اردو میں طب کی کتابیں لکھنے والے مزاح نگار ڈاکٹر عابد معز

مختلف شعبوں میں اپنے فن سے شناخت قائم کرنے والے سیدخواجہ معز الدین ۔۔ڈاکٹر عابد معز

0

کہا جاتا ہے کہ کسی ایک پروفیشن میں ہی نام کمانے کے لیے لوہے کے چنے چبانا پڑتا ہے، لیکن بعض لوگ اس کہاوت کو غلط ثابط کر دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک نام ڈاکٹر عابد معزکا ہے۔ عابد معز کی کاوشوں کا ہی ثمرہے کہ آج اردو دنیا میں ملک میں اپنی تحروں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ۔ وہ مزاح نگار طبیب اور طب کے ماہر مزاح نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر عابد معز راتوں رات ترقی کے آسمان پرکے نہیں چمکے، بلکہ ان کے اس سفرکی کافی لمبی کہانی ہے۔ اردو میں لکھنے پڑھنے سے ان کی دلچسپی بچپن ہی سے رہی تھی۔ بچپن کے زمانے کو پتھر کی لکیر کہا جاتا ہے۔ جب وہ پرائمری اسکول میں تھے اس وقت کے استاد اس دلجمعی سے اردو پڑھاتے اور سمجھاتے تھے کہ ان کی دلچسپی اور بڑھتی گئی۔ عمر کے ساتھ ساتھ اردو سے عشق بھی بڑھتاگیا۔ اسی کے چلتے انھوں نے 8 ویں جماعت تک آتے آتے کہانیاں بھی لکھنی شروع کردی۔ لکھنے کی ابتداء کے بارے میں انھوں نے بتایا، ”مفیدالعنام ہائی اسکول جو اعتبار چوک حیدرآباد میں ہے۔ یہاں پر اردو ایک مضمون تھا۔ جسے ہمارے استاد احمد مکی پڑھاتے تھے۔ اردو فرسٹ لینگویج تھی۔ یہ مضمون 70 فیصد اردو اور 30 فیصد ہندی پر مشتمل تھا۔ استاد احمد مکی کے انداز بیان اور پڑھانے کے انداز سے اردو کی جانب رغبت بڑھتی گئی۔ بعد میں لکھنے کی جانب خودبخود دل راغب ہونے لگا اور اورپھر سلسلہ چل نکلا۔“

لکھنے کے مشغلہ کو اس وقت مزید زرخیزی ملی جب اس وقت کی ریاست آندھرآپردیش میں علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تحریک اپنے شباب پر تھی۔ 1970ءمیں ایس ایس سی کامیاب کرنے کے بعد آگے کا تعلیمی کا سلسلہ یک سال کے لیے رک گیا تھا۔ ریاست کے حالات کی وجہ سے اگرچہ تعلیمی ادارے مفلوج ہوگئے تھے، لیکن عابد معزنے اپنے شوق کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ بڑھاوابھی دیا۔ وہ کہتے ہیں”دسویں جمات کامیاب کرنے کے بعد ایک سال علیحدہ ریاست کے ایجی ٹیشن کی نذرہوگیا۔ چنانچہ میں نے سنٹرل لائبریری کی ممبرشپ حاصل کی اور یہاں مستقل طور پر کتابیں پڑھنے لگا۔ جس سے میرا شوق مزید پختہ ہوگیا“۔


انوارالعلوم سے انٹرکرنے کے دوران ڈاکٹرعابد معز کی خواہش تھی کہ وہ آئی اے ایس کرے لیکن والد کی ترغیب سے ان کی دلچسپی طب کی جانب ہوگئی۔ EMCET-II میں پہلی ہی کوشش میں بہترین رینک کے ساتھ وہ ایم بی بی ایس کے لیے منتخب ہوگئے۔ ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران بھی اردو سے رشتہ منقطع نہیں کیا۔ اس تعلق سے انھوں نے بتایا، ”انوارالعلوم میں انٹرمیڈیٹ کے دوران والد مجھے اپنے ساتھ عثمانیہ میڈیکل کالج لے گئے۔ عمارت بتاکر کہا کہ یہاں سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرکے تم ایک ڈاکٹر بن سکتے ہو“۔ عابد معز کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی اور انھوں نے کامیابی کے ساتھ عثمانیہ میڈیکل کالج میں داخلہ لے لیا۔

عابد معز نے اپنی پہلی تحریر شہر کے ایک پروفیسر کو دکھائی جن سے اصلاح کے بعد انھوں نے طنز مزاح کی جانب توجہ دی۔ وہ بتاتے ہیں، ”جب میں نے اردو میں ایک تحریر ”افسانہ“ لکھ کر ایک پروفیسر کو دکھایا تو انھوں نے اس کا مطالعہ کرنے کے بعد کہاکہ یہ افسانہ کم اور طنز و مزاح کا مضمون یعنی انشائیہ زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔ آپ کا تجزیہ بہت عمدہ ہے آپ مزاحیہ مضامین لکھیں، تو میں نے اس جانب توجہ کی اور سنٹرل لائبری آف حیدرآباد کے تجربات کو اپنے پہلے مضمون ”لائبریری میں چند گھنٹے“ کے عنوان سے لکھ کر شہر کے اخبار کو بھیج دیا جسے مدیر نے پسند کیا اور شائع کیا“۔

عابد معز کا پہلامضمون ”لائبریری میں چند گھنٹے“ ہے جو نوجوانوں کا صفحہ روزنامہ رہنمائے دکن حیدرآباد میں 28مارچ 1977ءکو چھپا تھا۔ اس کے بعد سے تجربہ اور تجزیہ کے ذریعہ انھوں نے لگاتار کئی مزاحیہ مضامین لکھے۔

میڈیکل کی تعلیم کے دوران طنز ومزاح کے ساتھ انھوں نے طب میں لکھنے کا ارادہ کیا۔ طب میں ان کا پہلا کارنامہ ریڈیو پروگرام یووا وانی میں طبی مضامین شامل کرنا ہے۔ ، یہ عثمانیہ میڈیکل کالج کے طلباءکے ساتھ پروگرام تیار کیاجاتاتھا۔

ہندوستانی بزم اردو ریاض سعودی کے پروگرام میں ایم اے فہد، حامد انصاری ،اور ڈاکٹرعابد معز
ہندوستانی بزم اردو ریاض سعودی کے پروگرام میں ایم اے فہد، حامد انصاری ،اور ڈاکٹرعابد معز
اس کے بعد عابد معز نے طنز ومزاح سے زیادہ طب کے مضامین کی طرف توجہ دی۔ سعودی عرب میں وزارت صحت، ریاض میں ماہر طبیب تغذیہ کی حیثیت سے ملازمت کے دوران انھوں نے طبی مضامین لکھے۔ طبی مضامین پر زیادہ توجہ دینے کے تعلق سے ان سے سوال کرنے پر انھوں نے کہا ”طب ایک معلوماتی ادب ہے، جس سے لوگوں کی صحت میں بہتری ہوتی ہے اردو میں اس طرح کی کوششیں کم ہی ہوئی ہیں۔ گرافکس وغیرہ کے ذریعہ سے اردو میں شاذو نادر ہی کتابیں دستیاب ہیں“۔

مزاح کی 8 کتابیں اور طب کی 16کتابیں شائع ہوئیں۔انھوں نے اپنی طنز و مزاح کی کتابوں ”بات سے بات“ واہ حیدرآباد“، ”فارغ البال“ وغیرہ میں سب کو دل کھول کر ہنسایا ہے۔ شگفتہ افسانوں کی کتاب ”یہ نہ تھی ہماری قسمت“ کے ذریعہ جدید افسانہ نویسوں میں اپنا نام شامل کروایا۔ طب پر انھوں نے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا ہے جو ہماری روزمرہ کی زندگی سے راست طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ جیسے ”چکنائی اور ہماری صحت“، ”کولیسٹرال کم کیجئے“، ”رمضان اور ہماری صحت“، حج و عمرہ اور ہماری صحت“، ”فاسٹ فوڈ اور سافٹ ڈرنکس“، ”تول ناپ کر صحت مند رہئے“، ”عام طبی معائنے“، ”شکر کم کھائیں“، ”پکوان کا تیل مقدار اور انتخاب“، ”نمک کا استعمال کم کریں “اور ”ترکاری اور پھل زیادہ کھائیں“شامل ہیں۔ ان روزمرہ کے عام موضوعات کو انھوں نے بہت خاص بنادیا ہے۔ ان کی کتابیں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہورہی ہیں۔

ڈاکٹر عابد معز نے اپنی محنت اور لگن سے یہ ثابت کردیا ہے کہ دو شعبوں میں بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان کی جدوجہد ان لوگوں کے لئے ترغیب ہے جو اپنے پروفیشن سے ہٹ کر بھی کچھ کرناچاہتے ہیں۔