بے سہارا بچوں کا سہارا بننے کےلیے اپنی زندگی داؤ پر لگادی

0

بے سہارا اور غریب بچوں کی مدد تو ہر کوئی کرتا ہے لیکن ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنی پوری زندگی ا یسے بچوں کے لیے وقف کردیتے ہیں۔ یہ بہت بڑی بات ہے ۔ کلکتہ کے ونایک لوہانی ایثار وقربانی کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔

وہ انسانی ایثار و قربانی کا مثالی پیکر ہیں ۔ انہیں اپنی زندگی کے کئی نشیب و فراز سے دوچار ہونا پڑا، لیکن انکی زندگی میں انہوں نے ایک مقصد طے کر رکھا تھا اور انہوں نے اپنی توجہ ایسے مرکوز کی جیسے ارجن نے مچھلی کی آنکھ کا نشانہ طے کیا تھا۔ ایسے ہی وہ اپنے کام کی تکمیل چاہتے تھے ۔ انکے والد آئی ایس آفیسر تھے ۔ انہوں نے 12 وی جماعت تک بھوپال سے تعلیم حاصل کی ۔ وہ بچپن ہی سے نہایت ہونہار طالب علم تھے اسی لیے اعلی تعلیم کےلیے ان کا داخلہ آئی ۔ آئی ۔ ٹی کھڑگپور میں ہوا ۔ اور پھر اسکے بعد انہوں نے آئی آئی ایم کلکتہ کے معروف ادارے سے کیا ۔

ونایک نے تقریبا ایک سال آئی ٹی کمپنی انفوسس میں کام کیا ۔ لیکن کارپویٹ دنیا کی چکا چوند انہیں کبھی متاثر نہ کرسکی ۔ یہی وجہ تھی کہ ملازمت کو بالائے طاق رکھ کر ونایک اپنے خوابوں کی تکمیل کرنے کےلیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ مقصد تھا بے سہارا بچوں کی زندگی میں تعلیم کی مدد سے روشنی پھیلانا۔

حالانکہ ونایک کے پاس اس طرح کے کام کا کوئی تجربہ نہیں تھا لیکن اپنے اٹل ارادوں کی بدولت انہوں نے اس کام کی تکمیل کرنے کی ٹھان لی ۔ پڑھائی کے دوران ہی وہ غیر سرکاری تنظیمیں چلانے والے کئی لوگوں سے ملتے تھے تاکہ تجربہ حاصل ہوسکے۔ اپنا این جی او آشرم کھولنے سے پہلے وہ یوپی کے ایک دلت گاوں، مدھیہ پردیش کی ایک دیہاتی تنظیم اور کلکتہ کے مدر ٹریسا مشنری آف چیرٹی میں اچھا خاصا وقت گزار چکے تھے ۔ یہ تجربہ ان کے لیے بہتر ثابت ہوا۔

ونایک گاؤں گاؤں جاکر عام لوگوں کےلیے کام کرنے والے مہاتما گاندھی، جے پرکاش نارائن اور ونوبابھاوے سے کافی متاثر تھے۔ وویکانند کی تحریروں سے بھی وہ بہت متاثر تھے ۔ کلکتہ میں جسم فروش عورتوں کے بچوں کے لئے ایک small home چلانے والے پادری برادر زیوئر کی شخصیت نے بھی انہیں بہت مرعوب کیا۔ آشرم کےلیے انکے سامنے سب سے بڑا چیلینج تھا روپیہ جو ان تمام کاموں کےلیے نہایت ضروری تھا۔ اس کےلیے وہ کئی لوگوں سے ملے لیکن انہیں کوئی راستہ نظر نہ آیا ۔ روپیہ جمع کرنا کافی مشکل کام تھا لیکن ونایک نے ہمت نہیں ہاری اور پوری شدت سے اپنے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرنے لگے۔ شروعات میں انہوں نے کچھ بچوں کےلیے کرایہ کا مکان لیا ۔ کچھ مدت تک اسے چلایا ۔ پھر اچانک انکی کوشش کو کامیابی ملی ۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ معاشی بدحالی کے دوران فنڈ ملنے لگے اور اسکے بعد اضافہ ہوتا چلا گیا۔

اس فنڈ کی وجہ سے ونایک نے مغربی بنگال میں پریوار آشرم کھولا جو آج یتیم آدی واسی اور جسم فروش عورتوں کے بچوں کی تعلیم کا ٹھکانہ بن گیا ہے۔ پریوار آشرم ان بچوں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں کیونکہ یہ بچے یہاں اپنے ان خوابوں کی تکمیل کررہے ہیں جو ان کے لئے ناممکن تھے۔

پریوار آشرم میں فی الحال 500سے زیادہ بچے ہیں ۔ آشرم میں لڑکے اورلڑکیوں کےلیے ہاسٹل، ایک لائیبریری ،گیمس روم ، ٹی وی روم اور کرکٹ گراونڈ بھی موجود ہیں۔ اس گراونڈ کی دیکھ بھال وہ کیئر ٹیکر کرتے ہیں جوکبھی ایڈن گارڈن کی دیکھ بھال کیا کرتے تھے ۔ جو بچے ابتدائی دنوں میں آشرم میں شامل ہوئے تھے وہ نزدیکی اسکول میں پڑھائی کرنے جاتے تھے۔ لیکن اب آشرم نے خود 'امر' نامی اپنا تعلیمی ادارہ کھولا ہے ۔ آشرم ایک خاندان کی مانند ہے۔ بچوں کو تعلیم مکمل کروانے کے علاوہ انہیں پارک، چڑیا گھر اور کالجوں میں بھی سیروتفریح کےلیے لے جایا جاتا ہے تاکہ وہ باہری دنیا سے روشناس ہوسکیں۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ یہ ادارہ بچوں کو حادثات سے متعلق بھی بیداری پیدا کرتا ہے تاکہ ان بچوں کی ہمہ جہت ترقی ہو اور وہ کسی بھی معاملے میں خود کو کم تر محسوس نہ کریں۔ 

کسی ادارے کو دن رات چلانا آسان کام نہیں ہے۔ ونایک کے پاس ایسی قربانی دینے والی ٹیم موجود ہے جو ان کے ساتھ قدم بہ قدم چلتی ہے ۔ ان کے ادارےمیں شامل ہونے والے لوگوں میں شہری افراد کے علاوہ دیہاتی لوگ، اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے والے نوجوان اور بدھ سبھا بھی شامل ہیں۔ ونایک اپنے ادارے میں کام کرنے والے لوگوں کو 'خدمت گار' کہہ کر مخاطب کرتے ہیں یعنی ایسے لوگ جنہوں نے خدمت کرنے کا عہد لیا ہوا ہے۔ آج پریوار آشرم میں تقریبا 35 کُل وقتی خدمت گار اپنی پوری شدت کے ساتھ خود کو وقف کئے ہوئے ہیں۔

ونائک غیر شادہ شدہ ہیں اور اپنی پوری زندگی اسی آشرم کو وقف کر چکے ہیں۔ونائک اسے اپنا مشن مانتے ہیں۔ ونایک کا نظر یہ زندگی کو لے کر کچھ اس طرح ہے۔

کام آؤ دوسروں کے مدد غیر کی کرو

یہ کرسکے اگر تو عبادت ہے زندگی

تحریر: آسوتوش کھنٹوال

مترجم: ہاجرہ نور احمد زریابؔ