گھر کے کھانے کو کاروبار میں تبدیل کرنے والے ممبئی کے ماں بیٹے کی جوڑی کا کامیاب تجربہ ہے 'بوهری کچن'

كپاڑيا خاندان نے ہمیشہ ہی لوگوں کو کھانا کھلانے پر ترجیح دی ہے۔ منعاف کے مطابق "میرے والد ہمیشہ پڑوسیوں کو کھانا بھیجنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے ساتھ جتنے بھی لوگ کام کرتے ہیں ان سب کے گھر میں روز کھانا بھجا جائے۔ ان کے پاس ہمیشہ زیادہ کھانا ہوتا تھا۔" جب انہوں نے 'ٹی بی كے' شروع کیا تب انہیں اور نفيسہ دونوں کو یہ خیال کافی اچھا لگا تھا، لیکن منعاف کے والد کبھی بھی لوگوں سے کھانے کا پیسہ نہیں لینا چاہتے تھے، لیکن پھر کچھ دن کے بعد انہیں یہ خیال ٹھیک لگا۔

0

نومبر 2014 کا دن اور ہفتہ کی دوپہر منعاف كپاڑيا اپنی ماں نفیسہ كپاڑيا کے ساتھ اپنے قلابہ، ممبئی میں واقع مکان میں دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے۔ جہاں ایک طرف صرف ماں اور بیٹا بہترین بوهری کھانوں کا لطف اٹھا رہے تھے، تبھی وہاں چھ اجنبی لوگ آ گئے اور وہ بھی اس کھانے سے لطف اندوزہونےکے لئے ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ وہ اجنبی لوگ مہمان نہیں تھے، بلکہ یہ ایک نئی تجارت کا آغاز تھا۔ یہ خیال کہ لوگو کو کھانے کے لئے گھر بلایا جائے اور ان سے اس کا پیسہ لیا جائے، تھا تو کچھ عجیب، لیکن لوگو نے اسےکافی سراہا، اور اس طرح سے ممبئی کے بوهری کچن کا آغاز ہوا۔

آج، بوهری کچن نہ صرف گھر بلا کر کھانا کھلاتا ہے بلکہ ساتھ ساتھ آپ کے گھر تک کھانا پہنچاتا بھی ہے۔ بہت سے لوگوں کے لئے بوهری کچن کا اپنا خاص ذائقہ ہے، جوکہ کسی دوست یا کسی شادی میں چکھا گیا ہو۔ منعاف کے لئے کُرکُرا قیما سموسہ، روسٹ ران، سبز چکن انگاری کسی بھی وقت کھائے جا سکتے ہیں۔

اس کام کے لئے منعاف نے اپنے 50 دوستوں کو میل کیا اور اپنی ماں اور ان کے لاجواب کھانوں کا تعارف کروایا۔ ساتھ ہی انہیں یہ بھی بتایا کہ کس طرح وہ ہر ہفتہ ان کے گھر آکر ان کی ماں کے ہاتھ کا بنا بے مثال کھانا کھا سکتے ہیں۔

اس کے بعد سے منعاف اور نفيسہ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ دی بوهری كچن کے چیف ايٹنگ آفیسر منعاف کے مطابق، "اگر آپ کسی سے پوچھیں کہ اگر آپ کے پاس پیسہ ہو تو آپ کیا کریں گے، زیادہ تر لوگوں کا یہی جواب ہوگا کہ وہ ایک ریستراں کھولنا چاہتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی یہی ہے۔حالانکہ میں نے گوگل میں اپنےکام سے بہت خوش تھا۔ "

منعاف آگے کہتے ہیں کہ ابتدائی خیال یہ تھا کہ وہ 'ٹي بی كے' کو اپنی ماں کے لئے ایک فن کیفے کی طرح شروع کریں، لیکن تین دن کی چھان بین کے بعد منعاف کو یہ پتہ لگا کہ ممبئی میں ایک ریستراں کھولنے کے لئے کیا کیا کرنا پڑے گا۔

حالانکہ مارکیٹ میں کافی عدم مساوات تھی، جہاں بوهری ڈش دستیاب نہیں تھے، ریستراں کھولنے کا خیال قابل عمل نہیں تھا، کیونکہ ان کے پاس اتنا سرمایہ نہیں تھا کہ وی ایک ریستراں کھول سکیں۔ منعاف بتاتے ہیں کہ "میں نے تو یہ خیال چھوڑ دیا تھا، لیکن سوچا کیوں نہ کچھ دیر لطف اندوزہی ہوا جائے ، بغیر کسی کاروبار کے، کیوں نہ لوگوں کو کھانے پر بلا کر بوهری ڈش کھلائی جائے۔"

اس پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے دونوں ماں بیٹوں ایک باقاعدہ مینو بنایا، ساتھ ہی انہوں نے پلان کیا کہ ان کے فراہم کیے گئے بہترین بوهری لنچ کی قیمت 700 روپے ہوگی۔

پہلے لنچ کے بعد نفيسہ کو لگا کہ یہ ایک غیر معمولی تجربہ تھا۔ نفيسہ بتاتی ہیں کہ "مجھے کافی اچھا محسوس ہوا، جب ہماری ایک مہمان سونالی نے مجھے گلے لگایا اور کھانے کے لئے شکریہ ادا کیا۔ میرے گھر میں ایک بہت ہی منفرد ماحول تھا۔"

اس کے بعد، یہ لوگوں کو دو ہفتے میں ایک بار کھانے کے لئے اپنے گھر بلاتے۔ لوگ منعاف کے گھر آتے اور نفيسہ کے ہاتھوں سے بنے ہوئے بہترین بوهری ڈش سے لطف اندوز ہوتے۔

كپاڑيا خاندان نے ہمیشہ ہی لوگوں کو کھانا کھلانے پر ترجیح دی ہے۔ منعاف کے مطابق "میرے والد ہمیشہ پڑوسیوں کو کھانا بھیجنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے ساتھ جتنے بھی لوگ کام کرتے ہیں ان سب کے گھر میں روز کھانا بھجا جائے۔ ان کے پاس ہمیشہ زیادہ کھانا ہوتا تھا۔" جب انہوں نے 'ٹی بی كے' شروع کیا تب انہیں اور نفيسہ دونوں کو یہ خیال کافی اچھا لگا تھا، لیکن منعاف کے والد کبھی بھی لوگوں سے کھانے کا پیسہ نہیں لینا چاہتے تھے، لیکن پھر کچھ دن کے بعد انہیں یہ خیال ٹھیک لگا۔

منعاف کے پاس تشہیر کے لئے ای میل ہی ایک ذریعہ تھا۔ جمعہ کی شام کو آٹھ سيٹوں کی بکنگ ہو جاتی تھی، لیکن جلد ہی آٹھ لوگو کو پیسے لے کر گھر کھانے پر بلانے میں مشکل ہونے لگی۔ خاص طور پر جب بات چیت کا واحد ذریعہ ای میل تھا۔  اور اسی درمیان ماں اور بیٹے نے ایک فیس بک کا صفحہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اور اس وقت انہوں نے عربی فونٹ کا استعمال کرکے اپنا لوگو بنایا۔ صفحے کے آغاز میں ہی انہیں 250 لائک مل گئے۔ لہذا منعاف نے کچھ ایسا کیا جو ان کا اپنا ہو اور اس کا نام انہونے رکھا "نو سیریل کلر پالیسی"

اس کا یہ مطلب تھا کہ ٹی بی كے میں آنے سے پہلے لوگوں کو یہ واضح کرنا پڑے گا کہ وہ کون ہیں۔ سیٹ سب کے لئے کھلی نہیں تھی، سیٹ کی بکنگ کے لئے درخواست کرنا پڑتا تھا۔ منعاف کے دوست گرمیت کوچر نے مذاق میں کہا "جس شخص کو سب سے زیادہ وضاحت دینا پڑا وہ شاید میں ہی تھا۔" گرمیت مسالا باکس کے بانی تھے، اب یہ منعاف کے دوست اور بوهر كچےن میں شراکت دار ہیں۔

یہ دونوں این ایچ 7 پر ایک ہفتہ وار پروگرام میں ملے تھے، اور اس کے بعد یہ دونوں ساتھ میں ہی کام کر رہے ہیں۔ گرمیت کے ساتھ شراکت داری کے بعد ہی ٹی بی كے نے گھر کی ترسیل اور فوڈٹیك کی دنیا میں قدم رکھا۔

ای میل کے بعد، جلد ہی منعاف نے 'ٹی بی كے' کے فیس بک صفحے پر پروگرامنگ کرنا شروع کر دیا اور جن لوگو کی صفحے کی رکنیت تھی انہیں فیس بک کا صفحہ پر ہی معلومات ملنے لگی۔ اور جلد ہی یہ ہفتے میں ایک دن والے فوڈسنٹڑ کے طور پر تیار ہو گیا۔ اسی درمیان مبصرین کے لیے یہ بہت اچھا وقت تھا۔ اس کے بعد ٹی بی كے کو عام لوگوں سے بھی کافی تعریف ملی۔

اس وقت کسی نے منعاف سے پوچھا کہ بوهری کچن کے لئے ان کا مقصد کیا تھا، تو منعاف نے جواباً کہا کہ "ایک دن جب شاہ رخ خان صبح جاگے اور انہیں بہترین بوهری ڈش کھانے کی طلب ہوئی اور وہ براہ راست بوهری كچن کی جانب رخ کیا۔ جلد ہی لوگ بوهری کچن کے بارے میں لکھنے اور گفتگو کرنے لگے۔ اور اس کی قیمت 700 روپے سے بڑھکر 1000 روپے کر دیی گئی اس کے بعد بھی یہ لوگوں کی توجہ کم نہیں ہوئی۔ اس کے بعد وہ اس مقام پر پہنچ گئے کہ وہ سوچنے لگے کہ ٹي بی كے کے لئے آگے کیا کرنا چاہئے۔

شروع میں تو منعاف کی خواہش نہیں ہوئی، وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے اس پروجیکٹ میں کسی طرح کی کوئی کمی آئے۔ وہ چاہتے تھے کہ کسی دوسرے ویب سائٹ سے ہاتھ ملانے سے پہلے مضبوط بنیاد بنائی جائے، لیکن اس پر بحث کرنے کے بعد منعاف کو لگا کہ وہ اس کو بہتر تجربہ میں تبدیل سکتے ہیں جو سائٹ کے لئے غیر معمولی ہو۔ اس طرح انہوں نے گزشتہ سال "دی مدر آف آل فيسٹ" قائم کی۔

پہلے ٹی بی كے میں 7 کورس میل تھی جسے بڈھاكر انہوں نے 9 کورس میل کیا اور اس وقت تک نفيسا ہی وہاں کھانا بناتی رہیں۔ نفيسہ کہتی ہیں کہ مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ کتنے ہیں مجھے ہمیشہ ہی کم لوگوں کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کا کھانا بنانا اچھا لگتا ہے۔

اب تک وہاں صرف کلیجی، بھیجا فرائی ہی فروخت کیا جا رہا تھا چونکہ یہ خاص بوهری برتن ہیں تو انہوں نے "دی مدر آف آل فيسٹ" کا مینو میں پھیر بدل دیا ہے اور اس کا دام 2500 روپے رکھ دیا۔ فی الحال یہاں کھانا کھانا ہے تو آپ کو 1500 روپے ادا کرنے ہوں گے ساتھ ہی اس کی بکنگ آپ کو دو ہفتہ پہلے کرانی ہوگی۔

حالانکہ گھر بلا کر کھلانے کا کام ان کا اچھا چل رہا تھا، لیکن اس وقت بھی منعاف کو اس سے اطمینان نہیں مل رہا تھا وہ چاہتے تھے کہ ان کا خواب بڑا ہو۔ ساتھ ہی اکیلے نفيسہ کے کوک ہونے کی وجہ سے ان کی ترسیل کا کام بھی سست تھا۔ مقبولیت کے بعد جب بوهری کچن 80ہزار روپے فی ماہ کی کمائی کر رہا تھا اور اپنا ہدف جانتے ہوئے منعاف کو پوری امید تھی کہ یہ کہیں آگے جائے گا۔ اس درمیان منعاف گوگل چھوڑے ہوئے 8 ماہ ہو چکے تھے اور تب تک یہ ٹی بی كے کے لئے مکمل وقف بھی ہو گئے تھے۔

منعاف کہتے ہیں کہ "یہ میرے لئے بہت مشکل وقت تھا، میں پہلی بار اس شعبے میں آیا تھا، مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ کس طرح ایسے کچن کا سیٹ اپ بنائے، جس کی مانگ ہو، ٹیکنالوجی، لاجسٹکس سب کچھ ہو۔ "

اور اسی درمیان اس نے این ایچ 7 ہفتہ وار میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ منعاف نے اسے ٹی بی كے کا اب تک کا سب سے بڑا آپریشنل چیلنج بتایا۔ پہلی بار وہ کھانے کو دوسرے شہر لے گئے، ایسا گرمیت سے ملنے کے بعد ہوا، سب کچھ بدل گیا تھا۔ اسپائس باكس سیٹ کرنے کے بعد، گرميت کو پتہ تھا کہ آن لائن كچن ماڈل کے سیٹ اپ کو بنانے میں کیا کیا ضرورت پڑتی ہے۔ این ایچ 7 کے تجربے کے بعد، گرمیت آگے بڑھ کر گھرکے کھانے کے تجربے کو آزمانا چاہتا تھے۔ میکڈونالڈ لوئر پریل میں بیٹھ کر دونوں نے عملی ڈھانچہ بنايا- کچن کی ترتیبات، پیکنگ اور گھر تک ترسیل وہ اسی سال مارچ سے شروع کر دینا چاہتے تھے۔

ایک نئے ماڈل کے ساتھ کام

لیکن ٹیم کے لئے نفيسہ کے بنائے ڈش کو سمجھنا اور اس کی نقل کرنا تھوڑا مشکل تھا، وہ اس لیے کیونکہ ہر چیز صحیح مقدار میں ہونا ضروری تھا۔ جبکہ ہر چیز اپنے وقت پر ہو رہی تھی، اس کے باوجود بھی ان کی تحقیق کو 8 سے 9 ہفتے لگ گئے۔ جو پہلا کچن ان لوگو نے بنایا وہ ورلي میں تھا۔ جہاں گرمیت کی جان پہچان کی وجہ سے قابل شیف، كچن کے ملازم اور اچھی پیکنگ کے نظام کے ساتھ ایک ٹیم بنائی گئی۔

پھر بھی، جب ٹیم کو جوماٹو پر اپنا پہلا جائزہ نفی میں ملا، منعاف نے کچن بند کر دیا اور پھر سے اسے بہتر بنانے میں لگ گئے اور یہ یقین کیا کہ ٹی بی كے کو پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا پڑے۔ اسے دوبارہ شروع کرنے میں انہیں 8 ہفتےلگے۔

ملاڈ کے اناربٹ مال میں نفيسہ نے خواتین تاجروں کا ای مقابلہ جیتا، جس سے انہیں مال میں 9 مهينو کے لئے ایک اسٹال مل گیا۔ آج، بوهری کچن اسے کسی دوسرے شہر میں شروع کرنے سے پہلے پورے ممبئی میں پھیلانا چاہتا ہے۔ آج، ٹی بی كے پیسہ جمع کرنے میں لگی ہوئی ہے جس سے اس سال کے آخر میں یہ دوسرے بازاروں میں بھی قائم ہو جائیں۔

رپورٹوں کے مطابق فوڈ کی ترسیل کا مارکیٹ ہر سال 40 فیصد کی تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور یہ یقین ہے کہ اس سال کے آخر تک یہ مارکیٹ 10 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ جبکہ دوسری طرف یہ بتا یا جاتا ہے کہ فوڈ خردہ فروشی کامارکیٹ 300 ارب اور ہندوستانی ریسٹورینٹ مارکیٹ 50 ارب تک کی چھلانگ لگائے گا۔

بہر حال، آج گھر کے کھانے کے تجربات کے لئے مارکیٹ تیزی سے اٹھ رہا ہے، یورپ میں یہ کافی مضبوط ہے آسٹریلیا کے لوگ اس سے ملتا جلتا تجربہ کر رہے ہیں۔ آج یہ رجحان رجہان میں بھی آ گیا ہے جسے لوگوں کی ایک بڑھی تعداد پسند کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ پونے میں موجود میٹ ٹینگو جو پہلے لوگوں کے گھر گوشت بھیجتے تھے آج ایک ایسی ہی جگہ کے طور پر تیار ہوئے ہے جو گوشت کے شوقین لوگوں کے لئے گھریلو کھانے کا انتظام کرتی ہے۔

تحریر- سندھو کشپ

ترجمہ – ایف ایم سلیم

Related Stories