`Love Divorce & carrot juice 'کی ڈائرکٹر مالا پاشا کبھی اسی ڈرامے کی اہم کردار تھیں

0


بیس سال ایک شخص کی زندگی میں کافی طویل عرصہ ہوتا ہے، لیکن کسی کسی کے لئے یہ پلک جھپکتے گزر جانے والے وقت کی طرح بھی ہوتا ہے۔ مثال انگریزی ڈرامے کی حیدرآبادی فنکا مالاپاشا کی ہی لی جا سکتی ہے۔ گزشتہ ہفتہ کی شام جب گولف کلب گولكونڈا کےلان کے قریب اسٹیج پرانگریزی ڈرامہ `لو ڈائوورس اینڈ کیرٹ جوس 'کی پیشکش ہو رہی تھی، یہ اندازہ لگانا مشكل تھا کہ انجم پاشا جو کردار ادا کر رہی تھیں، وہی کردار 20 سال پہلے ان کی ماں مالا پاشا نے ادا کیا تھا اور آج وہ ڈائریکٹر بن کر اسی کردار میں اپنی بیٹی کی اداکاری دیکھ رہی تھیں۔

مالاپاشا نے چالیس پینتالیس برسوں میں حیدرآباد کے انگریزی تھیٹر میں شاندار موجودگی درج کرائی ہے، بلکہ اپنے ڈرامے کو شہر اور ملک کی سرحدوں سے باہربھی لے گئی ہیں۔ اس ڈرامے سے منسلک 20 سال پہلے کی یادیں تازہ کرتے ہوئے مالا پاشا بتاتی ہیں، ''مصنف، اداکار اور ڈرامہ نگار ٹونی ميرچدانی (مالا کے بھائی) نے یہ ڈرامہ لکھا تھا اور ان کی ہدایت میں اس کی پیشکش ہو رہی تھی، تو میں نے ملکہ رائے کا اہم کردار ادا کیا تھا، اور میری بڑی بیٹی نے نتاشا کا ( دوسری بیوی) کا کردار ادا کیا تھا۔ تب میں نانی بن گئی تھی۔ آج جب میں اپنی بیٹی انجم پاشا کو وہی کردار نبھاتے ہوئے دیکھ رہی ہوں، تو ایک طرح سے اس میں اپنے آپ کو تلاش کر رہی ہوں۔ ''

`لو ڈايوورس اینڈ کیرٹ جوس 'کی کہانی ٹونی ميرچدانی نے لکھی ہے، جو ان دنوں ہالی ووڈ کی فلموں کے اداکار ہیں۔ بیس سال پہلے لکھی یہ کہانی آج بھی اتنی ہی اہم ہے، جتنی اس وقت ہوا کرتی تھی۔

ڈرامہ انسانی تعلقات کے تانے بانے بنتا ہوا، معاشرے میں بڑھتی ہوئی طلاق کی بیماری کے مسئلے کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ٹورن كرٹینس کی طرف سے پیش کردہ اس ڈرامے کے دوسرے فنکاروں میں ادت رائے، نوین رستوگی، راہل پریم چندر، شلپا جین، بالاسبرميم، اوناش مٹا اپنے کرداروں میں اثر چھوڑ جاتے ہیں۔

مالا پاشا اس ڈرامے کے ساتھ دہلی، چنئی، کولکتہ سمیت ملک کے کئی شہروں کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ مالاپاشا تعلق بنگلہ ثقافت سے ہے، وہ 1971 میں کولکتہ سے حیدرآباد آئی تھیں۔ انکی اپنی دلچسپ کہانی ہے۔ بات 1971 کی ہے جب بنگلہ ثقافت میں پلی بڑھی ایک لڑکی کولکتہ سے حیدرآباد آئی۔ ایک فیشن شو میں حصہ لینے کے دوران ڈرامہ نگار آر وی رمن نے ان کے سامنے ڈرامہ کی تجویز پیش کی۔ پھر شروع ہوئی ایک نئی کہانی۔ پھٹے پردوں (ٹورن كرٹینس) کی ۔ حیدرآباد میں انگریزی تھیٹر کی سرگرمیوں میں نیاپن آیا۔ اپنے بھائی ٹونی ميرچندانی اور آر۔ وی رمن کے ساتھ چار دہائی قبل `ٹورن كرٹینس 'تھیٹر ادارے کے قیام اور اس کے آپریشن میں اہم کردار نبھانے والی مالا پاشا آج بھی اسی جوش و جذبے اور لگن کے ساتھ انگریزی تھیٹر کو جی رہی ہیں۔ اس سے پہلے ان کا گروپ نے ' ٹی ود ایوری تھنگ 'کی پیشکش بھی کی تھی۔ تقریبا 5 کہانیاں اس ڈرامے کا حصہ تھیں۔

مالاپاشا پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں،

''جب میں نے تھیٹر میں داخلہ لیا تھا تو 16 سال کی تھیں۔ آر وی رمن کے ساتھ کام کرتے ہوئےمیں نے دیکھا کہ رمن اس وقت کے انداز اور معیار سے مطمئن نہیں تھے۔ حیدرآباد میں انگریزی ڈرامہ پیش کرنے والوں میں ڈي سي ایچ کے علاوہ کوئی خاص ڈرامہ گروپ تھے بھی نہیں۔ انگریزی ڈرامہ دیکھنے والوں کی تعداد بھی زیادہ نہیں تھی۔ بلکہ اگر روندر بھارتی میں ڈرامہ کرنا ہو تو ٹکٹ فروخت کرنے کے لئے بہت پاپڑ بیلنے پڑتے اور شوق کو پورا کرنے کے لئے جیب سے خرچ بھی کرنا پڑتا۔ آج حالات کچھ بدلے ہوئے ہیں۔''

حالانکہ حیدرآباد میں لامكاں جیسا اہم مقام ہے، جہاں محدود وسائل کے ساتھ ہی سہی ڈرامہ کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ اس طرح کی سہولت پہلے نہیں تھی۔ اس بڑے پیمانے پر لوگوں میں بیداری آئی ہے اور ایک زبردست پلیٹ فارم تھیٹر اور دیگر سرگرمیوں کو ملا ہے، لیکن اتنا ہی کافی نہیں ہے۔ مالاپاشا گزشتہ چالیس سالوں پر نظر ڈالتی ہیں تو پاتی ہیں،'' انگریزی ڈرامہ میں ہندوستانی ڈرامانگاروں کی کمی اس وقت بھی تھی اور اب بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر ڈرامہ گروپ آج بھی مغربی ممالک میں لکھے گئے انگریزی ڈرامے کو ہی اپنانے کی روایت کو نبھا رہے ہیں۔ اگرچہ انگریزی تھیٹر کو حیدرآباد میں ہی مہیش دتتانی، منجلا پدمنابھن اور جگدیش راج اور دیگر نے کافی کچھ دیا۔''

مالا پاشا تقریبا آٹھ برسوں تک كینڈا میں رہیں۔ اب بھی وہ 9 مہینے ہندوستان میں اور تین ماہ لندن میں ہوتی ہیں، جہاں ان کا تھیٹر ورکشاپ منعقد ہوتا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ ڈرامہ کے معیار کے ساتھ کسی طرح کا مفاہمت نہ ہو۔ انہوں نے `میری کہانی مائی اسٹوری'جیسا ڈرامہ کیا۔ اس میں سینے کے سرطان پر ایک نئے نقطہ نظر کے ساتھ بیداری لانے کا کام کیا گیا۔

مالا پاشا مانتی ہیں کہ چاہے موضوع جو بھی ہو، ڈرامہ میں انسانی جزبات کے ساتھ ساتھ تفریح کے عنصر بھی ہونے چاہئیں۔ تبھی ڈرامہ صحیح معنوں میں قابل قدر ہوگا۔ اسی طرح ان کے خیال میں ڈرامہ چاہے کسی زبان کا ہو، کامل اظہار اور فوری کے لئے معیار کے ساتھ ساتھ تلفظ کا صحیح ہونا ضروری ہے۔ صرف ڈرامہ کرنے کے لئے ڈرامہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس میں زبان کے ساتھ بھی انصاف ہونا لازمی ہے۔ زبان کی خرابی سے ڈرامہ بھی خراب ہو جاتا ہے۔

حیدرآباد میں تھیٹر کی سرگرمیاں تو بہت بڑھ گئی ہیں اور چھوٹے - چھوٹے گروپوں کے لئے کافی مواقع ہیں، لیکن مالاپاشا کہتی ہیں کہ بڑے واقعات کے لئے یہاں وسائل نہیں ہیں اور نہ ہی سرکاری یا غیر سرکاری تنظیمیں اس جانب توجہ دے رہے ہیں۔ مکمل طور پر تھیٹر کے لئے وقف ایک آڈیٹوریم کی ضرورت ہے، جو ڈرامہ کی ضروریات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بنایا جائے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem