8 ہزار کی رقم کو 500 کروڑ میں بدلنےوالی مینا بندرا ''بیبا''

0

تقریباً 33 سال پہلےکی بات ہے۔ دو بچوں کی ماں نے وقت گزاری کے لئے خواتین کے ریڈی میڈ کپڑوں کو بنا سنوار کر فروخت کرنا شروع کیا اور آج ان کا یہ شوق کروڑوں کے کاروبار میں تبدیل ہو چکا ہے۔ بینک سے صرف 8 ہزار روپے کا قرض لے کر شروع کیے گئے اس کاروبار کو دھن کی پکی اس خاتون نے آج ایک برانڈ کی شکل دے دی ہے اور ملک و بیرون ملک میں یہ برانڈ کامیاب مانا جاتا ہے۔

خواتین کے لئے کپڑے بنانے والے برانڈ '' بیبا '' کی بانی مینا بندرا دہلی میں ایک تاجر خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے سر سے باپ کا سایہ صرف 9 سال کی عمر میں ہی اٹھ گیا تھا۔ مینا نے دہلی کے ممتاز مرانڈا ہاؤس سے گریجویشن کیا اور صرف 19 سال کی عمر میں ان کی شادی ایک نیوی افسر سے ہو گئی۔

شادی کے بعد مینا کے بیس سال تو گھر اور بچوں کو سنبھالنے میں ہی گزر گئے، لیکن بچوں کے بڑے ہونے کے بعد جب ان کے پاس کچھ وقت خالی رہنے لگا تو وہ بیچین ہو گئیں۔ مینا بتاتی ہیں کہ تعلیم کے زمانے سے ہی ان کی دلچسپی کپڑوں کی ڈیزائننگ میں تھی اور انہیں رنگوں اور پرنٹ کے بارے میں کچھ غیر رسمی معلومات تھی، لیکن انہوں نے کبھی اس کی کوئی پروفیشنل ٹریننگ نہیں لی تھی۔

ان کی ملاقات بلاک پرنٹنگ کا کاروبار کرنے والے دیویش سے ہوئی۔ '' میں نے روزانہ دیویش کی فیکٹری جانا شروع کیا اور وہیں پر پرنٹنگ اور کپڑے پر ہونے والے مختلف رنگوں کے استعمال کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اس کے بعد میں نے اپنے شوہر سے کاروبار شروع کرنے کے بارے میں بات کی اور انہوں نے مجھے سنڈیکیٹ بینک سے 8 ہزار روپے کا لون دلواكر اس کام کو شروع کرنے میں مدد کی۔''

مینا کے لئے یہ بہت اچھی ابتدائ تھی۔ بینک سے لون کے طور پر ملی رقم سے انہوں نے خواتین کے لئے 200 روپے سے بھی کم قیمت کے پرکشش شلوار سوٹ کے 40 سیٹ بنائے اور گھر پر ہی ان کی سیل لگا دی۔ وہ بتاتی ہیں، '' میرے آس پڑوس کی خواتین نے ان سوٹوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سارا اسٹاک فروخت گیا، جس سے مجھے قریب 3 ہزار روپے کا منافع ہوا۔ '' ان خواتین کو یقین تھا کہ اگر انہیں کپڑے پسند نہیں آئے تو وہ انہیں واپس سکتی ہیں اور شایدخواتین کے اسی بھروسے نے انہیں کامیاب کیا۔

'' منافع میں ملے پیسے سے میں اور کپڑے لےآئی اور میرے سوٹ اس بار بھی جلد ہی فروخت ہو گئے۔ سال بھر میں میرے کپڑے آس پاس کے علاقوں میں مشہور ہو گئے۔ مجھے مزید آرڈر پورے کرنے کے لئے 3 کاریگر رکھنے پڑے۔ اس کے علاوہ دوسرے تاجر 'شیتل' اور 'بنجر' بھی ان کپڑوں میں دلچسپی لینے لگے۔ ''

آہستہ آہستہ کام بڑھا تو ارڈر بک اور بل بک کا مطالبہ ہوا اور پھر نام کی ضرورت پڑی۔ چونکہ پنجابی میں لڑکیوں کو محبت سے '' بیبا '' کہتے ہیں اس لئے برانڈ کا نام یہی رکھا گیا۔ جلد ہی ریڈی میڈ کپڑوں کی دنیا پریہ نام چھا گیا۔

'' مجھے کبھی اپنے کپڑوں کی تشہیر نہیں کرنی پڑی۔ ایسے وقت میں ریڈی میڈ کپڑوں کا کاروبار میں نےشروع کیا جب ان کپڑوں کے خریدار مارکیٹ میں آنے شروع ہی ہوئے تھے اور میرے کپڑوں کی فٹنگ اور معیار نے جلد ہی انہیں میرا مرید بنا دیا۔''

مینا بتاتی ہیں کہ کچھ عرسہ بعد ہی گھر پر بنایا عارضی دکان چھوٹا پڑنے لگا اور انہیں کیمپ کارنر علاقے میں ایک بڑی جگہ پر شفٹ ہونا پڑا۔

اسی دوران مینا کے بڑے بیٹے سنجئے نے بی كام کی اپنی تعلیم مکمل کی اور اپنی ماں کے کام میں ہاتھ بٹانے لگا۔ جلد ہی ماں بیٹے کی جوڑی نے دنیا کو دکھا دیا کہ ایک اور ایک گیارہ کس طرح ہوتے ہیں۔ '' سنجے کے ساتھ آنے کے بعد میری ذمہ داریاں تھوڑی سی تقسیم ہوئیں اور میں اپنی مکمل توجہ صرف ڈیزائن پر دینے لگی۔ 1993 میں ہم روایتی پوشاکوں کے میدان میں ہندوستان کے سب سے بڑے تاجربن گئے۔ ہم 2000 پیس ماہانہ سے زیادہ تیار کرکے فروخت کر رہے تھے۔ ''

90 کی دہائی کے وسط میں شاپرس سٹاپ نے مارکیٹ میں دستک دی جو ملک میں کھلنے والا پہلا ملٹي سٹی ڈپارٹمنٹ اسٹور تھا۔ انہیں بھی اپنے یہاں فروخت کرنےکے لئے خواتین کی روایتی پوشاکوں کی ضرورت تھی جس کے لئے یہ '' بیبا '' کے پاس آئے۔ '' شاپرس اسٹاپ کے ساتھ کام کرنے کے دوران میں نے معیار ہے مفاہمت کے بغیر سستے داموں میں مال تیار کرنا اور وقت کی پابندی سے آرڈر سپلائی کرنے کے اصول کو اپنایا اور شاید یہی میری کامیابی کا راز رہا۔ ''

سال 2002 میں مینا کے چھوٹا بیٹا ہارورڈ سے گریجویشن کرنے کے بعد ان کے کاروبار میں داخل ہوا اور اس کے بعد ان کا یہ برانڈ جلد ہی پورے ملک میں مشہور ہو گیا۔

مینا کہتی ہیں، '' سدھارتھ شروع سے ہی اپنی دکان کھولنے کے حق میں تھا۔ '' بیبا '' نے سال 2004 میں ممبئی میں دو مقامات پر اسٹور کھولے اور نتیجے کافی چونکانے والے رہے۔ دونوں دکانوں کو بھاری کامیابی ملی اور ان کی فروخت 20 لاکھ روپے ماہانہ سے تجاوز کر گئی۔

'' اس کے بعد ہم نے اپنی پالیسی میں کچھ تبدیلی لائیں اور ہم ہر کھلنے والے اچھے شاپنگ مال میں اپنی دکان کھولنے لگے۔ فی الحال پورے ملک میں ہمارے 90 سے زائد اسٹورہیں اور ہماری سالانہ آمدنی تقریبا 500 کروڑکو روپے پار چکی ہے۔ ''

اس طرح اپنی لگن اور محنت کے بل پر ایک خاتون نے ٹائم پاس کے لئے شروع کئے گئے کاروبار کو عالمی برانڈ میں تبدیل کر دیا ہے۔ مینا بندرا اس کی ایک جیتا جاگتا مثال ہیں کہ ہر عورت میں کچھ بھی کرنے کی قابلیت ہوتی ہے، ضرورت ہے تو صرف اپنی سوچ تبدیل کرنے کی۔