اپنے جذبے سے تاج محل کی خوبصورتی کو مات دینے والی ... ’ شيروز ہینگ آؤٹ‘ کی پانچ خواتین ...

0

تیزابی حملوں کی شکارپانچ خواتین مل کر چلا رہی ہیں ’ شيروز ہینگ آؤٹ‘ ...
تاج محل سے محض چند قدموں کے فاصلے پر ہے یہ انوکھی جگہ ...
اپنی مرضی سے ادا کرنا ہوتا ہے کھانے پینے کا بِل ...


آگرہ کے ’تاج محل‘ کے سامنے خوبصورتی کی تمام مثالیں پھيكي ہیں، لیکن وہاں سے محض چند قدم دُور ہے ’ شيروز ہینگ آؤٹ‘ (Sheroes Hangout) تاج محل کو اگر محبت کی نشانی سمجھا جاتا ہے تو  ’شيروز ہینگ آؤٹ‘ ایک ایسی جگہ ہے جو محرّک ہے انسانیت کی، اُمید ہے زندگی کی، احساس ہے بے شمار مشکلات کے بعد بھی کچھ کرنے کا، حوصلہ ہے حالات سے مسلسل لڑ کرسرخرو ہونے کا، چاہت ہے خود کو پھر سےسنوارنے کی، اور ہمّت ہے ایسی جانباز خواتین کی بازآبادکاری کی، جو کہ’ ایسڈ اٹیک‘ کی شکار ہیں ۔

کھانے پینے کی اِس انوکھی جگہ ’شيروز ہینگ آؤٹ‘ کوچلا رہی ہیں تیزابی حملوں کی شکار، ریتو، نیتو، ڈولی ، روپالی اور گیتا نام کی پانچ خواتین ۔ ’ شيروز ہینگ آؤٹ‘ میں نہ صرف کھانے پینے کا لطف اٹھایا جا سکتا ہے بلکہ کوئی چاہے تو وہ ایسڈ اٹیک کی شکار’ روپالي ‘کے ڈیزائن کئے ہوئے کپڑے بھی خرید سکتا ہے۔

’شيروز ہینگ آؤٹ‘ کی شروعات گزشتہ سال 10 دسمبر کو ہوئی تھی ۔ اِسے شروع کرنے کا آئیڈیا تھا ایسڈ اٹیک کی شکار لکشمی کا، جوکہ ایسڈ اٹیک کی شکار خواتین کے حق اور انصاف کے لئے کئی لڑائیاں لڑ چکی ہیں اور اب اپنے اِدارے ’چھاؤں‘ فاؤنڈیشن کے ذریعے اُن کی بازآبادکاری کے معاملات دیکھ رہی ہیں ۔ ’ شيروز ہینگ آؤٹ‘ کا کام کاج دیکھنے والی ’ریتو‘ کا کہنا ہے کہ

’’ اِس ہینگ آؤٹ کو شروع کرنے کا بنیادی مقصد تیزابی حملوں سے متاثر لڑکیوں کو از سرِ نو آباد کرنا تھا۔ ایسے لوگوں کو نہ سرکاری آفس میں کام ملتا ہے اور نہ پرائیویٹ آفس میں، کیونکہ زیادہ تر مقدمات میں خواتین پر تیزابی حملےکم عمری میں ہوئے ہوتے ہیں جبکہ وہ اپنی تعلیم بھی مکمل نہیں کر پائی تھیں۔‘‘

اِس کے باوجود کہ ’ شيروز ہینگ آؤٹ‘ میں پڑھائی زیادہ معنی نہیں رکھتی، یہاں اِس بات پر بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے کہ کس طرح تیزابی حملوں کے متاثرین کی زیادہ سے زیادہ مدد کی جا سکے۔

’ شيروز ہینگ آؤٹ‘ کی خاص بات یہ ہے کہ اِن کے مینو میں کسی بھی چیز کی قیمت طئے نہیں کی گئی ہے، یہاں آنے والا گاہک خود اپنی مرضی کے مطابق اپنا بِل ادا کرتا ہے ۔’ریتو‘ کے مطابق ’’اِس کی خاص وجہ یہ ہے کہ یہاں پر کوئی بھی امیر یا غریب آ سکتا ہے کیونکہ اُن کا خیال ہے کہ ہر کوئی فائیو اسٹار جیسی بڑی جگہ جاکر کافی نہیں پی سکتا ۔‘‘ اِس کے علاوہ یہاں آنے والے لوگ یہ بھی جان سکیں کہ ’ شيروز ہینگ آؤٹ‘ کو کس مقصد سے شروع کیا گیا ہے ۔ ’ شيروز ہینگ آؤٹ‘ میں آنے والے لوگوں کو یہاں پر نہ صرف’ کافی‘ ملتی ہے بلکہ کھانابھی کھلایا جاتا ہے۔ آگرہ میں عوام کے مثبت ردّ ِ عمل کے بعد اب اگلے سال ’ 'شيروز ہینگ آؤٹ‘ لکھنؤ میں بھی شروع کیا جائے گا۔ ’ شيروز ہینگ آؤٹ‘ میں ایسڈ اٹیک کی شکار پانچ خواتین کے علاوہ 7 دیگر افراد بھی کام کرتے ہیں۔

’ شيروز ہینگ آؤٹ‘ ہفتے میں ساتوں دن صبح 10 بجے سے رات 10 بجے تک کھُلا رہتا ہے ۔ابتداء میں جب ’ شيروز ہینگ آؤٹ‘ کو شروع کیا گیا تھا تو اِسے کافی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اب حالات بدل گئے ہیں ۔ آج ’ شيروز ہینگ آؤٹ‘ اپنے ہی بل بوتے پر نہ صرف اپنے ملازمین کی تنخواہ اور دکان کا کرایہ ادا کر رہا ہے بلکہ اب یہ منافع میں بھی آ گیا ہے ۔’ریتو‘ کے مطابق ’’ شيروز ہینگ آؤٹ‘ کے مالی منافع کوتیزابی حملوں سے متاثرہ خواتین کے علاج اور ان کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاتا ہے ۔‘‘

یہاں پر آنے والے زیادہ تر گاہک غیر ملکی سیّاح ہوتے ہیں ۔’ریتو‘ کے مطابق ’’ ٹرِپ ایڈوائزر‘ جیسی ویب سائٹ ’ شيروز ہینگ آؤٹ‘ کو اچھّی ’ریٹنگ‘ دیتی ہے۔ اِس لئے یہاں آنے والے لوگ ’ فیس بُک‘یا دوسری جگہوں پر اِن کے بارے میں پڑھ کر آتے ہیں ۔‘‘

’ شيروز ہینگ آؤٹ‘ کو مختلف طرح کی پینٹنگزسے سجایا گیا ہے اِس لئے یہاں سے گزرنے والے سیّاح تھوڑی دیر رُک کر اِس جگہ کو ایک بار ضرور دیکھتے ہیں ۔ یہاں آنے والے کئی گاہک’ ایسڈ اٹیک‘ سے متاثرہ خواتین سے بات کرتے ہیں، اُن کی کہانی سنتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کس طرح سے ’ شيروز ہینگ آؤٹ‘ کو چلاتی ہیں ۔’ریتو‘ کا کہنا ہے کہ ’’جب لوگوں کو ہمارے بارے میں پتہ چلتا ہے تو کئی بار وہ چائے ناشتہ کے لئے نہیں بلکہ ہم سے بات کرنے کے لئے آتے ہیں ۔‘‘ شيروز ہینگ آؤٹ میں ایک ساتھ 30 لوگ تک بیٹھ سکتے ہیں ۔ یہاں کے مینو میں چائے اور کافی کے علاوہ کئی طرح کے’ شیک‘ مل جائیں گے ۔ اِس کے علاوہ ٹوسٹ، نوڈلس، فرینچ فرائی، برگر، مختلف طرح کے سُوپ، ڈیزرٹ اور دوسری بہت سی چیزیں بھی ملتی ہیں ۔

یہ جگہ صرف ’ہینگ آؤٹ‘کے لئے نہیں ہے بلکہ اگر کوئی چاہے تو یہاں پر پارٹی بھی کر سکتا ہے ۔ آگرہ کے فتح آباد روڈ پر واقع ’ شيروز ہینگ آؤٹ‘ تاج محل کے مغربی دروازے سے محض پانچ منٹ کے فاصلے پر ہے ۔

یہاں کا کام کاج سنبھالنے والی، ایسڈ اٹیک کی شکارخاتون ’ریتو‘ ہریانہ کے روہتک، روپالي مظفرنگر کی رہنے والی ہیں ، انہوں نے دسویں تک تعلیم حاصل کی ہے اور وہ ریاستی سطح کی ’والی بال‘ کھلاڑی رہ چکی ہیں ۔ ڈولی، نیتو اور گیتا آگرہ کی ہی رہنے والی ہیں ۔ نیتو اور اُن کی ماں گیتا پر اُن کے والد نے تیزاب پھینکا تھا جبکہ روپالي پر اُن کی سوتیلی ماں نے تیزاب سے حملہ کیا تھا ۔

’ریتو‘ پر ایک رشتے دار بھائی نے 26 مئی، 2012 کو’ ایسڈ اٹیک‘ كراوايا تھا۔ اس کے بعد وہ 2 مہینے تک اسپتال میں رہیں ۔ اس درمیان اُن کے 2 آپریشن بھی ہوئے ۔ ایک سال بعد دہلی کے اپولو اسپتال میں 6 آپریشن ہوئے ۔ ’ریتو‘ کے مطابق اتنےآپریشن ہونےکے بعد بھی وہ ٹھیک نہیں ہوئی ہیں اور اُن کے مزید آپریشن ہونے ابھی باقی ہیں ۔’ریتو‘گزشتہ ڈیڑھ سال سے اس مہم میں شامل ہوئی ہیں۔ آج وہ یہاں انتہائی خوش ہیں اوراُن کا کہنا ہے کہ ’’سب کے پاس ایک خاندان ہوتا ہے، لیکن میرے پاس دو خاندان ہیں ۔ مجھے یہاں کافی محبت و شفقت ملتی ہے ۔‘‘ اب ’ریتو ‘ کی تمنّا ہے کہ وہ ایک بار پھر اسپورٹس میں اپنی قسمت آزمائیں۔

’ریتو‘ کے مطابق ’ شيروز ہینگ آؤٹ‘ کی شروعات یہ سوچ کر کی گئی تھی کہ ایسڈ اٹیک کی شکار لڑکیاں یا عورتیں کسی سے مانگ کر نہ کھائیں اور وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں ۔ لہٰذا آج بھی جب کچھ لوگ یہاں آکر کہتے ہیں کہ وہ کچھ کھانا نہیں چاہتے لیکن پیسے دینا چاہتے ہیں تو یہ خواتین انکار کر دیتی ہیں ۔ ’ریتو‘ کا کہنا ہے کہ ’’یہ ہماری نوکری ہے، ہم کسی سے احسان نہیں لے سکتے ۔ جس طرح لوگ کسی کیفے یا آفس میں کام کرتے ہیں، ہم لوگ بھی ایسے ہی یہاں پر کام کرتے ہیں ۔‘‘

ویب سائٹ: www.sheroeshangout.com

قلمکار : ہریش بِشٹ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Harish Bisht

Translation by : Anwar Mirza