مضبوط جمہوریت کے لئے میڈیا کی ذمہ داری اہم

'' ایک وقت تھا جب خود وزیر اعظم کو بھی نہیں بخشا جاتا تھا۔ سب سے زیادہ طاقتور وزیر کی سخت سے سخت تنقید کے بعد بھی ایک صحافی آرام سے سو سکتا تھا اور اگلے دن اپنی کام یا وقار کھونے کے خوف کے بغیر اپنے آفس آ جاتا تھا، لیکن اب ایسا نہیں لگتا، خوف اور دہشت کا ماحول ہے۔ میں اسے خاص طور پر بولنے کی آزادی اور عام طور پر جمہوریت کے ماحول میں ذہر گھولنے کے برابر  کہوں گا۔ ''

1

(اس مضمون کے قلمکارآشوتوش عام آدمی پارٹی کے لیڈر ہیں)

آزادی حاصل کرنے کے  کئی سال کی  جدوجہد کے بعد ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ میں 'ایمرجنسی' سب سے سیاہ باب تھا۔  اس وقت کی وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی کی طرف سے قومی سلامتی کے نام پر ملک کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔ اپوزیشن کے وجود کو انتہائی وحشیانہ  طریقے سے خارج کردیا گیا تھا اور پریس کی آزادی کو ختم کر  دیا گیا تھا۔ اپوزیشن کے تمام اہم رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ جنتا پارٹی کی تحریک کے بعد شاہ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 34988 لوگوں کو میسا کے سخت ایکٹ کے تحت اور 75818 لوگوں کو ڈیفنس آف انڈیا قوانین کے تحت جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔

ایمرجنسی کے دوران، پریس کی چھیننا ایک سب سے بڑا حادثہ تھا۔ پریس، جسے اپوزیشن کی غیر موجودگی میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہیے تھا، کچھ ایک کو چھوڑ کر سب کو درکنار کر دیا گیا تھا۔ اس وقت کے اطلاعات و نشریات کے وزیر مسٹر ایل کے اڈوانی نے پریس کے طرز عمل پر ایک پیشن گوئی کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا، "پریس پر کزی تنقید  کی تھی انہوں نے کہا تھا، پریس کا جھکنے کے لئے کہا تھا وہ تو رینگنے لگی۔'

 آج جب میں پریس کو دیکھتا ہوں تو مجھے اڈوانی جی کے وہ الفاظ بہت یاد آتے ہیں، لیکن اس میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔ آج، کوئی ایمرجنسی نہیں ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی جا رہی، اپوزیشن حراست میں نہیں ہے اور پریس کی آزادی برقرار ہے، لیکن آج کے میڈیا کو دیکھتے ہوئے اس کے طرز عمل پر شدید سوال ضرور اٹھ رہا ہے۔ میڈیا کے ایک بڑے حصے نے اپنا ضمیر کھو دیا ہے اور وہ تمام لوگ بےحس صحافیوں کی طرح برتاؤ کر رہے ہیں۔

یہ انتہائی حیرت انگیز ہے، کیونکہ آج کی دنیا  مزیدآزاد ہے۔ خبروں کو پھیلانے کا کام فوری طور پر کیا جاتا ہے۔ میڈیا کی پہنچ اتنی وسیع کبھی نہیں تھی۔ اس کے ناظرین اور سامعین عالمی سطح پر ہیں اور کوئی بھی شخص صحافی یا خبری بن سکتا ہے۔ 1975 میں کوئی ٹی وی نہیں تھا، لیکن آج، اخبارات کے الاوا 800 سے زائد چینلس ہیں جو صرف ہندوستانی ہیں۔ ایک وقت تھا جب قومی روزاناموں واخبارات کے ہی بہت محدود ایڈیشن ہوا کرتے تھے، لیکن اب ہر قومی روزانامہ ملک کے ہر کونےاور ہر گلی تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھاسکر جیسے اخبار کے 50 سے زیادہ ایڈشن چھاپے جاتے ہیں۔ بھارت کے ہر شہر اور ہر کوریڈور کی اپنی خود کی میگزین چھپتی ہے۔

اور اس کے بعد سب سے بڑا دھماکہ کر رہی ہے - سوشل میڈیا۔ تکنیکی مداخلت نے ایک نیا طول و عرض کھڑا کیا ہے ، جو کسی بھی ایڈیٹر کی پہنچ سے بہت دور ہے۔ آج، سوشل میڈیا کا رپورٹ،ہی ایڈیٹر ہے۔ اور خبروں کے انتخابات کو لے کر اس پر کوئی پابندی نہیں ہے اور نہ ہی اسے نیوز روم کی جانب سے کوئی ہدایات دئے جاتے ہیں۔ چنانچہ یہ رسمی پریس کے لئے ایک کھلا چیلنج ہے کہ وہ سوشل میڈیا صحافت نامی اس مخلوق کی رفتار کے برابر چلتا رہے۔ جسے صرف 'پریس' نہیں کہا جا سکتا اور جو غیر رسمی ہونے کے ساتھ ساتھ آزاد بھی ہے۔

خبروں کی اس نئی میڈیا کو، خاص طور پر ٹی وی صحافت کو، ایک نئی گرامر کی تخلیق کرنی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں ٹی وی کی خبریں نہ ہی اتنی لاتعلق ہیں اور نہ ہی پہلے کی طرح غیر جانبدار ہیں، جیسا کہ بہترین صحافت کے گرو کی جاب سے مقرر کی گئی تھی۔ خبروں کی نشریات کا قدیم طریقہ اب انتہائی بورنگ، شائستہ اور توانائی  سےمبرا ہو گیا ہے۔ جدید خبروں کا ایک خود کا نقطہ نظر ہونا بہت ضروری ہے۔ جبکہ قدیم صحافت کے خیال ایڈیٹر کی سوچ یا اوپینین پول پر مبنی تھے۔ ٹی آر پی کی چوہا دوڑ نے حقائق پر مسلسل غور کرنے کے اہم اصول کو نظر انداز کر دیا ہے۔ نئی صحافت کا نیا منتر ہے - سپیڈ یعنی رفتار۔ کوئی بھی خبر صرف چند لمحات تک ہی زندہ رہتی ہے۔ ہر لمحے میں ایک نئی خبر ہونی چاہئے۔ یہاں ایک تضاد بھی ہے۔ یہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے کسی خاص خبر کو جس میں ناظرین کی زیادہ دلچسپی کا امکان ہوتا ہے، اتنی بار دکھایا جاتا ہے کہ وہ اپنی اصل شکل اور مقصد کھو دیتی ہے۔

ایک وقت میں پھر بھی ایک عام رائے ہوا کرتی تھی۔ ٹی وی  کبھی سیکیولر ، جدید اور جمہوری تھا۔ اس نے کبھی بھی فرقہ واریت کی حمایت نہیں کی، نہ ہی اس نے کبھی بنیاد پرست نظریات کو پنپنے دیا۔ اس نے ہمیشہ اختلافات کا احترام کیا، اختلاف پر غور کیا، حقیقت کے لئے جدوجہد کی اور تشددبھرے خیالات کی مخالفت کی۔ یہ ماحول کہیں نہ کہیں 'لیفٹ' کی تعلیمات سے متاثر تھا۔ وہی اتفاق رائے حالیہ وقت میں بکھری ہوئی پائی گئی۔ اب اصل ہوا ہے 'راِئٹ' کے کے تعارف کی۔

'رائٹ' ہونے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ امریکہ اور یورپ جیسے ترقی یافتہ جمہوریتوں میں ایک بہت مضبوط 'رائٹ نظریہ' ہے، لیکن بھارت میں یہ ایک نیا واقعہ ہے۔ لییفٹزم کی طرح رائيٹزم کا کوئی منظم نقطہ نظر نہیں ہے۔ یہ زیادہ تر آر ایس ایس کے نظریات کی طرف سے ہدایت پر منحصر ہے۔ آر ایس ایس کی یہ نئی تعریف سیکولرزم کو کھلا چیلنج دیتا ہے۔ جذبات کے تئیں اپنی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بھی اس وقت یہ حب الوطنی کی وضاحت کر رہا ہے۔ کسی بھی بحث یا الگ تھلگ خیال کو غدار قرار دیا جاتا ہے۔ اور یہی کسی زہین یا سادہ سوچ یا پھر کھلی بحث کے موقع کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ آج صرف دکھاوے کی طاقت حکومت کر رہی ہے۔ ٹی وی ا سٹوڈیو ز کوغیر حقیقی جنگ کے میدانوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں ہر پل ہر ایک کو ملک کے تئیں اپنی محبت کا دعوی کرنا پڑ رہا ہے۔

لیکن یہ ایک بہت بڑے خطرے کی پرچھائی ہے - تعصب مکمل ہونے کا رجحان اکثریت کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ وہ اقلیتوں کے خیالات کو قتل کر کےاپنےجنوں کو نئی اونچائيوں پر لے جا رہا ہے جو بھارت جیسے متفرقات سے بھرے معاشرے کے لئے بہت مہلک ہے۔ اظہار خیال  کے بنیادی حق کو ختم کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی رائے کو ہی مقدس مانکر دانشور لیڈروں سے نفرت کی جا رہی ہے۔  ایک وقت تھا جب خود وزیر اعظم کو بھی نہیں بخشا جاتا تھا۔ سب سے زیادہ طاقتور وزیر کی سخت سے سخت تنقید کے بعد بھی ایک صحافی آرام سے سو سکتا تھا اور اگلے دن اپنے کام یا وقار کھونے کے خوف کے بغیر اپنے آفس آ جاتا تھا، لیکن اب ایسا نہیں لگتا، ک کیوں کہ  دہشت کا ماحول ہے۔ میں اسے خاص طور پر بولنے کی آزادی اور عام طور پر جمہوریت کو زہر آلود کرنے کے برابر کہوں گا۔

میں یہ نہیں کہتا کہ صحافت پر کوئی خطرہ ہے، بلکہ میں  یہ کہوں گا  کہ آج ٹی وی اسٹوڈیوز نے ایک نیا بحران کھڑا کر دیا ہے۔ یہ بحران ضمیر پر ہے۔ اس بات کی آزادی کے ہر بنیاد پر حملہ کر رہا ہے۔ اگر اقتدار کے دباؤ کی وجہ سے تمام ایڈیٹر اور صحافی صحافت کے بنیادی مقاصد کو چھوڑ کر اپنی تنخواہ کی زیادہ پرواہ کرتے رہیں گے، تو یہ  انتہائی سنگین حالت ہے۔ 

خوش قسمتی سے، اخبار ابھی تک زیادہ متحرک ہیں۔ ڈیجیٹل صحافت نئے طول و عرض چھو رہی ہے۔ ٹی وی زیادہ طاقتور ہے، لیکن وہ شہریوں کی نظر میں اپنا احترام کھو رہا ہے۔ صحافیوں کے لئے صرف ان کی ساکھ ہی ان کی دولت ہے۔ ٹی وی میں یہ مقام دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔ کچھ نیوز پورٹل بے خوف صحافت کو اپنی آواز دے رہے ہیں۔ انہوں نے نئے افق کو چھو ا ہے۔ سیلبریٹی اینكرس کو سمجھنا چاہئے کہ مستقبل وہیں ہے، اور ان کے مالکان کو بھی مسٹر اٹل بہاری واجپيي جی کے برسوں پرانے بیان کو سمجھنا چاہئے -

"جمہوریت 51 اور 49 کا کھیل نہیں ہے۔ جمہوریت اصل میں ایک اخلاقی نظام ہے۔محض پارلیمنٹ قوانین اور اعمال کا ایک کورٹ روم نہیں ہے، وہاں الفاظ کو کاٹا جاتا ہے۔ آئین اور قوانین اہم ہے، لیکن اگر جمہوریت کو صرف ایک ساخت یا ایک طریقہ بنایا جائے گا، تو وہ اپنا بنیادی وجود کھو دے گا اور یہ ایک مسئلہ ہے۔ یہ نہ ہونے دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ "