لاکھوں بم ڈفیوز کرنے والے پولیس افسر  اوکّلم رام موہن

پولیس افسر کو ہیرو بنا کر بہت سی کہانیاں لکھی گئی ہیں اور بہت سی فلمیں بنی ہیں، لیکن حقیقت میں پولیس محکمہ کو ہیرو کبھی کبھار ہی ملتے ہیں۔ ایسے ہی ایک ہیرو ان دنوں تلنگانہ پولیس میں ہیں، جنہوں نے اب تک لاکھوں بموں کو ناکام بنایا ہے۔ ریاست کی پولیس میں رہتے ہوئے بھی انہیں ملک بھر کی ریاستی اور اور مرکزی پولیس کی طرف سے نازک موقعوں پر بلایا جاتا ہے۔ وہ سائبر مجرموں کے لئے براہ راست نشانے پر لگنے والا تیر مانے جاتے ہیں۔ اس ہیرو کا نام یو۔ رام موہن ہے، جو ان دنوں تلنگانہ کی سی آئی ڈی پولیس کے ایس پی ہیں۔ لوگ ٹیلی ویژن پر سیریلز میں سی آئی ڈی کی کہانیاں دیکھتے ہیں، لیکن رام موہن کی زندگی میں ان سیریلز سے زیادہ دلچسپ سچی کہانیاں ہیں۔ 

0

كرنول شہر میں ایک پولیس افسر کے گھر میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے رام موہن کے دماغ میں اپنے والد کا مثالی کردار تھا۔ اسکول اور کالج کے زمانے میں این سی سی میں ان کی دلچسپی اور محنت کی وجہ سے یوم آزادی کی قومی پریڈ کی قیادت کرنے کا انہیں موقع ملا۔ ایس وی یونیورسٹی تروپتی سے انہوں نے سائنس سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اس وقت آندھرا پردیش پولس میں وہ سب انسپکٹر کے طور پر شامل ہوئے اور بہت جلد بم ڈپھيوز کرنے والے ملک کے پہلے افسر اور سائبر جرائم کی جڑوں تک پہنچنے والے ماہر کے طور پر سامنے آئے۔ اقوام متحدہ کی مختلف ٹیموں کے علاوہ ایف بی آئی اور انٹرپول کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہوں نے کئی چیزیں سيكھيں اور بہت سی چیزوں کو سکھانے کا کریڈٹ ان کو حاصل ہوا۔ اقوام متحدہ اٹنرنیشنل پولیس نے انہیں دو میڈل پیش کئے۔ نیشنل پولیس اکیڈمی اور سی بی آئی اکیڈمی کے ساتھ ساتھ کئی تربیتی اکادمیوں کے مہمان فیکلٹی میں ان کی موجودگی کافی اہم مانی جاتی ہے۔ پولیس میں كلوز ٹیموں کے قیام میں ان کی دروہ کردار رہا ہے۔ سائبر جرائم اور قانون پر ان کے بہت سے مضامین قومی اور بین الاقوامی تحقیق میگزین میں شائع ہوئے ہیں۔

رام موہن بتاتے ہیں، '' والد پولیس میں تھے۔ اس لیے ان کی شخصیت کا اثر پڑنا لازمی تھا۔ اسکول کی تعلیم مختلف میونسپل اسکولوں میں ہوئی۔ 5 ویں کلاس تک كرنول میں گھر کے قریب واقع میونسپل اسکول میں تعلیم حاصل کی، لیکن چھٹے اور ساتویں کلاس میں وہاں سے کچھ فاصلے پر واقع ایک اسکول میں امریکی پائلٹ پرجوكٹ شروع ہوا، جس کے لئے دوسرے اسکول میں میں نے داخلہ لیا۔ یہ اسکول گھر سے 8 کلو میٹر دور تھا۔ اس لئے سائیکل پر جانا پڑتا تھا۔ وہاں سے دو سال کے بعد ٹاؤن ماڈل اسکول میں میرا داخلہ ہوا۔ والد صاحب کا تبادلہ منگلگری میں ہو گیا تھا، جہاں 9 ویں اور 10 ویں کی تعلیم مکمل ہوئی۔ انٹر، ڈگری کے دوران این سی سی، میراتھن، باسكیٹبال جیسی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور والد صاحب کا کردار دماغ میں ہونے کی وجہ سے طے تھا کہ میں بھی پولیس میں ہی جاؤں گا۔ ملنے جلنے والے بھی یہی سمجھتے تھے کہ میں پولیس میں ہی جاؤں گا۔ 1985 میں میں پولیس میں بھرتی ہوکر ٹریننگ کے لئے حیدرآباد چلا آیا۔''

بموں کو ناکارہ بنانے کی شروعات کے بارے میں ریاست میں ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں ان کی منفرد شناخت ہے۔ 1987 کی بات ہے کہ اس وقت بم ڈپھيوز کرنے کے لئے پولیس میں کوئی تربیت حاصل کردہ افسر نہیں تھا۔ ہندستانی حکومت کے ایسپلوزیو کنٹرول محکمہ نے ایک کورس شروع کیا۔ رام موہن کو حکومت نے اس تربیت کے لئے بھیجا۔ وہاں سے واپس آنے کے بعد ان کی پوسٹینگ فورینسک لیب شعبہ میں مقرر کی گئی، جہاں وہ سال 1998 تک رہے۔ بم رکھے جانے یا دھماکے ہونے کے بعد ملک کے چاہے کسی کونے سے خبر آئے، وہاں جانا اور ضرورت کے مطابق کام کرنا ان کی ذمہ داری تھی۔ جس کا سلسلہ کم و بیش آج بھی جاری ہے۔ بم ڈپھيوز کرنے کا مطلب تھا، ہر وقت جان ہتھیلی پر لئے پھرنا۔ کیا ان کےگھر والوں نے کبھی مخالفت اس کی نہیں کی؟

اس سوال کے جوب میں رام موہن بتاتے ہیں، ''میرے ڈیل ڈول سے گھر والوں کو ایسا لگتا تھا کہ میں کسی کی سننے والا نہیں ہوں۔ جہاں تک خاندان کی بات ہے، تو اس وقت میری شادی نہیں ہوا تھی۔ والد پولیس میں تھے، اس لئے انہوں نے کسی قسم کی مخالفت نہیں کی۔ اتفاق یہ رہا کہ جس سے شادی ہوئی، ان کے خاندان کا تعلق بھی مرکزی حکومت کے آبکاری محکمہ سے رہا۔ انہیں بھی میرے دھماکہ مواد کے ماہر ہونے پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔''

گنٹور ضلع میں پہلی بارنے بم ڈپھيوز کرنے کے بارے میں رام موہن بتاتے ہیں کہ میڈلاچیروو میں کچھ لوگ بم بنا رہے تھے۔ اس دوران بم پھٹنے کی وجہ سے کچھ لوگ مارے گئے۔ اس کے علاوہ کئی ایسے بم تھے، جو کبھی بھی پھٹ سکتے تھے۔ ان سب کو ڈپھيوذ کرنے کا کام انہوں نے پہلی بار کیا۔ اس واقعہ کے کچھ دن بعد بابری مسجد انہدام کا واقعہ پیش آیا۔ پھر دہشت گردی کی واقعات بڑھتے گئے۔ اب تک انہوں نے 4 لاکھ بم ڈپھيوز کئے ہیں۔ ایف ایس ایل میں کام کرتے ہوئے انہوںے پایا کہ پولیس کے پاس جائے حادثہ کی صحیح تحقیقات کرنے اور كلوز حاصل کرنے کے لئے تربیت یافتہ ٹیمیں نہیں ہیں۔ پھر انہون نے ٹیمیں بنائیں تاکہ دھماکے کے رجحان جاننے اور جائے حادثہ پر چوکسی سے کام کرنے میں مدد مل سکے۔ بعد میں ہر ضلع میں ایک ٹیم بنائی گئی۔ آج حیدرآباد میں 17 اور سائبرآباد میں 5 كلوز ٹیمیں ہیں۔

کیا انہِیں کبھی ایسا نہیں لگا کہ اس کام میں جان کا خطرہ بنا رہتا ہے؟ اس سوال کے جوب میں وہ کہتے ہیں، '' جان تو بم سے بھی جا سکتی ہے اور بم کے بغیر بھی۔ جان کہیں بھی جا سکتی ہے۔ پھر بم کے پھٹنے کے خوف سے اگر میں اسے ناکارہ بنانے کا ارادہ چھوڑ دوں تو کسی اور کی جان جا سکتی ہے۔ مرنا تو سب کو ہے۔ پھر مرنے کے خوف سے کام روکا کیسے جا سکتا ہے۔ مرنے کے لئے 1 گرام دھماکہ خیز مواد ہی کافی ہے۔ میں نے کئی بار کلو کی مقدار میں مواد کو دھماکے ہونے سے پہلے ناکارہ بنایا ہے۔

دھماکہ خیز مواد اور ان کے استعمال کے اقسام کے بارے میں رام موہن بتاتے ہیں کہ بنیادی طور پرو تین طرح کے لوگ مختلف مواد کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مقاصد بھی الگ الگ ہوتے ہیں۔ فیكشنسٹ گروہی تصادم میں ہتھگولوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کا مقصد خود کو بچانے کے لئے ٹارگٹ کو مارنا ہوتا ہے۔ دوسرے ایكسٹريمسٹ (انتہا پسند) ہوتے ہیں۔ یہ لینڈ مائنس کا استعمال کرتے ہیں اور ان کا ہدف پکا ہوتا ہے۔ تیسرے دہشت گرد ہیں، جن کا کوئی پکا مقصد نہیں ہوتا، جہاں چاہے وہاں دھماکے کرکے وہ لوگوں میں خوف پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ ان کے استعمال میں آئی تبدیلیں کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ پہلے جب دھماکے ہوتے تھے، تو طریقے اور مقصد دونوں کا پتہ چلتا تھا۔ دھماکے کرنے والے بہت سارے كلوز چھوڑ جاتے تھے، لیکن اب کہیں کہیں تو ایک بھی كلو نہیں ملتا۔ اس کے باوجود دیر سویر ہی سہی مجرم گرفت میں آ ہی جاتے ہیں۔ بہت ہی کم کیس ہیں جو پولیس کی پہنچ میں نہیں آتے۔ ایسا نہیں ہے کہ پولیس کی نااہلی کی وجہ سے مجرم چھوٹ جاتے ہیں، بلکہ کئی بار قانون کا سہارا لے کر بھی وہ بچ جاتے ہیں۔ بہت ناممکن سمجھے جانے والے معاملے بھی حل ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ دوسرے ممالک میں بھاگ کر بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے اب مجرموں کو پکڑنا آسان ہو رہا ہے۔ ڈی این اے کی پروفائل بھی کافی معاون ثابت ہو رہی ہے۔

'' ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ پولیس کی جانچ پڑتال کے دوران میڈیا کی منفی اور غیر دانشمندانہ کردار کی وجہ سے مجرموں کو محتاط ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ واقعات کی رپورٹنگ وضاحتی ہو جانے کی وجہ سے مجرموں کو پولس کے طور طریقے آسانی سے معلوم ہو جاتے ہیں۔ بہت سے واقعات میں مجرموں نے میڈیا کی رپورٹوں سے ہی جرم کی تحریک حاصل کی ہے۔ میڈیا کو ہر وقت کچھ نہ کچھ چاہئے، لیکن متحدہ اور مفاد عامہ والے معاملات میں کچھ احتیاطی ضابطہ خود ہی اپنانے کی ضرورت ہے۔

بزرگ کہا کرتے تھے کہ پڑھ لکھ کر آدمی اچھا بن جاتا ہے، لیکن اب تو پڑھے لکھے لوگ ہی جرم کرنے لگے ہیں۔ سائبر کرائم سے کے لئے سب سے پہلی شرط پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے۔ اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے رام موہن اوکّلم بتاتے ہیں،

''سائبر کرائم ایسا میدان ہے، جہاں سے اچھا آدمی بھی منفی طور پر متاثر ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ یہ سب کچھ چھپ کر کر رہا ہے، اسے کوئی نہیں دیکھ رہا۔ کسی کو پتہ نہیں چلے گا، لیکن میں ایسے لوگوں سے کہنا چاہوں گا کہ انہیں پولیس تلاش کر رہی ہے۔ آج پولیس ٹیکنالوجی سے اتنی لیس ہے کہ کوئی بھی اس سے چھپ نہیں سکتا، چاہے جتنا چھپ کر وہ جرم کرے۔ جرائم پیشہ افراد کا پتہ لگانے کے لئے پولیس کے پاس ہر طرح کا نظام ہے، ۔ جب ہم نے سائبر مجرموں کو پکڑا تو کئی مجرموں نے حیرت سے پوچھا کہ ہم نے تو کوئی كلو نہیں چھوڑا، ہمارا کس طرح پتہ چلا گیا۔...دراصل کمپیوٹر اور انٹرنٹ ٹیکنالوجی کو دو طرح سے دیکھا جا سکتا ہے۔ مجرم ایسا سمجھتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اس کے کام کرنے میں تعاون کر رہی ہے، لیکن کل اس کے بارے میں یہی سب کو بتا دے گی۔ جہاں تک پڑھے لکھے ہو کر جرم نہ کرنے کی بزرگوں کی رائے ہے، تو وہ صحیح ہے، لیکن یہ کردار کو لے کر ہے۔ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ تعلیم اچھے کردار کی تعمیر کرتی ہے، لیکن آج تعلیم میں سے کردار کی تعمیر دھندلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو جتنا زیادہ ہوشیار ہے، اس کے برائی کے نذدیک آنے کے امکانات اتنے ہی زیادہ رہتے ہیں۔ جو لوگ انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہیں، ان کو محتاط رہنا چاہئے کہ کہیں دوسرا کوئی ان کا کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا غلط استعمال نہ کرے۔

رام موہن اوکّلم نے سائبر ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی ایک ماں باپ کے اکلوتے بیٹے کا 8 سال کی بات پتہ لگایا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ضد میں گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ بعد میں اس کا کوئی پتہ نہیں چل پایا۔ بہت سارے جتن کرنے کے بعد بھی اس کو تلاش نہیں کیا جا سکا۔ ایک دن وہ میرے پاس آئے۔ انہوں نے بتایا کہ بیٹے نے کمپیوٹر دلانے کی ضد کی اور نہیں دلانے پر گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ یہ سال 2004 کی بات ہے۔ بچہ اس وقت 14 سال کا تھا۔ آٹھ سال میں تو بچے میں کافی کچھ تبدیلیاں آجاتی ہیں۔ میں نے کوشش کی۔ اسکے کمپیوٹر شوق کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کر انٹرنیٹ کی ویب سائٹ پر اس کے دماغ کے حساب سو کچھ پروگرامنگ کی اور پھر اس پروگرامنگ پر کیرالہ سے کچھ کلک آئے۔ یہ وہی لڑکا تھا، جو لاپتہ ہو گیا تھا۔ یہاں سے جانے کے بعد وہ کیرالہ پولیس کے ہاتھ لگا، جس نے اسے مقامی سوشل ویلفیئر اسکول میں داخل کرایا۔ کچھ دن بعد ایک مقامی امیرخاندان نے اسے گود لے لیا۔ پتہ چلنے پر اس کے ماں باپ اس سے ملے۔ آج وہ انجینئرنگ کر رہا ہے اور دونوں خاندانوں کے ساتھ ہے۔ اسی طرح کا ایک اور واقعہ ہے۔ ایک ہندوستانی امریکہ میں رہنے والے ہندوستانی خاندان کا قتل کر ہندوستان چلا آیا۔ تقریبا 7 سال کے بعد اس کا پتہ لگا کر اسے امریکی پولیس کے حوالے کیا گیا۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories