دو عظیم شخصیتوں کے درمیان کی کڑی ۔۔۔۔۔ مدھرا جسراج

0

والد وی شنتارام کی کچھ یادیں

پانچ سال تک چلتا رہا یادوں کو سمیٹنے کا سلسلہ

گزشتہ کئی برسوں سے ان سے بات کرنے کے بارے میں سوچا، لیکن جب بھی ملاقات ہوتی، بات جی ہاں! جی نہیں! سے آگے نہیں بڑھ نہیں پاتی تھی۔ بہت مشكل سے اگر بات آگے بڑھتی بھی تو پنڈت جی کا موضوع ہی آس پاس ہوتا۔ میرے لئے آخر کار وہ لمحہ آ ہی گیا۔ اس بار جب مدھرا جی حیدرآباد آئیں تو ان سے ان کے اور ان کے والد کے بارے میں جی بھر کر باتیں ہوئیں۔ جی ہاں ہندوستانی فلموں میں جان پھونکنے والے وی شانتا رام اور ہندوستانی موسیقی کے مایاناز فنکار پنڈت جسراج کو تو دنیا خوب جانتی ہے، لیکن ان دونوں کے درمیان کی کڑی مدھرا جسراج کے بارے میں کم کم ہی بات ہوتی ہے۔ وہ بہت ہی محبت والی اور جذباتی طبیعت کی خاتون ہیں۔ کسی کی یاد آئی تو آنکھ میں آنسو نہیں رکتے اور کسی بات پر خوشی بھی اتنی شدت سے کہ آنکھوں سے چھلكتی ہے۔

گزشتہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے پنڈت جسراج اور ان کا خاندان حیدرآباد میں موسیقی کا جشن منانے میں سرگرم ہے۔ 30 نومبر ایک ایسی تاریخ ہے، چاہے وہ ملک بیرون ملک کسی بھی کونے میں کیوں نہ ہوں حیدرآباد چلے آتے ہیں۔ پنڈت موتيرام منی رام کنسرٹ کا موقع کچھ ایسا ہوتا ہے کہ سارا خاندان حیدرآباد میں ہوتا ہے۔ اس بار بھی پنڈت جسراج اور ان کی بیٹی درگا جسراج کے ساتھ ساتھ مدھراجسرج بھی موجود ہیں۔

موسیقی کی تقریب میں اس بار کی خاصیت سب سے مختلف ہے۔ ایسا پہلی بار ہو رہا ہے، جب پنڈت جسراج کے والد اور بڑے بھائی کے ساتھ ان کے خسر وی شانتا رام کو بھی یاد کیا جا رہا ہے۔

وی شانتا رام کی بیٹی کے طور پر مدھرا جسراج نے دو اہم چیزیں فلمی دنیا کو دی ہیں۔ ایک تو وی، شانتا رام پر ڈاكيومینٹری فلم اور دوسری ان کی سوانح عمری۔ تاہم مدھرا جسراج نے فلمیں اور سیریل بھی بنائے ہیں، لیکن وی شانتا رام جیسی اتنی بڑی ہستی پر سوانح عمری لکھنا کیا آسان تھا؟ اور خاص کر ان کی بیٹی کے لئے؟

مدھرا جسراج کی آنکھوں میں ایک چمک سی آتی ہے اور آنکھیں اپنے والد کی یاد میں نم بھی ہیں۔ وہ بتانے لگتی ہیں، ''نہیں انہیں اس کے لئے تیار کرنا ہی بڑا مشکل کام تھا۔ وہ پوچھتے تھے کہ کیا فائدہ ہوگا سوانح عمری لکھ کر، کون پڑھے گا اسے، لیکن میں انہیں سمجھانے کی کوشش کرتی کہ سوانح عمری ان کے اپنے لئے نہیں بلکہ ان کے تجربات کو جمع کرنے کے لئے کافی اہم ہو جائے گا۔ یہ جب سامنے آئے گی تو یہ فلمی دنیا کے ایک تاریخ بھی ہوگی۔''

آخر کار جب وی شانتا رام اپنی سوانح عمری لکھنے کے لئے مان گئے تو کئی دلچسپ واقعات پیش آئے۔ انہوں نے مدھرا جسراج کو فون کر کے اسٹوڈیو بلایا اور آپ کے لیٹر ہیڈ پر تحریری طور پر اس بات کا اعلان کیا، ''میری کہانی لکھنے کا حق میں اپنی بیٹی کو دیتا ہوں۔''

1980 کے آس پاس کے ان واقعات کا ذکر کرتے ہوئے مدھرا بتاتی ہیں کہ اس وقت نامور ہندی رسالہ دھرم يوگ کے ایڈیٹر دھرم ویر بھارتی اور مراٹھی کے معروف ادیب وسنت كنیٹكر اور گیانیشور ناڈكرنی کو ابتدائی نمونے بتا کر اس بات کی تصدیق کرنے کی کوشش کی کہ بیٹی والد پر کتاب لکھ پائےگی یا نہیں۔

پھر ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا، اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے مدھرا جسراج کچھ یوں کرتی ہے، ''میں گھر میں کچھ کام کر رہی تھی۔ بچوں کے ٹفن بنوانے تھے کہ راج کمل اسٹوڈیو سے فون آیا۔ والد نے مجھے پوچھا کہ کتنے بجے تک پہنچوگی؟ میں نے دس بجے کا وعدہ کیا، لیکن 22 منٹ دیر ہو گئی۔ والد وقت کے بہت پابند تھے۔ اسٹوڈیو پہنچتے ہی لوگوں نے بتایا کہ وہ ٹھیک 10 بجے سے اپنے کمرے میں انتظار کر رہے ہیں۔ کمرے میں پہنچتے ہی انہوں نے ڈانٹ کر کہا، تم وی شانتا رام کے 22 منٹ کی قیمت جانتی ہو؟ لیکن بہت جلد معمول پر آتے ہوئے، بات چیت شروع کی۔ پھر 4.30بجے تک انہوں نے اپنی زندگی کے بارے میں بہت کچھ بتایا۔ اس دن انہوں نے کہہ رکھا تھا کہ وہ کسی سے نہیں ملیں گے اور فون پر بات نہیں کریں گے۔ اس دن انہوں نے جو کچھ بتایا میرے لئے بڑا امتحان تھا۔ وہ فلموں کے بڑے آدمی تھے۔ بہت سارے واقعات ان کی زندگی میں تھے۔ کچھ باتیں ان خواتین کے متعلق بھی تھیں، جنہوں نے ان کے ساتھ کام کیا تھا، لیکن انہوں نے کچھ نہیں چھپایا۔ جب شام 4.30بجے اپنی بات پوری کی تو پوچھا، ''تمہیں تمہارا باپ کیسا لگا؟''

میں نے کہا،''آپ مجھے انسان لگے''

پھر انہوں نے مجھے کچھ اس طرح گلے لگایا کہ آج بھی وہ لمحات میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تم جو چاہو لکھیں اور جو چاہو نہ لکھیں، وہ آپ پر ہے۔ پھر یہ سلسلہ تقریبا پانچ سال تک چلا۔ ''

مدھرا نے ایک مصنفہ کے طور پر مراٹھی فلموں میں خوب نام کمایا، لیکن والد پر لکھنا آسان نہیں تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ جب سوانح عمری لکھنے کی بات آئی تو انہوں نے انگریزی، مراٹھی اور ہندی میں لکھی بہت مشہور کتابیں پڑھیں۔ والد کی بنائی ہوئی فلمیں دیکھیں۔ ان پر لکھے مضامین پڑھے اور پھر ان پر کی بنا پر بہت سے سوال اپنے والد سے پوچھے۔ طویل وقت گزارنے کے بعد جب وی شانتا رام پر ان کی انگریزی کتاب 'وی شانتا رام دی مین ہو چیجڈ ہندی سنیما' شائع ہوکر مارکیٹ میں آئی تو اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور پھر وہ اپنے والد کو پڑھ کر ہی ہندی سنیما کی ماہر ہو گئیں۔

'دو آنکھیں بارہ ہاتھ' اور 'نورنگ' جیسی ان گنت فلموں کے بنانے والے وی شانتا رام پر تو انہوں نے کتاب لکھ دی۔ کیا کبھی پنڈت جسراج پر بھی کتاب لکھنے کا خیال آیا؟

سوال کے جواب میں وہ کہتی ہیں، `` بہت بار آیا اور میں نے بہت سے رسائل کے لئے مضامین بھی لکھے، لیکن سوانح عمری جیسی کتاب نہیں لکھی۔ یہ بڑا مشکل کام ہے۔ اپنے آپ کو دوسرے شخص کے طور پر ان کو دیکھ کر ان کے بارے میں جاننا اور ان کے بارے میں لکھنا، اور اس کی زبان، انداز، سب کچھ بہت زیادہ توانائی مانگتے ہیں۔ ''

قابل ذکر ہے کہ انہوں نے پنڈت جسراج پر کتاب تو نہیں لکھی، لیکن ڈاكيومینٹری فلم ضرور بنائی اور اسے کافی سراہا بھی گیا۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem