چائے بنانے والا بن گیا چارٹرڈ اکاونٹنٹ، حکومت نے بنایا ارن اینڈ لرن اسکیم کا برینڈ ایمبیسیڈر

0

بینکنگ اور فائینائینز میں پونہ کے ساہو کالج سے BA کیا

سرکار نے ارن اینڈ لرن کا برینڈ ایمبیسیڈر منتخب کیا

جو لوگ ناکامی کے بعد زندگی میں بد بختی اور حالات کا رونا روتے ہیں وہ دراصل بد حالی پر نہیں انجانے میں اپنی خامیوں کا رونا روتے ہیں - وہ اپنی غلطیاں چھپا تے ہیں - ان کی محنت میں کوئی خامی رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کا انجام ناکامی ہوتا ہے- ابھی جس کہانی کو ہم آپ کے روبرو پیش کررہے ہیں اسے پڑھنے کے بعد آپ کو یقین ہوجائے گا کہ انسان نے کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہئے - سخت سےسخت حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے اور دلچسپی ،لگن کے ساتھ کامیابی کی راہ میں نکل جانا چاہئے تاکہ منزل آپکے قدم چومے ۔

یہ کہانی 28 سالہ سومناتھ گرام کی ہے ۔اس سومناتھ گری رام کی جسے لوگ کچھ دن پہلے ایک چائے والے کے نام سے جانتے تھے - سومناتھ کی دکان پر لوگ اپنی پسند کی چائے پیتے، پیسے دیتے اور چلے جاتے- اس سے کبھی کسی نے نہیں پوچھا کہ تم زندگی میں کیا کرنا چاہتے ہو - لیکن چند دنوں کے اندر ایسا کیا ہوا جس سے اس کی زندگی بدل گئی ؟ جی ہاں، اب ان کی چائے بیچنے والی پہچا ن بدل گئی ہے۔ اب نیا کام، نیا تعارف اورنام سومناتھ گری رام ، پونے کے سدا شیو پیٹھ میں چائے بیچنے والے لیکن چائے بیچتے بیچتے انہوں نے وہ کر دکھا یا کہ آج ان سے ملنے والوں کی لمبی قطار لگی ہے- لوگوں کا یہ تانتا چائے پینے کے لیے نہیں انہیں مبارکباد دینے کےلیے ہوتا ہے- وہ اب چارٹرڈ اکاونٹنٹ بن چکے ہیں ہیں- وہ کل تک لوگوں کو چائے پلانے والے ایک عام انسان تھے لیکن آج انہوں نے CA کے امتحان میں 55 فی صد نمبرات لیتے ہوئے نمایاں کامیابی حاصل کی۔

سنا ہے الله جب خوشی دیتا ہے تو چھپر پھاڑ کر دیتا ہے ایسے ہی سومناتھ گرام کو دوہری خوشیاں نصیب ہوئی ہیں - ایک طرف انہوں نے CA کا امتحان پاس کیا اور دوسری طرف سرکار نے انہیں 'ارن اور لرن' کا برینڈ ایمبیسیڈر منتخب کیا - اب وہ نہ صرف مہاراشٹر کے بلکہ پورے ملک کے ان طلباء کےلیے مثال بن گئے ہیں جو بدحالی کی وجہ سے پڑھائی نہیں کرسکتے - لیکن پڑھائی کو چھوڑنا بھی نہیں چاہتے- ریاستِ مہاراشٹرا کے وزیرِ تعلیم ونود تاوڑے نے یور اسٹوری کو بتایا "یہ کافی بڑی خبر ہے کہ ایک معمولی چائے والے نے CAکا اکزام پاس کیا ۔ ہم نے ان کی عزت افزائی ، استقبال کیا –" تاوڑے نے مزاحیہ انداز میں کہا "آج کل چائے والوں کے اچھے دن آگئے ہیں نریندر مودی ایک طرف PM بن گئے دوسری طرف سومناتھ CA – " تاوڑے نے بتایا کہ

" CA کا امتحان پاس کرنے پر ریاستی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم سومناتھ کو" ارن اور لرن "اسکیم کا برینڈ ایمبیسیڈر بنائیں گے تاکہ سومناتھ جیسے دیگر طلباء کو تحریک ملے۔ "

مہاراشٹر کے شولاپور ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں ساگوی کے رہنے والے سومناتھ میں بچپن سے پڑھ لکھ کر کچھ بننے کی خواہش تھی - لیکن غربت کی وجہ سے ان کی پڑھائی نہیں ہورہی تھی - گھر کی اقتصادی حالات سدھارنے کےلیے سومناتھ کو روزگار کی تلاش میں گاؤں سے باہر نکلنا پڑا- سنا ہے کہ غریبی کی بھوک بہت خطرناک ہوتی ہے - اور اگر لمبے وقفے تک کھانا نہ ملے تو سامنے والا ہر کام کرنے کےلیے تیار ہوجاتا ہے- جب سومناتھ کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو انہوں نے پونہ کے سدا شیو پیٹھ علاقے میں چائے کی ایک دکان کھولی۔ اس لیے کچھ معاشی لحاظ سے مدد ملی۔ گھر کا گزر بسر ہونے لگا۔ لیکن سومناتھ کے پڑھنے کی خواہش کم نہیں ہوئی - چائے کی دکان کی وجہ سے معاشی حالت بہتر ہونے لگی تو پڑھنے کی خواہش زور پکڑنے لگی- سومناتھ کی زندگی کا ایک مقصد تھا CA کرنا جس کےلیے انہوں نے سخت محنت کی ۔دن کے وقت کام کی وجہ سے پڑھنے کا وقت نہیں ملتا تھا اس لیے رات رات بھر جاگ کر امتحان کی تیاری کرتے تھے - نوٹس بناتے تھے ۔

یوراسٹوری سے بات کرتے ہوئے سومناتھ گری رام نے بتایا

"مجھے یہ اعتماد تھا کہ CA کا امتحان میں ضرور پاس کرلوں گا۔ حالانکہ سب کہتے تھے یہ بہت مشکل کام ہے تم نہیں کرسکوگے - کئی لوگوں نے تو یہ بھی کہا کہ چارٹرڈ اکاونٹنٹ بننے کےلیے اچھی انگریزی آنا ضروری ہے- میں نے ہار نہیں مانی اور کوشش کرتا رہا - پہلے بنکنگ فائنانسز میں مراٹھی میڈیم سے BA کیا - آج میرا CAکرنے کا خواب بھی پورا ہوگیا – "

سومناتھ کے والد ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے -وہ عام کسان ہیں- مہاراشٹر میں کسانوں کے حالات سے سومناتھ واقف تھے - انہوں نے معاشی بہتری کے لئے پہلے ہی سوچ رکھا تھا - یہیں سے CAکرنے کا خواب آیا- 2006 میں سومناتھ سانگوی سے پونہ آگئے جہاں انہوں نے ساہو کالج سےBAپاس کیا - پھر CA کےلیے ضروری تیاریوں میں لگ گئے - اس دوران انہیں پیسے کی کمی محسوس ہونے لگی - سومناتھ نے یوراسٹوری کو بتایا

"ایک ایسا وقت بھی آیا جب مجھے لگا کہ میں اب CA نہیں کرسکتا- پیسے کو لے کر کافی تنگی چل رہی تھی - لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اور چائے کی دکان ڈالی - چائے کی دکان نے پونہ میں رہنے کی فکر دور کردی –"

ریاستی حکومت کے ذریعے برائینڈ ایمبیسیڈر چنے جانے پر یوراسٹوری کو اپنا ردعمل دیتے ہوئے سومناتھ نے کہا, "میں بہت خوش ہوں کہ ریاستی حکومت نے مجھے 'کماؤ اور تعلیم حاصل کرو' منصوبے کا حصہ بنایا –"

اس کا کریڈیٹ میں اپنے گھر کے افراد کو دیتا ہوں جنہوں نے مجھ پر ہمیشہ بھروسہ رکھا ۔ انہوں نے میری مدد بھی کی ۔آج ان کی آنکھوں میں کامیابی کی چمک دیکھی جاسکتی ہے- کافی لمبے سفر کے بعد کامیابی سومناتھ کا نصیب بنی - آگے ان کا ارادہ غریب بچوں کی تعلیمی میدان میں مدد کرنا ہے- سومناتھ کے جذبے کو یور اسٹوری کا سلام اور نیک خواہشات

تحریر: نیرج سنگھ

مترجم: ہاجرہ نور احمد زریابؔ