صحت بخش غذا ئی مہم کے لئے تیار ...سنیکس ایکسپرٹس

0

'سنیکس ایکسپرٹس' چنئی کے تین نوجوانوں کی ایسی شروعات ہے، جو صحت بخش ناشتہ پروسنے کو اپنا کاروبار بنا چکے ہیں۔

چینئی یعنی مدراس کے تین نوجوانوں نے بازار سے ملنے والے تیل تلہن کے ناشتوں سے بیزار ہوکر اسنیک اکسپرٹ کی شروعات کی۔ صحت کے معاملے میں ہندوستان پہلے سے کہیں زیادہ بیدار ہورہا ہے۔ روایتی اور اکثر تیل تلہن کی غذائی اجناس اور پکوان اب پرانے ہو چلے ہیں۔ ان کی جگہ نئے زمانے کے صحت بخش اشیاء کا استعمال رواج پا رہا ہے جن میں کیلری کا دھیان رکھا جاتا ہے۔ کئی فوڈ اسٹآرٹپ برسوں سے ایساکرتے آرہے ہیں۔ اسی فہرست میں ایک نام جُڑ گیا ہے 'اسنیک اکسپرٹ' کا۔ ان کا اصول بہت آسان تھا۔ چائے کے وقت ہونے والی گپ شپ کئی مرتبہ اتنی دلچسپ ہوجاتی ہے کہ آپ کو پتا ہی نہیں چلتا کہ آپ تیل تلہن سے پُر کتنا ناشتہ تناول فرماچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحت کے بارے میں حساس ان تین نوجوانوں نے آن لائن اسٹور کی شروعات کی۔ یہ اسٹور ملک بھر میں صحت مند ناشتہ فراہم کرتا ہے۔ ایک ویک اینڈ پر ارون پرکاش، ارول مروگن اور میری شاملہ چائے پر مِلے اور انہیں اچانک اس بات کا احساس ہوا کہ ریڈی میڈ صحت مند ناشتے میں بہت کم متبادلات موجود ہیں۔

ارون کہتے ہیں،"ہم ایسے ناشتے کھاکر اپنی صحت برباد کررہے ہیں جن سے کئی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ ہم یہ جانتے ہوئے بھی کہ بہت سے مقبول برانڈ ہماری صحت کو کتنا نقصان پہنچارہے ہیں، ایسے ناشتے کھانے کےلئے مجبور ہوتے ہیں۔ خیر، ایک راستہ یہ تھا کہ ہم ناشتہ کھانا بند کردیتے لیکن ایسا ہو نہیں سکتا تھا کیوںکہ ہم ایسا کر ہی نہیں سکتے تھے۔" بعد میں ارون صحت مند اسنیکس کی تلاش میں نکل گئے تاکہ وہ اسے گھر میں رکھ کر بعد میں استعمال کرسکیں۔ اس مینیجمنٹ صلاح کار نے چنئی میں ہر جگہ صحت مند ناشتہ تلاش کیا لیکن انہیں خالی ہاتھ گھر لوٹنا پڑا۔

ارون مزید کہتے ہیں،"اس وجہ سے میں مایوس اور حیران ہوگیا۔ پھر ہم نے اسی سمت میں کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم ایسا ناشتہ بنانا چاہتے تھے جو صحت بخش ہو، ویسا ہی جیسا آپ اپنے گھر میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کھاتے ہیں کیونکہ ہمیں پتا ہوتا ہے کہ ہماری والدہ ہی سب سے بہترین کھانا تیار کریں گی۔ اہم اپنے جیسے لوگوں کو اس قسم کا ناشتہ دینا چاہتے تھے۔" اس مثلث کے پاس اگست 2014 میں یہ آئیڈیا تھا جسے اگلے کچھ مہینوں میں عملی شکل دے دی گئی۔ تینوں نے اپنی اپنی ملازمت چھوڑدی اوراس سال سے اپنی اس کمپنی کے ساتھ کُل وقتی طور پر وابستہ ہوگئے۔ ارول جو تامل ناڈو کے ڈنڈی گُل میں بطور مینیجر کے طور پر کام کر رہے تھے، چنئی آکر بس گئے۔ آن لائن اسنیک اکسپرٹ اسٹور قائم ہوچکا ہے اور اپنے قیام کے وقت ہی سے یہ کاروبار کر رہا ہے۔ ابتداء میں یہ ٹیم تراشیدہ پھل، بھُنی ہوئی دال اور پھلوں کا سلاد بازار میں پیش کرنا چاہتی تھی لیکن انہیں احساس ہوا کہ خراب ہونے والے مال کے لئے لاجسٹ کا کام مشکل ہوگا اس لئے انہوں نے اپنی توجہ خشک اسنیکس کی طرف مرکوز کردی۔ ارون کہتے ہیں،"ملک بھر میں کھانے کے شوقین لوگوں کے لئے ہم ایسی چیز دینا چاہتے تھے جسے خریدنے کے بعد کم سے کم 30 تا 40 دن تک اسے محفوظ رکھا جاسکے۔"کمپنی نے 25۔20 اشیاء کے ساتھ اپنا کام شروع کیا جن میں سے زیادہ تر بیک کئے ہوئے ناشتے ہیں۔ لیکن آہستہ آہستہ دیگر چیزوں کا اضافہ ہوتا چلاگیا۔ ماہر تغذیہ رنجنی رمن نے انہیں پکوانوں کے بارے میں فیصلہ لینے میں مدد کی۔ وہ اس بات کو یقینی بناتیں کہ چیزیں عام ضروریات سے زیادہ نہ ہوں۔ اسنیک اکسپرٹ کے پاس فی الحال 40 اقسام کے ناشتے ہیں جن میں راگی سیو،

اوٹ اور خشک میووں کے لڈو، بغیر شکر والے براؤنی، کٹہل کے پکوڑے اور کئی طرح کے فلیپ جیکس (ایک قسم کا کیک)۔ کمپنی ان گھریلو ناشتوں کو تیار نہیں کرتی لیکن اس نے پورے تامل ناڈو میں درجن بھر سے زیادہ رسوئی خانوں سے معاہدہ کیا ہوا ہے۔

اسنیک اکسپرٹ کے لئے ان کا صارف یا گاہک ہی ان کا بادشاہ ہے۔ ارون تفصیل بتاتے ہیں،"جیسے جیسے ہمیں اپنے صارفین کا گاہکوں کی جانب سے ردِعمل ملتا ہے، ہم اپنی فہرست میں مسلسل اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ جب ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ کوئی خاص پروڈکٹ اتنا لذیز نہیں ہے یا پھر یہ کہ گاہک اسے پسند نہیں کر رہے ہیں تو ہم اس میں تبدیلی لاتے ہیں۔ اگر پھر بھی گاہکوں کو یہ چیز پسند نہ آئے تہ ہم اس پروڈکٹ کو ہٹا کر اس کی جگہ کچھ اور لے آتے ہیں۔"

سات سو گرام والے اسنیکس باکس کی قیمت 699 روپئے ہے اور اسے صارف کی پسند کے مطابق خاص طور سے بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد ان باکسس کو کوریئر کے ذریعے ملک بھر میں پہنچا دیا جاتا ہے لیکن اگر آرڈر چنئی سے ہی ہوتا ہے تو بانیان گاہکوں تک اسے ذاتی طور پر پہنچاتے ہیں۔ پی۔ایس مارکٹ رسرچ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2014 میں چٹپٹے ناشتے کا عالمی بازار میں حصہ 1۔111 ارب امریکی ڈالر سالانہ تھا۔ امید ہے کہ 2015 اور 2020 کے درمیان اس شعبے میں سی اے جی آر میں 1۔7 فی صد کا ارتقاء ہوگا جو بڑھ کر 6۔166 ارب امریکی ڈالر ہوجائے گا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لذیذ ناشتے کی زمادہ تر مانگ ایشیاء میں ہے جہاں چین اور ہندوستان جیسے کثیر آبادی والے ممالک ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ لوگ اب لذیذ ناشتے کے ساتھ ساتھ صحت کا لحاظ بھی کرنےلگے ہیں جیسے بیک کی ہوئی چیزیں، تازہ پھل اور پھلوں کا رس۔ اس لئے لذیذ ناشتوں کا بازار بڑھ نہیں پارہا ہے اور کمپنیاں مجبوراً صحت بخش ناشتہ پیش کر رہی ہیں۔
ہندوستان میں کئی اسٹارٹپ کمپنیاں ہیں جو اس شعبے میں اپنا تسلط بنانا چاہتی ہیں۔ کچھ کمپنیاں جنہوں نے اس شعبے میں کافی کام کیا ہے ان میں گرین اسنیک کمپنی، اسنیکوسور، اسپون جائے وغیرہ شامل ہیں۔ حالانکہ اسٹارٹپ نے مارکٹنگ پر زیادہ خرچ نہیں کیا ہے بلکہ انہوں نے سوشل میڈیا پر تھوڑا بہت پیسہ لگایا ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں 500 سے زیادہ آرڈرس کی تعمیل کی ہے۔ اس ٹیم نے حال ہی میں 10 لاکھ روپئے آئی آئی ٹی بامبے کے شعبہ ٹکنالوجی کے ایونٹ "دی 10 منٹ ملین" میں جیتا ہے۔ بعد میں کمپنی نے تقریباً 20 لاکھ روپئے اجیت کھُرانہ، طہٰ نبی، وی سی کاتھِک اور روی گروراج سے بطور سرمایہ حاصل کئے ہیں۔ ارون کے مطابق،"ہم اپنے ناشتے کےذریعے غذائی عادات کو سماج میں خوشی اور صحت کی وجہ بنانا چاہتے ہیں۔ ہمارا اولین ہدف بچوں اور نوجوانوں کے درمیان بیداری پیدا کرنا اور انہیں کم عمر میں ہی اس کا عادی بنانا ہے۔" ارون اپنے 12 رُکنی عملے کے ساتھ 'صحت مند اسنیکنگ مہم' دنیا بھر کے اسکولوں اور کالجوں میں چلانے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔

تحریر : اپرنا گھوش

مترجم : خان حسنین عاقب