سیاحت سے معاشی استحکام کیلئےسرکاری اور نجی شعبوں میں ہم آہنگی ضروری

0

ہندوستان عجائبات سے بھر پور ایک کرشمہ ساز ملک ہے ، مگر اِس کے باوجود ملک کی مجموعی گھریلوپیداوار (جی ڈی پی) میں سیاحت کی شراکت محض 6 فیصدہی ہے ۔’ انویسٹ کرناٹک 2016 ‘کو امید ہے کہ مستقبل قریب میں یہ منظر نامہ بدل سکتا ہے ۔

اِس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کرناٹک حکومت کے وزیرِ سیاحت’ آر۔وی۔ دیش پانڈے‘ کا کہنا تھا کہ سیاحت میں معاشی نظام کوبدلنے کی صلاحیت ہے ۔ انہوں نے کہا،

’’ چھوٹے ممالک میں کئی ایسی معیشتیں ہیں جو کامیابی کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں اور اس کامیابی کا کریڈٹ صرف ان کے توسیعی سیاحتی نظام کو دیا جا سکتا ہے ۔‘‘

مزید نجی سرمایہ کاروں کو دعوت

محکمۂ سیاحت کے سیکرٹری ’پردیپ كھرولا ‘نے اس موقع پر موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے میں موثر سرمایہ کاری کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ کرناٹک ریاست میں سیاحت کی توسیع و ترقی کو یقینی بنایا جائے ۔

حکومت اِس شعبےکی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے کئی قسم کے اقدامات کر رہی ہے ۔ اِس موقع پر کرناٹک ٹورزم کے صدر ’موہن داس پائی‘ کا کہنا تھا کہ وہ لوگ آنے والے وقت میں 19 ہزار کروڑ روپے کی آمدنی اور 80 ہزار سے 90 ہزاركروڑ روپے کی سرمایہ کاری پراپنی توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

اِس کے علاوہ اگر ہوٹلوں کے کمروں پر توجہ دی جائے تو فی الوقت موجودہ 20 ہزار کمروں کی تعداد میں اضافہ کرکے ریاست اِسے 1 لاکھ کمروں تک بڑھانے پر زور دے رہی ہے ۔

اِس کے علاوہ ریاستی حکومت پورے ساحلی علاقے کی تشہیر کرنے کے علاوہ سیاحت کے لئے سب سے زیادہ سازگار علاقوں کی بھی تلاش اور نشاندہی کر رہی ہے ۔ اُن کی نظر ایسے منصوبوں پرہے جن میں 55 كروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔

پردیپ كا کہنا تھا کہ حکومت جلد ہی زمین کی’ لیز‘ سے متعلق ہدایات پر مبنی نئی سیاحتی پالیسیوں کا خاکہ بھی پیش کرنے والی ہے۔

پردیپ مزید کہتے ہیں، ’’ ہمارے پاس 6،3464 ایکڑ زمین موجود ہے جس کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ یہ زمینیں ایک شفاف نیلامی ٹینڈر طریقۂ کار کے ذریعے 60 سال کی طویل مدّت کے لئے’ لیز‘ پر دستیاب ہیں ۔‘‘

ایک آرام دہ سفر کی پیش کش

’ایف ڈی سی آئی‘ کے ڈائریکٹر جنرل’ راٹھی جھا ‘نے کہا،

’’ میَں خود ایک انتہائی شوقین سیاّح ہوں اور میَں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر محسوس کیا ہے کہ بِنا رُکاوٹ اور براہِ راست سفر کے خوشگوار تجربے کے لئےیہ یقینی ہونا چاہئیے کہ ہر لمحے کی تفصیلات کا خیال رکھا جائے ۔‘‘

عوامی اور نجی شراکت داری کی کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے واقعی ایسا کر دکھایا ہے ۔’ جیٹ ایئر ویز‘ اور ریاستی ٹورزم ڈیولپمنٹ کے ذریعے ’بروسیلز کنیکٹی وِٹی ہب‘ کی تشکیل اِس کی زندہ مثال ہے ۔

یہ ان کی باہمی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ مسافر براہِ راست’ برو سیلز‘ سے پرواز کرکے بنگلورو تک کا سفر کر سکتے ہیں۔ خاص طورسے ایسے موقع پر جب کہ وہ گولڈن چیرئیٹ ٹرین (Golden Chariot train) میں سفر کرنے پر غور کر رہے ہوں۔

ایسے ہی بِنا رُکاوٹ اور آرام دہ سفر کی ایک اور جیتی جاگتی مثال’ كےایس آر ٹی سی‘ اور’ بی آئی اے ایل‘ کے مشترکہ تعاون سے ’فلائی بس‘کی تشکیل و تخلیق ہے۔

’ بی آئی اے ایل کے صدر ’ہری مرار ‘نے بتایا کہ ’فلائی بس‘ مسافروں کو ایک براہِ راست اور آرام دہ سفر کا متبادل پیش کرتی ہے۔ اس کی ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی مسافر دہلی سے میسور یا منگلور کا سفر کر رہا ہے تو اسے براہ ِراست بورڈنگ پاس ملتا ہے ۔ ایسے میں ایک بار بنگلورو میں قدم رکھتے ہی انہیں براہِ راست بس تک لے جایا جاتا ہے جہاں سے انہیں اُن کی منزل تک پہنچا دیا جاتا ہے۔

’يوراسٹوی ‘کاماخذ

حکومت بِنا رُکاوٹ اور براہِ راست سفر اور سیاحت کے شوقین مسافروں کو تحفظ سے متعلق تربیت دینے، نیز بنیادی ڈھانچے کی توسیع کو یقینی بنانے کا کام کر رہی ہے ۔ ایک طرف جہاں اِس شعبےسے تعلق رکھنے والےعوامی اور نجی دونوں ہی پارٹنر انتہائی پُرجوش ہیں ، وہیں وہ سب اِس بات پر بھی متفق ہیں کہ سیاحت کے میدان میں توسیع اور ترقی دیکھنے کے لئے ابھی ایک طویل راستہ طے کرنا باقی ہے۔

قلمکار : سِندھو کشیپ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Sindhu Kashyap

Translation by : Anwar Mirza

Related Stories