کتابوں، كاپيوں اور يونفارم کا ای کامرس مرکز 'مائی اسکول ڈپوٹ'

اپنے بھتیجے کے لئے کتابیں خریدنے کے لئے دکان پر گئے وویک گوئل کو اپنا سارا دن خراب کرنا پڑا اور آفس کی چھٹی ہوئی سو الگ۔ اس کے باوجود ان کی ضرورت کا سارا سامن وہاں دستیاب نہیں ہو پایا۔ اپنی اسی دن کی مصیبت کے بعد وہ بچوں اور والدین کے مسئلے کو حل کرنے کے بارے میں سوچنے لگے اور اسی اودھیڑبن کے نتیجے میں ان کی کمپنی پین پینسل ٹیكنالوجيس پرائیویٹ لمیٹڈ کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔ آج وہ اسی کے وینچر مائی اسکول ڈپوٹ ڈاٹ كوم کے سی ای او ہیں۔ قلم پنسل سے لے کر کتابوں اور يونفارم تک تمام قسم کی چیزیں گھر بیٹھے پہنچانے کے مقصد کے ساتھ اس کمپنی نے اسی سال کام شروع کیا ہے اور اپنی رسائی اُتّراکھنڈ سے دہلی تک بنائی ہے۔ ان کے اس ای کامرس کی ویب سائٹ پر 2000 سے زیادہ پروڈکٹس ہیں۔ 50 سے زائد اسکولوں سے وہ جڑ چکے ہیں۔ اب ان کی نظر اتر پردیش، راجستھان، هريانا، مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستوں پر ہے۔

0

وویک گوئل نوجوان کاروباری ہیں اور بین الاقوامی سطح پر کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ پراجیکٹ مینجمنٹ اور بگ ڈیٹا ایڈوانس تجزیاکار کے طور پر انہوں نے مہارت حاصل کی ہے۔ وہ کیمیکل اجنيير ہیں، ایم بی اے کی ڈگری رکھتے ہیں اور چارٹیڈ ایكاونٹ انالسٹ کے لیول 3 کے امیدوار رہ چکے ہیں۔ اتراکھنڈ کے هلدوانی میں پیدا ہوئے وویک گوئل نے دہلی سے انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنا کیریئر بیكٹیل کارپوریشن میں ریفائنری کے پروجیکٹ سے شروع کیا۔ ہندوستان پیٹرولیم میں یورو 3 اور 4 ریفائنری اپگریڈیشن میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ پھر وہ نوکری چھوڑ کر ایم بی اے کرنے کے لئے امریکہ چلے گئے۔ ایم بی اے کے دوران ہی انہوں نے سيی ایف اے کا امتحان لکھا اور کارپوریٹ ڈیولپمنٹ انٹرن رہے۔ وہ 1 ملین یونیورسٹی اینڈومینٹ فنڈ کے لئے فنڈ مینیجر کے طور پر چنے گئے۔ پھر وہ یٹنا انکارپوریٹیڈ میں ڈیٹا اینالسٹك کے طور پر جوائن ہوئے۔ اور اسی کے ہندوستانی کاروبارکے توسیع کی ذمہ داری کے ساتھ وطن واپس آئے۔ کچھ دن بعد انہوں نے اپنا کاروبار شروع کرنے کا من بنایا اور آج وہ تن من دھن سے مائی سکول ڈپوٹ ڈاٹ كوم کو ملک بھر میں پھیلانے کے کام میں لگے ہیں۔

مائی سکول ڈپوٹ کی ابتداء کے پیچھے کی دلچسپ کہانی کے بارے میں وویک بتاتے ہیں کہ ایک بار وہ اپنے بھتیجے کے لئے اسکول کا سامان خریدنے کتابوں کی دکان گئے۔ اس کے لئے لائن میں کھڑے ہو کر پورا دن خراب کیا اور جب ان کا نمبر آیا تو کہا گیا کہ مکمل اشیاء دستیاب نہیں ہیں۔ وہ بتاتے ہیں،

'بہت سے لوگوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔ جب لوگ اپنے بچوں کے لئے کتابیں، كاپياں اور اسٹیشنری کا سامان خریدنے جاتے ہیں تو انہیں وقت خراب کرنے کے باوجود اگر چیزیں مل بھی جاتی ہیں تو پوری نہیں مل پاتیں۔ ورك بكس کے لئے الگ سے انتظار کرو۔ يونفارم کے لئے الگ سے کسی کے پاس جاؤ۔ ان سب پریشانیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ ایسا پلیٹ فارم شروع کیا جائے، جہاں لوگوں کے لئے ایک ہی جگہ پر مکمل اشیاء ملے اور انہیں اپنا وقت بھی خراب نہ کرنا پڑے۔ '

'میں نے اسکول مالکان، پرنسپل، اسٹوڈنٹ اور پیرنٹس سب سے بات چیت کی۔ میں نے محسوس کیا کہ اس مسئلہ کا ابھی تک کوئی سوليشن نہیں ہے۔ اگر ہے بھی تو سب کچھ جزوی ہے۔ حالانکہ جب ہم ڈاکٹر کی لکھی کوئی دوائی خریدنے جاتے ہیں تو وہ دوائی نہ ہونے پر اسی فارمولے کی دوسری کمپنی کی دوائی لے سکتے ہیں، لیکن اسکول کی پريپھر کی ہوئی کتاب کا کوئی اختیار نہیں۔ ایک ایک چیز ڈھوڈھنی پڑے گی۔ میں نے سوچا کہ اس مسئلہ کو کیسے حل کیا حل كيا جا سکتا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا کہ خود کو ہی کچھ کرنا پڑے گا۔ '

وویک نے والدین، اسکول آپریٹرز اور کتابیں بیچنے والوں کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ اس کام کو وہ کنٹرول کے طریقہ کار سے کرنا چاہتے تھے۔ ایسا کچھ کرنا چاہتے تھے کہ کوئی كنفيوذ نہ ہو۔ سب سے پہلے تو انہوں نے بچوں کی اسکولی ضروریات پر توجہ دینا شروع کیا اور دیکھا کہ کون سے اسکول میں کون سے گریڈ میں کس پبلشر کی کتابیں ہیں۔ پایا کہ کئی جگہ پر الگ الگ چیزوں کی ضرورت ہے۔ پھر انہوں نے اسکول کا سیٹ بنا کر فراہم کرنے کے لئے اسٹیشنری، کتابیں كاپياں سب کچھ والدین کو ان کے گھر پر ڈلیوری کرا دینے کے حل پر کام کرنا شروع کیا اور اس میں وہ کامیاب بھی رہے۔

ہوم ڈلیوری کے بارے میں وویک بتاتے ہیں کہ اکثر بچوں کے ساتھ اشیاء لینے ان کی ماں آتی ہیں۔ مکمل بیگ اٹھا کر لے جانا ممکن نہیں ہو پاتا۔ اگر دو بچے ہیں تو اور بھی مشکل ہوتی ہے۔ اس لیے ہوم ڈلےوری کے حق پر زیادہ کام کیا گیا۔ انہوں نے گزشتہ مارچ میں اپنا پراجیكٹ اتراکھنڈ میں لانچ کیا اور گاڑی چل نکلی۔

وویک گوئل اپنا کام دہلی اور بنگلور میں بھی شروع کر سکتے تھے، لیکن وہ چاہتے تھے کہ ایک چھوٹی جگہ سے شروع کریں، تاکہ کچھ خامياں ہو تو آسانی سے دور کیا جا سکے۔ وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ لوگ لائک کریں گے کہ نہیں۔ اچھا ریسپانس ملا۔ مائی اسکول ڈپوٹ اب تک 1400 بچوں کوسنگل ونڈو طریقہ سے ان کی ضرورت کی ساری چیزیں ان کے گھر پہنچا چکا ہے۔ وہ کافی خوش ہیں۔ پہلی ہی بار انوکھے طریقے سے 60 لاکھ روپے کا سامان فروخت کرنا آسان کام نہیں تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ 2-4 آرڈر میں گڑبڑ ہوئی، لیکن اس سے کافی کچھ سیکھنے کو ملا۔ حالانکہ اس کام میں مزید سرمایہ نہیں لگا، لیکن انہیں جس شہر میں کتابوں اور كاپيو سمیت ضرورت کا سیٹ پہنچانا تھا، وہیں کے وینڈرس کو تلاش کرنا پڑا۔ پیرینٹس کے لئے یہ بالکل نیا تھا۔ ان کو یقین نہیں تھا، جب راحت ملی تو یقین بھی ہوا۔ کچھ جگہوں پر گھر میں اگر چار بچے ہیں تو لوگوں نے دو یا ایک بچے کے لئے اس کی خدمت کو ترجیح دی اور اگلی بار کے لئے اس نئی خدمات کو لینے کا من بنا لیا ہے۔

بچوں کی اسکول کی کتابوں کا کاروبار عام طور پر لگتا ہے کہ سيزنل بزنس ہیں، لیکن اسٹیشنری کی دکانیں تو سال کے بارہ مہینے کھچا کھچ بھری رہتی ہیں۔ وویک نے جب اس کاروبار میں قدم رکھا تو ان کے مطالعہ میں کچھ اور چیزیں بھی آئیں۔ مختلف صوبوں میں اسکول الگ الگ وقت میں کھلتے ہیں۔ انٹرنیشنل بورڈ کے اسکول اگست میں کھلتے ہیں۔ سی بی ایس ای بورڈ مارچ اپریل میں اپنے اسکول شروع کرتا ہے۔ جموں اور کشمیر میں کچھ تاخیر سے اسکول شروع ہوتے ہیں۔ جنوبی ہندوستان میں حالانکہ ایک ہی وقت پر اسکول کا ٹائم ٹیبل ہے، لیکن شمالی ہند میں الگ الگ وقت پر اسکولوں کی شروعات ہوتی ہے، بلکہ بعض مقامات پر تو موسم گرما اور موسم سرما کے يونوارم بھی الگ الگ ہیں۔ چار پانچ ماہ کے درمیان سپلمینٹری ضرورتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔

وویک گوئل ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں سالانہ (ہندوستان میں کام کرتے ہوئے) 35 لاکھ روپے سے زیادہ کما رہے تھے۔ ایسے میں نوکری چھوڑ کر اپنا کام شروع کرنا کافی جوکھم بھرا تھا، لیکن ان کے خاندان نے ان کا ساتھ دیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ نیا کام کرنا نیا جوکھم اٹھانے کے برابر ہے، لیکن مارکیٹ بہت بڑا ہے۔ مناسب طریقے سے کام کر لیا جائے تو 4-5 سال میں اس کاروبار کو بہت پھیلایا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں،

'نئے کاروبار کا فیصلہ لینے میں خاندان کا سپورٹ اور میرا یقین دونوں کام آئے اور مجھے لگتا ہے کہ پورے جذبہ کے ساتھ میں تین چار سال بغیر زیادہ کمائی کے کام کر سکتا ہوں۔'

وویک بتاتے ہیں کہ 1.4 ملین اسکول ہیں۔ جن 35- 40 فیصد خانگی اسکولوں میں مختلف طرح کے کورس ہیں۔ ایک بچے کی کتابیں اور دیگر مواد 4000 روپے سے کم کا نہیں ہوتا۔ اس طرح یہ 10 ہزار کروڑ روپے کا کاروبار ہے۔ چونکہ ارگنائزڈ مارکیٹ نہیں ہے اور کوئی بھی بڑا پلیئر نہیں ہے، اس لیے لوگوں کو اسٹینڈرڈ سروس کا تجربہ نہیں ہے۔ جب لوگ اس کے بارے میں جان جائیں گے تو پھر اس سے اچھا متبادل انہیں نہیں نظر آئے گا۔

اس وقت بہت سے اسکول ایسے ہیں، جہاں کے انتظام کی طرف ہی بچوں کو کتابیں اور كاپياں دستیاب کرائی جاتی ہیں۔ اس سے ان کی آمدنی بھی منسلک هوتی ہے۔ وویک گوئل بھی یہ جانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں،

'میں جانتا ہوں کہ کوئی بھی اسکول اپنی انکم مجھے دینے کے لئے راضی نہیں ہو گا، لیکن لوگ یہ مانتے ہیں کہ اسکول کے اندر بک شاپ ہونا صحیح نہیں ہے۔ حکومت اس کے خلاف ہے۔ پیرینٹس اس کو برا سمجھتے ہیں۔ اسکول میں بھی اس کے لئے کافی جگہ کھپ جاتی ہے۔ کتابوں کو گودام اور اس کے لئے کل وقتی ملازم کا خرچ الگ ہوتا ہے۔ اس لئے اسکول کو آن لائن لانے سے اسکول کی ہی امیج بہتر ہوگی۔ دوسری طرف اسکول والی دکان کے مالک بھی 65 سے 70 فیصد ہی سروس دے پاتے ہیں۔ '

مائی اسکول ڈپوٹ نے اتراکھنڈ کے بعد دہلی اور این سی آر میں کام شروع کیا ہے۔ اب موسم سرما سیزن يونفارم کا ہدف ان کے سامنے ہے۔ شمالی بھارت کے کچھ اور شہروں میں پہنچنے کا ہدف انہوں نے رکھا ہے۔ جے پور اور لکھنؤ سے بھی کچھ آرڈر ملے ہیں۔

وویک گوئل کے ساتھ ان کے دوست آشش گپتا ٹکنالوجی میں ان کا تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے ٹکنالوجی میں انجينيرگ کی ہے۔ امریکہ سے ایم ایس کیا ہے۔ 8 سال تک امریکہ میں کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ آشش کو ٹکنالوجی میں کام کرنے کا جذبہ ہے۔ اگرچہ وہ ہارورڈ ایکسٹینشن اسکول میں نفسیات کا مطالعہ بھی کر چکے ہیں۔ امریکہ کی ولگٹن مینجمنٹ ایل ایل پی کمپنی کے ساتھ ٹکنالوجی كنسلٹینٹ کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔ وہ کئی عالمی کمپنیوں کو اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

ایک اور ساتھی بھارت گوئل بھی انجنیئر ہیں۔ انہوں نے لکھنؤ سے ایم بی اے کیا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں انہیں اچھا تجربہ ہے۔ وہ مائی اسکول ڈپوٹ کے ساتھ کاروباری ترقی کا کام دیکھ رہے ہیں۔ اسکولوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ ایک طرح سے وہ مارکیٹنگ کا شعبہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ وویک کا خیال ہے کہ جب کاروبار بڑھے گا تو مختلف صوبوں میں یہ کام دیکھنے کی ذمہ داری ہوگی تینوں مختلف علاقوں کی ذمہ داری سنبھال سکیں گے۔

تینوں نوجوان کاروباری اس نئے کام کو برانڈ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنی اب تک کی کمائی انہوں نے کاروبار میں لگائی ہے۔ ایكسٹرنل فنڈنگ کے امکانات کو تلاش کر رہے ہیں۔ وویک مانتے ہیں کہ 12 سے 18 ماہ میں ان کی کمپنی فائدہ حاصل کرنے لگے گی اور پھر ملک بھر میں پھیلنے کے امکانات کو تلاش کرتے ہوئے کاروبار کو توسیع دی جائےگی۔

كہانياں مجھے وراثت میں ملی ہیں. ماں، باپ، چچا، چاچی،خالہ، پھوپھی، نانی دادی، سب کی مختلف کہانیاں تھیں. اسی وراثت کو پاس پڑوس، دوست رشتہ دار، نکڑ، گلی، محلہ، شہر، ملک اور بیرون ملک کے چہروں میں چھپی کہانیوں کے ساتھ ملا کر پیش کر رہا ہوں۔ پسند آئے تو مسکرانا ضرور۔

Related Stories