مشکل حالات نے سکھایاجینے کا سبق...ایک آٹو ڈرائیور کے لڑکے انصار شیخ کے آئی اے ایس بننے کی کہانی

 تجربات نے مجھے بہت مضبوط بنایا۔ ان واقيات نے مجھے بتایا کہ چاہے حالات جتنے نا مصائب کیوں نہ ہوں مجھے آگے بڑھنا ہے

0


جالنہ ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے انصار احمد شیخ نے سول سروس کاامتحان میں کامیاب کر بتا دیا ہے ہے کہ  اگر ارادے مضبوط ہوں اور محنت اور لگن کا جذبہ ہو تو حالات چاہے جتنے مخالف ہوں، کامیابی مل کر رہتی ہے۔ انصار کے والد آٹو ڈرائیور ہیں اور بھائی مکانک۔ 22 سال کی چھوٹی سی زندگی میں وہ کئی ایسے تجربات سے گزرے ہیں، جہاں  سےکئی لوگ ہمت ہار  کر لوٹ جاتے ہیں۔

انصار احمد شیخ  آل انڈیا سول سروس میں 361 واں رینک حاصل کر چکے ہیں۔ مراٹھواڑا کے ایک پسماندہ ضلع جالنہ کے شلگاؤں میں سول سروس تک پہنچنے کی کہانی حیرت انگیز بھی  ہے اورحوصلہ افزاء ہے۔ یہ کہانی بتاتی ہے کہ مخالف ہواؤں میں مثبت سونچ سے حالات کو کس طرح موڑا جا سکتا ہے۔ انصار بتاتے ہیں، 

'' میرا تعلق ایک باالکل ہی غریب خاندان سے ہے، جہاں چھوٹی چھوٹی چیزیں خریدنے کے لئے بھی کئی بار سوچا جاتا ہے۔ ان حالات میں میں اپنی تعلیم آگے بڑھا رہا تھا۔ حکومت نے غریبوں کا اپنے پکے مکان بنانے کے لئے کچھ فنڈ منظور کئے تھے۔ ہمارے گھر کے لئے بھی 30 ہزار روپئے منظور کئے گئے تھے، لیکن 3000 روپے دینے کے لئے تحصیل آفیسر نے 3 ہزار روپے رشوت مانگی۔ اس وقت والد کے پاس کوئی چارا بھی نہیں تھا۔ انہوں  نے 3 ہزار روپئے اسے دئے۔ جس گھر میں 2 رپيےكا قلم خریدنے کے لئے کئی بار سوچنا پڑتا ہے ایسے خاندان سے اس کے حق کے 3 ہزار روپئے لئے جاتے ہیں وہ کیا کر سکتا ہے، لیکن مجھے لگا کہ اس ناانصافی کا ختم کرنے کے لئے مجھے سسٹم کے اندر داخل ہونا ہوگا۔ اسی دن میں نے طے کیا کہ میں سول سروس کی تیاری کروں گا۔''

انصار نے جب طئے کیا کہ وہ سول سروس کا امتحان لکھیں گے۔ ان کے لئے حالات بننے لگے اور پھر  ماں باپ، دوست، ٹیچر، این جی اوز اور کچھ سرکاری حکام نے بھی ان کی مدد کی۔ مقامی مسلم ستيہ شودھكک منڈل نے بھی ان کی مدد کی۔ وہ اپنے گاوں سے تو نکل گئے، لیکن اور کئی امتحان انہیں دینے تھے۔ شہر آنے کے بعد یہاں رہینا، کھانا بہت سارے مسائل تھے۔ ایک دو ہاسٹل میں تو انہیں مسلمان ہونے کی شناخت بھی چھپانی پڑی۔ ایک ہاسٹل میں کھانا کھانے کے لئَے انہیں اپنے دوست کا نام استعمال کرنا پڑا، لیکن ان سب باتوں کو انہوں نے کبھی بھی منفی انداز میں نہیں لیا۔ ہمیشہ اپنے ہدف پر نظر رکھے رہے۔ وہ کہتے ہیں،

'' پونے  میں رہ کر تعلیم حاصل کرنا آسان کام نہیں تھا۔ ایک دن جب میں ایک ہاسٹل میں شریک ہونا چاہا تو،انہوںے کہا کہ یہاں وجیٹرینس کے لئے داخلہ مل سکتا ہے۔ چوں کہ میں مسلمان تھا، اس لئَے وہاں داخلہ نہیں مل سکا۔ میں دوپہر کے کھانے کے لئَے ایک دوسرے ہاسٹل میں اپنے دوست شبھم کا نام استعمال کرنے پر اسی وجہ سے مجبور ہوا۔ لیکن میں نے اس کا کبھی برا نہیں مانا۔ مقصد کے سامنے یہ سب چھوٹی باتیں تھیں۔''

پونے میں رہنے کے لئے بہت ساری مشکلات رہی۔ انصار دیہی علاقے سے 21 سال کی عمرمیں 2012 میں پونے آئے تھے۔ ایک بہت ہی پسماندہ علاقے سے۔ نہ صرف علاقہ پسماندہ ، بلکہ ان کا اپنا خاندان بھی۔ لیکن انہوں نے زندگی سے ہر لمحہ کچھ نہ کچھ سیکھنے کی عادت ڈالی۔ ایک ہی مقصد تھا، سول سروس امتحان پاس کرنا اور ایک دن اپنے مقصد کو حاصل کر ہی لیا۔ زندگی سے گھبرائے نہیں۔ پڑھنے پر پوری محنت لگا دی۔ دو ماہ بعد اسٹوڈنٹ ویلفیئر ہاسٹل میں میرٹ کی بنیاد پر داخلہ ملا۔ وہ کہتے ہیں،

'' اس طرح کے تجربات نے مجھے بہت مضبوط بنایا۔ ان واقيات نے مجھے بتایا کہ چاہے  حالات جتنے نا مصائب کیوں ہوں مجھے  آگے بڑھنا ہے۔''

اب جبکہ وہ امتحان میں کامیاب ہو گئَے ہیں، ٹریننگ کے بعد ان کی خواہش ہے کہ وہ موقع ملتا ہے تو دیہی علاقوں میں کام کریں۔ وہ کہتے ہیں،

'' میں دیہی علاقے میں جانا چاہوں گا۔ اگر میرے اختیار میں ہو تو میں مراٹھواڈہ کوفوقیت  دوںگا۔ میں دیکھوں گا کہ پینے کے پانی کے مسئلے کوحل کرنے کے لئے کیا کر سکتا ہوں۔''

اپنے ساتھ پونے میں ہوئے امتیازی سلوک کی پروہ کئے بغیر وہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دلتوں اور پچھڑے طبقوں کے لئَے کام کرنا چاہتے ہیں۔ انصار کہتے ہیں،'' بیوروکریٹ کے طور پر آئین میری رہنمائی کرے گا کہ میں کس طرح کام کروں، لیکن غریب لوگوں کے گھروں میں تعلیم اور صحت کے مسائل دور کرنے کے لئے میں کا م کرنا چاہتا ہوں۔ میں لوگوں کے پاس جاؤں گا۔ ان کے بچوں کو تعلیم کے لئے بھیجنے کے لئے اپیل کروں گا، تعلیم ترقی میں کی کلیدی رول ادا کرتی ہے. ایس سی ایس ٹی کمیونٹیز کے لئے بھی یہ ضرور ہے۔ آپ کس فرقے سے ہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ضروری ہے کہ آپ خوب محنت کریں۔''

(تصوریں مختلف ذرایع سے لی گئ ہیں۔)
(تصوریں مختلف ذرایع سے لی گئ ہیں۔)

قابل ذکر ہے کہ انصار شیخ سول سروس 2015 امتحان کامیاب کرنے والے 1078 طلباء میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے پونے کی یونیک اکیڈمی میں اپنے امتحان کی تیاری کی۔ضلع پریشد کے مراٹھی میڈیم اسکول میں اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ انہوںے نے فرگیوسن کالج پونے سے پولیٹکل سائس سے اپنی گریجویشن کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ جہاں انہوں نے سنسکرت میں 100 میں سے 100 نشان حاصل کرنے والے طالب علم رہے ہیں۔ غریبی کی حالت یہ تھی کہ کبھی بھی تو دو دو تین تین دن تک بھی بھوکا رہنا پڑا۔ ان کے بڑے بھائی نے آٹھویں میں تعلیم ادھوری چھوڑ کر گروسری کی دکان پر کام کرنا شروع کیا تھا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کامیابی کی منزل تک پہنچنے والے ایسے ہی حوصلہ مند افراد کی کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے ’یور اسٹوری اُردو‘ کے فیس بک پیج پر جائیں اور ’لائک‘ کریں۔

FACE BOOK

کچھ اور کہانیاں پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔۔

ناخواندہ گھر میں پیدا ہونے والے شخص نے لکھی بغیر نقطے کی کتاب

ایک ڈرائیور کے انجینئر بیٹے عزیز الرحمن نے سنبھالا غریب بچوں کو مفت تعلیم دینے کا محاذ

ایک مکالمے نے بنا دی زندگی... حیدرآبادی اداکار اکبر بن تبر کی دلچسپ کہانی


كہانياں مجھے وراثت میں ملی ہیں. ماں، باپ، چچا، چاچی،خالہ، پھوپھی، نانی دادی، سب کی مختلف کہانیاں تھیں. اسی وراثت کو پاس پڑوس، دوست رشتہ دار، نکڑ، گلی، محلہ، شہر، ملک اور بیرون ملک کے چہروں میں چھپی کہانیوں کے ساتھ ملا کر پیش کر رہا ہوں۔ پسند آئے تو مسکرانا ضرور۔

Related Stories