تعمیراتی کاموں میں گرین ہاؤسنگ انقلاب ... كلوروارتھ

0

'' میں لکڑی بناتا ہوں۔ '' اس بات کو تقریبا ایک سال ہو چکا ہے جب كلوروارتھ (بيسوتومنتجی) کے بانی ڈیوڈ جیمز نے یہ بیان دیا تھا۔ اور آج وہ اس مرکب میں سٹیل اور سیمنٹ کو بھی شامل کرنے کی بات کرتے ہیں۔ زراعت اور قابل تجدید وسائل استعمال کر کے عمارت کی تعمیر سے متعلق مواد تیار کرتے ہیں۔ ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ کمپنی کا ارادہ اپنے کاروباری ماڈل کا استعمالکرتے ہوئے نہ صرف پائیدار مصنوعات تیار کرنے بلکہ تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کے لئے مختلف قسم کے زرعی مصنوعات تیار کرنابھی ہے۔

آج كلوروارتھ مکمل توجہ گرین ہاؤس کے علاقے میں دنیا میں معروف مقام حاصل کرنے پر ہے۔ ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی توجہ صرف لکڑی پر ہی نہیں دے رہے ہیں بلکہ اب ان کا مشن لکڑی کے علاوہ دو مواد کو سیمنٹ اور اسٹیل میں تبدیل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ڈیوڈ کے دماغ میں یہ خیال گزشتہ سال اس وقت آیا جب ان کے ایک ساتھی نے طویل مدتی مواد کا استعمال کرتے ہوئے 20 ہزار سے 30 ہزار گھروں کی تعمیر کے لئے ان سے رابطہ کیا۔

بی 2 بی کمپنی سے بی 2 جی کمپنی تک کا سفر

ڈیوڈ کہتے ہیں کہ اپنے اس خیال کو عملی جامہ پہناتے ہوئے انہوں نے كلوروارتھ کو بی 2 بی بی 2 جی (بزنس ٹو گورنمنٹ) کمپنی بنانے کی سمت میں کام کرنا شروع کیا۔ ان کی یہ کمپنی اب حکومت کے ساتھ ملکر کام کرنے پر اپنی ساری توجہ مرکوز کر رہی ہے تاکہ ملک بھر میں ان کی تیار کردہ اشیاء کا استعمال کیا جا سکے۔

ڈیوڈ بتاتے ہیں، '' تعمیراتی کاموں میں سیمنٹ استعمال کرنے پر نہ صرف پانی کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں بہت سی گرین ہاؤس گیسوں کا بھی اخراج ہوتا ہے۔ اگر ہم اسے کسی ایسی چیز سے تبدیل کر سکیں جو کم زہریلی ہونے کے ساتھ ساتھ تخلیقی مضبوطی میں سیمنٹ کو ٹکر دے سکے تو تعمیر کی لاگت کو ایک ڈالر سے کم کر کے پانچ سینٹ تک لایا جا سکتا ہے۔ '' ان کے مطابق آج گھروں کی تعمیر میں اسی مواد کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس کا استعمال فلک بوس عمارتوں کو بنانے میں کیا جاتا ہے اور یہ بالکل غیر ضروری ہے۔

ڈیوڈ بتاتے ہیں کہ ان کا خیال بنیادی طور پر مستقل تعمیری کاموں میں جيوپاليمرس استعمال کرنے کا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر مواداور مصنوعات آسانی سے دستیاب وسائل کا استعمال کرتے ہوئے تیار کی جائیں گی۔ اسٹیل کی مثال دیتے ہوئے ڈیوڈ بتاتے ہیں کہ تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والے لوہے کو ہندوستان میں آسانی سے دستیاب بہت سے دیگر وسائل سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

كلوروارتھ کا ارادہ ہندوستان کے ذریعے پوری دنیا کی مارکیٹ پر قبضہ کرنے کا ہے۔ اس کے لئے اس کے پاس صنعتی ماحول کے شعبے میں کام کرنے کا تجربہ اور مکمل علم رکھنے والی ٹیم موجود ہے۔

ڈیوڈ کہتے ہیں، '' ہم جس جيوپاليمر آئی پی کی تعمیر پر کام کر رہے ہیں۔ اس کی قیادت ہمارے ایک دوست کر رہے ہیں جنہیں اس کا 35 سال کا تجربہ ہے۔ ''

اسمارٹ دیہات کی تعمیر

كلوروارتھ کا ارادہ اسمارٹ گاؤں کی تعمیرکرنا ہے۔ یہ ٹیم آئندہ 60 سے 90 دن کے اندر اندر 25 ہزار سے 30 ہزار کے قریب گھروں کی تعمیر کے لئے تیار ہے۔ یہ ٹیم غیر شہری علاقوں میں ایک سے تین منزلہ عمارتوں کی تعمیر پر اپنی نظریں گڑائے بیٹھی ہے۔ ڈیوڈ کہتے ہیں کہ ان کا ارادہ فلک بوس عمارتوں کی تعمیر کرنا نہیں ہے، بلکہ

آج کے وائی فائی اور انٹرنیٹ کے دور میں ہر کسی کے لئے صرف شہری علاقوں میں رہائش گاہ کی تعمیر کے ساتھ دیہی علاقوں میں بھی کام کرنا ضروری ہے۔

وہ کہتے ہیں، '' مجھے لگتا ہے کہ فی الحال شہروں میں بہت زیادہ گنجان آبادییاں ہو گئی ہیں اور اب ان علاقوں میں صفائی کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔''

ان کا خیال ہے کہ دیہی علاقوں میں شہری زندگی کی تمام سہولیات کے ساتھ زندگی بڑے آرام سے بسر کی جا سکتی ہے اور وہ بھی شہروں سے آدھی قیمت پر۔

وہ مزید کہتے ہیں، '' ایک اسمارٹ سٹی کو تیار کرنے میں استعمال کئے گئے انفراسٹرکچرسے جو فوائد حاصل ہوتے ہیں اس سے ماحول اس سے کہیں زیادہ قیمت وسولتا ہے۔ تمام شہر بہت بری طرح سے تنگ ہو گئے ہیں اور اس کو نظرانداز کردینا مسئلہ کا حل نہیں ہیں''

ایک گریزاں بازار

ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں وینچر کیپٹل کرنے والی کمیونٹی کی کافی کمی ہے۔ یہاں پر دولت کی سرمایہ کاری کرنے والے زیادہ تر ادارے مغرب کی معاشیات پر عمل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ہندوستان میں خاموش مطالبہ کو سمجھا نہیں جاتا ہے۔ انٹروینشن کیپٹل کا تو کہیں کوئی نام و نشان ہی نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں، '' میں یہاں پر کسی ایسے وی سی (وینچر کیپٹلسٹ) سے ملنے کے لئے بے قرار ہوں جو یہ سمجھتے ہوں کہ انٹروینشن کیپٹل کس چڑیا کا نام ہے۔ ''

بڑے بین الاقوامی سرمایہ کار ان کے اس خیال کی حمایت میں ہیں لیکن ریزرو بینک آف انڈیا کی منظوری ملنے میں انہیں ضرورت سے زیادہ وقت لگ رہا ہے۔

بازار کا مستقبل

مختلف ریئل اسٹیٹ ڈیولپرس اور رئيلٹرس کی جانب سے كروائے گئے جائزوں کے مطابق گرین ہاوس گھروں کا مطالبہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ منسٹری آف ہاؤسنگ اینڈ اربن پاورٹی ایليویشن کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2012 میں ملک بھر میں شہری علاقوں میں تقریبا 18.78 ملین گھروں کی کمی ہے۔

سال 2011 میں ہندوستان میں تقریبا 800 ملین مربع فٹ گرین بلڈنگ کے علاقہ پایا گیا، جس میں سے 40 فیصد رہائشی علاقے تھے۔ اس کے علاوہ اسی سال پونے کے پمپری چنچواڑ میونسپل گرین ہاؤسنگ کے تصور کو پیش کرنے اور اپنانے والا ملک کا پہلا میونسپل کارپوریشن بن گیا۔

فی الحال ہندوستان میں یہ مارکیٹ ابھی اپنی ابتدائی حالت میں ہے۔ عالمی سطح پر گرین عمارتوں اور رہائشی بازاروں کی مارکیٹ 60 بلین امریکی ڈالر تک بڑھنے کا اندازہ ہے۔ سال 2014 کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو اس دوران امریکہ میں نو تعمیر شدہ مکانات میں گرین بلڈنگ کی شرح 20 فیصد ہونے کا اندازہ ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem