اِس اسکول میں مُفت تعلیم کے ساتھ لڑکیوں کو دیئے جاتے ہیں 10 روپے روز ...

0

'’پردادا،پر دادی گرلس انٹر کالج‘ میں 1300 لڑکیاں حاصل کر رہی ہیں تعلیم ...

سال کے12 مہینے کھُلا رہتا ہے اسکول ...

خواتین کو خود کفیل بنانے کے لئے تشکیل دیا’سیلف ہیلپ‘ گروپ ...


خواتین آج ہر شعبےمیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں، لیکن معاشرے میں تعلیم کے معاملے میں اب بھی لڑکیوں کے مقابلے لڑکوں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے ۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے’ ویریندر سیم سنگھ ‘ نے تقریباً 40 سال بیرون ِملک گزارنے کے بعد یوپی کے’ بلند شہر‘ میں لڑکیوں کے لئے ایک ایسا اسکول کھولا جو دوسروں کے لئے مشعلِ راہ ہے ۔

اِس اسکول میں پڑھنے والی ہر لڑکی کو کاپی، کتاب اور یونیفارم کے ساتھ اُسے اسکول آنے کے لئے سائیکل بھی مفت میں دی جاتی ہے ۔ اِس کے علاوہ روز انہ لڑکیوں کے بینک اکاؤنٹ میں دس روپے بھی جمع کئے جاتے ہیں ۔

’ بلند شہر‘ کے ’ انوپ شهر‘ تحصیل میں چلنے وا لے ’ 'پردادا، پر دادی گرلس انٹر کالج‘ میں آج تیرہ سو سے زیادہ لڑکیاں زیرِ تعلیم ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ’ ویریندر‘ نے گاؤں کی خواتین کی فلاح کے لئے ایک’سیلف ہیلپ ‘گروپ بھی قائم کیا ہے ، جس میں تقریباً 55 گاؤں کی 2200 خواتین شامل ہیں ۔

’وریندر سیم سنگھ ‘کی پیدائش یوپی کے بلند شہر ضلع کی’ انوپ شهر‘ تحصیل کے ’ بِچولا ‘گاؤں میں ہوئی۔ اِن کے پردادا اور والد زمیندار تھے، بعد میں ان کے والد’ بلند شہر‘ میں وکیل بن گئے ۔ ویریندر نے ’بلند شہر‘ کے ایک سرکاری اسکول سے تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد ان کا داخلہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہو گیا۔ لیکن ویریندر کی قسمت میں تو کچھ اور ہی لکھا تھا ۔ ہاکی کے بہترین کھلاڑی ہونے کی وجہ سے پنجاب یونیورسٹی نے ان کو انجینئرنگ میں داخلہ لینے کا آفر دیا ،لیکن ویریندر کے لئے یہ مشکل فیصلہ تھا ۔ وریندر نے’ یوراسٹوری‘ کو بتایا :

’’ میَں پڑھائی میں بہت اچھا نہیں تھا ، اس لئے میَں اس مخمصے میں تھا کہ انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کر بھی پاؤں گا یا نہیں ۔‘‘

اُن کی اس کشمکش کا ازالہ کرنے کے لئے اُن کے والد نے ویریندر کو اخبار میں’ دگ وجئے سنگھ‘ بابو کی ایک تصویر دکھائی ۔ تصویر میں دگ وجئے سنگھ لکھنؤ کے اُس اسٹیڈیم میں داخل ہونے کے لئے ٹکٹ کی لائن میں کھڑے تھے جس کا نام بعد میں اُن ہی کے نام پر رکھا گیا تھا ۔ اس تصویر کو دکھاتے ہوئے ویریندر کے والد نے کہا کہ تم اچھے کھلاڑی ہو سکتے ہو، لیکن تم کبھی دگ وجئے سنگھ بابو نہیں بن سکتے ۔ لہٰذا تم اگر مسلسل کھیلتے رہو گے تو اسی میں تمہارا مستقبل ہوگا۔ والد کی اس بات سے ویریندر کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو گئی اور انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور کھیل کے ساتھ ساتھ انجینئرنگ کی تعلیم بھی مکمل کی۔

اس کے بعد’ ویریندر سیم سنگھ ‘ نے’ بوسٹن‘ کی ایک ٹیکسٹائل یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا ،لیکن یہاں پر ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ۔ اس لئے انہوں نے اپنے’ ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ‘ سے اس سلسلے میں بات کی تو انہوں نے کہا کہ وہ ان کی نوکری لگا تو سکتے ہیں لیکن یہ ملازمت انہیں تبھی مل سکتی ہے جب وہ یہاں کے شہری بن جائیں ۔ اس تعلق سے انہوں نے ویریندر کو صلاح دی کہ وہ اُن کے بیٹے بن جائیں، جس کے بعد ویریندر سنگھ کا نام ویریندر ’سیم‘ سنگھ ہو گیا ۔ اس طرح انہوں نے’ بوسٹن‘ یونیورسٹی سے’ ماسٹرس اِن انجینئرنگ‘ کی تعلیم مکمل کی، جس کے بعد انہیں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت مِل گئی ۔ وریندر سیم سنگھ یہاں پر اکلوتے ہندوستانی انجینئر تھے ۔ اِس طرح تقریباً 40 سال امریکہ میں رہنے کے دوران انہوں نے محسوس کیا کہ جو کام وہ امریکہ میں کررہے ہیں تو کیوں نہ یہی کام اپنے وطن لوٹ کر، کچھ سماجی کاموں میں شامل ہو کر، اپنے ملک کی ترقی میں شراکت داری کے لئےکریں ۔

حالانکہ ویریندر یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا کام کریں گے، اس کے باوجود وہ مارچ، سنہ 2000 میں اپنے گاؤں لوٹ آئے۔ تب انہوں نے غور کیاکہ اگر وہ گاؤں کی خواتین کی زندگی بہتر بنانے کے سلسلے میں پیش قدمی کریں گے تو خواتین اپنے خاندان کومزید استحکام اوربہتر زندگی دے سکیں گی، اور اگر خاندان بہتر ہوگا تو سماج بھی بہتر بنے گا ۔ گاؤں کی زیادہ تر خواتین اپنی بیٹیوں کے سلسلے میں پریشان رہتی تھیں اور انہیں یہی فکرستایا کرتی تھی کہ وہ اپنی بیٹیوں کی شادی کیسے کریں گی ؟ تب ویریندر نے طئے کیا کہ وہ ان خواتین کی پریشانی دُور کریں گے ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے گاؤں کی خواتین کے سامنے انہوں نے ایک تجویز پیش کی ، جس کے مطابق لڑکیوں کے کھانے پینے سے لے کر، اُن کے کپڑوں اور اُن کے اسکول آنے جانے کا خرچہ وہ خود اٹھائیں گے ۔ اتنا ہی نہیں وہ ہر لڑکی کے نام سے ہر روز اس کے بینک اکاؤنٹ میں 10 روپے جمع کریں گے، اس طرح جب کوئی لڑکی 12 ویں پاس کرے گی تب اس کے پاس کم از کم 40 ہزار روپے ہوں گے، جسے لڑکی کے ’کنیا دان‘ میں استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

وریندر سیم سنگھ نے بتایا ---

’’ہم نے اپنے اس ماڈل کو جب 41 لڑکیوں کے ساتھ شروع کیا تو ایک ہفتے کے بعد ہمارے پاس صرف 13 لڑکیاں ہی رہ گئیں تھیں ،کیونکہ باقی لڑکیوں کے والدین نے نئی سائیکل، کاپی،کتاب اور یونیفارم کو کم قیمت پر فروخت کر دیا تھا۔ اس بات سے ہم لوگوں کو صدمہ ضرورپہنچا لیکن هم نے ہمّت نہیں ہاری ۔میَں نے اپنے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کو سمجھایا اور اُن سے کہا کہ ہمیں اِس بات سے نہیں گھبرانا چاہئے کہ کچھ لڑکیاں تعلیم سے منھ موڑ کر چلی گئی ہیں، بلکہ ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ جو 13 لڑکیاں اِس مشن میں ہمارے ساتھ ہیں اُن کی تعداد کیسے بڑھائی جا سکتی ہے ۔‘‘

آخر کار ویریندر کی یہ کوشش رنگ لائی اور آج 1350 لڑکیاں ان کے اسکول میں پڑھ رہی ہیں ۔

آج ’ بلند شہر ‘کے ’ انوپ شهر‘ میں جاری ’پردادا، پر دادی گرلس انٹر کالج‘ میں نہ صرف لڑکیوں کو مفت میں پڑھایا جاتا ہے بلکہ ان کی اعلیٰ تعلیم اورملازمت کی بھی یہ لوگ ضمانت دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ جو لڑکی اسکول سے 5 کلومیٹر تک کی دُوری سے آتی ہے، اُسے کاپی،کتاب اور یونیفارم کے ساتھ سائیکل بھی مفت میں دی جاتی ہے ۔ اس سے زیادہ فاصلے سے آنے والی لڑکیوں کے لئے ا سکول کے پاس 6 بسیں ہیں جو اُن کو لانے لے جانے کا کام کرتی ہیں ۔ ساتھ ہی ہر لڑکی کے بینک اکاؤنٹ میں 10 روپے روزانہ جمع ہوتے ہیں۔

یہ اسکول سال کے 12 مہینے چلتا ہے ۔ سال میں 8 ماہ یہ ا سکول 10 گھنٹے روزانہ چلتا ہے جبکہ سردیوں کے موسم میں 4 ماہ یہ اسکول 8 گھنٹے چلتا ہے ۔ اسکول میں بنیادی تعلیم کے ساتھ اسپورٹس، کمپیوٹر اور انگریزی کی تعلیم بھی دی جاتی ہے ۔ سال میں 15 دن لڑکیاں اپنے گھریلو کام کاج کے لئے چھٹی لے سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ 15 دن کی چھٹیاں تب ملتی ہیں جب وہ بیمار ہوں لیکن اگر کوئی لڑکی ایک ماہ سے زیادہ چھٹی لیتی ہے تو اس کے اکاؤنٹ سے 20 روپے روزانہ کاٹ لئے جاتے ہیں۔

جو لڑکیاں پڑھنے میں اچھی ہوتی ہیں اور انگریزی میں اچھی طرح بات چیت کر سکتی ہیں ان کے لئے یہاں پر ایک کال سینٹر کا انتظام ہے ، جو ’گڑگاؤں‘ کی ایک کمپنی کے لئے کام کرتا ہے ۔ فی الحال اس کال سینٹر میں تقریباً 21 لڑکیاں کام کر رہی ہیں ۔ ان کے علاوہ اس اسکول میں تعلیم حاصل کر چکی تقریباً ڈیڑھ سو سے زیادہ لڑکیاں ملک کے مختلف مقامات پر کام کر رہی ہیں ۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے لڑکیوں کوقرض بھی دیا جاتا ہے ۔ اسکول میں زیادہ تر لڑکیوں کا داخلہ’ نرسری ‘کلاس میں ہوتا ہے، داخلہ لیتے ہی پہلے تین ماہ لڑکیوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ کیسے خود کو صاف ستھرا رکھیں ۔ ہر سال اِس اسکول میں 150 لڑکیوں کو داخلہ دیا جاتا ہے۔

ویریندر نے نہ صرف لڑکیوں کے لئے بلکہ ان کی ماؤں کے لئے بھی’ 'پردادا ، پر دادی سیلف ہیلپ گروپ‘ قائم کیا ہے ۔ اس گروپ میں شامل تمام خواتین مل کر دودھ سے منسلک کاروبار چلاتی ہیں ۔ فی الحال اس ’سیلف ہیلپ ‘گروپ میں تقریباً 55 گاؤں کی کل 2200 خواتین کام کر رہی ہیں ۔

’سیلف ہیلپ ‘گروپ کے تحت 10-15 خواتین کا ایک گروپ بنایا جاتا ہے ۔ یہ خواتین ہفتے میں ایک دن ملاقات کرتی ہیں ۔ جہاں پر ہر عورت 15 روپے اپنی طرف سے جمع کرتی ہے ۔ گروپ کی ایک خاتون تمام خواتین کا ریکارڈ رکھتی ہے، جبکہ دوسری عورت کے پاس ایک’ گُلّک‘ہوتا ہے جس میں وہ پیسے جمع کئے جاتے ہیں۔ تیسری عورت کے پاس اس ’گُلّک‘کی چابی ہوتی ہے ۔ جب ان خواتین کے’ گُلّک‘میں 3 ہزار روپے جمع ہو جاتے ہیں تو ضرورت پڑنے پر وہ اس میں سے نصف رقم بطورقرض لے سکتی ہیں ۔ اس کارروائی کے پسِ پشت سوچ یہ ہے کہ خواتین ضرورت پڑنے پرکسی ساہوکار کے جھانسے میں نہ پھنسیں۔

اِن کاموں کے علاوہ ویریندر نے اپنے گاؤں میں ایک ڈسپنسری بھی قائم کی ہے جہاں پر ہفتے میں پانچ دن ڈاکٹر بیٹھتے ہیں ۔ انہوں نے یہ خدمت جنوری 2015 سے شروع کی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی کوشش ہے کہ یہاں پر دواؤں کی دکان کا انتظام کیا جائےاور ایک اسپتال بھی کھولا جائے ۔

76 سال کے ہو چکے ویریندر اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی کہتے ہیں ...

’’کسی بھی اچھے کام کے لئے عمر کوئی معنی نہیں رکھتی، صرف آپ کی سوچ صحیح ہونا چاہئے ۔‘‘

ویب سائٹ: /http://www.education4change.org

قلمکار : ہریش بِشٹ

مترجم : انور مِرزا

Writer : Harish Bisht

Translation by : Anwar Mirza