کروڑوں لوگوں کی زندگی پر اپنا مثبت اور انقلابی اثر چھوڑنا چاہتے ہیں هنمنت راؤ گائكواڈ

آج کروڑوں روپے کے کاروبار میں مصروف بھارت وکاس گروپ کے بانی نے2027 تک 10 لاکھ لوگوں کو روزگار دینے کا  ہدف رکھا ہے  ۔ اب تک 65000 سے زیادہ لوگوں کو ملازمت دے چکے هنمنت نے بچپن میں ریلوے اسٹیشن پر آم فروخت کئے تھے ۔ غربت کا عالم یہ تھا کہ پورا خاندان 10 بائی 10 فٹ کے کمرے میں رہنے کو مجبور تھا- بیمار والد کے علاج کے لئے ماں نے اپنا منگلسوتر تک گروی رکھ دیا تھا۔ روپے بچانے کے مقصد سے هنمنت ہر دن 40 کلومیٹر سائیکل چلا کر انجینئرنگ کالج جاتے تھے -

هنمنت کالج کے دنوں میں ہی دیواروں کے رنگ و روغن کا کام کرتے ہوئے کر کاروباری بن گئے تھے -حالانکہ ان کیسات نسلوں میں کسی نےکاروبار نہیں کیا تھا، لیکن کچھ بڑا، هٹكر اور نیا کرنے کے جذبہ نے ہنومنت کوکامیاب کاروباریبنایا۔  

0

سوامی وویکانند نے کہا تھا - "خود پر یقین کرنے والے 100 نوجوان مجھے دو ،میں نے ہندوستان کو دنیا کی سب سے بڑی قوم بنا کر دوں گا۔" بھارت وکاس گروپ کے بانی اور صدر هنمنت رام داس گايكواڈ اپنے آپ کو موجودہ وقت کے انہی 100 نوجوانوں میں سے ایک مانتے ہیں۔ ان کا اعتماد واقعی غضب کا ہے۔ اسی اعتماد کے بل پر انہوں نے اداروں کا ایک ایسا گروپ بنایا ہے جس نے 65000 سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیا ہے۔ 1997 میں محض آٹھ ملازمین سے شروع کی کمپنی کو هنمنت راؤ نے اتنا بڑا بنا دیا ہے کہ وہ آج ملک کی بیس ریاستوں میں اپنی خدمات دے رہی ہے۔ کمپنی کے 700 سے زیادہ کلائنٹ ہیں اور اس کے گاہکوں کی فہرست میں ملک و بیرون ملک کی نامور کمپنیاں شامل ہیں۔ بھارت وکاس گروپ الگ الگ طرح کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کا ملک میں سب سے بڑا گروپ ہے۔ ایشیا براعظم میں ہنگامی طبی خدمات فراہم کرنے والی سب سے بڑی کمپنی بھی یہی ہے۔ رشٹرپتی بھون، پارلیمنٹ ہاؤس، وزیر اعظم کی رہائش گاہ، دہلی ہائی کورٹ جیسے ملک کے انتہائی اہم مقامات کی نگرانی اور صاف صفائی کی ذمہ داری بھی بھارت وکاس گروپ کے پاس ہی ہے۔ ملک میں 100 سے زیادہ ریل گاڑیوں کے رکھ رکھاؤ کا کام بھی هنمنت گايكواڈ کی کمپنی ہی بخوبی ادا کر رہی ہے۔

هنمنت کو خود کی قابلیت، طاقت، خیالات اور منصوبوں پر کتنا اعتماد ہے اس کا اندازہ ان کے مستقبل کے مقاصد کو جان کر آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ فخر اور اعتماد سے بھری آواز میں وہ بتاتے ہیں کہ 2027 تک ان کی کمپنی میں 10 لاکھ ملازمین ہوں گے۔ یعنی وہ 10 لاکھ لوگوں کو روزگار کے مواقع دے کر ان کی زندگی کو خوشگوار بنانے کا کام کریں گے۔ هنمنت صرف 2027 تک کی خواب نہیں دیکھ رہے ہیں۔ ان کا خواب اور بھی بڑا ہے۔ خواب صرف بڑا ہی نہیں، بلکہ نایاب بھی ہیں۔ هنمنت چاہتے ہیں کہ وہ ان کی زندگی کی مدت میں 10 کروڑ لوگوں کی زندگی کو سنوارنے میں ان کی مدد کریں۔

هنمنت کی باتوں پر اس وجہ سے بھی یقین ہونے لگتا ہے کہ ان کی اب تک کی کہانی میں بہت سے کام ایسے تھے جو ناقابل یقین تھے۔ انہوں نے وہ سب حاصل کیا ہے، جس کا تصور بھی کئی لوگ نہیں کر سکتے ۔ ان کی کہانی صفر سے چوٹی تک پہنچنے کی کہانی ہے۔  کوڑیوں سے کروڈپتی بننے کی ہے۔ اس بے مثال کہانی میں غربت کے تھپیڑے ہیں، محنت، لگن اور جدوجہد سے کامیابی حاصل کرنے کے کئی سارے واقعات ہیں۔ ہار نہ ماننے کا جزبہ ہو تو کچھ بھی ناممکن نہیں، هنمنت کی ترقی کی کہانی میں کامیابی کے کئی منتر چھپے ہیں۔

اب تک کی کامیابی کی حیرت انگیز اور منفرد کہانی کی بنیاد پر ہی هنمنت گايكواڈ یہ کہتے ہیں کہ ملک کو دنیا کی سب سے امیر اور بلند قوم بنانے کے لئے سوامی وویكانند نے جن 100 نوجوانوں کی بات کہی تھی وہ خود کو ان میں سے ایک مانتے ہیں۔ هنمنت کے لئےویویکانند اور چھترپتی شیواجی کی زندگیاں مثالی ہیں۔

کامیابی کی ایک انوکھی کہانی کے ہیرو ہنمنت رام داس گايكواڈ کی پیدائش مہاراشٹر کے ستارا ضلع کے كورےگاو میں ہوئی۔ ان کا آبائی گاؤں رهمت پور ہے۔ ان کے والد کورٹ میں کلرک تھے۔ ماں گھریلو خاتون تھیں۔ ہنومنت بچپن سے ہی پڑھنے میں تیز تھے۔ ریاضی پر ان کی اچھی گرفت تھی۔ جب باپ نے دیکھا کہ ان کا لڑکا ذہین ہے تب وہ خاندان کے ساتھ ستارا چلے آئے تاکہ بچے کو اچھی تعلیم مل سکے۔ ہنومنت کا داخلہ ستارا کی جدید مراٹھی اسکول میں کرایا گیا۔ ہنومنت پڑھائی میں اتنے تیز تھے کہ انہیں چوتھی کلاس میں ہی مہاراشٹرا حکومت سے اسکالر شپ مل گئی۔ اسکالر شپ کے طور پر ہنومنت کو ہر ماہ 10 روپے ملنے لگے تھے۔ ہنومنت کے لیے یہ رقم کافی اہم تھی۔ چھوٹی سی عمر میں اسکالر شپ نے ہنومنت کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا تھا۔ ہنومنت جان گئے کہ اسکالر شپ امیر گھر خاندان کے بچوں کو نہیں ملی ہے، بلکہ انہیں ملی ہے جن کا دماغ دوسرے بچوں سے تیز ہیں۔ اس اسکالر شپ نے ہنومنت کی خود اعتمادی بڑھا دی تھی اور انہیں اس بات کا احساس دلایا تھا کہ وہ کچھ مختلف کر سکتے ہیں جس سے معاشرے میں ان کا احترام بڑھ سکے۔

اسکالر شپ ملنے سے پہلے ہنومنت کے ذہن پر اپنے ارد گرد کے ماحول کا اثر پڑا تھا۔ ہنومنت کا خاندان غریب تھا اور باپ کی تنخواہ پر ہی سارا گھر خاندان چلتا تھا۔ ہنومنت اور ان کا خاندان ستارا میں ایک چھوٹے سے مکان میں رہتا تھا۔ 10 بائی 12 فٹ والے اس مکان میں بجلی بھی نہیں تھی۔ ہنومنت کو لگتا تھا کہ جن لوگوں کے گھر میں بجلی ہے وہ امیر ہیں اور جن کے پاس بجلی نہیں ہے وہ غریب ہیں۔ غریب ہونے کا احساس انہیں دوسرے بچوں اور خود کی یوم پیدائش پر بھی ہوتا تھا۔ جب دوسرے بچےاپنی یوم پیدائش پر اپنے دوستوں میں چاكلٹ بانٹتے تھے، لیکن خاندان کی حالت اتنی مضبوط نہیں تھی کہ ہنومنت کو بھی جنم دن پر دوستوں کو چكلٹ دیے جا سکیں۔ ہنومنت کا برتھ ڈے امیر بچوں کے برتھ ڈے کی طرح نہیں ہوتا تھا۔ بھلے ہی چاكلٹ نہ بانٹے جاتے ہوں، کیک نہ کاٹا جاتا ہو، لیکن گھر میں اپنے انداز میں جنم دن منایا جاتا۔ ان دنوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے ہنومنت نے ہمیں بتایا، "چپاتی صرف برتھ ڈے کے دن ہی بنتی تھی۔ سویٹ ڈش کے طور پر 'سدا رس' بنا دیا جاتا تھا۔ شکر کے پانی میں نيمبو نچوڑكر یہ 'سدا رس' بنایا جاتا تھا۔ "

غربت کا عالم کچھ ایسا تھا کہ بچپن میں هنمنت کو روپے کمانے کے لئے مزدوری کا کام کرنے پر بھی مجبور ہونا پڑا تھا۔ هنمنت نے بچپن میں رهمت پور ریلوے اسٹیشن پر آم فروخت تھے۔ ان کے خاندان کے 7-8 درخت تھے۔ هنمنت نے بتایا، "آم فروخت کرنے کے لئے میں لوگوں کے پیچھے بھاگتا تھا۔ ان دنوں میں نے پچیس پیسے میں ایک آم بیچا تھا، تین روپے درذن آم فروخت کئے تھے۔ "

هنمنت کے گھر میں لکڑی کا چولہا جلتا تھا۔ کھیت سے خشک لکڑیاں اور بھوسا لانے کی ذمہ داری بھی هنمنت کی ہی تھی۔ جدوجہد بھرے دن تھے اور هنمنت کو بچپن میں بہت محنت کرنی پڑتی تھی۔ هنمنت کہتے ہیں، "محنت بہت ہوتی تھی۔ دن جیسے بھی تھے، ہنستے- کھیلتےکام کرتا تھا۔ " لیکن، اسکالر شپ نے هنمنت نے دل میں غضب کی خود اعتمادی اور جوش پیدا کیا تھا۔ اسی جوش کی وجہ سے انہوں نے کتابوں کو اپنا سب سے بہترین اور پکا ساتھی بنا لیا۔ هنمنت کی صلاحیت جیسے جیسے نکھر رہی تھی، والد کی امیدیں بھی بڑھ تی جا رہی تھیں۔ والد کو لگا کہ هنمنت کے لئے پونا شہر سب سے اچھی جگہ ہوگی۔ هنمنت کی بہتر پڑھائی کے لئے والد خاندان سمیت پونا چلے آئے۔ پونے میں هنمنت کے ماما كرلوسكر کمپنی میں کام کرتے تھے۔ انہی کی مدد کے خاندان کو پونے کے قریب پھوگیواڑی علاقے میں رہنے کو ایک مکان ملا تھا۔ یہ مکان ستارا والے مکان سے بھی چھوٹا تھا۔ هنمت بتاتے ہیں، "ایک چھوٹا سا 10 بائی 10 کا کمرہ تھا۔ ہاتھ پھیلاتے ہی کونا لگتا تھا۔ کمرے میں ڈبل ڈیکر کاٹ تھی، دو لوگ نیچے اور دو لوگ اوپر سوتے تھے۔ "

هنمنت نے بچپن میں غربت کی مار چھیلی ہے۔ گھر خاندان پر اس وقت مشکلات کا پہاڑ ٹوٹ پڑا جب هنمنت کے والد بیمار پڑ گئے۔ انکا کا تبادلہ ممبئی ہو گیا تھا۔ ممبئی کی ہوا اور وہاں کا پانی انہیں راس نہیں آیا اور انہیں ذیابیطس ہو گیا۔ ذیابیطس کی وجہ سے ان کی حالت بگڑتی چلی گئی۔ حالت اتنی خراب ہو گئی کہ انہیں سال میں دو سے تین ماہ ہسپتال میں رہنے کے لئے مجبور ہونا پڑتا تھا۔ بڑے اورخانگی ہسپتال میں علاج کے لئے روپے جوٹانا تصور سے پرے تھا اسی وجہ سے باپ کا علاج سرکاری ہسپتال میں کرایا جانے لگا۔

اپنے شوہر کے علاج کے لئے هنمنت کی ماں کو زیورات بھی فروخت پڑے تھے۔ مصائب بھرے ان دنوں کے واقعات هنمنت کے دل دماغ میں اب بھی تازہ ہیں۔ انہیں یاد ہے کہ ان کی ماں نے اپنے کان کی بالیاں گروی رکھی تھی۔ اس پر ماں کو دو سو روپے ملے تھے اور سنار نے سود کی رقم 5 فیصد طے کی تھی۔ حالت اتنی خراب ہوئی تھی کہ ماں کو اپنا منگلسوتر بھی گروی رکھنا پڑا تھا۔ ساہوکار نے منگلسوتر اپنے پاس رکھ کر 500 روپے دیے تھے۔ سود اس بار چھ فیصد ہو گیا۔

گھر خاندان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے هنمنت کی ماں کو بھی کام کرنا پڑا۔ ماں نے سلائی کا کام شروع کیا۔ هنمنت کو وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب ان کی ماں کپڑے سلوانے کے لئے ان کے پاس آنے والی خواتین سے هنمنت کے اسکول آنے جانے کے لئے ہونے والے اخراجات کی رقم دینے کی درخواست کرتی تھیں۔ هنمنت ان دنوں پونے کےماڈرن اسکول میں پڑھتے تھے اور اسکول گھر سے دور تھا۔ بس سے آنے جانے کے لئے ہر روز ایک روپے کا خرچ ہوتا تھا۔ یہی رقم دینے کی گزارش ماں دوسری عورتوں سے کرتی تھیں۔ هنمنت کی ماں نزدیک کے ایک میونسپل اسکول میں پڑھانے بھی جاتی تھیں تاکہ ضرورتیں پوری ہو سکیں۔

مشکلات کے دنوں، غربت کی تھپیڑو کے درمیان هنمنت کی تعلیم جاری رہی تھی۔ والد کا خواب تھا کہ هنمنت آئی اے ایس افسر بنے۔ هنمنت جب نویں کلاس میں تھے تبھی سے وہ بھی کلکٹر بننے کے خواب سجونے لگے تھے۔ هنمنت جانتے تھے کہ کلکٹر بننے کے لئے امتحان میں اچھے نمبر لانے ضروری ہے۔ دماغ تیز تھا اور محنت بھی خوب کرتے تھے اور اسی کا نتیجہ تھا کہ دسویں میں ان 88 فیصد نمبر ملے۔

هنمنت نے دسویں پاس کر لی تھی، لیکن ان کے گھر والوں کو یہ نہیں پتہ تھا کہ آگے کیا کرنے اور پڑھنے سے کامیابی کی راہ پکڑی جا سکتی ہے۔ جس اسکول میں ماں پڑھاتی تھیں اس اسکول کے ہیڈ ماسٹر سے مشورہ لیا گیا۔ ہیڈ ماسٹر نے اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ مشورہ دیا کہ هنمت کا داخلہ پالٹیکنک کالج میں کرایا جانا چاہئے۔ هنمنت کے دسویں میں پوائنٹس اچھے تھے اور ان دنوں پالٹیکنک کالج سے پڑھ کر نکلنے والے طلباء کو آسانی سے نوکریاں مل جاتی تھیں، اسی وجہ سے ہیڈ ماسٹر نے پالیٹیکنیک کا مشورہ دیا تھا۔ چونکہ ان دنوں اچھے نمبر لانے والے زیادہ تر طلباء کی پہلی پسند الیکٹرانکس ہوتی تھی هنمنت نے بھی پالٹیکنک کورس میں الیکٹرانکس کو ہی اپنا اہم موضوع منتخب کیا۔

پونے کے گورنمنٹ پالیٹیکنیک کالج کے دنوں کی یادیں هنمنت کے ذہن کو اب بھی ٹٹولتي رہتی ہیں۔ وہ یہ بتانا نہیں بھولے کہ انہیں کس سال کتنے پوائنٹس ملے تھے۔ ریاضی میں تیز ہونے کا ایک اور نمونہ پیش کرتے ہوئے هنمنت نے بتایا کہ انہیں پہلے سال 72 فیصد، دوسرے سال 74 فیصد اور تیسرے سال 72 فیصد نمبر ملے تھے۔ پالیٹیکنیک کے وہ دن هنمنت اس وجہ سے بھی نہیں بھول سکتے ہیں کیونکہ جب وہ دوسرے سال میں تھے تب ان کے والد کا انتقال ہو گیا تھا۔ خاندان کے لئے یہ بہت بڑا صدمہ تھا۔

پالیٹیکنیک کورس مکمل کرنے کے بعد هنمنت بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اس کی دو بڑی وجہ تھی - آئی اے ایس افسر بننے کے لئے گریجویشن کی ڈگری کا ہونا ضروری تھا اور ان دنوں ڈپلوما کرنے والے کئی شاگردوں کا اگلا کام انجینئرنگ کالج میں داخلہ لینا ہی ہوتا تھا۔ هنمنت کو اورنگ آباد کے گورنمنٹ انجینئرنگ کالج میں داخلہ مل رہا تھا۔ لیکن، ماں نے هنمنت پر خاندان سے دور جا کر پڑھائی نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس درخواست کے پیچھے بڑی وجہ تھی- هنمت کے والد ان کے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ والد کے انتقال کے بعد بوڑھے اور بیمار دادا دادی کی ذمہ داری بھی ماں پر آ گئی تھی۔ هنمت بھی اپنے ماں باپ کے بڑے لڑکے تھے اور ماں انہیں ہی اپنا سب سے بڑا سہارا اور طاقت مانتی تھیں۔ ماں کو لگتا تھا کہ اگر هنمت ان سے دور چلے جائیں گے تو وہ اکیلی پڑ جائیں گی۔ ماں کی درخواست پر هنمت نے پونے میں ہی رہ کر انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان دنوں نجی انجینئرنگ کالجوں کی فیس اتنی زیادہ تھی کہ هنمت کی ماں کے لئے اس کو جٹا پانا انتہائی مشکل تھا، انجینئرنگ کالج والے داخلہ کے لئے ایک لاکھ روپے کی ڈونیشن مانگ رہے تھے۔ ڈونیشن سے بچنے کے لئے هنمت نے شہر سے کچھ دور بنے ایک انجینئرنگ کالج کو منتخب کیا۔ ماں نے بیٹے کی انجینئرنگ کی تعلیم کے لیے پونے میونسپل كواپریٹو بینک سے قرض لیا۔ هنمت کا داخلہ وشوکرما انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں ہوا، جو ان کے مکان سے قریب 20-21 کلومیٹر دور تھا۔ روپے بچانے کے مقصد سے هنمنت سائیکل پر کالج جاتے تھے۔

انجینئرنگ کالج کے دنوں میں ہی هنمنت نے گھر خاندان چلانے میں ماں کی مدد کرنے کے مقصد سے کمانے کا فیصلہ لیا۔ هنمنت پڑھائی میں پہلے سے ہی تیز تھے اور پالٹیکنک ڈپلوما کے دوران ان کی زبردست گرفت تھی۔ انہوں نے ڈپلوما کورس کے طالب علموں کو ٹیوشن دینا شروع کیا۔ هنمنت کو ان کے دوست یوگیش اترے کا ساتھ ملا تھا۔

دونوں مل کر ٹوشن پڑھاتے تھے۔ اتنا ہی نہیں هنمنت نے ایک ایجنسی لی اور جام، سوس بھی فروخت۔هنمنت نے انجینئرنگ کی تعلیم کے دنوں میں ہی مکانوں کی پینٹنگ کروانے کا بھی کام شروع کر دیا تھا۔ پینٹنگ کا کام شروع کرنے کے پیچھے بھی ایک واقعہ تھا۔ والد کے انتقال کے بعد ان کے گریچوٹی کی رقم ماں کو ملی تھی۔ اسی رقم کے ایک بڑے حصے سے ماں نے پونے میں دو ہزار اسکوائر فٹ کا ایک پلاٹ خرید لیا تھا اور پھر اسی پلاٹ پر دو کمروں کا مکان بنوایا۔ مکان بنوانے کے وقت پینٹنگ کے  كاريگر اور مزدور هنمنت کے گاؤں سے منگوائے گئے تھے۔ جب مزدور کام کرنے لگے تب هنمنت نے ان سے پینٹنگ سے جڑیں ساری باتیں جاننی اور سمجھنی شروع کیں۔ ہر پہلو کو سمجھا۔ اس سے جوڈی محنت اور اس سے ہونے والے کاروبار کو بھی جانا۔ ریاضی میں تیز تھے اسی وجہ سے هنمنت کو جلد احساس ہو گیا کہ مکانوں اور عمارتوں کے رنگ و روغن کے کام میں منافع زیادہ ہے۔ 

اسی طرح کی باتوں سے پتہ چل جاتا ہے کہ هنمنت راؤ ریاضی میں کتنے ماہر ہیں۔ پینٹنگ کے کاروبار کو سمجھنے کے لیے انہوں نے جس طرح تعین کیا اور حساب کیا اسی طرح کا کام کرتے ہوئے هنمنت آگے بڑھے۔ وہ اب الگ الگ کاروبار کو اسی طرح سے سمجھنے لگے تھے اور نئے مواقع کی تلاش میں لگ گئے۔

هنمنت جب انجینئرنگ کالج کے فائنل ایئر میں تھے تب انہیں پتہ چلا تھا کہ قومی کھیل کے لئے بالےواڑي اسٹیڈیم میں کام چل رہا ہے۔ انہیں بالےواڑي اسٹیڈیم کے کام میں اپنے لئے کمائی کا ایک بہت بڑا موقع نظر آیا۔ هنمنت تن من دھن لگا کر بالےواڑي اسٹیڈیم سے منسلک کام حاصل کرنے میں لگ گئے۔ ان کو کام ملا بھی اور اسے مکمل کرواکر حکومت سے روپے لینے میں کافی مشقت بھی کرنی پڑی تھی۔ اس کام میں هنمت اتنا مصروف ہو گئے تھے کہ وہ اپنے آخری سال کے پہلے سمسٹر میںامتحان بھی نہیں دے پائے۔ لیکن، بعد میں سارے امتحان لکھ کر  پاس ہوئے۔

انجینئرنگ کی تعلیم کے دوران هنمنت کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آئی۔ زندگی نے نیا راستہ پکڑا۔ زندگی کے معنی بدلے اور نیا ہدف طے ہوا۔ هنمنت نے ہمیں کالج کے دنوں کا وہ واقعہ بھی سنایا جس نے انہیں لوگوں کی مدد کرنے اور زندگی میں کچھ نیا اور بڑا کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کی تھی۔ هنمنت نے بتایا، "والد صاحب کو  کپڑوں کو شوق تھا۔ انہوں نے تھری پیس سوٹ سلاے تھے، انتقال سے پہلے درزی کے پاس دے گئے تھے ۔ ان کے انتقال کے کچھ دن بعد میں  ٹیلر سے وہ سوٹ لے آیا تھا۔ اب بھی ہمارے گھر میں پڑے ہیں وہ سوٹ۔ تب میں نے دیکھا کہ آدمی اپنے ساتھ تو کچھ لے کر نہیں جاتا ہے، تب میں نے سوچا کہ زندگی میں کچھ کر گزرنا ضروری ہے۔ اس لئے میں نے گا ہے بگاہے لوگوں کی مدد کرنی شروع کی۔

انجینئرنگ کی تعلیم مکمل ہوتے ہی هنمنت کو ٹاٹا انجینئرنگ اینڈ لوکوموٹیو کمپنی یعنی ٹیلکو میں نوکری مل گئی۔ ان دنوں ٹیلکو ٹاٹا موٹرز کے نام سے مقبول تھی۔ ٹیلکو میں کام کرتے ہوئے هنمنت کی زندگی کو نئے طول و عرض ملے۔ انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور ترقی کی۔ هنمنت نے ٹیلکو کے كباڑك خانے میں سالوں سے پڑے کیبل وائر کو دوبارہ کام میں لانے کے طریقے ڈھونڈ نکالے تھے۔ یہ بڑا کام انہوں نے کمپنی کے ایک دوسرے ملازم گنیش کی مدد سے کیا تھا۔ کیبل کے دوبارہ استعمال میں لائے جانے سے ٹیلکو کو کروڑوں کا فائدہ ہوا۔ نئی سوچ اور نئے طریقے سے کام کرتے ہوئے هنمنت نے جس طرح سے کمپنی کو فائدہ پہنچایا تھا اس کی تعریف ہوئی۔  هنمنت کو خوب شاباشی ملی۔ ٹیلکو کے وائس پریسیڈنٹ نے بھی هنمنت کی جم کر تعریف کی اور پوچھا کہ کمپنی ان کے لئے کیا کر سکتی ہے۔ هنمت نے بتایا، "نائب صدر ناڈ صاحب نے مجھ سے کہا تھا - بیٹا تم بہت اچھا کر رہے ہو، تم نے کمپنی  کے بارے میں سوچا ہے، بتاؤ کمپنی آپ کے لئے کیا کر سکتی ہے۔ میں نے ناڈ صاحب سے کہا تھا کہ گاؤں کے کچھ لڑکے نوکری کی امید لے کر میرے پاس آئے ہیں، آپ انہیں نوکری پر رکھ لیجیے۔ "

گاوں کے لوگوں کو لگتا تھا کہ هنمنت بڑی کمپنی میں بڑے عہدے پر کام کر رہے ہیں اور وہ انہیں بھی کمپنی میں ملازمت دلوا سکتے ہیں۔ هنمنت سے مدد کی امید لئے کچھ لوگ گاؤں سے پونے آئے ہوئے تھے۔ انہی نوجوانوں کو ملازمت دینے کی درخواست هنمنت نے وائس پریسیڈنٹ سے کی تھا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ یہ نوجوان کیا کام کر سکتے ہیں تب هنمنت نے بتایا تھا کہ ان کے گاؤں کے لوگ مددگار کا کام کر سکتے ہیں۔ هنمنت نے پہلے بھی لوگوں سے پینٹنگ کا کام کروایا تھا اور انہیں امید تھی کہ وہ ٹیلکو میں بھی اپنے گاؤں کے لوگوں سے مددگار کام کروا سکتے ہیں۔ لیکن، کمپنی کے اعلی حکام نے صاف کہہ دیا تھا کہ ملازم ہونے کی وجہ سے هنمنت کو کوئی کانٹریکٹ نہیں دیا جا سکتا ہے۔ لیکن، کمپنی کے حکام نے ہی هنمنت کو یہ مشورہ دیا کہ کسی ادارے کے ذریعہ ان گاؤں کے لوگوں کو کام پر لگایا جا سکتا ہے۔ جیسے ہی ادارے کی بات کہی گئی هنمنت کے دماغ کی بتی فوری طور پر جلی اور انہوں نے اپنے  ادارے بھارت ترقی گروپ کے ذریعہ گاؤں والوں کو روزگار دلوانے کا فیصلہ کر لیا۔ انہی دنوں ٹیلکو میں انڈیکا کار کا پلانٹ چالو ہوا تھا اور اسی پلانٹ کے لئے بھارت ترقی گروپ کو اس کا پہلا کانٹریکٹ ملا تھا۔

کانٹریکٹ کو صحیح طرح سے ایكسكيوٹ کرنے کی ذمہ داری هنمنت نے اپنے پرانے ساتھی امیش مانے کو سونپی تھی۔ بات چیت کے دوران هنمنت نے اپنے دوست امیش مانے کی بھی جم کر تعریف کی۔ هنمت نے بتایا کہ وہ امیش مانے کو بچپن سے جانتے تھے۔ امیش هنمنت سے چند سال بڑے تھے۔ امیش کی 'داداگري' سے هنمنت بہت متاثر تھے۔ هنمنت کو لگتا تھا کہ امیش کسی سے بھی کچھ بھی کام کروا سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے هنمنت نے امیش کو بھارت وکاس  کمپنی سے جڑنے کے لیے کہا تھا۔ امیش کو هنمت کی قابلیت پر اتنا یقین تھا کہ انہوں نے بینک کی اچھی خاصی نوکری چھوڑ دی اور بھارت ترقی گروپ سے جڑ گئے۔ جنوری، 1997 میں امیش نے هنمنت کے ادارے کے ساتھ خود کو شامل کر لیا تھا۔ یعنی ان کا پہلا کانٹریکٹ ملنے سے پانچ ماہ پہلے ہی امیش ادارے سے جڑ گئے تھے۔ 

 اسی کانٹریکٹ سے شروع ہوئی تھی هنمنت کے ایک کامیاب کاروباری اور تجارتی بننے کی کہانی۔ اس کانٹریکٹ نے هنمنت کی ترقی کو تیز رفتار دی۔ کامیابی کی راہ پر هنمنت تیزی سے آگے بڑھتے چلے گئے۔ 22 مئی، 1997 کو هنمنت کےبھارت ترقی کمپنی کو یہ کانٹریکٹ ملا تھا۔ ادارے کو پہلے سال 8 لاکھ، دوسرے سال 30 لاکھ اور تیسرے سال تقریبا 60 لاکھ کی آمدنی ہوئی۔

اسی دوران 1999 میں هنمنت کی شادی بھی ہوئی اور بھارت وکاس گروپ کی آمدنی سے حوصلہ افزائی پاکر هنمنت نے نوکری چھوڑ دینے اور اپنی مکمل توجہ کاروبار میں لگانے کا من بنا لیا۔ لیکن، جیسے ہی هنمنت نے نوکری چھوڑنے کے اپنے خیال کو گھر والوں کو بتائی ، ماں ناراض ہو گئیں۔ ماں کی مخالفت کے پیچھے بھی کئی وجوہات تھے۔ ایک تو نوکی اچھی تھی اور پکی بھی۔ گھر سے دفتر بھی زیادہ دور نہیں تھا۔ بہت ساری سہولتیں تھیں۔ هنمنت کی شادی ہوئے بھی زیادہ دن نہیں ہوئے تھے۔ اور تو اور، خاندان کی سات نسلوں میں کسی نے بھی کاروبار نہیں کیا تھا۔ بیٹے کے نوکری چھوڑ نےکے خیال سے ماں کو بڑا جھٹکا لیا تھا۔ ماں کو منانے کے لئے هنمت کو کافی محنت کرنی پڑی تھی۔ هنمنت نے ماں کو منانے کے لئے  بتایا، " تم نے مجھے دیکھا ہے، 1990 سے میں کما رہا ہوں۔ دس سال ہو گئے ہیں میں  کما رہا ہوں۔ یہ آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کرکے ٹھیک نہیں رہے گا۔ میں نو کری اور بزنس دونوں کے ساتھ جسٹس نہیں کر پا رہا ہوں۔ نہ کام میں دل لگتا ہے اور نہ بزنس مناسب طریقے سے کر پا رہا ہوں۔ تم نے دیکھا ہے کہ میں پیسے کما رہا ہوں اور اچھا کما رہا ہوں۔   وعدہ کرتا ہوں،  میں کوئی غلط کام نہیں کروں گا۔ جھوٹ نہیں بولوں گا۔ ایسا کوئی کام نہیں کروں گا، جس سے تمہارے اور والد صاحب کے نام کو بٹہ لگے۔ "بیٹے کے یہ جذباتی باتیں سننے کے بعد ماں کا دل پگھل گیا اور انہوں نے هنمنت کو نوکری چھوڑنے اور کاروبار کرنے کی اجاذت دے دی۔

سال 2004 میں گروپ کو ایک ایسی ذمہ داری ملی جس سے اس کی مقبول کو چار چاند لگے۔ اسی سال انہیں کو ہندوستانی پارلیمنٹ کی میکانیکل صفائی کا کام مل گیا۔ آگے چل کر وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور دفتر میں بھی هنمنت کے ادارے کو کام ملا۔  سرکاری عمارت، ریل گاڑیوں، ریلوے اسٹیشن، ائیرپورٹ، کارپوریٹ عمارت، مندر کے طور پر جگہوں کی دیکھ بھال اور صاف صفائی کی ذمہ داری هنمنت کے ادارے کو سونپی گئی۔ کلائنٹ جس طرح کی سروس چاہتا، هنمنت کے ادارے اس طرح کی سروس دینے کو تیار ہو جاتے۔ مختلف سروس دینے کے لئے الگ الگ ادارے بنائے گئے۔ انہی اداروں کے گروپ کا نام بھارت وکاس گروپ پڑ گیا۔

هنمنت کی بنائی ادارے بھارت وکاس گروپ نے بھارت میں ترقی کی بے مثال کہانی لکھی ہے۔بیرون ملک بھی کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں پروجیکٹس چل رہے ہیں۔ اگست، 2016 میں بھارت وکاس گروپ کے ملازمین کی تعداد 65000 سے تجاوز کر گئی۔ بھارت وکاس گروپ ملک کے 20 ریاستوں میں 800 سے زیادہ مقامات پر اپنی خدمات الگ الگ اداروں کو دے رہا ہے۔ بھارت وکاس گروپ کے بانی هنمنت راؤ گايكواڈ اپنے مستقبل کے منصوبوں اور مقاصد کے بارے میں  کہتے ہیں کہ 2027 میں بھارت  وکاس گروپ کے لئے کام کرنے والے لوگوں یعنی ملازمین کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔ ان کا خواب ہے اپنی زندگی میں کم از کم 10 کروڑ لوگوں کی ترقی میں مددگار بنیں۔

ایک سوال کے جواب میں هنمنت نے کہا، " میں کاروبار تو کرتا ہوں، لیکن میرا مقصد معاشرے کی خدمت کرنا ہے۔ میں ملک کی ترقی میں اپنا کردار نبھانا چاہتا ہوں۔ میں جب انیس سال کا تھا تب میں نے بھارت وکاس گروپ شروع کیا تھا۔ اس وقت میرا مقصد لوگوں کی مدد کرنا تھا، کاروبار کرنا نہیں۔ آج بھی میرا سب سے بڑا مقصد یہی ہے۔ میری ادارے کو لوگ بي وي جي انڈیا کے نام سے جانتے ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جو یہ نام سن کر سمجھتے ہیں کہ 'جی' سے گايكواڈ ہے اور 'بی جی' میرا نام ہے۔ لیکن آپ کو تو معلوم ہی ہے بي وي جي یعنی بی وی گايكواڈ نہیں بلکہ بھارت وکاس گروپ ہے۔ میں نے دوسروں کی طرح اپنے نام پر کمپنی نہیں کھولی، میرا مقصد صرف لوگوں کی مدد کرنا ہے۔ "

کامیابی کے راز کی بابت پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں هنمنت نے کہا، "میں نے اپنے آپ کو کبھی بھی کسی کے ساتھ كمپئیر نہیں کیا۔ نہ بچپن میں کیا نہ اب کرتا ہوں۔ صرف ایک ہی بات ذہن میں رہتا ہے - اپنے آپ کو ثابت کرنا ہے، مختلف ہوں، هٹكے ہوں یہ دکھانا ہے۔ اسکول اور کالج میں یہی سوچتا تھا کہ جتنی تعلیم حاصل کی ہے اتنے مارکس آنے چاہئے۔ میں نے یہ نہیں دیکھا کہ میں فرسٹ آیا ہوں، سیکنڈ یا تھرڈ۔ آج بھی ایسے ہی سوچتا ہوں۔ جتنی محنت کرتا ہوں اس کا اتنا نتیجہ نکل رہا ہے یا نہیں۔ بس اسی بات سےترغیب حاصل کرتا ہوں کہ مختلف کرنا ہے، لوگوں کی مدد کرنی ہے۔"انہوں نے یہ بھی کہا،" میں نہیں سمجھتا کہ دوسروں کو دیکھ کر کوئی بہت دور جا سکتا ہے۔ ہر ایک کو اپنے اندر جھانکنا چاہئے۔ اپنی طاقت کیا ہے، اس کا پتہ لگانا چاہئے۔میرے والد کہتے تھے کہ اگر تمہیں مٹھايوالا بننا ہے تو ایسی مٹھائیاں بنائیں جس سے دنیا تمہارے پاس آئے۔ ہلدی رام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ایکسی لینس حاصل کرنے کی کوشش آپ کو کامیاب بنا سکتی ہے۔ "

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ خود کو مقدر کا سکندر مانتے ہیں یا پھر محنت، لگن اور جدوجہد کو اپنی کامیابی کی وجہ مانتے ہیں، هنمنت نےکہا، "میں قسمت کو مانتا ہوں، قسمت کتنی ہوتی ہے یہ میں نہیں جانتا۔ اگر آپ بیر کے درخت کے نیچے بیٹھیں گے اور یہ سوچیں گے کہ بیر کا رس براہ راست آپ کےمنہ میں آکر گرے گا تو آپ غلط ہیں۔ آپ کو بیر کا رس حاصل کرنے کے لئے درخت  کو ہلانا پڑے گا، یعنی محنت کرنا ضروری ہے۔ قسمت کا نام لے کر بیٹھے رہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ "اسی تناظر میں هنمنت نے یہ بھی کہا،" خدا نے مجھے بہت کچھ دیا ہے۔ میں دل صاف رکھ کر کام کرتا ہوں۔ نہ کبھی کوئی غلط کام کیا ہے نہ کروں گا۔ دن بھر جب کام کر رات کو بستر پر جاتا ہوں تو آرام سے نیند آتی ہے۔ یہی میں اپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھتا ہوں۔ بس خواب یہی ہے - لاکھوں کا فائدہ چاہتا ہوں، کروڑوں لوگوں تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ "

هنمنت کو اپنی زندگی میں کئی بار کڑوے گھونٹ پینے پڑے اور توہین کےبرداشت کرنی پڑی۔ وہ جب انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے تھے تب انہیں قومی کھیل کے لئے تیار کئے جا رہے بالےواڑي اسٹیڈیم میں کام ملنے کی امید تھی۔ بہت ساری امیدیں لئے، کئی سارے خواب سجوئے وہ کلکٹر آفس جاتے تھے۔ صبح سے شام تک وہ کلکٹر آفس میں ہی بیٹھے رہتے، اس امید کے ساتھ کہ کلکٹر انہیں بلائیں کلکٹر جانتے بھی تھے کہ هنمنت باہر بیٹھے ان کے بلاوے کا انتظار کر رہے ہیں۔ لیکن، کلکٹر نے انہیں نہیں بلایا۔ اپنے دفتر کے اندر-باہر آتے جاتے وقت کلکٹر نے دیکھا تھا کہ هنمنت انتظار کر رہے ہیں، تب بھی انہوں نے نہیں بلایا۔ اسی طرح کے واقعات هنمنت کے ساتھ کئی بار ہوئے۔ وہ اداس تو ہوئے، مایوس بھی لیکن اپنا صبر کبھی نہیں کھویا، امید زندہ رکھی، ہمت بنائے رکھی۔ ذہنی طور پر بھی مجبور رہے۔ وہ کہتے ہیں، "اگر کوئی میری مذمت کرے تو بھی میں اس کو پاذٹیولی لیتا ہوں۔ کوئی میری توہین کرے تو یہ سمجھتا ہوں کہ اسے میرے اہمیت کے بارے میں پتہ نہیں ہے۔ گلاس اور ہیرے ایک جیسے نظر آتے ہیں، دونوں میں فرق کرنا مشکل ہے۔ آپ کو ہی یہ ثابت کرنا ہے کہ آپ ڈائمنڈ ہیں۔ کچھ لوگ نہیں سمجھ پاتے کہ کون سا ہیرا ہے اور کون سا گلاس۔ میں ایسے لوگوں کو دوش نہیں دیتا۔ "

جس طرح هنمنت نے کامیابی کی کہانی لکھی ہے اسے پڑھ کر، سن کر بہت سے لوگ تحریک حاصل کرتے ہیں۔ هنمنت کو اپنی کہانی اور اپنی کامیابی کے منتر لوگوں کے سامنے سنانے کے لئے کئ ادارے جلسوں اور اجتماعات منعقد کرتے ہیں۔ جب کبھی موقع ملتا ہے هنمنت لوگوں کے درمیان جاکر تقریر کرتے ہیں، لیکچر دیتے ہیں اور لوگوں کو کچھ بڑا، اچھا اور نیا کرنے کے لئے حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔

وہ یہ کہنابھی  نہیں چوکتے کہ ایک آدمی سب کچھ نہیں کر سکتا ہے۔ اچھا لیڈر بننے کے لئے بہترین اور قابل اعتماد ٹیم بنانی ضروری ہوتی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ زندگی میں جو کوئی ثقہ اور باصلاحیت لگا هنمنت نے انہیں بھارت وکاس گروپ سے منسلک کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مضبوط ٹیم بنائی اور ٹیم کے ہر رکن کو مضبوط بھی کیا۔ وہ اپنی ٹیم کو اپنا خاندان کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، "اچھے دماغ والے لوگ تو بہت مل جائیں گے، لیکن اگر کسی ادارے کو عالمی بنانا ہے تو کام کرنے والے لوگ چاہئے۔ ایسے لوگ چاہئیں جن پر اعتماد کیا جا سکے۔ ایسے لوگ چاہئیں کو آپ کے خواب کو سمجھتے ہیں، اس کو پورا کرنے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔ "

Dr Arvind Yadav is Managing Editor (Indian Languages) in YourStory. He is a prolific writer and television editor. He is an avid traveler and also a crusader for freedom of press. In last 19 years he has travelled across India and covered important political and social activities. From 1999 to 2014 he has covered all assembly and Parliamentary elections in South India. Apart from double Masters Degree he did his doctorate in Modern Hindi criticism. He is also armed with PG Diploma in Media Laws and Psychological Counseling . Dr Yadav has work experience from AajTak/Headlines Today, IBN 7 to TV9 news network. He was instrumental in establishing India’s first end to end HD news channel – Sakshi TV.

Related Stories

Stories by ARVIND YADAV