مجنوؤں کو سبق سکھانےآگئی ہے’ریڈبریگیڈ‘، بچوں کو سکھاتی ہے ’گڈٹچ،بیڈٹچ‘میں فرق

0

’ریڈبریگیڈ‘ کی ٹیم میں 30 اراکین...

لکھنؤ اور بنارس میں ’ریڈبریگیڈ‘ ...

34ہزارلڑکیوں کو دے چکی ہے سیلف ڈیفنس کی ٹریننگ...

بچوں کو سکھاتی ہے ’گڈٹچ،بیڈٹچ‘میں فرق...

ایک لڑکی جوکسی کو اپنا سب سے اچھادوست سمجھتی تھی،اسی نے اس پر جنسی حملہ کیا۔ جنسی تشدد کی شکار اس لڑکی کی زندگی کاایک سال اس خوف اور صدمے سے نکلنے میں خراب ہوگیا۔ لیکن اسی وقت پیداہواایک جرأ ت مندانہ اور معاشرے کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ۔ اسی جذبے کے ساتھ سامنے آیااوشاوشوکرماکانیاروپ۔ ایک ایسی لڑکی کا نیاروپ جو دنیابھر کی دوسری لڑکیوں کو اچھےاوربرےمیں فرق بتاتی اورمجنوؤں سے لڑنے کی طاقت دیتی ہے۔ اوشاآج دوسری لڑکیوں میں ہمت پیداکررہی ہے ،ان کی سوچ کو اس لائق بنارہی ہے کہ وہ بری نظر رکھنے والے یامنچلوں کے ساتھ ضرورت پڑنے پر دودوہاتھ کرکے سبق سکھاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ لکھنؤ اور بنارس جیسے شہروں میں اوشاوشوکرماکی ’ریڈ بریگیڈ‘ کو دیکھتے ہی جو منچلے سڑکوں پر بے خوف گھومتے اور چھیڑخانی کرتے تھے وہ اب اپنے گھروں میں دبک جاتے ہیں۔یہ ریڈ بریگیڈ کا ہی کارنامہ ہے کہ وہ گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران تقریباً 34ہزار لڑکیوں کو سیلف ڈیفنس کی ٹریننگ دے چکی ہے۔

اوشاوشوکرماپیداتوہوئی تھیں یوپی کے بستی میں لیکن ان کی تعلیم لکھنؤ میں ہوئی۔ ان کا کنبہ بیحد غریب تھااس لئے انٹر تک کی پڑھائی بغیر کتابوں کے کرنی پڑی،کیوں کہ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ کتابیں خریدسکیں۔ اس کے بعد انھوں نے جھگی جھونپڑی کے بچوں کو بھی پڑھانے کاکام کیا،کیوں کہ ان کے دل میں ان کے لئے خاص جگہ تھی۔ ایک دن ان کو پتہ چلاکہ جن بچوں کو وہ پڑھاتی تھیں ان میں سے ایک گیارہ سالہ بچی کی اس کے چچا نے آبروریزی کی ہے۔ اس واردات کو لڑکی کے گھرکا معاملہ قراردے دیاگیااور کسی نے پولیس میں رپورٹ تک درج نہیں کرائی۔ یہ اوشاکے لئے بہت بڑاصدمہ تھا،کیوں کہ اس سے قبل انھوں نے ٹی وی اور اخبار میں ہی اس طرح کی خبروں کو دیکھااور پڑھاتھا۔

اس واقعے کو ابھی زیادہ وقت نہیں گذراتھاکہ اوشاکے ایک دوست نے، جس کے ساتھ وہ ہر اچھی اور بری بات شیئر کرتی تھی،اس پر جنسی حملہ کیا۔ اس حادثے نے اوشاکو اندرتک جھنجھوڑ کررکھ دیا۔ سماج کے ڈر سے اوشانے اس واقعے کاذکر کسی سے نہیں کیالیکن اس واقعے کی وجہ سے تقریباً سال بھر وہ خوف اور صدمے سے باہر نہیں آسکیں۔ ان کی حالت اتنی خراب ہوگئی تھی کہ ایک بار گھروالوں نے ان کو لکھنؤ کے نورمنزل دماغی اسپتال میں داخل کرانے کے بارے میں سوچناشروع کردیا۔ اس دوران ان کی تعلیم بھی چھوٹ گئی ۔ لیکن ان کے دوستوں نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑااور ان کی مسلسل کونسلنگ کرتے رہے۔

جب اوشا معمول کی زندگی گذارنے لگیں تو انھوں نے سوچاکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اس مسئلے پر بھی کام کرنااتناہی ضروری ہے،کیوں کہ ان کا خیال ہے ’اگر میں ہی محفوظ نہیں رہوں گی تو پڑھائی کا کیامطلب‘۔ اس کے بعد انھوں نے خواتین کے ایک ورکشاپ میں حصہ لیا۔ جہاں اترپردیش کے 4-5اضلاع سے تقریباً 55لڑکیاں شامل ہوئیں۔ ان میں سے 53لڑکیوں نے بتایاکہ ان کے ساتھ ان کے رشتے داروں نے مارپیٹ،چھیڑخانی اور عصمت دری کی ہے۔ ان رشتے داروں میں ان کے باپ سے لے کر بھائی،چچااور دوسرے لوگ شامل تھے۔ یہ جان کر اوشاکے پیروں تلے زمین ہی کھسک گئی۔ تب وہاں موجود لڑکیوں نے فیصلہ کیاکہ ان کو اس معاملے میں کچھ ٹھوس قدم اٹھاناچاہئے۔ اس کے بعد انھوں نے خواتین تشدد سے متعلق معاملوں پر کام کرناشروع کردیا۔

لکھنؤ کے مڑیاؤں علاقے میں رہنے والی لڑکیاں اکثر اس بات پر پریشان رہتی تھیں کہ آئے دن سڑک پر کوئی نہ کوئی ان کا زبردستی ہاتھ پکڑلیتا،ان کا دامن کھینچتا،ان کے ساتھ چھیڑخانی کرتا۔ جس کے پیش نظر اوشانے 15لڑکیوں کی ایک تنظیم بنائی۔ یہ تنظیم ایسے لڑکوں کی مخالفت کرتی،ان کے گھروالوں کو جاکربتاتی کہ ان کے لڑکے سڑک پر خواتین کے ساتھ کیسابرتاؤ کررہے ہیں۔ کئی بارمعاملہ بڑھنے پر ان لوگوں کو پولیس تھانے تک جاناپڑتا۔ تقریباً چھ سات مہینے اسی طرح چلتارہا۔ اسی دوران ایک دن ان کی تنظیم کی ایک لڑکی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک شہدے کی پٹائی کردی۔ جس کے بعد لڑکے کے اہل خانہ اوشاکے پاس آئے اور ان کو برابھلاکہنے لگے،لیکن بعد میں جب لڑکے کے گھروالوں کو سچائی بتائی گئی تو ان کو وہاں سے شرمندہ ہوکر جاناپڑا۔

اس واقعے کے بعدلڑکیوں میں خوداعتمادی آگئی ۔ انھوں نے تہیہ کرلیاکہ آئندہ وہ ایسی کسی بھی چھیڑخانی کو برداشت نہیں کریں گی۔ اس کے بعد جہاں کہیں چھیڑخانی کا واقعہ ہوتاتوپہلے وہ لڑکے کو سمجھانے کی کوشش کرتیں،لیکن جب وہ ان کے ساتھ زیادہ بدتمیزی کرتے تویہ مل کر اس کی پٹائی کردیتی تھیں۔ اس کے بعد ان لوگوں نے ایک ڈریس کوڈ بنایا۔ سیاہ وسرخ رنگ کا۔ جس کا مطلب تھاجدوجہد کے ساتھ مخالفت کرنا۔ اس کے بعد جب یہ لڑکیاں سرخ وسیاہ کپڑوں میں خواتین سے متعلق پروگرام میں حصہ لینے یاپھر نکڑناٹک میں شرکت کرنے کے لئے کہیں سے گذرتیں تولوگ ان کو ’ریڈ بریگیڈ‘ کہتے ۔ یہ نام ان کو کافی پسند آیا،کیوں کہ اس سے پہلے ان کا اپناکوئی نام نہیں تھا۔

اوشاکاکہناہے :

’ریڈبریگیڈکی شروعات ہم نے اپنے تحفظ کے لئے کی تھی۔ کیوں کہ اس میں شامل لڑکیاں تب کافی نوجوان تھیں ،لیکن سماج نے جب ہماراکام دیکھاتو ہم اس کا دائرہ وسیع کرتے گئے اور زیادہ ذمہ داری اٹھاتے چلے گئے۔ ‘

ابتدامیں جب ریڈ بریگیڈ بنائی گئی تو یہ طے کیاگیاکہ وہ الگ الگ علاقوں میں گھوم کر منچلوں پر نظر رکھیں گی۔ اگر کہیں کوئی ناانصافی دیکھیں گے تو اس کی مخالفت کریں گے۔ یہ لوگ آج بھی نربھیاکی یاد میں ہر مہینے 29 تاریخ کو خواتین پر مظالم کے خلاف احتجاج کرتی ہیں۔ خاص طور سے اس علاقے میں جہاں کسی عورت کی آبروریزی یا تیزاب پھینکنے جیسی کوئی دوسری سنگین واردات پیش آتی۔ یہ انھیںکی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج مقامی انتظامیہ نے لکھنؤ میں جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے لگادیئے ہیں۔ اس کے علاوہ تیزاب متاثرہ کو اضافہ شدہ معاوضہ مل رہاہے۔

’ریڈبریگیڈ‘ آج لکھنؤ اور بنارس میں کام کررہی ہے۔ دونوں مقامات پر تقریباً 30-30لڑکیوں کی ایک ٹیم ہے ۔ یہ وہ لڑکیاں ہیں جو کافی غریب ہیں اور ان میں سے کچھ ریپ سروائیورہیں تو کچھ چھیڑخانی کی شکارہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے ساتھ دنیابھرسے 8ہزارسے زائد لڑکیاں وابستہ ہیں۔ یہ لڑکیاں خواتین سے متعلق مختلف امورپر تبادلہ خیال کرتی ہیں۔ ان کی تنظیم سے وابستہ لڑکیوں نے مارشل آرٹ کی ٹریننگ لے رکھی ہے۔ ان لوگوں کو یہ ٹریننگ اسٹریلیا،انگلینڈ اور امریکہ جیسے ممالک سے آئے کچھ لوگوں نے دی ہے،جنھوں نے انھیں سیلف ڈیفنس کے کئی گر سکھائے،لیکن ٹریننگ کے دوران ریپ سروائیور نے ان سے کہاکہ مارشل آرٹ کی ٹریننگ سے عصمت دری کے واقعات نہیں رک سکتے۔ اس کے بعد انھوں نے سیلف ڈیفنس کی ٹریننگ میں کچھ تبدیلیاں کیں تاکہ زناکاروں کا مقابلہ کیاجاسکے اور وہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہوں۔

اب یہ لوگ ایک مشن پر کام کررہی ہیں جس کا نام ہے ’وومین ملین‘ ۔ اس کے تحت ان کی اسکیم ملک بھر کی دس لاکھ لڑکیوں کو اپنے دفاع کی تربیت دیناہے۔ گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران یہ ملک بھر کی 34 ہزار لڑکیوں کو سیلف ڈیفنس کی ٹریننگ دے چکی ہیں۔ اس کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم پر زور دے رہی ہیں۔ یہ بچوں کو ’گڈ ٹچ،بیڈ ٹچ ‘ میں فرق بتارہی ہیں۔ اوشاکاکہناہے ، ’آج پانچ سال سے لے کر11سال تک بچوں کے ساتھسب سے زیادہ جنسی تشدد ہورہاہے،کیوں کہ بچہ ’گڈٹچ ،اوربیڈٹچ‘میں فرق نہیں جان پاتا‘۔ ان کا منصوبہ سال بھر میں 10ہزار بچوں کو اس طرح کی ٹریننگ دینے کاہے۔ اوشاکے مطابق، ’یوپی میں بیت الخلاءکا بڑامسئلہ ہے اور ریپ کے زیادہ ترمعاملوں میں یہ ایک بہت بڑاسبب ہے۔ ‘ اس لئے اب ہم ایک پروگرام چلانے جارہے ہیں کہ یوپی میں زیادہ سے زیادہ جگہوں پر خواتین کے لئے بیت الخلا ءکا بندوبست ہو۔ ‘

تحریر : ہریش بشٹ

ترجمہ : محمد وصی اللہ حسینی