمینہ 1.2 بلین ڈالر لگایا گیا۔ اِس کمپنی نے 100 ڈالر سے بھی کم قیمت میں ڈیزائنر فریم فروخت کرکے خود کو ایک برانڈ کے طور پر مستحکم کیا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ امریکہ میں فروخت ہونے والے اپنے چشموں کے ہر جوڑے کے عوض ترقی پذیر ممالک کو ایک جوڑی چشمہ عطیہ کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں ۔ حالانکہ چشموں کے بازار میں اِس کمپنی کی قدر و قیمت کا کافی اچھا تخمینہ کیا گیا ہے لیکن پھر بھی ’لکسوٹیکا‘ کے مقابلے میں یہ محض ایک معمولی سا حصّہ ہی ہے۔

اگر ہندوستانی مارکیٹ کی بات کریں تو ’جی کے بی آپٹیکل‘ یہاں چشمے فروخت کرنے والی کمپنیوں میں سب سے بڑا نام ہے ۔ یہ ملک بھر میں اپنے کئی اسٹورز کے ذریعے دھوپ اور نظر کے چشمے، كانٹیكٹ لینس اور دیگرمتعلقہ اشیاء فروخت کرتا ہے ۔’ کولکاتہ‘ میں واقع ہیڈآفس سے چلنے والے اِس  اسٹور کے پورے ہندوستان میں 60 اسٹور ہیں اور یہ 600 سے بھی زیادہ لوگوں کو اپنے یہاں روزگار فراہم کرتا ہے ۔

اس کے علاوہ موجودہ دور میں کئی’آپٹیکل ریٹیل چین‘ بھی مسلسل سامنے آ رہے ہیں جن میں سے حال ہی میں 40 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل کرنے والا برانڈ ’بین فرینکلن ‘ (Ben Franklin) اہم ہے۔ اگرآن لائن مارکیٹ کی بات کریں تو قدر و قیمت کے لحاظ سے سال 2010 سے شروعات کرنے والی معروف کمپنی’ لینس كارٹ ‘ (Lenskart) کے علاوہ ’جویلس كارٹ، بیگس كارٹ‘ اور ’واچ كارٹ‘ اہم نام ہیں ۔ اِس کمپنی نے جنوری 2015 میں 135 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے بعد صرف ’لینس كارٹ ‘ جاری رکھتے ہوئے دیگر’ پورٹل‘ بند کرنے کا فیصلہ کیا ۔ آن لائن چینلز کے علاوہ ملک بھر میں ’لینس كارٹ‘ کے 66 شہروں میں 100 سے بھی زیادہ اسٹور ہیں اور یہ اپنی ’آف لائن‘ کارکردگی کی توسیع پر توجہ دے رہے ہیں۔

نئی تلاش اور نئے انٹرپرائز

’لینس كارٹ ‘ نے حال ہی میں اپنی ویب سائٹ پر ’تھری ڈی ٹرائی آن ‘ (3D Try On) نامی ایک مخصوص سہولت شروع کی ہے جہاں پر صارفین مختلف قسم کے چشموں کو آن لائن پہن کر دیکھ سکتے ہیں ۔ یہ’ ٹول‘ صارف کو فرنٹ کیمرے کا استعمال کرتے ہوئے اپنے چہرے کی تصویر درج کروانے کی ہدایت دیتا ہے ۔ اس کے بعد صارف آن لائن موجود مختلف فریموں میں سے پسندیدہ فریم اپنی تصویر پرلگا کرا سکرین پر نتائج دیکھ سکتا ہے۔

اِس کے علاوہ اس فیلڈ میں کچھ نئے نام بھی اپنی موجودگی درج کروانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔  ’گلاسِك‘ اور’ جارج آئی‘ نے گزشتہ سال ہی آن لائن مارکیٹ میں پیش قدمی کی ہے۔

’گلاسِک‘ کے بانیان، ’کیلاش ‘اور ’دیویش نچاني‘ آن لائن پلیٹ فارم سے ’آپٹیکل‘ آلات اور مشینوں کے اپنے آبائی کاروبار کو مزید توسیع دینے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ فی الحال یہ کمپنی صرف آن لائن کام کر رہی ہے اور یہ بھی ’ ورچوول ٹرائی آن‘ خصوصیت سے لیس ہے ۔ کیلاش کہتے ہیں،’’ اب تک ہمیں اپنی ویب سائٹ، مصنوعات اور خدمات کے سلسلے میں کافی مثبت ردِعمل ملا هے اور ابھی تک ہمارا فروخت کیا گیا کوئی بھی پروڈکٹ واپس نہیں آیا ہے ۔‘‘

’کیشو‘ اور’نیدھی گپتا ‘کے دماغ کی اختراع ’جارج آئی‘ اِس شعبےمیں قدم رکھنے والا ایک دیگر ’اسٹارٹپ‘ ( ابتدائیہ کمپنی) ہے ۔ یہ کمپنی ماہ بہ ماہ 45 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی ہے ۔’نیدھی‘ کہتی ہیں، ’’ کام شروع کرنے کے صرف چار ماہ کے دوران ہی هم نے اپنی’سی ٹی آر‘ کی شرح کو 1.8 فیصد سے بڑھا کر موجودہ 3.2 فیصد پر لانے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ ہم صرف 30 ماڈلوں کے ساتھ شروعات کرنے کے بعد آج اپنے ڈیزائنر کلیکشن کو 100 سے بھی زیادہ ماڈلوں تک بڑھا چکے ہیں ۔ اِس کے علاوہ ہم’ سن گلاس‘ اور’ پاورسن گلاس ‘ کو بھی اپنی مصنوعات کی سیریز کا ایک حصّہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔‘‘ ’ جارج آئی‘ کا ارادہ سال 2015 کے آخر تک ماہانہ 1000 آرڈرز کی تعداد کو پار کرتے ہوئے ماہانہ 10 لاکھ روپے کی آمدنی کا ہدف حاصل کرنے کا ہے۔

بدلتے حالات اورمستقبل

دھوپ اور نظر کے چشموں کی صنعت کئی دہائیوں تک صرف کچھ چنندہ لوگوں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بنی رہی، لیکن اب حالات بدل رہے ہیں ۔ جس طریقے سے ٹیکنالوجی اور کمپیوٹرس نے دیگر شعبوں میں اپنا اثر دکھایا ہے، ویسے ہی یہ شعبہ بھی روایتی نامور کمپنیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے نئی نسل کے ہاتھوں میں جانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اور نئی نسل کا ارادہ ان مصنوعات کی پہنچ میں بہتری لاتے ہوئے صارفین کو خوشگوار تجربہ فراہم کروانے کا ہے۔

ترقی پذیر معیشتوں میں کروڑوں لوگ ’آئی کیئر‘ سے بالکل بے خبر ہیں یا پھر یہ ان کی پہنچ سے باہر ہے، اور ایسے میں’اسٹارٹپ‘ اُن کے مسائل حل کرنے کی سمت میں پیش قدمی کر رہے ہیں ۔ جیسے ’فورس ‘(Forus) کی ایک اہم مصنوعات ’تھری نیتر‘ (3nethra) ایک سستا اور پورٹیبل’ آئی اسکریننگ‘ آلہ ہے جو آنکھوں کے عام مسائل کی 5 منٹ سے بھی کم وقت میں تشخیص کرسکتا ہے ۔دھوپ اور نظر کے چشموں کے مارکیٹ میں سرگرمِ عمل کمپنیوں کے لئے ملک میں اور عالمی سطح پر ایک بہت بڑا اور بالکل اچھوتا مارکیٹ کھلا ہے جہاں وہ مثبت اور قطعی طور پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

قلمکار : زوبین مہتہ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Zubin Mehta

Translation by : Anwar Mirza