کرناٹک میں تیزی سےبنیادی ڈھانچے کی ترقی اور شہریت میں اضافہ

0

انویسٹ کرناٹک2016 چوٹی کانفرنس میں شریک سرکاری اور صنعتی دنیا کے ماہرین کا خیال ہے کہ بنگلور کی آبادی جو 1971 میں 1.65 ملین تھی بڑھ کر 2001 میں 5 ملین اور 2011 میں 11 ملین ہوگئی اور امید ہے کہ 2030 تک یہ بڑھ کر 14 ملین کے اعداد و شمار کو عبور کر جائے گی۔ بنگلور جیسے ہندوستانی شہروں کے لئے شہری بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی اور نفاذ کرنا اہم چیلنجز میں سے ایک رہے گا جس کے لئے بڑے پیمانے پر پبلک-پرائیویٹ شراکت داری کی ضرورت ہوگی۔ کرناٹک حکومت کے اے سی ایس، یوڈی ڈی ٹی ایم وجے بھاسکر کے مطابق کرناٹک کے نزدیک بنگلور اور دوسرے شہروں کی ترقی کے لئے تقریباً 90 ہزار کروڑ کے 44 پروجیکٹ ہیں ۔ بنگلور کے وزیر ترقیات کے جے جارج کہتے ہیں ، ’’بنگلور کے لئے ایلیویٹیڈ روڈویز سمیت فلائی اوور اور انڈر پاس کے تقریباً 20 ہزار کے پروجیکٹ ہیں اور ساتھ ہی مضافات شہر ریلوے منصوبوں کے لئے اضافی 9 ہزار کروڑ کا بند وبست کیا گیاہے۔

دنیا بھر کی نظریں

سی ایچ 2 ایم انجینئرنگ سروسز کے نائب صدر ونود سنگھ نے بنگلور کےمنصوبہ بندی کرنے والوں سے متفقہ طور سے ایشیا کے سب سے زائد پلانڈ اور کامیاب مانے جانے والے شہر سنگاپور کی مثال سے کچھ سیکھنے کی گذارش کی۔ بنگلور میں منصوبہ چلانے اور رکھ رکھاؤ کے لئے بجٹ کا محض 8 فیصد ہی الاٹ کیاجاتاہے۔ سنگاپور میں تقابلی طور سے یہی ہندسہ 20 فیصد بھی زائد ہوتاہے سنگاپور میں شہری منصوبہ بندی اور ایک دراز و جامع پروگرام ہونے کے علاوہ شفافیت، کاروباریت اور بدعنوانی سے پاک ہوتاہے۔ اس بات کی پوری کوشش کی جاری ہے کہ سڑک کی مرمت کے وقت ہی فٹ پاتھ اور معذوروں کے لئے راستہ بنانے کے علاوہ اضافی پانی کے بہنے کے واسطے نالیوں کی تعمیر بھی کی جائے۔ اس کے علاوہ پینے کے پانی کی فضول خرچی روکنے کے لئے بھی ایک سٹیک نگرانی مشینری کا استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ غیر ممالک میں ہونے والی اسمارٹ میٹرنگ اور ٹریکنگ پر بھی عمل کرنے والی مثالیں ۔ ووڈا فون انڈیا کے سی ٹی او ستیش متل نے کہا، ’’ووڈا فون نے نیوزی لینڈ میں ا سمارٹ پارکنگ اور کوریا میں انٹلی جنٹ ڈسٹ بنس کو اپنایا اور لاگو کیاہے۔ ‘‘

ہندوستان کے دیگر حصوں کے معاملوں کا ایک مطالعہ

ویولیا کے جنرل منیجر ایم جے آر چودھری نے کہا، ’’ناگپور جیسے شہروں نے مؤثر پانی روانی اور منیجمنٹ تصفیہ کو کامیابی سے نا فذ کیا ہے۔ اس طرح کا بند وبست ایک جوکھم پر مبنی منیجمنٹ پر مرکوز ہوتاہے جو ہندوستان جیسے ملک میں اور بھی زیادہ اہم ہو جاتاہے جہاں شہر کاری میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور پانی کی فراہمی غیر مستقل ہے۔ ‘‘

ای ایل ایف ایس نے براڑی میں ایک مؤثر ٹھوس کچرا منیجمنٹ پروگرام شروع کرنے کے علاوہ غازی پور میں کچرے سے توانائی منتقلی منصوبےکا آغاز کیاہے۔ براڑی میں دو ملین ٹن کچرے کو جمع کرکے سڑک تعمیر اشیا ء میں تبدیل کیا جاچکاہے۔ اس کے علاوہ غازی پور میں صرف کچرے سے بجلی کے دو ملین کلوواٹ گھنٹوں کی پیداوار کی جاچکی ہے۔ اس کے علاوہ کچرا چننے والی عورتوں کو کاری گر بننے کی تربیت دینے کی پہل کرنے کے ساتھ ہی صنعت کاروں کی آگے آکر کچرا تصفیہ کو ایک کاروبار کی شکل میں اپنانے کے لئے حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔

اسمارٹ سٹی اور آئی او ٹی

کرسل کے ایسو سی ایٹ ڈائریکٹر درشن پاریکھ نے کہا، ’’ہندوستان کے 100 اسمارٹ شہروں کو ایک 150 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی جس میں سے 120 بلین ڈالر پرائیویٹ سیکٹر سے آئے گا۔ ‘‘ کامیاب سماجی اور مادی بنیادی ڈھانچوں کے علاوہ مضبوط ادارہ جاتی حمایت اور وافر مالی تعاون کسی بھی اسمارٹ شہر کی کامیابی کو ناپنے کے سب سے بڑے پیمانے ہوتے ہیں ۔

حکومت ہند کے اولوالعزم 100 اسمارٹ شہری منصوبوں کیلئے کرناٹک ریاست سے داون گیرے اور بیلاگاری کا انتخاب ایک ہزار کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کے لئے کیاگیاہے۔ اس میں ا سمارٹ پارکنگ اور اسٹریٹ لائٹ نظام کے علاوہ انڈر گراونڈ یوٹلٹی ڈکٹنگ، پیدل چلنے لائق علاقوں کاانتخاب اور شہریوں کے مطابق انتظامیہ جیسی سہولیات کا ایک تفصیلی سلسلہ شامل ہوگا۔

کے آر ڈی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر کے ایس کرشن ریڈی نے کہا، ’’کرناٹک حکومت نے بنگلور کے لئے چھ نئے ایلیویٹڈ روڈ پروجیکٹو کی تجویزپیش کی ہے۔ ‘‘ ان میں سے دو مشرق۔ مغرب، ایک شمال۔ جنوب اور باقی تین کنکٹنگ کوریڈور ہوں گے۔

انہوں نے ان کوششوں میں پبلک۔ پرائیویٹ شہری حصہ داری میں اضافہ کرنے پر زور دیا اور ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے منصوبوں میں معاون تعمیر ماڈل کے کام کے کے طریقہ کے بارے میں جاننے کی خواہش مند شہری تنظیموں کی بڑی حصہ داری ہوتے دیکھنا ایک اچھا اشارہ ہے۔

ترجمہ : محمد وصی اللہ حسینی

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini