مقصد کو حاصل کرنے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں متیش کھتری

0

اویكن دی لیڈر ان یو' کے مصنف اورگائڈنگس هائڈس کنسلٹینٹ کے بانی متیش کھتری

200کمپنیوں کے ساتھ منسلک ہیں

اب تک 2 لاکھ لوگوں کو تربیت دے چکے ہیں

متیش کی دوسری کتاب 'دی لا آف اٹریكش' بھی شائع ہو چکی ہے


''ہر شخص میں قیادت کےخوبیاں اور خصوصیات ہوتی ہیں، لیکن کوئی اس کی شناخت کر پاتا ہے اور کوئی اس سے بے خبر ہی رہتا ہے۔ قیادت کی خصوصیات کو پہچاننا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ اسے کس طرح سے نکھارا جا سکتا ہے، یہ سوچنا اور اس پر عمل کرنا لازمی ہے۔ کارپوریٹ دنیا یہی کام لیڈرشپ ڈیولپمنٹ کے نام سے کرتی ہے۔ '' ان خیالات کا اظہار قومی سطح پر اپنی کتاب 'اویكن دی لیڈر ان یو' کے مصنف اورگائڈنگس هائڈس کنسلٹینٹ کے بانی متیش کھتری نے کیا۔

متیش آج دنیا بھر کے کارپوریٹ شعبے میں کارپوریٹ ٹرینر کے طور پر اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ اویكن دی لیڈر ان یو کے بعد انہوں نے بیسٹ سیلر مصنف کے طور پر بھی اپنی شناخت بنا لی ہے۔ متیش کا تعلق پو نے شہر سے ہے۔ انہوں نے تقریبا 15 سال پہلے میكس ورتھ مركنٹائل میں سلس مینیجر کے طور پر کارپوریٹ دنیا میں قدم رکھا تھا۔ یہاں ایک دن اپنی ٹیم کے ساتھ ایک مباحثے کے دوران ان کے اعلی افسر نے کہا، 'متیش آپ اتنے اچھے مینیجر نہیں ہیں، جتنے اچھے ٹرینر ۔'

پھر کیا تھا، متیش نے اپنے اندر کی ان خصوصیات کو تلاش کرنا شروع کیا اور اپنی بیوی اندو کے ساتھ مل کر جي ایچ کا قیام کیا۔ اور آج وہ ٹرینر کے طور پر پانچ ممالک میں 200 کمپنیوں کے ساتھ منسلک ہیں اور اب تک 2 لاکھ لوگوں کو تربیت دے چکے ہیں۔

وہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اس شعبے میں ہیں، تو پھر کتاب لکھنے میں اتنی تاخیر کیوں؟

اس سوال کے جواب میں متیش کہتے ہیں کہ کتاب لکھنے کے لئے ٹرینر ہونے سے مختلف کچھ اور خصوصیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں،

''میں ٹرینر تھا اور بہت ساری کتابیں پڑھ رکھی تھیں، بہت سے ٹریننگ کلاسیس میں خود بھی طالب علم کی طرح شامل ہوا تھا، یہ کتاب لکھنے کے لئے کافی نہیں تھا۔ کتاب لکھنے کے لئے اور گہرائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ کچھ تجربے ہیں جن کی بنیاد پر اب کتاب لكھی جا سکتی ہے تو پھر میں نے قلم اٹھائی۔

ابھی تک ہمارے ملک میں عام شعبے میں سیکھنے پر خرچ کرنے کی روایت کو فروغ نہیں مل پایا ہے۔ خاص طور پر جب اپنے ملازمین کو تربیت دے کر انہیں اعلی درجے کے کام کے لئےتیار ہونے کا احساس دلانے اور ان میں بیداری لانے کا شعور ابھی کاروباری شعبے میں پیدا نہیں ہو پائا ہے۔ ''

کارپوریٹ شعبے میں اس کلچر کا فروغ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی وسائل کی ترقی کے لئے کارپوریٹ شعبے میں کارپوریٹ ٹرینر کا کام بھی بڑھا ہے ہے۔ کسی بھی ادارے یا کمپنی کی ترقی اسی وقت ممکن ہے، جب اس کے کام کرنے والے لوگ اس کمپنی کو اپنا مانتے ہوں۔ اس بات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے متیش کہتے ہیں۔

'' دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک جو کام کو نوکری کی طرح کرتے ہیں اور دوسرے جو کام کو اپنے اس کام کے مالک ہونے کے احساس کے ساتھ کرتے ہیں۔ حالانکہ ملازم کمپنی کا مالک نہیں ہو سکتا، لیکن اگر وہ اس عہدے پر ملکیتی انداز سے کام کرتا ہے تو اس کے کام میں کافی بہتری آ سکتی ہے، اگر وه ملازم کے طور پر کام کرے گا تو اس میں مالکانہ جذبے کوفروغ حاصل نہیں ہو سکتا ۔ میرا ہدف ہے کہ اسی مائنڈسیٹ کو فروغ دوں۔''

متیش بتاتے ہیں، مالک ہونے کا احساس ہر شخص میں ہوتا ہے، لیکن عزم کی عدم موجودگی میں اسکو حوصلہ نہیں مل پاتا۔ زندگی میں دو طرح کے ہدف ہوتے ہیں، جنہیں پورا کرنے کے ہم 'شُڈ' اور 'مسٹ' جیسے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔ در اصل امکانات والے مقصد ہمیشہ دور رہتے ہیں۔ جن مقاصد کو ہم بنیادی فرض سمجھ کر کرتے ہیں، وہ ضرور حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

ایک کارپوریٹ ٹرینر کے کاموں کے بارے میں متیش بتاتے ہیں کہ اس کا اصل کام لوگوں میں اعتماد پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اس کی سوچ اور اعتماد کو ایکشن میں تبدیل کرنا ہوتا ہے۔ کسی بھی کمپنی میں ملازمین کے درمیان کام کرنے کا ماحول اسی وقت بن سکتا ہے، جب ان آپس میں یقین اور اعتماد کا ماحول بنا رہے۔

متیش کی دوسری کتاب بھی شائع ہو چکی ہے۔ 'دی لا آف اٹریكش' کتاب کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ فروری میں اس کتاب کو لانچ کیا جائے گا۔ اس میں توجہ کس طرح مرکوز کی جائے اس پر بحچ کی گئی ہے۔ یہ کشش خوبصورتی یا محبت کی نہیں، بلکہ توانائی کی ہے۔ یہ توانائی بھی سب میں ہوتی ہے، لیکن جیسا ہم سوچتے ہیں، توانائی اسی طرف غلبہ حاصل کرنے لگتی ہے۔ اس توانائی کو صحیح سمت دینے کے لئے صحیح سوچ کی ضرورت ہے۔ اسی طرح سے مثبت سوچ والے لوگ ایک دوسرے پر یقین کر کام کرنے لگتے ہیں، بہت سے ایسے کام ممکن بن جاتے ہیں، جسے ایک شخص سے مشکل ہے۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories