کام کرتے رہنا ہی کامیابی ہے : شردھا شرما

0


''کام کرتے رہنا ہی كاميابی ہے اور جو لوگ ناکامیوں کے خوف سے کام شروع ہی نہیں کرتے بھلا کامیابی ان کے حصے کیسے آ سکتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کام شروع کریں اور چاہے سامنے ناکامی آئے یا کامیابی اس اپنانے کی طرف سے آگے چلتے رہیں۔ ان خیالات کا اظہار یور اسٹوری میڈیا کی چیف ایڈیٹر شردھا شرما نے کیا۔

حیدرآباد کے ایچ آئی سی سی میں ڈی ایچ ای لیبز اور گیٹ ان دی رنگ (گٹار) کے جانب سے منعقدہ اسٹارٹپ میٹ میں 100 سے زائد نوجوان کاروباری موجود تھے۔ اس پروگرام میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شردھا شرما نے کہا کہ اسٹارٹپ کمپنیوں کو سنجیدگی سے اپنی منزل کی طرف آگے بڑھنا چاہئے۔

شردھا شرما نے یوراسٹوری شروع کرنے کی کہانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کامیابی کی کوئی ایک وجه نہیں ہے، بلکہ اس کی كاميابي میں بہت سے لوگوں کا ہاتھ ہے، لیکن بہت سے سوالات کا ایک ہی جواب تھا کہ کام کرتے رہیں گے، کامیابی ناکامی کی فکر کئے بغیر۔

شردھا شرما نے کہا کہ ہندوستان میں کافی امکانات ہیں، لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ اسٹارٹپ کاروباریوں کو جس طرح کی ٹیکنالوجی کا تعاون ملنا چاہئے، نہیں مل رہا ہے. وہ ٹیكنولوجی ابھی ہندوستان میں ہے ہی نہیں. یہ پانچ سال بعد کا سوال ہے. یہ سوال آج بھی سوال ہی بنا ہوا ہے کہ ٹكنولوجی کی تعلیم حاصل کرکے نوجوان ہندوستان میں رہنے کی بجائے امریکہ کیوں جانا چاہتے ہیں۔ یہاں ڈیپ ٹکنالوجی کیوں نہیں ہے۔ یقینا اس کے لئے کافی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے.

شردھا شرما نے امید ظاہر کی کہ وقت ضرور بدلے گا کیونکہ کاروباری اب نئے کاروباروں میں دلچسپی لے رہے ہیں.

شردھا شرما نے کہا کہ ناکامیوں سے سیکھنے کا جذبہ ہونا چاہئے۔ ناكامياں بہت سے سوالات کا جواب دیتی ہیں اور آگے بڑھنا سکھاتی ہیں۔ خصوصاً نئی کمپنیوں کو فنڈنگ کے مسائل کے بارے میں کہا کہ ایک دو بار پوچھ کر ہار مت جانا، بلکہ 100 بار میں ایک بار تو کامیابی ضرور ملے گی. انہوں نے کہا کہ اگر محنت جاری رہے تو جس نے 100 بار انکار کیا ہے، وہ خود بعد میں واپس آپ کے پاس آئیں گا۔

شردھا شرما کے مطابق مشکلیں تو بچپن سے رہی ہیں، لیکن مشکلوں میں مسكرانا بھی سیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہی لوگ سب سے اچھے ہو سکتے ہیں، جو اپنے پڑوسيو کے لئے اچھے ہوں۔ انہوں نے کبھی تشہير پر اعتماد نہیں کیا، لیکن سوشل میڈیا کی ضروریات کو سمجھا ہے اور جو کچھ لکھا ہے، دل سے لکھا ہے اور ہر بار مختلف لکھا ہے۔

.................................

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں..

اردو یوراسٹوری ڈاٹ کوم

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories