ہندوستان میں کاروباریوں کی سب سے بڑی کانفرنس - 'ٹیكسپاركس 2016' کا آغاز

صرف فنڈنگ اسٹارٹپ کی طاقت کی پیمائش کا  پیمانہ نہیں ہے: احترام شرما

0

ہندوستان میں کاروباریوں کی سب سے بڑی کانفرنس - 'ٹیكسپاركس 2016' شروع ہو گئی ہے۔ بنگلور میں دو دن تک چلنے والی اس کانفرنس میں ملک اور بیرون ملک کے کئی کاروباری حصہ لے رہے ہیں۔ اس پروگرام کا آغاز يورسٹوری کی بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر شردھا شرما نے کیا۔ اپنے افتتاحی خطاب میں شرادھا شرما نے بتایا کہ تقریبا چھ سال پہلے انہوں نے 'ٹیكسپارس کی شروع کی تھی، تب سے یہ کانفرنس ہر سال منعقد کی جا رہی ہے۔

'ٹیكسپارك 2016' کا یہ ساتواں سال ہے اور اس موقع پر شردھا شرما نے کہا، "مجھے یاد ہے جب پہلی بار اسے منعقد کیا گیا تھا تو مائیکروسافٹ نے اسے اسپانسر کیا تھا۔ تب لوگوں نے اسے مائیکروسافٹ کا شو بتایا اور یو اسٹوری کا کہیں کوئی نام نہیں تھا ۔۔۔ پھر ایک پروفائل نے مجھ سے کہا تھا، سب کو اسٹیج لینے دے دو گی تو تمہیں اسٹیج نہیں ملے گا۔ "شردھا شرما نے یہ بھی بتایا کہ وہ گزشتہ دنوں ایک بڑی پروفائل سے ملی تھیں اور انہوں نے ان کو اس پروگرام میں حصہ لینے کے لیے کہا تھا، جس کے بعد وہ پہلے ان پر زور سے ہنسے اور اس کے بعد انہوں نے اس پروگرام میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جب بھی شردھا سے بات کرتے ہیں تو وہ کشیدگی میں نظر آتی ہیں۔ اس لئے وہ نہیں آئیں گے۔

یہ قصہ سنانے کے بعد شردھا نے تقریب میں موجود لوگوں سے پوچھا کہ کیا واقعی میں اسٹارٹپ شروع کرنا ایک تناو کا کام ہے۔ جس پر وہاں موجود لوگوں نے ان کو ملی جلی رائے دی۔ شردھا نے کہا کہ کسی بھی اسٹارٹپ کو شروع کرنا مشکل ہوتا ہے، لیکن گزشتہ چند سالوں کے دوران کسی بھی ابتدائیہ کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ کس ابتدائیہ کو کتنی فنڈنگ ملی؟ کس نے اس ابتدائیہ کو فنڈنگ کی؟ اس کے علاوہ ابتدائیہ کی دنیا میں اس بات پر زیادہ بحث ہوتی ہے کہ کون کہاں پر کتنا سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی بار فنڈگ کے ذریعے ہی لوگ اس بات کا اندازہ لگاتے ہیں کہ کون سا ابتدائیہ دوسرے سے بہت بہتر ہے۔ شردھا شرما نے کہا رٹاسٹ آج اسٹار ٹپ کی دنیا الگ الگ حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ ایک وہ ہے جن کو فنڈنگ ملتی ہے اور دوسری وہ جن کو فنڈنگ نہیں ملتی۔ اس علاقے میں فنڈنگ حاصل کرنا کافی مشکل کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال صرف 0.10 فیصد کمپنیوں کو ہی فنڈنگ مل پاتی ہے۔

شردھاشرما نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ابتدائیہ کی ترقی کو نظر اندازکرنے کیلئے فنڈنگ ہی کوئی پیمانہ نہیں ہوتا۔ اس کیلئے کئی دوسری چیزوں کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام لوگ فنڈنگ کے علاوہ دوسری چیزوں پر بھی غور کریں گے، توجہ دیں گے۔ اپنے جدوجہد کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے شردھا شرما نے کہا کہ اديمشلتا کے میدان میں بہت سے لوگوں کا ساتھ ہوتا ہے اور کئی بار آپ کو اکیلے بھی چلنا پڑتا اور اکیلے جدوجہد کرنا ہوتا ہے۔ اس موقع پر 'ٹیكسپاركس 2016' میں حصہ لے رہے تاجروں کے مستقبل کو لے کر خواہشات دی ساتھ ہی وہاں موجود کرناٹک کے معلومات عامہ اور ٹیکنالوجی کے وزیر پريك كھرگے کا خیر مقدم کیا اور ان کی تقریر کا اختتام یہ شعر سنا کر کیا۔

"خوف مجھے بھی لگا فاصلہ دیکھ کر، پر میں بڑھتا گیا راستہ دیکھ کر

خود بہ خود میرے نزدیک آ گئی میری منزل، میرا حوصلہ دیکھ کر۔ "

شردھاشرما نے مطابق، یہ صفیں کئی معنوں میں بطور کاروباری ان کی اب تک کی کہانی کہتی ہیں۔

Related Stories