ایک نائی بنا عالیشان رولس رائس کار کا مالک !

تقدیر کے دھنی ایک شخص کی داستانِ کامرانی

0

مشکل شروعات

مجھے یہ بات بتاتے ہوئے کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ میں ایک غریب گھر میں پیدا ہوا۔ میرے والد نائی یعنی حجام تھے۔ میری عمر محض سات برس تھی جب میرے والد اس دنیائے فانی کو چھوڑ کر خدائے حقیقی سے جاملے۔ 1979 میں ، میرے والد کے انتقال تک سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ لیکن ان کی اچانک موت نے ہمارے خاندان کی جڑیں ہلاکر رکھ دیں اور سب کچھ بگڑ گیا۔

بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے میری والدہ لوگوں کے گھروں میں کام کرنے لگیں۔ میرے والد وراثت کے نام پر ہمارے لئے صرف ایک دوکان چھوڑگئے تھے۔ یہ دوکان بنگلور کے بریگیڈ روڈ پر واقع تھی جہاں وہ لوگوں کے بال تراشا کرتے تھے۔

میرے والد کے انتقال کے بعد میرے چاچا نے وہ دوکان چلانی شروع کی۔ کرائے کے طور پر چاچا ہر روز ہمیں 5 روپئے دیا کرتے تھے۔ ان دنوں بھی 5 روپئے نہایت معمولی رقم تھی۔ ان 5 روپئوں میں گھر چلانا انتہائی مشکل کام تھا۔ میرے بھائی، بہن اور میری تعلیم، کھانے پینے کے اخراجات اور دیگر ضروریات ان پانچ روپیوں میں پوری ہونی ناممکن تھی۔ اس صورتِ حال کا ہم نے یہ حل نکالا کہ ہم تینوں بہن بھائیوں نے بحالتِ مجبوری دن میں صرف ایک مرتبہ کھانا کھانا شروع کیا۔ دوسروں کے گھروں میں نوکری کرنے والی میری ماں کی مدد کرنے کے خیال سے میں نے بھی چھوٹے موٹے کام کرنے شروع کردئے۔ مڈل اسکول کی پڑھائی کرتے ہوئے میں نے اخبار اور دودھ کی بوتلیں بیچنا شروع کردیا۔ وہ بڑے ہی مشکلوں بھرے دن تھے۔ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے کسی نہ کسی طرح ہم نے وہ مشکل دن گزارے۔ زندگی کی اسی اُٹھا پٹک کے درمیان میں نے اپنی دسویں اور بارہویں کی پڑھائی پوری کی۔

تبدیلی کا لمحہ

یہ 90 کے عشرے کی بات ہے ۔ ان دنوں میں شائد گیارہویں جماعت میں زیرِ تعلیم تھا۔ایک دن میرے چاچا نے دوکان کا کرایہ دینا بند کردیا جس کی وجہ سے میری والدہ اور میرے چاچا کے درمیان زبردست لڑائی ہوئی۔ یہ دیکھ کر مجھے بہت تکلیف ہوئی۔ جس دن ان دونوں کے درمیان لڑائی ہوئی ، اسی دن سے میں نے طےکرلیا کہ اب میں ہی اپنے والد کی وہ دوکان چلاؤں گا۔ جب میں نے اپنی والدہ کو اس فیصلے کی اطلاع دی تو ابتداء میں وہ یہ سوچ کر راضی نہیں ہوئی کہ میں دوکان چلانے کی وجہ سے پڑھائی چھوڑ دوں گا ۔ لیکن میں اپنی ضد پر اڑ گیا ۔ آخر کار میری والدہ کو میرا فیصلہ ماننا ہی پڑا۔ لہٰذا میں نے بھی ان کی یہ شرط مان لی کہ میں پڑھائی نہیں چھوڑوں گا۔ یوں میں اس دن کے بعد سے دوکان جانے لگا۔ وہاں میں بال تراشنے کا ہُنر بھی سیکھنے لگا۔ صبح میں دوکان چلا جاتا ۔ شام کو پڑھائی کرتا اور رات کو پھر دوکان چلا جاتا۔ یہی اب میرا روزمرہ کا معمول بن گیا تھا۔ دوکان رات میں ایک بچے تک کھُلی رہتی اور میں بھی تب تک بال تراشنے کا ہُنر سیکھ رہا ہوتا۔ یہی وہ دن تھے جب لوگ مجھے نائی پکارنے لگے۔ اب یہ دوکان ہی میری پیچان تھی اور یوں میں نائی بن چکاتھا۔

زندگی کی کایا پلٹ کرنے والا خیال

1993 میں میرے چاچا نے ایک کار خریدی۔ نہ جانے کیوں میرے دل میں احساسِ تفاخر جاگا۔ میں نے سوچا کہ مجھے بھی کار خریدنی چاہیے۔ چھوٹی موٹی، میں نے جو بھی بچت کی تھی ، اسے اکٹھا کیا۔ پھر بھی کار خریدنے کے لئے رقم کافی نہ تھی۔ میں نے ٹھان لیا تھا کہ مجھے کار خریدنی ہے تو بس، خریدنی ہے چاہے جو کرنا پڑے۔ اپنی خواب میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے میں نے بنک سے قرض لینے کا فیصلہ کیا۔ قرض لینے کے لئے مجھے اپنے داداجی کی جائداد کو گروی رکھنا پڑا۔ چونکہ میں اپنی دھُن کا پکا تھا اس لئے انجامِ کار ، میں نے کار خرید ہی لی۔ یوں میں ایک ماروتی وین کا ملک بن بیٹھا۔ اب مجھے اس بات کا فخر تھا کہ میں نے اپنے چاچا سے اچھی اور بڑھیا گاڑی خریدی ہے۔

میں نے گاڑی تو خرید لی تھی لیکن قرض کا ماہانہ سود چھ ہزار آٹھ سو روپئے تھا۔ سود کی رقم ادا کرنا اب میرے لئے مشکل ہونے لگا تھا۔ میرے اس مسئلے کا علم نندنی اکا کو ہوا ۔ نندنی اکا وہ خاتون تھیں جن کے گھر میری والدہ نوکری کیا کرتی تھیں۔ انہوں نے ایک مشورہ دیا۔ مشورہ یہ تھا کہ سود کی رقم ادا کرنے کے لئے گاڑی کو کرایہ پر اُٹھادیا جائے۔ مجھے یہ مشورہ بہت مناسب لگا اور میں نے اس مشورہ پر عمل بھی شروع کردیا۔ نندنی اکا نے ہی مجھے کاروبار کے گُر سکھائے۔ وہ میری اُستاد بن گئیں۔ وہ میری بہن جیسی ہیں۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں، اس میں ان کا بڑا ہاتھ ہے۔ میری زندگی میں جو بڑی تبدیلیاں آئیں، ان میں نندنی اکا کی رہنمائی شامل رہی ہے۔ انہوں نے مجھے اپنی بیٹی کی شادی میں بھی مدعو کیا اور لوگوں سے میرا تعارف بھی کروایا۔

کامیاب تاجر بننے کی شروعات

1993 میں ، میں نے گاڑیوں کو کرایہ پر دینے کے کاروبار میں تیزی سے آگے قدم بڑھایا۔ نندنی اگا جس کمپنی میں کام کرتی تھیں، وہی کمپنی پہلی کمپنی تھی جس کو میں نے اپنی گاڑی کرائے پر دی۔ اس طرح کمائی ہونے لگی اور دھیرے دھیرے آمدنی بڑھنے لگی۔ کاروبار میں بھی اضافہ ہونے لگا۔ میں نے ایک کے بعد ایک گاڑیاں خریدنی شروع کیں۔ 2004 تک میرے پاس پانچ ۔ چھ کاریں تھیں۔ اب مجھے گاڑیوں کو کرائے پر دینے کے کاروبار میں مزہ آنے لگا تھا اور کمائی بھی اچھی ہونے لگی تھی اس لئے میں نے اپنی حجامت والی دوکان سے کنارہ کش ہونے کا ارادہ کرلیا۔ چونکہ گاڑیوں کو کرائے پر دینے والے کاروبار میں دوسرے کاروباریوں سے مقابلہ بڑھتا جارہا تھا لہٰذا میں نے اپنا پورا دھیان اسی کاروبار پر مرکوز کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ اس وقت سب کاروباریوں کے پاس چھوٹی گاڑیاں تھیں اس لئے میں نے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے بڑی گاڑیاں یعنی لکزری کاریں خریدنی شروع کردیں۔

جوکھم اُٹھانے کی تیاری

جب میں نے 2004 میں پہلی دفعہ لگزری کار خریدی، تب سبھی لوگوں نے کہا کہ میں بہت بڑی غلطی کر رہا ہوں۔ 2004 میں چالیس لاکھ روپئے خرچ کرنا بہت بڑی بات تھی۔ خرچ چاہے ایک لکزری کار خریدنے کے لئے ہی کیوں نہ وہ، چالیس لاکھ روپئے ایک خطیر رقم تھی۔ ویسے سچ کہوں تو میرے ذہن میں بھی کچھ اندیشے تھے، تذبذب تھا۔ لیکن کاروبار کو بڑھانے کے لئے جوکھم اُٹھانا ضروری تھا۔ سو جوکھم اُٹھالیا۔ ساتھ ہی یہ بھی سوچ لیا تھا کہ اگر معاملہ بگڑ گیا تو لکزری کار بیچ دوں گا۔ لیکن بیچنے کی نوبت نہیں آئی۔ کسی اور کاروباری کے پاس نئی لکزری کار نہیں تھی اور یہ بات میرے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوئی۔ کچھ لوگوں کے پاس سیکنڈ ہینڈ کاریں تھیں لیکن لوگوں کو ان سیکنڈ ہینڈ کاروں کے مقابلے میں میری نئی کار زیادہ پنسد آتی تھی۔ بنگلور میں ، میں ہی ایسا پہلا شخص تھا جس نے اپنے روپئے ایک نئی لکزری کار خریدنے پر لگائے تھے۔