مردوں کے تسلط کوچیلنج دیتی ہیں بائک رانیاں

0

لمکا بک آف ریکارڈ میں ’بائک رانی‘ کا کارنامہ درج...

18 سال سے 60سال تک کی خواتین بائکر ہیں رکن...

’بائک رانی‘ گروپ میں 700خواتین بائکر...

جس کے اندر جوش اورجنون پیداہوجائے ،اس کے لئے کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ 14سالہ اروشی پٹیل نے جب پہلی بار بائک کو ہاتھ لگایاتھاتو کبھی یہ نہیں سوچاتھاکہ آگے چل کر ایک دن وہ پروفیشنل بائکر بننے کے ساتھ ساتھ ریسنگ چمپئن بھی بنیں گی۔ آج اروشی سوشل میڈیا کے ذریعے ’بائک رانی‘ نامی تنظیم چلارہی ہیں ،جس سے تقریباً 700سے زائد خواتین وابستہ ہیں ۔ یہ سبھی خواتین بائک چلانے میں ماہر ہیں ۔ ’بائک رانی‘ کے ذریعے اروشی نہ صرف خواتین میں خود اعتمادی پیداکررہی ہیں بلکہ خواتین تفویض اختیارات سے متعلق کئی کام بھی کررہی ہیں ۔ اتناہی نہیں ’بائک رانی‘ ملک کا ایسا پہلا گروپ ہے جس نے موٹر سائیکل کے ذریعے دہلی سے لے کر دنیاکی بلند ترین سڑک لداخ کے کھردنگلا درےتک کا سفرکیا۔ اس کارنامے کے سبب ان لوگوں کانام ’لمکابک آف ریکارڈ‘ میں بھی درج ہے۔

اروشی جب 14سال کی تھیں توپہلی بارانھوں نے ایک پنکچر والے کی بائک لے کر اس پر ہاتھ آزمایا۔ یوراسٹوری کو اروشی نے بتایا:

’’مجھے کسی نے بائک چلانا نہیں سکھایاتھابلکہ میں نے خود ہی اسے چلاناسیکھا۔ دراصل مجھے ایڈونچر بہت پسند تھااور اس دوران کچھ ایسی فلمیں آئی تھیں جن میں بائک کے ذریعے کافی کارنامے دکھائے گئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب میں نے بائک چلاناسیکھاتو اس بات کی بھنک گھرمیں نہیں لگنے دی،کیوں کہ مجھے ڈر تھاکہ گھروالے ایسے کام سے روک دیں گے۔ اس طرح میں چوری چھپے اپنے دوستوں سے بائک لے کر چلاتی۔ ‘‘

جب اروشی کالج کے پہلے سال میں تھیں اس وقت بائک پر اسٹنٹ کرناشروع کیا۔ ایک بار اسٹنٹ کے دوران ان کے ایک ہاتھ میں شدید چوٹ لگی جس کے بعد ان کو اسپتال لے جاناپڑا۔ جب اروشی کے والدین اسپتال پہنچے تو انھوں نے ان کو پہلی بارڈرتے ہوئے بتایاکہ ان کی بیٹی نہ صرف بائک چلاتی ہے بلکہ وہ شعبدہ بازی بھی کرتی ہے۔ لیکن خلاف توقع اروشی کے والد نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور ان کو بتایاکہ وہ بھی اپنے زمانے میں کافی بڑے بائکر تھے اور اسٹنٹ بھی کرتے تھے۔ جس کے بعد ان کے والد نے خود ان کو ایک بائک خرید کر دی۔

اروشی بتاتی ہیں کہ جب انھوں نے بائک کے اسٹنٹ سیکھے تو اس وقت کچھ ہی لڑکیاں بائک چلاتی تھیں ۔ اسٹنٹ سیکھنے کے دوران انھوں نے محسوس کیاکہ لڑکیوں کو اس کام میں زیادہ عزت نہیں دی جاتی ہےجو ان کو ملناچاہئے اور نہ ہی ان کو کسی اسٹنٹ میں ترجیح دی جاتی ہے۔ تب انھوں نے فیصلہ کیاکہ آگے چل کر وہ کچھ ہٹ کر کریں گی تاکہ جو عزت لڑکوں کو ملتی ہے وہ لڑکیوں کو بھی ملے۔ آہستہ آہستہ اروشی کاچرچاآٹوموبائل شعبے میں بھی ہونے لگا۔ بعد میں ایک آٹوموبائل کمپنی نے ان کو اپنی بائک کے لئے ٹیسٹ رائڈر بننے کا موقع دیا۔ اس دوران اروشی کی ملاقات ایسی کچھ اور لڑکیوں سے ہوئی جن سے ان کو پتہ چلاکہ دوسری ریاستوں میں بھی لڑکیاں بائک چلانے کی شوقین ہیں ۔ تب انھوں نے سوچاکہ کیوں نہ ایک ایساپلیٹ فارم بنایاجائے جہاں دوسری ریاستوں کی لڑکیوں کو بھی اپنے ساتھ جوڑاجا سکے۔

2011میں اروشی نے ایک فیس بک پیج بنایااور اس کا نام رکھا ’بائک رانی‘ ۔ شروعات میں تقریباً 15لڑکیاں اس گروپ سے جڑیں ۔ آہستہ آہستہ اس کے اراکین کی تعدادبڑھتی گئی ۔ جب بائک چلانے والی لڑکیوں کی تعداد 40تک پہنچ گئی تو انھوں نے طے کیاکہ یہ سب مل کر بائک سے ایک طویل سفر پر جائیں گی۔ انھوں نے ’رائل انفیلڈ‘ کمپنی سے بات کی تو وہ بخوشی اس کے لئے تیارہوگئی۔ اس کے بعد ستمبر 2011میں ’بائک رانی‘ گروپ کی 11لڑکیاں ایک ساتھ دہلی سے لداخ کے کھردنگلاتک بائک چلاکر گئیں ۔ اس سے قبل لڑکیوں کا کوئی گروپ وہاں تک نہیں پہنچاتھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام ’لمکابک آف ورلڈریکارڈ‘ میں درج ہوا۔

اس کارنامے کے بعد ’بائک رانی‘گروپ کافی مشہورہوگیا۔ دوسرے شہروں کی لڑکیاں بھی ان سے جڑنے کی کوشش کرنے لگیں ۔ پھر ہر شہرکے لئے الگ الگ گروپ تیارکئے گئے۔ آج ان کا یہ گروپ پونے،ممبئی،دہلی،بنگلور،حیدرآباداورکلکتہ میں بھی موجود ہے۔ ’بائک رانی‘میں مجموعی طورسے700سے زائد لڑکیاں شامل ہیں ۔ ’بائک رانی‘کا خاص مقصد بائک کے ذریعے خواتین کو بااختیاربناناہے۔ ان کی کوشش ہے کہ وہ لڑکوں کویہ باورکرائیں کہ لڑکیاں بھی ہرکام کرسکتی ہیں اور وہ کسی حد میں مقید نہیں ہیں ۔ کوئی لڑکی اگر بائک چلانا چاہتی ہے تو وہ چلاسکتی ہے ۔ اس کام میں کوئی رکاوٹ اور کسی طرح کی کوئی دشواری نہیں ہے۔

یہ لڑکیاں خواتین کو بائک چلانے کے لئے راغب کرتی ہیں ۔ اس کے علاوہ دیگر سماجی کاموں کے لئے یہ رضاکار کا کرداربھی نبھاتی ہیں ۔ یہ ’کرائی‘ جیسی سماجی تنظیموں کے لئے کام کرتی ہیں ۔ ’بائک رانی‘کے اراکین کو بائک چلاتے وقت کسی طرح کی دشواری نہ ہواس کے لئے یہ نئ اراکین کو بائک ریپئر کرنے کی ٹریننگ بھی دیتی ہیں ۔ ساتھ ہی نئی لڑکیوں کو بائک چلاناسکھاتی ہیں ۔ ’بائک رانی‘کسی ایک شہر میں محدود نہیں ہیں ۔ وہ آئے دن چھوٹے بڑے سفر کرتی رہتی ہیں ۔ اس کی کچھ اراکین مختلف اسٹنٹ مقابلوں میں حصہ بھی لیتی ہیں ۔

اروشی کے مطابق ، ’’ہم میں سے کئی خواتین ترغیب لیتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ ہمارے ساتھ وابستہ ہونے سے پہلے وہ تناؤ میں رہتی تھیں یا انھیں کئی طرح کی گھریلو پریشانیوں کا سامنا تھا،لیکن ’بائک رانی‘سے جڑنے کے بعد انھوں نے ہم سے سیکھاکہ مشکل سے کیسے باہر نکلا جاتاہے۔ ‘‘ اس کی ایک وجہ اور بھی ہےکہ یہ خواتین بائکر ایک دوسرے کی کافی مدد کرتی ہیں ۔ خواہ وہ گھریلوپریشانی ہویا کسی اور طرح کی ۔ یہ گھر والوں کو سمجھاتی ہیں کہ وہ اپنی بیٹی یابیوی کو اس کام سے نہ روکیں ۔ آج ’بائک رانی‘گروپ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے کئی دوسرے بائکر گروپ بھی سامنے آ رہے ہیں ۔

’بائک رانی‘گروپ میں کالج طالبہ سے لے کر 60 سالہ بزرگ خاتون تک شامل ہیں ۔ اس گروپ میں انجینئرنگ کے شعبے سے وابستہ زیادہ تر خواتین اراکین ہیں لیکن کچھ خواتین صحافی اور کاروباری بھی ہیں ۔ آگے چل کر ان کا منصوبہ خواتین کے لئے ٹریننگ اور ریسنگ اکادمی قائم کرنے کا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کوشش ہر بڑے شہر میں موٹر سائیکل کی مرمت کے لئے ورکشاپ کھولنے کی بھی ہے۔ ساتھ ہی یہ چاہتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ خواتین ان کے ساتھ جڑیں ۔ ان کا اگلا ہدف ملک سے باہر بائک کے ذریعے سفرکرناہے۔ ’بائک رانی‘کی اراکین قومی سطح پر ہرسال دوبار میٹنگ کرتی ہیں ۔ سالانہ جلسہ ہر سال جنوری میں ہوتاہے۔ 2016میں ہونے والا جلسہ حیدرآباد میں ہوگا۔ جب کہ دوسراجلسہ مئی میں ’انٹرنیشنل فیمیل رائڈ ڈے‘ کے موقع پر ہوتاہے۔

اروشی بتاتی ہیں ، ’’اس سال اب تک میں دوریس جیت چکی ہوں ۔ ان میں سے ایک ریس گذشتہ تین برسوں سے جیتتی آرہی ہوں جو گوامیں ہوتی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ ریس مٹی کے ٹریک پر ہوتی ہے۔ ‘‘

قلمکار : ہریش بشٹ

مترجم : محمد وصی اللہ حسینی

Writer : Harish Bisht

Translation by : Mohd.Wasiullah Husaini