پڑھےگا انڈیا تو کچھ کرے گا انڈیا

0

ٹيچ فار انڈیا سے جڑ کر بچوں کا مستقبل بنا رہے ہیں انوپ پاریکھ

کتابی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں میں اخلاقی اقدار کی تعلیم بھی دینا ضروری

امریکہ میں اچھی خاصی نوکری چھوڑ ہندوستان کے غریب بچوں کو پڑھانے کا فیصلہ

یہ بات سچ ہے کہ ہر شخص کی سوچ اور سمجھ دوسرے شخص سے مختلف ہوتی ہے۔ بہت سے لوگوں کے لئے کام صرف پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ ہوتا ہے، لیکن کچھ لوگ کام کو صرف کام نہیں سمجھتے بلکہ اپنا فرض اور اپنی ذمہ داری سمجھ کر کرتے ہیں اور اس میں پوری طرح ڈوب جاتے ہیں۔ جو لوگ صرف پیسے کے لئے کام کرتے ہیں انہیں بھلے ہی آغاز میں کامیابی جلدی مل جائے، لیکن وہ زیادہ وقت تک ایک ہی جگہ پر ٹک کر کام نہیں کر سکتے۔ اور جو لوگ ان کے کام کو مشن مان کر پوری شدت سے کرتے ہیں وہ لوگ اپنے کام سے سب کا دل جیت لیتے ہیں۔

ایسے لوگ اپنے آس پاس کے لوگوں کے لئے ہی نہیں بلکہ معاشرے کے لئے بھی مثال پیش کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک شخص کا نام ہے انوپ پاریکھ ۔ ٹيچ فار انڈیا پروگرام سے جڑ کر ممبئی کے گووندی علاقے میں غریب اور جھوپڑ پٹی میں رہنے والے بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔

انوپ امریکہ میں بطورتعلیمی مشیر کے طور پر کام کر رہے تھے، لیکن ایک بار وہ اپنے کچھ دوستوں سے ملے جو کہ ٹيچ فار انڈیا اور ٹيچ فار امریکہ سے جڑے ہوئے تھے، جب انوپ نے ان سے بات کی تو وہ بہت متاثر ہوئے اور ان من میں بھی غریب بچوں کو پڑھانے کی خواہش بیدار ہوئی اور انہوں نے طے کیا کہ وہ بھی اس مشن سے جڈیں گے۔ انہوں نے ہندوستان میں غریب بچوں کے لئے کام کرنے کا من بنایا۔ کیونکہ انوپ کی پرورش ہندوستان میں ہی ہوا تھا تو آپ کے ملک کے لئے کچھ کرنے کا احساس ان کے اندر غالب تھا۔

اس کے بعد انوپ ہندوستان آ گئے اور سن 2010 میں ٹيچ فار انڈیا سے جڑ گئے اور ممبئی میں ہی غریب بچوں کو پڑھانے لگے۔ لیکن راہ آسان نہیں تھی۔ یہاں کئی دقتیں تھیں۔ یہاں کے اسکول منظم نہیں تھے۔ ایسے مقام پر پڑھانا بہت زیادہ مشکل تھا۔ بہت دقتیں تھیں جن کا سامنا روز کرنا پڑ رہا تھا۔ شروع میں کچھ وقت تک تو وہ سمجھ ہی نہیں پا رہے تھے کہ کیا وہ بچوں کو پڑھا پائیں گے؟ لیکن آہستہ آہستہ وہ اس ماحول میں کو سمجھنے لگے۔ انہوں نے بچوں کے ساتھ دوستی کی اور تعلیم کو بہت دلچسپ بنا کر بچوں کے سامنے پیش کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ بچے تعلیم کو خوشی سے حاصل کریں، بوجھ نہ سمجھیں۔ آہستہ آہستہ بچے بھی ان جڑنے لگے اور ایک استاد نہیں بلکہ اپنے بڑے بھائی کی طرح ان کا احترام دینے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ رہا کہ بچوں کا نتیجہ بہت اچھا آیا۔

انوپ بتاتے ہیں کہ وہ بیرون ملک میں کافی پیسہ کما سکتے تھے، لیکن انہیں اتنا ہی پیسہ چاہئے جتنے پیسے سے ان کی ضروریات پوری ہو جائے عیش و آرام والی زندگی سے زیادہ وہ عام زندگی جینے کو اہمیت دیتے ہیں۔ انہیں اس کام سے اطمینان اور سکون ملتا ہے اس ٹيچ فار انڈیا کی رفاقت کے بعد جہاں کچھ لوگ چلے جاتے ہیں لیکن وہ کہیں نہیں گئے اور ٹيچ فار انڈیا سے جڑ کر غریب بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔

انوپ مانتے ہیں، '' ہر بچے میں صلاحیت ہوتی ہے بلکہ غریب بچوں نے تو زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے والدین کس طرح ایک ایک پیسہ کماتے ہیں۔ لیکن کئی بار ٹیلنٹ اور تجربہ ہونے کے باوجود خود کو جلدی غربت سے نکالنے کی کوشش میں بچے غلط راہ بھی پکڑ لیتے ہیں، جو کافی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ "

اور بطور ٹیچر انوپ بچوں کو صحیح رہنمائی دینا اپنا اخلاقی فرض مانتے ہیں۔ غریب بچوں کو ہر پڑاؤ پر پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت نے بھی بچوں کے لئے کئی اسکیمیں بنائی ہیں، لیکن وہ زمین سطح پر کھری نہیں اتر پاتیں اور جو چیزیں آسانی سے ہو سکتی ہیں حکومت ان پر توجہ نہیں دیتی، جو باعث تشویش ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہر کوئی اس جانب توجہ دے۔ انوپ بتاتے ہیں کہ جب وہ بچوں کو پڑھاتے ہیں تو وہ بھی بچوں سے بہت کچھ سیکھ رہے ہیں۔ بچوں کے تجسس بھرے سوالات کا جواب دینے کے لئے ان کو بھی ہمیشہ تیار رہنا ہوتا ہے۔

قلمکار :آشوتوش کھنتوال

مترجم: زلیخا نظیر