سیکڑوں کی بھوک مٹا رہاہے روٹی بنک

0
آزاد پور منڈی میں ہے 'روٹی بینک
غریبوں کو تقسیم کی جاتی ہیں بینک میں جمع روٹیاں
روٹی بینک کے 4 مراکز
ہر روز بانٹے جاتے ہیں روٹیوں کے 150 پیکٹ

دہلی کی آزاد پور منڈی کا شمار اگرچہ ایشیاء کی سب سے بڑی سبزی منڈی کے طور پر ہوتا ہو، لیکن اب یہاں ایک نئی قسم کی مہم زور پکڑ رہی ہے۔ یہاں پر روٹی جمع کرنے کا منفرد بینک چلایا جا رہا ہے، جہاں پر روٹیاں جمع کی جاتی ہیں اور بعد میں ان روٹیوں کو ضرورت مند لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا جاتا ہے۔

'روٹی بینک' کا آغاز آزاد پور منڈی میں پھل کا کاروبار کرنے والے راجکماربھاٹیہ نے کیا ہے۔ دہلی کے آدرش نگر علاقے میں رہتے ہیں۔ راجکماربھاٹیہ کے مطابق ایک دن ان کے پاس ایک غریب آدمی آیا اور اس نے ان سے کچھ کام مانگا۔ تب انہوں نے اس شخص سے کہا کہ ان کے پاس کام تو کچھ نہیں ہے، لیکن اس کی حالت دیکھ کر انہوں نے اسے کچھ پیسے دینے چاہے۔ تب اس شخص نے ان سے کہا کہ پیسے سے پیٹ نہیں بھرتا، پیٹ روٹی سے برتا ہے اور روٹی کام سے ملتی ہے۔ اس آدمی کے یہ الفاظ راجکمار بھاٹیہ کو اندر تک چبھ گئے۔ اس کے بعد انہوں نے اس غریب آدمی کو روٹی کھلائی، لیکن جاتے جاتے وہ راجکماربھاٹیہ کے ذہن میں بہت سے سوالات چھوڑ گیا۔ اس واقعہ سے سبق لے کر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے بات کی تو لوگوں سے ان ملی جلی رائے ملی۔ تب کچھ لوگوں نے ان سے کہا کہ روز تو لوگوں کو کھانا کھلانا ممکن نہیں ہو پائے گا۔ تب راجکماربھاٹیہ نے لوگوں کو سمجھایا کہ جب گھر کے لوگوں کے لئے روٹی بنتی ہیں تو اسی کے ساتھ دو چار اور روٹیاں زیادہ بنا لی جائیں اس کے علاوہ روٹی کے ساتھ دال سبزی یا اچار جو بھی گھر میں ہو اسے الگ سے رکھ لیا جائے۔

قریب 3 ماہ پہلے جب انہوں نے اس کام کا آغاز کیا تو پہلے دن صرف 7 پیکٹ آئے۔ اس تجربے سے ان کو لگنے لگا کہ ایسے یہ کام پروان نہیں چڑھ پائے گا۔ اس دوران ان کے ساتھ کام کرنے والے کچھ لوگوں کا حوصلہ بھی ٹوٹنے لگ گیا تھا۔ تب لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے انہوں نے پوسٹر چھپوائے، سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو شامل کرنے کی کوشش کی اور فیس بک پر روٹی بینک کا صفحہ بنایا۔ جس کا کافی اچھا اثر بھی ہوا۔

آج روٹی بینک کے 4 سینٹر دہلی کے آزاد پور علاقے کے آس پاس چل رہے ہیں۔ راجکماربھاٹیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس کے لئے کسی سے پیسے نہیں لیتے۔ اگرچہ ایسے کئی لوگ ان کے پاس آتے ہیں جو پیسے دینے کو تیار رہتے ہیں تاکہ ان سےروٹی تیار کرائی جا سکے، لیکن راجکماربھاٹیہ کا کہنا ہے کہ ہندوستانی تہذیب کے مطابق کسی بھی غریب کو روٹی، گھر کے راشن ہی دی جانی چاہئے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے تہذیب کی حفاظت تو ہوتی ہی ہے ساتھ ہی جن کے پاس دوسروں کے مقابلے تھوڑا زیادہ پیسہ ہے وہ غریبوں کی مدد کر اپنا تعاون دے سکتے ہیں۔

روٹی بینک کی خاص بات یہ ہے کہ ان کے بنائے سینٹر میں کوئی بھی بھوکا غریب آکر کھانا کھا سکتا ہے۔ اتنا ہی نہیں یہ لوگ بھی جگہ جگہ جاکر غریب اور بھوکے لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ راجکماربھاٹیہ کا کہنا ہے کہ وہ کئی بار دہلی کی ایسی کالونیوں میں بھی مسلسل گھوما کئے جہاں بزرگ رہتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والا ان کا اپنا کوئی نہیں ہوتا۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ ان بزرگوں کے ارد گرد رہنے والے پڑوسیوں کو یہ لگنے لگا کہ جو کام راجکماربھاٹیہ کر رہے ہیں دراصل یہ ان کی ذمہ داری بھی ہے۔ ان بزرگوں کے ارد گرد رہنے والے لوگوں نے ان کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی۔

راجکماربھاٹیہ کا کہنا ہے کہ وہ خاص طور پر بچوں اور بزرگوں تک کھانا پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ سلم علاقے میں رہنے والے بچے زیادہ تر بھوکے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دینے والے اور لینے والے میں کوئی فرق نہیں ہوتا ہے۔ روٹی بینک کا اہم مرکز آزاد پور منڈی میں شیڈ نمبر 15 میں ہے۔ جبکہ دیگر سینٹر ٹینٹ ماركیٹ اندرا نگر، نندا روڈ اردش نگر اور پچوٹی کالونی میں ہے۔

راجکماربھاٹیہ کا کہنا ہے کہ ایک بھوکا شخص ایک پیکٹ دیا جاتا ہے اور ایک پیکٹ میں تین روٹی اور اچار ہوتا ہے۔ راجکماربھاٹیہ کا کہنا ہے ان کی اس مہم کے ساتھ معاشرے کے ہر طبقے کے لوگ جڑ گئے ہیں۔ آٹھ افراد کی ان ایک مضبوط ٹیم ہے جو اس کام پر نظر رکھتی ہے۔ راجکماربھاٹیہ کا کہنا ہے کہ روٹی بینک کے چار ماراکزکے علاوہ وہ خود بھی مختلف جگہ جاکر لوگوں کو کھانے کا پیکٹ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو کھانا بالکل نہیں دیتے جو نشہ کرتے ہیں۔ روٹی بینک میں کوئی بھی کھانے کے پیکٹ صبح 10 بجے سے دوپہر 1 بجے تک دے سکتا ہے۔ اب راجکماربھاٹیہ کا منصوبہ جلد ہی دوسرے علاقوں میں بھی ایسے ہی بینک کھولنے کا ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem