آندھرا ہوزری کے قدم اب نئے علاقوں کی جانب

آندھرا ہوزری کے قدم آئی ٹی شہر کی جانب... سکندرآباد اور عابڈس کے بعد اب سوماجی گوڑہ میں...1939 میں شروع ہوا تھا کاروبار.....5 نئے شوروم کھولنے کا منصوبہ.....آن لائن کاروبار میں بھی دلچسپی

0

حیدرآباد میں تقریبا 75 سالہ کاروباری تاریخ رکھنے والے کپڑوں کے تاجر آندھرا هوزری نے اپنی توسیع کرتے ہوئے حیدرآباد کے مغربی علاقے میں قدم رکھا ہے۔ سوماجی گوڈا میں نئی قائم شدہ ان کی تیسری شاخ کا افتتاح ہوا اور اب آندھرا ہوزری نئے علاقوں میں قدم رکھنے کی تیاریوں میں ہے۔

آندھرا ہوزری کا قیام تقریباً سات دہائی پہلے اس دور میں ہوا تھا، جب ابھی کپڑے کے کاروبار روایتی ڈھنگ سے چل رہے تھے۔ زیادہ تر تاجر کسی ایک چیز کی ہی تجارت کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ ان کاروباریوں نے اپنے اسٹور پر مقررہ چیزوں کے علاوہ دوسری اشیاء بھی فروخت کرنا شرعو کر دیا۔اب آندھرا ہوزری کو ہی لیجئے۔ نام تو ہوزری کا ہے،لیکن شرٹ، ٹرازر، جینس، جاکیٹ، نائٹ سوٹ، انڈر گارمینٹ، انارکلی، لہنگا سبھی طرح کی ملبوسات یہاں پر موجود ہیں۔

یور اسٹوری سے بات چیت کرتے ہوئے آندھرا هوزری سوماجيگڈا کے ڈایریکٹر محمد ہارون نے بتایا کہ یہ ان کے خاندان کی چوتھی نسل ہے جو اس کاروبار میں سرگرم ہے۔ 1939 میں پہلا شورو میں سکندرآباد میں شروع ہوا تھا اور پھر 30 سال پہلے اس کی دوسری شاخ عابڈس میں قائم کی گئی تھی۔

ہارون نے بتایا کہ بنجارہ ہلز، مادھاپر، اور سوماجی گوڈا کے ارد گرد کے علاقے سے گاہكوں کا سکندرآباد اور عابڈس کو پہنچ ٹریفک کی وجہ سے مشکل ہو رہا تھا، اس لئے ان کے مطالبے کو دیکھتے ہوئے سوماجی گوڈا میں نیا شوروم قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ انهوےنے بتایا کہ یہاں نہ صرف خواتین مرد اور بچوں کے ملبوسات بلکہ نوذایدہ بچوں کی بھی ساری ضرورتیں ایک جگہ پر دستیاب کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ پانچ سالوں میں حیدرآباد میں 5 اور شوروم قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ وہ دوسرے شہروں میں بھی اپنے نئے شوروم قائم کرنا چاہتے ہیں۔

آج کپڑوں کے کاروبار میں کافی مسابقت ہے، کاروبارکا پھیلانا تو دور صحیح طریقیے سے چلانا بھی کافی مشکل ہے۔ کاروبار میں آئے نئے چالیج کے بارے میں ہارون بتاتے ہیں،

''گاہک کو مطمئن کرنا سب سے بڑا چیالیج ہے۔ چونکہ ہمارے ایک شوروم پر روزانہ ایک ہزار سے زائد گاہک آتے ہیں، تو انہیں میعاری چیزوں کے ساتھ ساتھ مہنگائی سے بچانا بھی ہماری زمہ داری ہے۔ یہ دونوں کام کر پائیں تبھی کاروبار کو ایمانداری سے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ہمیں گاہکوں کا یقین حاصل ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ آج اسٹوران کی پہنچ میں ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نظراب مادھاپوراورگچی باولی پر ہے۔''

آندھرا ہوزری کی شرعات محمد قاسم صاحب نے 1930 میں فٹپاتھ سے کی تھی۔ ہارون بتاتے ہیں،

'' پڑدادا محمد قاسم صاحب نے سکندرآباد میں محبوب کالج کے پاس اس فٹپاتھ سے اس دکان کی شروعات کی تھی۔ اس وقت جب صرف نکر اور بنیان ہی فروخت ہوتے تھے، لیکن جب کاروبار بڑھا اوراسٹور کی شروعات ہوئی تو ریڑیمیڈ بھی کاروبار کی حصہ ن گیا۔ اور آج یہ حیدرآباد میں ایک براںد کی شکل اختیار کر چکا ہے۔''

ہارون نے بچپن سے اپنے والد محمد ابراہیم کے ساتھ کاروبار کا تجربہ حاصل کیا ہے۔ بہت جلد وہ آن لائن تجارت میں بھی قدچ رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یور سٹوری کی نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں۔