... پھربچوں میں کتابیں پڑھنے کا ماحول بنا رہا ہے 'بکارو'

0


کیا آپنے کبھی بچوں کے لئے ادبی جشن کے بارے میں سنا ہے۔ ہاں اس ٹیکنالوجی کے دور میں آج بھی کچھ بچے ہیں جو کتابیں بڑھتے ہیں۔ اور 'بکارو' بچوں میں کتابیں پڑھنے کی تہذیب کو بڑھاوا دے رہا ہے۔

جو ولیمس، وینکٹیش اور سواتی رائے
جو ولیمس، وینکٹیش اور سواتی رائے

کئی اداروں میں بروسوں کا تجربہ رکھنے والے ایک صحافی ایم وینکٹیش اور ایک مارکیٹینگ پروفیشنل سواتی نے 2003 میں دہلی میں بچوں کے لئے 'یوریکا' بک اسٹور شروع کیا تھا۔ دیکھتے دیکھتے ان کا یہ کام لوگوں کو کافی پسند آنے لگا اور اس چھوٹے سے بک اسٹور پربچو کی کتابوں کے لئے بھیڑ جمع ہونے لگی۔ اور اسی سے آگے چل کر بچوں کے لئے ادبی جشن بکارو کی بنیاد پڑی۔

پانچ سال بعد اسٹور کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے دونوں نے فیصلہ کیا کہ اس کتابوں کے اسٹور کو توسیع دی جائے۔ 2008 میں اس تجارت میں ان کے ساتھ جو ولیمس بھی جڑ گئے جو اس وقت 63 سال کے ہیں۔ اس ٹیم نے ہندوستان کا پہلا بچوں کا ادبی جشن منایا ۔ 52 سالہ ونکٹیش بتاتے ہیں۔'ہمارا مقصد ہے کہ کتابوں ،بچوں، ادیبوں، قلمکاروں اور کتابوں سے محبت رکھنے والوں کے لئے ایک جشن نماء ماحول مہیا کریں۔'

وینکٹیش کے مطابق بچوں کے جشن ادب میں انہوں نے کئی مقررین کو دعوت دی، مختلف اقسام کی سرگرمیاں منعقد کیں۔ مختلف مضوعات پر ورکشاب منعقد کئے۔ برگد کے درخت کے نیچے مباحثے کئے گئے، کہانیاں سنانے کے سیشن رکھے گئے۔

گڈوں کی نمائش بھی کی گئی۔ اس جشن کے ذریعہ بچوں کو قلمکاروں ادیبوں اور کہانیاں سنانے والوں سے ملاقات کا موقع ملا۔ اور دوسری طرف ادیب حضرات بھی ان سے پیار کرنے والے بچوں سے مل سکے۔ بچے کامکس سے ان کرداروں سے بھی مل سکے جن کو وہ بہت پسند کرتے تحھے۔ دہلی میں 4 سے 16 سال کے اور دوسرے شہروں میں 12 سال تک کے بچوں کو ذہن میں رکھ کر جشن منعقد کئے گئے۔

اب تک اس طرح کے 8 جشن کا انعقاد کیا گیا ہے۔ یہ جشن دہلی، شرينگر، پونے، جے پور، احمدآباد، گوا اور سنگاپور کے کوچنگ میں منعقد کئے گئے۔ اس سال نویں جشن کا انعقاد آئندہ 26 اور 27 نومبر کو کیا جائے گا۔

وینکٹیش نے بتایا کہ 'بكارو' پہلے مختلف طرح کے پروگرام منعقد کرتا ہے اور پھر سب سے اہم فیسٹیول کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہ پروگرام مختلف اسکولوں میں منعقد کیے جاتے ہیں۔ 2015 میں ان کے جشن میں 100 مقررین نے اور 51 ہزار بچوں نے حصہ لیا تھا۔

وینکٹیش نے بتایا کہ ان پروگراموں کو منعقد کرنے میں خرچ کیلئے روپیہ جمع کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس سے اسپانسر شپ اور ڈونیشن دو طریقے سے روپے جمع کیے جاتے ہیں، تاکہ بچوں کے لئے شروع کیا گیا کام جاری رہے۔

تحریر-توصیف عالم

ترجمہ - ایف ایم سلیم

.

Related Stories