اپنا ایک وقت کا کھانا لاچاروں کے لئے وقف کرنے کی کوشش کا نام ہے 'اِسکِپ اے میِل'

0

ہمارے بزرگ ہمیشہ ہم سے کہتے آئے ہیں کہ مخلوق کی خدمت میں ہی خالق کی خدمت ہے۔ خدمت خلق کو بھی عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا تو سب سے بڑی نیکی مانا جاتا ہے۔ یہ ایسی نیکی ہے جس سے خدا تعالیٰ بہت خوش ہوتا ہے۔

ارپن رائے کے والدین کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ اپنا یومِ پیدائش غریب اور محروم طبقات کے بچوں کے ساتھ منائیں۔ اس کے پیچھے ان کا سیدھا اور صاف مقصد یہ تھا کہ ان کا بیٹا اَرپن زندگی کی اس حققت سے واقف ہوسکے کہ زندگی میں مشکلات بھی آسکتی ہیں اور اگر اپنی زندگی میں کبھی محروم لوگوں کےلئے کچھ کرنے کا موقع ملے تو وہ ان کے لئے کچھ مثبت کرنے میں کامیاب ہوسکے۔ارپن کے بچپن کا کچھ حصہ اوڈیشہ کے دیہی علاقوں میں بھی گزرا جہان اس نے بھُکمری کا شکار کالاہانڈی جیسے علاقے کے لوگوں کی زندگی کو بھی بے حد نزدیک سے دیکھا جو کئی مرتبہ تو صرف آم کی گھٹلیوں پر ہی گزارا کرتے ہیں۔

2012 میں مہاراشٹرا کے ٹاٹآ انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسیس کے تلجا پور کیمپس میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ارپن کا دھیان روزانہ کھانے کی میس میں برباد ہونے والے کحھانے پر گیا۔ ارپن کہتے ہیں،" میں اکثر اخبارات میں پڑھا کرتا تھا کہ ہر سال صرف مہاراشٹرا میں 3 تا 4 ہزار بچے بھُکمری اور غذائی سمیت کا شکار ہوکر موت کا نوالہ بن جاتے ہیں۔ اپنے کالج میں اپنی آنکھوں کے سامنے اتنی زیادہ مقدار میں کھانے کی بربادی دیکھ کر ہم نے کچھ کرنے کا سوچا اور کھانے کی اس بربادی کے ذمہ دار طلباء پر لگام کسنے اور برباد ہونے والے کھانے کی مقدار کم کرنے کے لئے اپنے ہی درمیان کے کچھ طلباء کو رضاکاروں کے طور پر تعینات کیا۔"

حالانکہ ان کی سبھی کوششیں بے کار گئیں اور اتنا کرنے کے با وجود بھی کھانے کی بربادی کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ اس صورتِ حال کو دیکھ کر ارپن کو بہت دکھ ہوا۔ لیکن جلد ہی ان کے دماغ میں ایک خیال بجلی کے کوندے کی طرح لپکا۔

ایک وقت کا کھانا چھوڑیں : اِسکِپ اے میِل

ارپن کے والدین نے انہیں بچپن ہی سے یہ سکھایا تھا کہ اپنے پاس کو کچھ بھی ہے اس میں سے تھوڑا بہت ان لوگوں میں ضرور تقسیم کرنا چاہیے جو آپ سے زیادہ اس کے مستحق ہیں۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے انہیں یہ خیال آیا۔ ارپن اور ان کے کچھ رضاکار ساتھیوں نے اسی وقت یہ فیصلہ کیا کہ وہ ایک وقت کا کھانا چھوڑ دیں گے اور اس کھانے کو کالج اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے بھوکے لوگوں میں تقسیم کریں گے۔ مستحق لوگوں کی ہدف بندی کے دوران 'اِسکِپ اے میِل' کی ٹیم کے سامنے ایک ایسی حقیقت کا اظہار ہوا جسے جان کر ان کے اس جذبے کو ہوا مِلی۔ اس کے بارے میں ارپن بتاتے ہیں،"ہماری سروے مہم کے دوران ہمیں ایک یتیم خانے کا دورہ کرنے کا موقع ملا ۔ ہم یتیم خانے کے بچوں کو ملنے والے کھانے کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ان بچوں کو کھانے میں سوکھی روٹی کے ساتھ کچھ پانی ملاکر تلی ہوئی مرچ کا سفوف پروسا جاتا تھا۔ اور یتیم خانے کے بچے سال بھر یہی کھانا کھاتے تھے۔ "

ارپن مزید کہتے ہیں،"کینسر، ایڈس اور ٹی بی جیسی مہلک بیماریوں سے بھی اتنے لوگ موت کا شکار نہیں ہوتے جتنے لوگ بھُکمری کی وجہ سے مرتے ہیں۔ صرف ہندوستان میں ہی ہر برس 25 ہزار سے زیادہ لوگ بھُکمری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اور روزانہ لگ بھگ 53 ملین لوگ بھوکے پیٹ سونے پر مجبور ہوتے ہیں۔"

18 جون 2012 کو پہلی بار 'اِسکِپ اے میِل' نے کھانا تک کیا اور اس کھانے کو بھوک سے بے قرار لوگوں میں تقسیم کیا۔ اس وقت ٹی آئی ایس ایس ، تلجا پور کے 300 طلباء ہر سنیچر کو اپنا کھانا ترک کرتھے ہیں اور اس کھانے کو ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کردیتے ہیں۔

کام میں تیز رفتاری :

ارپن کہتے ہیں ان کا ارادہ کبھی بھی 'اِسکِپ اے میِل' کو ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کے طور پر رجسٹر کروانا نہیں ہے۔ وہ اسے طلباء کے ذریعے چلائی جانے والی پہل کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس پہل کو ملک کے دیگر طلباء تک پہنچائیں۔ اس تعلق سے وہ کہتے ہیں،"ہم اپنی کوشش کو تیز رفتار بناتے ہوئے ایک ملکی سطح کی مہم کی شکل میں توسیع پذیر دیکھنا چاہتےہیں کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ نوجوانوں کے پاس صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ نوجوانوں کو روپئے کی شکل میں مدد کرنے کے لئے تحریک دینے کے بجائے دوسروں زیادہ مستحق لوگوں میں اپنا کھانا تقسیم کرنے کی تحریک دینا زیادہ بہتر ہوگا۔

فی الحال چینئی کے مدراس میڈیکل کالج اور دہلی کے سینٹ اسٹیفنس کالج کے طلباء نے ان کی اس پہل میں ان کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے علاقے میں رہنے والے بے گھر اور بھوکے لوگوں کو کھانا کھلانا شروع کیاہے۔ ارپن کہتے ہیں،"اگر ہندوستان کے سبھی اقامتی کالج 'ایک کالج-ایک علاقہ' کی بنیاد پر اس پہل کو اپنائیں تو بہت ہی کم وقت میں طلباء بھُکمری کو ختم کرنے سے متعلق سرکاری اسکیموں کو پیچھے چھوڑ نے میں کامیاب ہوسکتے ہیں کیونکہ ہمارے ملک میں کالج اور علاقوں کا تناسب بہت اچھا ہے۔"

مخالفت کرنے والوں کے بارے میں ارپن کہتے ہیں،"ہوسکتا ہے کہ تنقید کرنے والوں کو ہفتے ہیں ایک وقت کا کھانا کھلانے کی بات ناگوار گزرتی ہو لیکن سڑکوں پر بھوکے پیٹ رہنے والوں کے لئے تو صاف پانی کی ایک بوند اور محض ایک وقت کا کھانا کسی دعوت سے کم نہیں ہوتا۔ کچھ نہی کرنے سے کچھ کرنا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔ میں نے اکثر یہ پایا ہے کہ صرف کالجوں ہی میں نہیں بلکہ ہوٹلوں اور شادی کی تقاریب میں بھی بچے ہوئے کھانوں کو کافی مقدار میں ضائع کردیا جاتا ہے۔ اگر ہم جیسی ذہنیت والے لوگ سامنے آئیں تو وہ آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے بے سہارا لوگوں میں اس کھانے کو تقسیم کرواکر بھوک اور کھانے کی بربادی کی اس دو طرفہ برائی کو مٹانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔"

تعلیم اور تقویت :

ارپن کہتے ہیں کہ جس یتیم خانے میں 'اِسکِپ اے میِل' کی ٹیم جاتی ہے وہاں کے بچے بڑی بے تابی سے ان کا انتظار کرتےہیں۔ اس کے علاوہ اس ٹیم نے اب بچوں کو تعلیم دینے میں بھی اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ ارپن کہتے ہیں،"ہمیں اس سچائی کا احساس ہے کہ ان بچوں کو صرف تعلیم کہیں زیادہ کچھ چاہیے۔ اور انہیں ایک بہتر مستقبل کے لئے کڑی محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے ابتداء میں انگریزی کی تعلیم کے فروغ کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم کے ساتھ مل کر تعلیم اور سرگرمیوں کے شعبے میں قدم بڑھایا ہے۔ ہم نے بھی کام کرنا شروع کیا لیکن ہمیں جلد ہی احساس ہوگیا کہ ان بچوں کا کام صرف انگریزی سیکھنے سے نہیں چلے گا۔ ہم نے اپنےپروگرام میں مصوری، دستکاری، کرافٹ وغیرہ جیسی سرگرمیوں کو بھی شامل کیا ہے۔"

ارپن اور ان کی ٹیم نے دیکھا کہ دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کو اس نصاب کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے میں کافی دشواری پیش آتی ہے جو دیہی علاقے کے بچوں کے دھیان میں رکھ کر تیار نہیں کیا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں،"وہ نصاب خصوصی طور پر شہروں میں رہنے والے بچوں کو دھیان میں رکھ کرتیار کیا گیا ہے۔ اب ہم دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کے لئے ایک اختیاری نصاب تیار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔"

صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اب یہ ٹیم بچوں کے ہمہ جہت ارتقاء اور بے گھروں کے لئے مواقع تلاش کرنے کے دو پہلوؤں پر اپنا دھیان مرکوز کر رہی ہے۔ ارپن کہتےہیں،"ہم ان بے گھر لوگوں کے لئے پیشہ ورانہ مہارتوں پر مبنی تربیت کا پروگرام ترتیب دینے کے علاوہ ان کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ اب ہمارا دھیان صرف کھانے تک محدود نہیں ہے بلکہ اب ہمارا مقصد انہیں مستحکم بنانا ہے۔

استقامت کے ساتھ آگے بڑھنا :

ارپن اب اپنا گریجویشن مکمل کر چکے ہیں اور ان کے ذریعے شروع کی گئی یہ پہل مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے ہم خیال لوگوں کے ساتھ آنے کی وجہ سے ہر سال ان کی یہ پہل توسیع پاتی جارہی ہے۔ ساتھ ہی ان کا ماننا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے ساتھ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جوڑنے کی کوشش کر تے رہتے ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ کبھی کبھار پیسوں کی کمی ان کے سامنے کوئی دشواری پیش کرے لیکن انہیں اس بات کا یقین ہے کہ ان کی یہ مہم اپنا سفر طے کرتی رہے گی۔

چونکہ اب کئی دیگر کالجس بھی ان کی اس مہم کا حصہ بن چکے ہیں لہٰذا 'اِسکِپ اَ میل' پر ہفتے 1300 لوگوں کو کھانا کھلارہا ہے۔ 2012 میں پہلی مرتبہ اس کا آغاز کرنے کے بعد سے اب تک یہ مہم ملک کی تین ریاستوں میں 53 ہزار سے بھی زیادہ لوگوں کی بھوک مٹانے میں کامیاب رہی ہے۔ ارپن کہتے ہیں،"ہمارا ہدف ملینیم نسل ہے۔ ایک طرف جب پوری دنیا بوڑھی ہوتی جارہی ہے، ہندوستان میں اوسط عمر صرف 28 برس ہے۔ آنے والے وقتوں میں ہم دنیا کو مزدور فراہم کر رہے ہوں گے۔ ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ اس عمر کے لوگ نئے خیالات کے ساتھ سامنے آکر اپنے ارد گرد کے اکثر مسائل کا حل پیش کرنے میں کامیاب ہوںگے۔"

آخر میں ارپن کہتے ہیں،"مجھے بڑے خواب دیکھنا پسند ہے اور میں بزرگوں، معذوروں، بے گھروں اور لاوارث بچوں کے لئے ایک سماج کی طرز پر ایک مرکز بنانا چاہتا ہوں۔ میرا خواب ہے کہ ملک ملک کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کو ہندوستان کے علاوہ دوسرے ملکوں کے موقر تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم ہو۔"