مستحکم اور جامع اداروں کے حامی... منور پیر بھائی

متحرک افراد اچھے کام کرنے کے لئے وقت کا انتظار نہیں کرتے، بلکہ جہاں موقع مل جاتا ہے، اپنے آپ کو اس کا حصہ بناتے ہیں۔ منور پیر بھائی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

0

منور پیر بھائی ... ایک ایسا نام، جس کا تعلق تو پونے شہر سے ہے، لیکن جہاں، جہاں بھی آعظم کیمپس کی کامیابیوں کی کہانیاں پہنچی ہیں، وہاں پی اے انعامدار اور منور پیر بھائی کا نام بھی ضرور پہنچا ہے۔ در اصل یہ ادرہ 150 سال پرانا ہے۔ 1861 میں اس کی بنیاد ڈالی گئی تھی، لیکن گزشتہ تین دہائیوں میں اس ادارے نے جو ترقی کی ہے، اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ کے جی سے لے کر پی جی تک ہر طرح کی تعلیم کی صہولت یہاں موجود ہے۔ منور پیر بھائی اس ادارے کے ٹرسٹ کو سانبھال رہے ہیں۔ ان کی خدمات کی وجہ سے انہیں پونے اور مہارشٹر ہی نہیں بلکہ ملک اور بیرون ملک بھی بلایا جاتا ہے۔

یور اسٹور سے ان کی بات چیت کے دوران ان کی اپنی شخصیت اور ادارے کے کام کاج پر گفتگو ہوئی۔ منور پیر بھائی کا تعلق ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے رہا، لیکن تجارت میں بھی، انہوں نے اپنے نشان چھوڑے۔ اس بارے میں منور بھائی بتاتے ہیں،

''یہ صحیح ہے کہ میرا تعلق ایک تعلیم یافتہ خاندان سے رہا ہے۔ لیکن ہمارے دادا پڑ دادا کاروبار میں تھے اور تجارت میں کامیابی کے بعد انہوں نے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دی۔ اس کی وجہ سے خاندان میں ڈاکٹر اور وکیل پیدہ ہوئے۔ ہمارے خاندان میں ممبئی میں تین نسلوں تک لیدر کا کاروبار تھا۔ پھوپھا کا بہت بڑا کارخانہ تھا۔ چاچا اکبر پیر بھائی بیرسٹر تھے اور اس وقت کے کامیاب وکیل تھے۔ ان کی یہ بھی پہچان ہے کہ پولیس ایکشن کے بعد معملات سلجھانے کے لئے ان کی خدمات کا آج بھی اعتراف کیا جاتا ہے، خصوصاً سقوط حیدرآباد کے بعد جب مسلم ملازمین کو نکالا جانے لگا تو اکبر پیر بھائی نے ان کے مقدمے لڑے اور انہیں ملازمتوں پر بحال کروایا۔ ''

منور پیر بھائی نے زندگی کی شروعات کاروبار سے ہی کی۔ ملازمت میں بھی اپنے آپ کو آزمایہ لیکن دل نہیں لگا اور ایک مہنے میں ہی نوکری چھوڑ دی۔ وہ بتاتے ہیں،

''تعلیم کے دوران ہی میں نے کاربار شروع کیا تھا۔ جب ایک آنے دو آنے پر کتابیں کرائے پر دی جاتی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ کسی اچھی نوکری حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ہو۔ نوکری ملی بھی، لیکن اس کے بعد کا تجربہ اچھا نہیں رہا۔ پونے میں سیلاب آیا تھا۔ کالج میں ریلیف کیامپ لگا تھا۔ ایک مہینے کی چُھٹی تھی۔ پارٹس کی فیکٹری میں کاسٹنگ کے لئے آدمی چاہئے تھا۔ میں نے ملازمت قبول کر لی۔ یہ 1962 کی بات ہے۔ 120 روپئے ماہنہ تنخواہ تھی۔ کام کے اوقات کا حال یہ تھا کہ فیکٹری میں صبح 7.30 بجے پہنچنا ہوتا۔ یہاں سے لوکل نکلتی تھی سوا چھے بجے، فیکٹری کا نظام تھا کا مقررہ وقت پر ہی سائرن بجتا تھا، اگر لوکل کبھی دیر سے پہنچتی تو اس سے کمپنی کے نظام میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ حالانکہ وہاں ایسا کچھ کام میرے زمہ نہیں تھا کہ کچھ دیرسے پہنچنے پر کام کا نقصان ہو، لیکن لوکل دیر سے پہنچی تو دوڑے دوڑے جانا پڑتا تھا۔ اور وہاں آٹھ گھنٹے کا کام دو گھنٹے میں ہو جاتا۔ اس کے بعد کا وقت کاٹنا مشکل ہو جاتا۔ کتنی بار کیانٹین جائیں گے اور چائے پی کر وقت گزاریں گے! ایک مہینے میں مجھے اتنی بوریت ہوئی کہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں نوکری نہیں کروںگا۔ ''

آخر کس طرح جڑے آعظم کیمپس سے

متحرک افراد اچھے کام کرنے کے لئے وقت کا انتظار نہیں کرتے، بلکہ جہاں موقع مل جاتا ہے، اپنے آپ کو اس کا حصہ بناتے ہیں۔ منور پیر بھائی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ وہ بتاتے ہیں،

''میں نے دوستوں کے ساتھ مل کر کاروبار کیا۔ ملٹری کانٹراکٹر رہا۔ سپلائر رہا۔ کافی ترقی ہوئی۔ کافی فائدہ بھی ہوا۔ 1992 تک میں نے اپنے کاروبار کا خوب چلایا۔ جہاں تک سماجی کاموں کا تعلق ہے۔ بہت ابتدائی دنوں سے ہی مختلف تحریکوں میں شامل رہا۔

جیسے میں کالج سے فارغ ہوا۔ ہمارے کالج کے ساتھیوں نے ایک اسوسیشن بنائی تھی، ہمارا پہلا کام یہ تھا کہ ہم تو گریجوٹ بن گئے تھے، لیکن اب دوسرے بچوں کو بھی تعلیم کی جانب راغب کرنا تھا، ہم نے کام شروع ہی کیا تھا کہ انڈو پاکستان جنگ شروع ہو گئی، ہمارے کچھ بزرگ اشخاص کو جیل میں ڈال دیا گیا، حالات خراب ہوتے گئے، پونے شہر میں ایک نئی لہر پیدا ہو گئی کہ اب یہ ظلم اورفسادات بند ہونے چاہئے۔ اسی دوران ہم آعظم کیمپس کا خیال کیا، جہاں کچھ لوگ برسوں سے قبضہ جمائے بیٹھے تھے، کچھ ترقیاتی کام نہیں ہو رہا تھا، اس وقت نوجوانوں کا ایک گروپ بنایا گیا اورانہیں پھر الیکشن میں کھڑے کر کے جتایا گیا۔ 1965 سے 1980 تک میرا کام یہی رہا کہ جو صحیح لوگ ہیں ان کی ہمایت کی جائے۔ میں انتاظامیہ کے باہر رہ کر ہی یہ سب کرتا رہا۔ 1980 میں مجھے انتظامیہ میں داخل ہوکر کام کرنے کا مشورہ دوستوں نے دیا۔ اس وقت سے لے کر 1992 تک کا عرصہ کافی کٹھن دور رہا۔ کیمپس کا سارے نقائص سے ایک ایک کرکے دور کئے گئے۔ پھر تعلیمی اداروں کی وسعت کا کام بڑی تیزی سے شروع کیا گیا۔ اب ہمارے پاس 30 ادارے قائم ہو چکے ہیں۔''

وہ کونسی باتیں ہیں جن سے دوسروں کے لئے کام کرنے کی تحریک میلتی ہے۔ اور اچھے کام کرنے کے باوجود جب لوگ بدنام کرتے ہیں تو کیا گزرتی ہے ؟ اس سوال کے جواب میں منور پیر بھائی بتاتے ہیں'

''میں نے اپنے کام کو شفاف رکھا۔ خود مجھے بھی کسی قسم کے ٹیڑھے پن میں دلچسپی نہیں تھی، کوئی اگر غلطی کی نشاندہی کرے تو اسے خوشی سے قبول کرتا۔ حالانکہ مسلم معاشرے میں کام کرنا آسان نہیں ہے۔ آپ کچھ نہ بھی کریں، الزام لگائے جاتے ہیں اور کام کرنے والے کے جزبے کو ٹھیس پہنچائی جاتی ہے۔ پھر لگتا ہے کہ ایسے حالات میں، کیوں کام کیا جائے، یہی وجہ ہےکہ ذیادہ تر اچھے لوگ سماجی خدمات میں آگے نہیں آتے۔

بڑے اداروں کی ضروت

منور پیر بھائی کہتے ہیں کہ مادہ پرستی کے دور میں سماجی خدمات کو انجام دینا آسان نہیں ہے۔ لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ کچھ آمدنی ہوگی اس لئے ادارا چلایا جا رہا ہے۔ اصل میں دوسروں کے لئے کام کرنا، ان کی بھلائی کرکے خوش ہونا ہی اس کام کی صحیح آمندنی اور حاصل ہوتا ہے۔ ایسا سوچنے والے لوگ کچ ہوتے جا رہے ہیں۔

دوسرے یہ کہ جمہوری طور پر چلائے جانے والے ادارے کامیاب نہیں ہو پاتے ہیں، وہاں ٹانگ کھنچنے والے لوگوں پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں۔ آپس میں الزام تراشی بھی خوب ہوتی ہے۔ اس کے بجائَے خاندانی افراد کی پکڑ جہاں ہے، وہاں ادارے کافی مظبوطی سے چلائے جا رہے ہیں۔ وہ سر سید کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں'

''در اصل سر سید کی بات کو ہمیشہ دھیان میں رکھنا چاہئے۔ انہوں نے پارسی کمیونٹی کی مثال سامنے رکھی جو بڑے ادارے کامیابی سے چلاتے تھے اور جبکہ ان کے سامنے میمن کمیونٹی کی مثال بھی تھی جو چھوٹے چھوٹے اسکول چلا رہے تھے، سر سید کو محسوس ہوا کہ چھوٹے چھوٹے اداروں کے مقابلے بیں بڑے ادارے قائم کئے جانے چاہئے اور انہوں نے کیا بھی۔ آج کے تناظر میں بھی اسی بات کو دھیان میں رکھنا چاہئے۔''

کیا آعظم کیمپس سماج کے لئے قیادت کی تربیت پر کچھ کام کر رہا ہے، اس سوال کے جواب میں منور پیر بھائی کہتے ہیں،

''سچے لیڈر کی پہچان یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے کتنے حمایتی پیدا کرتا ہے بلکہ اس کی اہمیت اس بات سے بڑھ جاتی ہے کہ وہ کتنے لیڈربناتا ہے۔ اس بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے اعظم کیمپس میں بھی کچھ پروگرام چلانے کی تجویز پر غورکیا جا رہا ہے۔''

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem