ٹیکنالوجی اور کاروبار کو فارمولے میں پروکر سلونی ملہوترا نے بنایا ملک کا پہلا دیہی بی پی او

0

تعلیم کے بعد کام کی تلاش میں دیہی علاقوں کے نوجوانوں کا شہروں کی طرف آنا عام بات ہے- آزادی کے چھ دہائی سے زیادہ وقت گزر جانے کے بعد بھی گاؤں میں روزگار کے بہت کم مواقع ہیں- یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں کے نوجوانوں کا شہروں کی طرف آنا مسلسل جاری ہے- یہ نوجوان اپنا گھر چھوڑ کر ایک سنہرے مستقبل کی تلاش میں یہاں آتے ہیں جس کی وجہ سے شہروں کی بھی آبادی بڑھ رہی ہے اور دیہی علاقے ترقی کے معاملے میں پیچھے چھوٹتے جا رہے ہیں -

دہلی کی ایک ویب ڈیزائنر سلونی ملہوترا نے ایک ایسی کوشش کی جو ایک مثال بن گیا- سلونی کی کوشش نے لوگوں کی سوچ ہی بدل ڈالی- صرف 23 سال کی عمر میں سلونی نے شہروں کی بھاگ دوڑ سے دور تمل ناڈو کے ایک گاؤں میں' دیسی کرو' نام سے ایک(.O.P.B) بی پی او کھولا ا ور چند سالوں میں ہی یہ ایک کامیاب بی پی او کے طور پر قائم ہو گیا- اس کے ذریعے وہ دیہی علاقے کے نوجوانوں کو منظر عام پر لے آ ئیں اور ان نوجوانوں کو گاؤں میں رہ کر ہی کیریئر بنانے کا موقع مل گیا-

سلونی کی پرورش دہلی میں ہوئی - دہلی کے ایک کانوینٹ اسکول میں12ویں تک کی پڑھائی کے بعد انجینئرنگ کے لئے وہ پونے آئیں اور بھارتی ودیا پیٹھ سے انجینئرنگ کی پڑھائی کی ، پڑھائی کے دوران سلونی نے تمام مقابلوں میں حصہ لیا اور بہت سے گروپس سے جڑیں- ایسے ہی ایک گروپ 'لیو گروپ' کی وہ صدر بھی بنیں- یہاں رہ کر انہوں نے دیہی علاقے میں ترقی کا بہت کام کیا اور اس دوران سلونی نے بہت کچھ سیکھا اور نئے تجربات حاصل کئے - اسی وقت سلونی نے طے کیا کہ وہ کچھ ایسا ہی کام مستقبل میں کریں گی- سلونی نے پھر دیہی علاقوں کے لئے کام کرنے کی سوچی- لیکن وہ ایسا کیا نیا کام کر سکتی ہیں جس سے گاؤں کے نوجوانوں کو فائدہ ملے؟ کام جو بھی کرتیں اس کے لئے تجربہ اور پیسہ دونوں کی ضرورت تھی اس لیے انہوں نے دہلی بیسڈ(based) ایک انٹر ایکٹو ایجنسی (agency activeinter ) 'ویب چٹني' جوائن کی- مقصد تھا کمپنی چلانے کے طریقوں کو سیکھنا- اس درمیان سلونی کی ملاقات آئی آئی ٹی مدراس کے پروفیسر اشوک جھنجھنوالا سے ہوئی - انہوں نے سلونی کی کافی مدد کی اور 2 فروری 2007 میں سلونی نے دیہی بی پی او 'دیسی کرو' کی شروعات کی اس کا مقصد تھا ان نوجوانوں کا گاؤں سے کوچ کو روکنا جو کام اور سنہرے مستقبل کی تلاش میں گاؤں چھوڑ کر شہروں کا رخ کر رہے تھے - دیسی کرو نے نوجوانوں کو ان کے علاقے میں ہی روزگار دلانے کا بیڑا اٹھایا- چنئی کے کلمگڈی قصبے میں چار لوگوں کے ساتھ آفس کھولا گیا - آئی آئی ٹی مدراس ،ولگرو اور ایک دوسرے سرمایہ کار نے دیسی کرو کو کھڑا کرنے میں مدد کی- چونکہ سلونی کو چنئی کی مقامی زبان نہیں آتی تھی اور اس علاقے میں وہ نئی تھیں اس وجہ سے انہیں کافی پریشانیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن سلونی کے جذبے کے آگے ساری پریشانیوں نے دم توڑ دیا اور 'دیسی کرو' کامیابی کی بلندیوں کی طرف بڑھتا چلا گیا-

'دیسی کرو' کے تمل ناڈو میں اب 5 سینٹر ہیں اور بہت سارے نوجوانوں کو یہاں روزگار ملا ہوا ہے - دیسی کرو کو ابتدائی دنوں میں کلائنٹس کو سمجھانے اور ان کا اعتماد جیتنے میں بہت دقتیں آئیں کیونکہ دیہی علاقوں میں مناسب (infrastructure) بنیادی ڈھانچہ نہیں ہوتا- گاؤں کے لوگوں کو سب سے زیادہ لوکل زبان ہی آتی تھی- انگریزی کا علم کم ہی لوگوں کو تھا - اس لئے کلائنٹس یقین کرنے میں تھوڑا ہچکچا رہے تھے- کیونکہ عام طور پر بی پی او میں کام کرنے والے لوگ بہت تربیت یافتہ، تجربہ کار اورسمارٹ ہوتے ہیں لیکن سلونی کو سب کا اعتماد جیتنے میں کامیابی ملی -

'دیسی کرو' میں ملازمین کو خصوصی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ ہر طرح کے حالات کا سامنا کر سکیں- دیسی کرو تمل ناڈو اور کرناٹک کی مختلف کمپنیوں کو اپنی خدمات فراہم کرتا ہے -اس کے علاوہ ملک کی کچھ اور کمپنیاں دیسی کرو سے وابستہ ہیں اور اس کی توسیع مسلسل جاری ہے- عام طور پر اس طرح کے اور بھی بی پی او ہیں جو دیہاتیوں کو روزگار دیتے ہیں لیکن دیہی علاقوں میں اپنا آفس نہیں کھولتے - لیکن سلونی نے دیہی باشندوں کو ان کے گھروں میں ہی ملازمت دلائی--

سلونی کو انکے شاندار کام کے لئے کئی اعجاز ملے جس میں 2011میں ٹی آئی ای شری شکتی ایوارڈ، 2008 میں ایم ٹی وی یوتھ آئکن کے لئے نامزد ہوئیں- 2008 میں ہی' ای اینڈ وائی انٹرپرینور(entrepreneur) آف دی اير ' کے لئے بھی نامزد ہوئیں- 2013 میں چلوبل سورسنگ کونسل 3 ایس ایوارڈ میں دوسرا انعام ملا- 2009 میں 'فکی اف ال او بیسٹ ویمن سوشل انٹرپرینور ایوارڈ' ملا- اس عمر میں اتنا کچھ حاصل کرنا بہت بڑی کامیابی ہے- تنصیب کے چند سال میں دیسی کرو نے اپنا دس گنا ( times ten ) توسیع کر لیا ہے جو کہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے -