کچرا جمع کرنے والوں کو "SEFE" نے بنایا دولت مند

وائی ایس اردو ٹیم

0


کولکتہ کی امرتا چٹرجی جو ساؤتھ ایشین فورم فار دی اینوائرن مینٹ (SAFE) کی ایگزیکٹو ڈائرکٹرہیں' کچرا جمع کرنے والوں کو فاضل اشیاء سے بہترین مصنوعات تیار کرنے میں مدد کرتی ہیں ۔ آپ پوچھیں گے' آخر یہ کس طرح ممکن ہے؟''رذالو ٹریش ٹو کیش '' نامی سماجی ادارہ فضلہ کے تجزیہ اور پھر اس کی ری سائکلنگ کے عمل کو شروع سے آخر تک انجام دینے کے کام کی نگرانی کرتا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں طویل مدتی اور پائیدار (sustainable) ماحول اور ترقی کے لئے قدرو قیمت پرمبنی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ ٹھوس فضلہ کا انتظام اور جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والے غریبوں اورقابل رحم زندگی گزارنے والی خواتین کوفاضل اشیاء کی ری سائیکلنگ کرکے اور انہیں ردی کاغذ کے ذخائر سے فنکارانہ دستکاری کی تربیت دیتے ہوئے متبادل ذرایع معاش کا موقع فراہم کرنا اس ادرہ کی توجہ کا اصل مرکز ہے ۔

ان کوششوں کی وجہ سے  حال ہی میں لیما(پیرو) میں منعقد20 COP میں یونائیٹڈ نیشنز فریم ورک کنونشن آن کلائمٹ مومیٹم فار چینج ' لائٹ ہاؤس ایوارڈ، 2014 اس ادارہ کو موصول ہو چکا ہے۔

بڑے شہروں میں کوڑے کرکٹ سے نجات اوراس کی نکاسی کا انتظام بہت بڑی تشویش کا موضوع بن گیا ہے۔ کچرے کوڑے کے ڈھیر زمین پرپڑے رہنے اور اس کی نکاسی کے غیر مناسب انتظام کی وجہ سے زیادہ ترقصبوں' چھوٹے اور بڑے شہروں میں پہلے ہی ماحول اور قدرتی وسائل کوبہت زیادہ نقصان پہنچ چکا ہے ۔ امرتا چٹرجی بتاتی ہیں:'' کولکتہ شہر میں روزانہ تقریبا 5000 ٹن کوڑا کرکٹ جمع ہوتا ہے۔ SEFE ادارہ کی طرف سے سن 2010 میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق دارالحکومت کے شہری فضلہ کی کل قیمت کا 86 فی صدحصہ بے ترتیب ری سائیکلنگ پلانٹس کی طرف سے استعمال کیا جا رہا ہے' جو غیر سائنسی اور غیر اخلاقی کوڑا انتظام پالیسیوں کی وجہ سے چل پا رہے ہیں ۔ شہری غریبوں کی آبادی کا 50فی صد حصہ کوڑا جمع کرنے' ان کی تنقیح اور ان نکاسی جیسے کام میں لگا ہوا ہے اور صحت سے متعلق مختلف خطرات سے دوچار ہے ۔ تنقیح اور غیر مساوی فائدہ تقسیم کے نظام کے تحت آمدنی کے طور پر انہیں 2 سے 5 فیصد تک معمولی اجرت ملتی ہے۔ غریبوں کے اسی غیر اخلاقی استحصال کے پیش نظر سن 2011 میں ہم نے''رذالوٹریش ٹوکیش'' کے نام سے ادار ہ شروع کیا ۔

'رذالو ٹریش ٹو کیش' کولکتہ کی سڑکوں اور فٹ پاتھ پر کام کرنے والے غریبوں کی داستان ہے جو شہری ترقی اور موسم کی تبدیلی کے بھنور میں پھنسی معیشت ' ماحولیاتی خدشات' بنتے بگڑتے سماجی ڈھانچوں اور بنیادی ڈھانچے کی اس تیزی سے بدلتی دنیا میں بالآخر انتہائی کامیاب کاروباری ثابت ہوئے۔ میٹروشہر کی جھگی بستیوں میں رہنے والی ان خواتین یا فٹ پاتھ پر خانہ بدوشی کی زندگی گزارنے والے بچوں کے بارے میں کوئی بھی اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتا کہ وہ دھول اور گندگی میں کوڑے کرکٹ کے رہائشی ہیں اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ سمجھے جاتے ہیں ۔ "رذالو ردی ٹریش ٹوکیش' کے ذریعہ کرکٹ کے رہائشی ان خواتین میں بہترین کاروباراور فنکاری کی صلاحیت ہوتی ہے اس کا انکشاف اس تجربہ سے ہوا۔ انہیں اس نسل کے کسی بھی دوسرے شخص کی طرح کامیاب تاجر یا کاروباری بننے کے لئے صرف تھوڑے سے تکنیکی تعاون اور صنعت شروع کرنے کے لئے درکار کچھ ابتدائی وسائل کی ضرورت ہے۔ یہ پروگرام شہری غریبوں اور دولت مندوں کے مفروضہ عام شہری نظریہ میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے ۔ نیزیہ کہ شہری گندگی کے کوڑے کرکٹ کے مسئلہ کا کوئی پائیدار حل (sustainable solution) دریافت کرنا اس منصوبہ کا مقصد ہے' جو موسم کی تبدیلی کے ساتھ مطابقت پیدا کرے' غریبوں کے حق میں ہو اور معاشی طور پر قابل عمل بھی ہو۔ یہ پروگرام ری سائیکلنگ اور دوبارہ استعمال کے مینجمنٹ پر منحصر ہے' جس سے آلودگی میں کمی کی جا سکے۔ امرتا چٹرجی کا کہناہے کہ خواتین کی قیادت میں چلائے جانے والے اس انٹرپرائز کا مقصد ہمیشہ سے یہ رہا ہے: "ری سائیکلنگ ایک فن ہے' جو زندگی اور غیر زندگی کی پرورش کرتی ہے۔ انہوں نے خواتین کو نہ صرف حیات بخش مصروفیت کے لحاظ سے بلکہ ایک ماں کے طور پر' جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے انہیں تیار کر سکتی ہے، خود اعتمادی حاصل کرنے کی سمت میں بھی مضبوط کیا''۔

امرتا چٹرجی کی ان کوششوں کو اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام نے 'دنیا کو صاف ستھرا بنائیں' مہم کے تحت تسلیم کیاہے۔ کوڑا کرکٹ ری سائکلنگ شعبہ آہستہ آہستہ ایک چھوٹی صنعت کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں جھگی بستیوں میں رہنے والے لوگوں میں صنعت کاری کی صلاحیتوں میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ وہ ان غریبوں کو سماجی قبولیت اور طاقت فراہم کر رہی ہیں جو پہلے معاشرے سے خارج مانے جاتے تھے۔ سب سے پہلے SAFE نے جھگی بستیوں میں ورکشاپ منعقد کرکے بتایا کہ کوڑے کرکٹ سے نقد رقم کس طرح کمائی جاسکتی ہے۔ ان کے ساتھ بات چیت کے ذریعہ یہ اندازہ لگانا ممکن ہوا کہ جھگی بستیوں میں رہنے والے لوگ اس منصوبے کا حصہ بننے میں دلچسپی لے رہے ہیں یا نہیں ۔ انہوں نے کافی غور خوض کے بعد ارادہ کرلیا کہ ''چلو' آزما کر دیکھ لیتے ہیں''۔اس کے بعد ان کے 'مشترکہ ذمہ داری گروپبنائے گئے' جو 10 ارکان پر مشتمل تھے ۔ ردی کاغذ سے تحفہ کی چیزیں تیار کرنا' سب سے پہلا منصوبہ بنایا گیا ۔ مشترکہ ذمہ داری گروپ یعنی JLG کے نام سے اکاؤنٹ کھولنے کے لئے بینکوں سے رابطہ قائم کیا گیا تاہم یہ کوشش بارآور ثابت نہیں ہوی' کیونکہ 'مشترکہ ذمہ داری گروپ' (JLG) کے زیادہ ترارکان کے پاس شناختی کارڈ ہی نہیں تھے۔ خیر خواہوں کی مدد سے اور SAFE کے ملازمین کے صبر آزما جدوجہد کے نتیجہ میں آخرکار یوکو بینک نے 'مشترکہ ذمہ داری گروپ' (JLG) کے نام سے اکاؤنٹ کھولنے سے اتفاق کرلیا ۔ مکمل تیاری اورجوش و خروش کے ساتھ ماسٹر ٹرینر کی طرف سے تربیت کے ورکشاپ شروع کئے گئے۔ مشترکہ ذمہ داری گروپ' (JLG) کے ارکان کو مارکیٹنگ کی حکمت عملی' تجارتی سوجھ بوجھ' فینانس مینجمنٹ اور حساب کتاب کے بارے میں بنیادی باتوں کی معلومات فراہم کی گئیں ۔ خواتین کو' جن کے لئے گھر پر رہ کر کام کرنا آسان ہوتا ہے' ردی کاغذ کے ذریعہ تحفے بنانے کا کام سکھایا گیا ۔ کارپوریٹ کمپنیوں سے وابستہ کچھ تاجروں نے رضاکارانہ طور پر منبع پر ہی کوڑے کرکٹ کو صاف کرنے کا کام کیا' تاکہ ضروری ردی کاغذ آسانی سے جمع کیا جا سکے۔ یہ ممکن بنانے کے لئے ان کے دفاتر میں ردی جمع کرنے کے ڈبے رکھ دیئے گئے ۔ 'مشترکہ ذمہ داری گروپ' (JLG) کے مرد ارکان کو بہتر ین اندازمیں بات چیت کرنے کا فن سکھایا گیا ' تاکہ مختلف دفاتر میں بڑے بڑے اعلیٰ عہدیداروں سے وہ اعتماد کے ساتھ بات کر سکیں اور ان سے ردی کاغذ حاصل کر سکیں ۔ مختلف میلوں میں تحفہ تحائف کی مصنوعات کے اسٹال لگا کر' سوشل میڈیا میں تشہیر کے ذریعہ اور مختلف کارپوریٹ گھرانوں کے ساتھ مل کر SAFE نے تیار اشیاء کی مارکیٹنگ کے کام میں مدد کی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چھوٹے اور بڑے تاجروں میں ان مصنوعات کی خریدداری کا مارکٹ پیدا ہو گیا ۔ امرتا کہتی ہیں:''رذالو ٹریش ٹو کیش'' مکمل طور خواتین ارکان کی ملکیت ہے۔ یہ خواتین وقت بروقت اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتی ہیں اور فیصلہ لیتے وقت ان کے مشوررے کو اہمیت دیتی ہیں''۔

'رذالو' کے ساتھ کام کرنے والے زیادہ تر ارکان اور خیرخواہ جھگی بستیوں میں رہنے والے غریب' مڈل اسکول کی تعلیم درمیان میں ترک کئے ہوئے ڈرا آوٹس یا بالکل ان پڑھ اور خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگ ہوتے ہیں اور سڑکوں' گلیوں اور محلوں میں کچرا کوڑا جمع کرتے ہوئے اپنی زندگی گزارتے ہیں ۔ اس پروگرام کے تحت کچرا کوڑا جمع کرنے والے 350 لوگ شامل ہیں جو کولکتہ کی تین اہم جھگی بستیوں کے باشندے ہیں ۔ ان کی رہائش کی جھگیاں بھی وہیں ہوتی ہیں جہاں کچرے کی انبار ہوتے ہیں ۔ 'رذالوٹریش ٹو کیش ' انہیں ان کی ان سرگرمیوں کو منظم طریقے انجام دینے میں مددکرتا ہے جس سے وہ بہتر تکنیک کو استعمال کرکے اور مالی معاملات کو سمجھ بوجھ کے ساتھ باقاعدہ اور منظم فوائد حاصل کرسکیں ۔

اس کاروبار میں گزشتہ آمدنی کے مقابلے میں اس سال 35 فی صد اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے ذریعہ ان غریب طبقات کو معاشی طور پر با اختیار بنانا ممکن ہوسکا ۔ تقریبا 400 افراد کا' جنہوں نے اس پروگرام میں براہ راست طور پر یا بالواسطہ طریقے سے شرکت کی تھی' مائکرو فینانس انشورنس کے ذریعہ انشورنس کیا گیا ہے ۔ ٹاٹا اے آئی جی لائف نے خاص طور پر ان لوگوں کے لئے فعال انشورنس پالیسی بنائی ہے۔ جہاں تک ماحول کا تعلق ہے' منبع پر ہی فضلہ کی تنقیح کرنے کا طریقہ رائج ہو گیا ہے ۔ اس کی وجہ سے زرخیز زمینوں پر فضلے کے انبار میں کمی اور اس سے خارج ہونے والی کثافت میں بھی کمی آئی ہے اور ماحولیاتی آلودگی کم کرنے میں بھی مدد ملی ہے۔

کچراچننے والے کی آپ بیتی:

علاؤ الدین شیخ بیس سال پہلے سندربن سے روزگار کی تلاش میں شہر آیا تھا ۔ آج وہ 'رذالو' کا شکرگزار ہے جس نے اس کی خستہ حال زندگی میں تبدیلی لانے کے لئے اہم کردار ادا کیا۔ وہ کہتا ہے: "میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کسی دن میں دفاتر کی ان بڑی عمارتوں میں و ردی پہن کر اور اپنا شناختی کارڈلے کر داخل ہو جاؤں گا ۔ اس منصوبے نے مجھے سکھایا کہ سچی لگن اور کوشش سے ایک فٹ پاتھ پر رہنے والا شخص بھی پلیٹ فارم پر بیٹھ سکتا ہے۔ اس منصوبے کا حصہ بن کر میں فخرمحسوس کرہا ہوں' مجھے اپجئے گروپ کی جانب سے ایوارڈ بھی حاصل ہوا ہے اور یہ واقع میں بہت حوصلہ افزائی کرنے والی بات ہے''۔

علاؤ الدین کی طرح مایا منڈل بھی اس پروگرام سے اسفادہ کرنے والوں میں شامل ہے۔ وہ گندے پانی میں مچھلیاں پکڑ کر مشکل سے 750 سے 1800 روپے تک کما پاتی تھی ' اور اس تکلیف دہ کام کی وجہ سے وہ کئی طرح کے جلد کی بیماریوں اور شدید آنتوں کے عوارض میں مبتلا ہو گئی تھی آج نہ صرف وہ صحت مند ہے بلکہ دستکاری کی مصنوعات کے ذریعہ پہلے سے پانچ گنازیادہ اجرت حاصل کر رہی ہے اور اب اس کے پاس اتنے ذرائع ہو گئے ہیں کہ اپنے بچوں کو اسکول میں بھی داخلہ دلوایا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ اب بنگالی زبان لکھنا۔ پڑھنا بھی سیکھ رہی ہے۔ وہ اپنی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتی ہے:"کئی نسلوں سے ہم لوگ گندے پانی میں مچھلیاں پکڑنے والے مزدور تھے اور کسی طرح گزر بسر کر رہے تھے' میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میں کبھی پینٹنگ اور دستکاری کی مصنوعات کے ذریعہ گزر بسر کرسکوں گی اور اس طرح اس گندی' بدبودار کام سے چھٹکارا پا سکوں گی ۔ دیدی (امرتا) کہتی ہیں کہ ہم سب ایسا کر سکتے ہیں' بشرطیکہ سب مل جل کر کام کریں ۔ ہم نے اس منصوبے سے یہی سیکھا ہے۔ اب ہم بہتر طرز زندگی اور روزگار کے لئے ہمیشہ یہ کام کرتے رہیں گے''۔

ردی کاغذ کی ری سائیکلنگ کے اس منصوبے نے SAFE کاحوصلہ بہت بلند ہواہے۔ اور اب وہ بھی نئے نئے پراجکٹ شروع کر رہا ہے - ان میں گیلے اور نم گندگی کے کچرے کوڑے کی ری سائیکلنگ کرکے اسے ورمی۔کمپوسٹ میں تبدیل کرنااہم پراجکٹ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ زمین میں سرائیت کرگئے گئے فضلے سے ہونے والی کثافت میں کمی کی جائے ' ساتھ ہی قیمتی کھاد بھی تیار کیا جائے اور پائیدار زراعت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ دوسرا' پلاسٹک جیسے قدرتی طریقے سے تباہ نہ ہونے والے فضلے کودوبارہ قابل استعمال بنانا اور سانچو میں اس فضلہ کوڈھالتے ہوئے اس کی گھریلومصنوعات بنانا بھی نئے پراجکٹ میں شامل ہے۔

یہ ہے امرتا چٹرجی کاکارنامہ.... جنہوں نے نہایت مجبور و لاچار لوگوں کو نہ صرف خود کفیل بنایا بلکہ ان کی زندگی میں روشنی اور امید کی کرن پیدا کی اورانہیں ایک معیاری انسانی طرززندگی فراہم کی ۔ ایسے لوگوں کے لئے ہی شاید کسی شاعر نے کہا تھا کہ

’’نشہ پلاکے گرانا توسب کوآتا ہے۔ مزا تو جب ہے کہ گرتوں کوتھام لے ساقی''-

قلمکار:اجیت ہرشے

مترجم:شفیع قادری