چھوٹی سی ہوٹل سے شروعات نے بنایا عظیم گروپ”شاہ غوث ہوٹلس“

0

حیدرآبادی حلیم اور بریانی کےلیے مسلسل ایوارڈس حاصل کرنے والی شاہ غوث ہوٹل

ہوٹلوں کو گوشت کی سپلائی سے شروع ہوا تھا کاروبار


بریانی حیدرآباد کی خاش پہچان ہے، ساری دنیا میں اس کے نام پر کھانے کے شوقین لوگ کھنچے چلے آتے ہیں۔ حالانکہ حیدرآباد میں کئی ہوٹلوں میں بریانی دستیاب ہے, لیکن اصل حیدرآبادی بریانی کی تلاش ایک مشکل کام ہے۔ اصلی ذائقے کے دعویداروں میں ایک حیدرآباد میں شاہ غوث ہوٹل بھی ہے۔ حیدرآباد ہی نہیں ریاست اور بیرون ریاست بھی اس کی شہرت ہے۔ اس کی کامیابی کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ شاہ غوث مینجمنٹ کے رکن محمدربانی ہوٹل کے آغاز کے بارے میں بتاتےہیں،”1970ءسے قبل ہمارے والد الحاج محمد معین الدین شہرحیدرآباد اور سکندرآباد کی بڑی ہوٹلوں میں گوشت سپلائی کرنے کا کاروبار کرتے تھے۔ کاروبار کرتے ہوئے 1984ءمیں سب پہلے املی بن، یاقوت پورہ حیدرآباد میں ایرانی چائے کی ایک ہوٹل قائم کی۔ اس چھوٹی سی ہوٹل کا نام شاہ غوث کیفے تھا“۔

کہتے ہیں کہ صحیح سمت میں چھوٹے چھوٹے قدم بھی اٹھاتے جائیں تو ایک دن ضرور کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ شاہ غوث مینجمنٹ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ چندسال بعدالحاج محمد معین الدین کی نگرانی میں 1989ءمیں شاہ علی بنڈہ پر شاہ غوث ہوٹل کے نام سے ایک ہوٹل قائم کی گئی۔اس ہوٹل کے مینجمنٹ میں ان کے فرزندان الحاج محمد غوث پاشاہ ، محمد جہانگیر، محمد ربانی، محمد حقانی اور الحاج محمد عرفان شامل تھے۔ اس ہوٹل نے شروعات سے ہی لوگوں کا دل جیت لیا۔ یہاں کی حلیم اور بریانی کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ نئے شہر کے لوگ یہاں کثرت سے آنے لگے۔

آج کے اس ملاوٹی دور میں کوالٹی مینٹین کرنا بہت مشکل ہے۔ جب اس تعلق سے محمدربانی سے پوچھاگیا تو انھوں نے بتایا ، "ہم لوگ کوالٹی کے معاملہ میں کافی سنجیدہ ہیں۔ جس طرح ہمارے گاہک ہم پر بھروسہ کرتے ہیں اور ہمارے ذائقہ کو پسند کرتے ہیں اسی طرح ہم بھی بہترین خدمات کو یقینی بنانے کے لءے اچھے اور بھروسہ مند دکانوں سے سامان خریدتے ہیں۔ ہم ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ ملاوٹی اجزاء غلطی سے بھی نہ شامل ہوجائیں۔ خاص طور پر رمضان المبارک کے سیزن میں ہمیں مانگ کے مطابق مال سپلاءی کرنا ہوتاہے۔ ہم حلیم اور بریانی کے لئے اچھی کوالٹی کا گوشت وغیرہ حاصل کرتے ہیں۔

مسابقت کے دور میں کم قیمت میں کوالٹی مینٹین کرنا ایک اہم کام ہوتی ہے۔ شاہ غوث مینجمنٹ کا ماننا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی کوالٹی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انھوں نے ہمیشہ کوشش کی کہ اچھی سے اچھی خدمات پیش کی جائیں۔ اسی کا ثمر ہے کہ شاہ غوث ہوٹلس کامیابی کے ریکارڈ بنارہے ہیں۔ شائقین کی پسند کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ ہوٹل اپنی تمام تر وسعت کے باوجود تنگ دامنی کا شکوہ کررہی تھی۔ محمدربانی بتاتے ہیں،” پارکنگ کی جگہ ناکافی ہونے لگی۔ ٹولی چوکی وغیرہ سے بریانی اور حلیم کو پسند کرنے والے بڑی تعداد میں آنے لگے۔ ان لوگوں کا اصرار تھا کہ ٹولی چوکی پر بھی اس کی ایک برانچ قائم کی جائے۔ شاہ غوث مینجمنٹ نے کافی غوروخوض کے بعد 2009ءمیں سالارجنگ کالونی ٹولی چوکی میں شاہ غوث کیفے اینڈ ریسٹورنٹ کے نام سے ایک ہوٹل قائم کی۔ یہاں پر پارکنگ کے لئے کافی جگہ ہونے کے باوجودحلیم کے شائقین کے لیے رمضان میں ناکافی ہوجاتی ہے“۔

ٹولی چوکی میں برانچ کے قائم ہونے کے بعد شاہ غوث مینجمنٹ نے اپنی خدمت کو وسعت دینے کی ٹھانی۔ بقول محمدربانی ” ہائی ٹیک سٹی کے ملازمین بڑی تعداد میں ٹولی چوکی آنے لگے۔ پریشانی یہ تھی کہ انھیں 30 منٹ کا لنچ بریک ملتا تھا اس میں انھیں کھانا کھاکر واپس جانا پڑتا تھا۔ ان ملازمین نے مینجمنٹ سے درخواست کی کہ وہ گچی باﺅلی میں بھی برانچ قائم کریں۔ دیر رات کوہائی ٹیک سٹی کے ملازمین کو آنے جانے کی سہولت بھی نہیں تھی۔ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے 2 سال تک مسلسل کام کرتے ہوئے ایک کشادہ ہوٹل گچی باﺅلی میں بھی تعمیر کی گئی۔ 2014 اور 2015کے رمضان میں یہاں پر بڑے پیمانے پر بزنس ہوا۔ یہاں کے لوگوں اس سہولت سے کافی خوش ہوئے“۔

یہ ایک عالیشان ہوٹل ہے۔3 ڈائننگ ہال، ایک بینکویٹ ہال، بیکری، وغیرہ پر مشتمل اس عظیم تین منزلہ عمارت کے سامنے پارکنگ کی وسیع سہولت بھی فراہم کی گئی۔

شاہ غوث ہوٹل نے اپنی خدمات کے صلہ میں کئی ایوارڈس بھی حاصل کئے ہیں۔mouthshut.comکی جانب سے 2014-15ءکے لیے بیسٹ بریانی ایوارڈ دیا گیا۔ لگاتار 5 سال سے ہائی ٹیکس میں ٹائمز آف انڈیا کی جانب سے بیسٹ بریانی ایوارڈ حاصل ہورہاہے۔ TV9 کی جانب سے 2010ءمیں ایوارڈ حاصل ہوا۔ TV5 کی جانب سے 2011ءمیں بیسٹ بریانی ایوارڈ ملا۔ شلپارمم میں GHMCکی جانب سے بیسٹ حلیم ایوارڈ 2014ءمیں حاصل ہوا۔ بہترین بریانی کےلیے ہائی ٹیکس حیدرآباد تلنگانہ میں 9 نومبر 2014کو منعقدہ تقریب میں EPICURS Indian Hospitality Awards 2014ایوارڈ دیا گیا۔ Justdial.comپر شاہ غوث ہوٹل کو بہت پسند کیاجاتاہے۔ شاہ علی بنڈہ کی ہوٹل کو یہاں Excellent درجہ حاصل ہوا ہے۔شائقین کی ریٹینگ 48.5 فیصد رہی۔ ٹولی چوکی ہوٹل کو یہاں Excellent درجہ حاصل ہوا ہے۔شائقین کی ریٹینگ 42.9 فیصد رہی۔ تقریباًایک ہزار لوگوں نے صرف Justdial.com پر بریانی اور حلیم کی تعریف کی ہے۔

یوراسٹوری کے قارئین کےلیے چند شائقین کی رائے پیش کی جارہے ہےں۔ سرینواس ریڈی نے لکھا ”یہاں کی بریانی بہت لذیز ہے۔ اس شاندار بریانی کے لئے زیادہ قیمت بھی نہیں ہے۔ ہربریانی کے چاہنے والے کو یہاں ضرورآنا چاہئے“۔

کے وینکٹ رامنا ریڈی نے لکھا ”حیدرآباد کی بیسٹ بریانی کھانے کے لئے یہاں آنا چاہئے۔ سپلائی کو مزید موثر بناناچاہئے لیکن یہاں کی بریانی لاجواب ہے“۔

ہریش ریڈی نے رمضان میں انٹرنیٹ پر لکھا ”حلیم اور بریانی کے لئے یہ ایک بہت اچھا نام ہے لیکن یہاں پر ہر وقت بھیڑ جمع رہتی ہے اور ہمیں کافی انتظار کرناپڑتاہے“۔

یہاں پر کئی وی آئی پی لوگ آتے ہیں۔ خاص طور پر کھیل کی دنیا کے جانے مانے نام شلٹرسائنا نہوال اور شوٹر گنگ نارنگ یہاں کے فوڈ لور ہیں۔ وہ اکثر یہاں کی حلیم اوربریانی کھانے کے لئے آتے ہیں۔

شاہ غوث ہوٹلس ان لوگوں کے لئے مثال ہے جو زندگی میں کچھ کرنا چاہتے ہیں اوراپنی بہترین خدمات کے ذریعے سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں ۔