خشک سالی سے نمٹنے کے لئے ایک ایک روپے چندہ کرتے ہوئے بنایا چیک ڈیم، نقل مقام کر چکے کسان اب واپس آ رہیں ہے اپنے گاؤں

0

اب تک 11 چیک ڈیمس کی تعمیر

برساتی نالوں کے پانی کو روکنے کے لئے چیک ڈیمس

نقل مقام کر چکے کسان بھی اپنے گاؤں واپس آنے لگے ہیں 

کہتے ہیں کہ اگر یقین مصمم اور ارادے مضبوط ہوں تو منزل پانا ناممکن نہیں ہوتا۔ کچھ ایسا ہی ممکن کر دکھایا ہے مدھیہ پردیش کے مندسور ضلع کے پتلاوت گاؤں میں رہنے والے انیل جوشی نے۔ انہوں نے اپنی کوششوں کے بل پر خشک سالی کو نہ صرف شکست دی ہے بلکہ لوگوں سے ایک ایک روپے لے کر وہ کام کر دکھایا جس میں سرکاری ایجنسیاں بھی ناکام ثابت رہی۔ انیل نے لوگوں سے چندے کے طور پر ملے پیسے سے ایسے چیک ڈیمس تعمیر کیے جن کی بدولت اس علاقے کے ارد گرد رہنے والے کسان اپنے کھیتوں سے نہ صرف بھرپور فصل حاصل کر رہے ہیں بلکہ جو کسان خشک سالی کی وجہ سے اپنے گاؤں سے نقل مقام کر چکے تھے، وہ اب واپس آنے لگے ہیں اور زراعت کو اپنا اہم روزگار بنانے لگے ہے۔

انیل جوشی اپنے آپ کو کسان کہلانا زیادہ پسند کرتے ہیں، تاہم انہوں نے آیوروید کا ایک کورس بھی کیا ہے، جس کے بعد وہ لوگوں کا علاج بھی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ہونے کے باجود انہوں نے زراعت کا کام نہیں چھوڑا ہے۔ چند سال پہلے تک مندسور علاقے میں ہر سال خشک سالی سے لوگ کافی پریشان تھے۔ یہاں برسات کے پانی کو روکنے کا کوئی انتظام نہیں تھا، اس وجہ سے یہاں کے کسان سال بھر میں اپنی زمین سے بمشکل ایک ہی فصل اگا پاتے تھے۔ آج تصویر بالکل بدل گئی ہے۔ جن علاقوں میں چیک ڈیم بنے ہیں وہاں پر پورے سال بھرپور پانی رہتا ہے اور یہاں کے لوگ اقتصادی طور پر ترقی کر رہے ہے۔ انیل بتاتے ہیں کہ

''ایک وقت تھا جب میں بھی خشک سالی کی وجہ سے کافی پریشان رہتا تھا، جب میں نے کاشت کرنا شروع کیا تواپنے کھیت کے ارد گرد کے کنوئیں کو گہرا کیا اور کئی دوسرے اقدامات بھی کئے تاکہ آبپاشی کے قابل پانی کا انتظام ہو سکے لیکن یہ کوشش بیکار اور بےفیض ثابت ہوئی۔ گاؤں کے قریب سوملی نام کی ایک برساتی ندی بہتی ہے، جس میں سال بھر کے دوران 2-3 ماہ ہی پانی رہتا تھا جس کے بعد وہ سوکھ جاتی تھی۔ اس وجہ سے کچھ سال پہلے تک یہاں پر خشک سالی کے حالات ہو جاتے تھے۔ جس کی وجہ نہ صرف لوگوں کو پینے کے پانی کے لئے کوسوں دور جانا پڑتا تھا بلکہ آب پاشی کے لئے پانی نہ ملنے کی وجہ سے جن کھیتوں سے کسان 200 کوئنٹل اناج اگا سکتے ہیں، ان کی زمین سے 20 کلو اناج بھی پیدا ہونا مشکل ہو گیا تھا۔ ان حالات میں ایک خیال آیا کہ کیوں نہ برساتی ندی کے پانی کو روک لیا جائے،جس کا استعمال نہ صرف آب پاشی کے لئے بلکہ اس پانی کا استعمال جانوروں کے لئے بھی کیا جا سکتا ہے۔''

اپنے اس خیال کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لئے انیل نے اپنے دوستوں سے بات کی اور ان سے کہا کہ اگر سوملی دریا پر چیک ڈیم بنا دیا جائے تو جو پانی بیکار میں بہہ جاتا ہے اس کو بچایا جا سکتا ہے، ان کی یہ بات دوستوں کو پسند آئی، تب انیل نے اپنے دوستوں سے کہا کہ وہ پانی کو روکنے اور چیک ڈیم بنانے کے لئے سیمنٹ کے خالی تھیلوں کا انتظام کریں۔ اس کے بعد انیل نے کچھ مزدوروں اور اپنے دوستوں کی مدد سے ایک کچہ چیک ڈیم تیار کیا، ڈیم بننے کے کچھ دنوں بعد بارش ہوئی اور چیک ڈیم میں پانی جمع ہو گیا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ زمین میں پانی کی سطح بلند ہو گیئ اور سالوں سے ارد گرد کے خشک ہینڈپمپ اور کونوں میں پانی آنے لگا، اس طرح کئی سالوں بعد علاقے میں فصلیں بھی لہلہانے لگی ۔ جبکہ دوسرے علاقے میں حالات جوں کے توں برقرار تھے اور وہاں پر پانی کا مسئلہ شدید دیکھا گیا۔

اگلے سال جب انہونے ایک بار پھر چیک ڈیم بنانے کے لئے لوگوں سے مدد مانگی مگر کوئی آگے نہیں آیا۔ تب انیل نے لوگوں کو خوب سمجھانے کی کوشش کی لیکن کوئی ان کے ساتھ آنے کو تیار نہیں ہوا، پھر ایک دن انہوں نے اس مسئلے پر اپنی بیوی سے بات کی تو ان کی بیوی نے ان کے سامنے اپنے زیورات رکھ دیے اور ان سے کہا کہ وہ ان زیورات کو بیچ کر چیک ڈیم بنانے کے لئے پیسہ جٹائيں تاکہ علاقے کی ترقی ہو، جس کے بعد انہوں نے ایک بار پھر کچہ ڈیم کی تعمیر کروائی، اس طرح انہوں نے مسلسل 2-3 سال خود اپنے پیسوں سے چیک ڈیم بنانے کا کام کیا۔ انیل کی کوششوں سے ایک طرف علاقے میں ہریالی آ رہی تھی، لوگ خوشحال ہو رہے تھے تو دوسری طرف ان کی مدد کے لئے کوئی آگے نہیں آ رہا تھا، تب انیل نے سوچا کہ ہر سال چیک ڈیم بنانا ہوتا ہے تو کیوں نہ اس کی جگہ پکہ اور مضبوط چیک ڈیم تعمیر کیا جائے تاکہ اس مسلہ کو طویل وقت کے لئے ختم کیا جا سکے، انیل نے پکہ چیک ڈیم بنانے پر کام شروع کیا تو پتہ چلا کہ اس کو بنانے میں کم از کم ایک لاکھ روپے کی ضرورت ہوگی، اتنے پیسے انیل کے پاس نہیں تھے تب ایک بار پھر انیل جوشی نے لوگوں سے پیسہ دینے کی بات کی تو لوگوں کا رویہ ان کی سوچ کے مطابق نہیں نکلا،الٹا لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ یہ کام حکومت کا ہے کیوں آپ اس کام کو کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ اس موقع پر کوئی دوسرا ہوتا تو مایوس ہو جاتا اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتا، لیکن انیل نے ٹھان لیا تھا کہ وہ اس کام کو مکمل کر کے ہی دم لے گا۔

انیل جوشی بتاتے ہیں،

"میں نے فیصلہ کیا کہ چیک ڈیم بنانے کے لئے لوگوں سے ایک ایک روپیہ لیا جا سکتا ہے اور اگر ایک دن میں ایک ہزار لوگ بھی ایک روپے دیں گے تو تین ماہ میں ہمارے پاس 1 لاکھ روپے جمع ہو جاینگے۔ اس طرح میں نے نہ صرف مندسوربلکہ ارد گرد کے قریب سو دیہاتوں میں ایک ایک روپے مانگ کر ایک لاکھ روپے جٹايا۔ " اس کے بعد انہوں نے چیک ڈیم بنانے کا کام شروع کیا۔ ایک بار پکہ چیک ڈیم بنتے ہی اس کا راست فائدہ ارد گرد کے پانچ گاؤں کو ملنے لگا۔اس ڈیم کی بدلوت ان گاؤں میں سال بھر کے لئے پینے کا پانی میسر ہونے لگا، آبپاشی کا انتظام ہو گیا جہاں پہلے کسان اپنے کھیت سے بمشکل ایک فصل ہی اگا پاتے تھے، اب وہ ربی اور خریف دونوں طرح کی فصلیں اگانے لگے۔ اس کے علاوہ خشک سالی کے وقت بہت سے جنگلی جانور پانی کی تلاش میں ارد گرد کے گاؤں میں آ جانے کا خطرہ رہتا تھا ایسے میں ان کو بھی پینے کا پانی گاؤں سے باہر ملنے لگا اور یہ خطرہ بھی ٹل گیا۔ آج اس علاقے میں سویا بین، گیہوں، لہسن، چنا، سرسوں، میتھي، دھنیا اور دوسری فصلیں بوئ جاتی ہے۔''

اس کے بعد حالات یہ ہو گئے کہ جہاں انیل کے گاؤں سے سو کلومیٹر دور گاؤں میں خشک سالی ہوتی تو ان کے گاؤں میں ہریالی رہتی۔ اس کے بعد دوسرے گاؤں کے لوگ بھی ان کو ڈھونڈتے ہوئے ان کے پاس آئے اور ان سے اپنے گاؤں میں بھی اسی طرح کے چیک ڈیم بنانے کا اصرار کرنے لگے، انیل اب تک 10 چیک ڈیم تعمیر کر چکے ہے۔ اس بہت بڑے علاقے میں لوگوں کو سوکھے سے راحت مل گئی ہے اور حالات کافیتبدیل ہو چکے ہے۔ انیل کے مطابق گاؤں میں سوکھا پڑنے کی وجہ سے لوگ یہاں سے نقل مکانی کر چکے تھے وہ ایک بار پھر اپنے گاؤں کو واپس آنے لگے ہیں جس کے بعد انہوں نے کھیتی کو سنبھالا اور اب ان کی زمین مناسب پانی ملنے کی وجہ سونا اگل رہی ہے۔ پہلے یہاں کے لوگ جس اناج کو خرید کر کھاتے تھے آج ان کے گھروں میں سال بھر کھانے کے قابل اناج بھرا رہتا ہے،آج اگر کہیں کسی چیک ڈیم میں کچھ خرابی ہو جاتی ہے تو کسان مل اسے ٹھیک کر دیتے ہیں۔ انیل بتاتے ہیں کہ "آج کسان اس بات کو اچھی طرح مان گئے ہیں کہ پانی کے لئے چیک ڈیم کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسرا متابادل نہیں ہے۔"

قلمکا: ہڑِش بشٹ

ترجمہ: عبد الرحمٰن خان