گھر بیٹھے خدمات کے لئے 'كرسنا' سے جڑے 100 بیوٹیشن

0


100 بيوٹشينو کو ایک نیٹ ورک سے منسلک

مردوں کے لئے مرد افراد کی سروس مہیا کرانے کی تجویز

ابتدائی نمونہ خدمت میں 1000 آرڈر حاصل کئے ہیں

مقررہ وقت پر گھر پہنچ کر کوئی سروس دے تو اس کے کافی امکانات

زیورات ڈزائن کے میدان میں اپنی قسمت آزما چکی پريانكا ریڈی نے اب نئے طریقے سے خوبصورتی کے بازار میں قدم رکھا ہے۔ انہوں نے گھر بیٹھے لوگوں کو بیٹیشین کی خدمات دینے کے لئے `كرسنا 'اسٹارٹپ کا آغاز کرتے ہوئے 100 بيوٹشينو کو ایک نیٹ ورک سے منسلک کیا ہے۔ پریانکا نے اس کاروبار کو بہت جلد دوسرے بڑے شہروں تک پھیلانے کا پلان بنایا ہے۔

کرسنا KRSNA در اصل پریانکا کا نیا تجربہ ہے، لیکن انہیں یقین ہے کہ یہ نہ صرف کامیاب ہوگا بلکہ اس کے ساتھ سیکڑوں ہنرمند لوگوں کو بہتر روزگار ملےگا۔ آخر اس کی شروعات کیسے ہوئی؟

پريانكا نے یور اسٹوری کو اپنی اس نئی شروعات کے بارے میں بتایا،

''پرينک برانڈ نام سے میں نے زیورات ڈزائن کا کاروبار شروع کیا تھا۔ اسی دوران کچھ دلہنوں نے مجھے گھر بیٹھے بيوٹشين کی سروس دینے والوں کے پتے پوچھے۔ بعد میں میں نے اس پر غور کیا اور پھر اس نئے کاروبار کی تجویز رکھی۔ ڈیڑھ مہینہ پہلے میرے پاس نئی کمپنی کا کام کاج ہاتھ میں تھا۔ اب میرے ساتھ 100 بيٹشين خواتین ہیں. اس طرح میں نے خواتین کے لئے گھر بیٹھے خواتین کی جانب سے خواتین کی خدمت کے لیے قابل اعتماد سروس پیش کی ہے۔ ''

پريانكا نے بتایا کہ فی الحال ان کا کام حیدرآباد اورآس پاس کے علاقے میں ہے، لیکن مستقبل قریب میں وہ دوسرے شہروں میں اپنی خدمات فراہم کریں گی۔

آج کمپنی کے رسمی افتتاح کے بعد پريانكا نے اعلان کیا کہ اب تک انہوں نے اپنی ابتدائی نمونہ خدمت میں 1000 آرڈر حاصل کئے ہیں اور مستقبل میں ان کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ پریانکا بتاتی ہیں کہ اس میں اچھی اور ماہر بیٹشین کا اپنے ساتھ جوڑے رکھنا سب سے بڑا چالینج ہے۔ اس کے لئے اپنی سروس کا بہتر بنانا اور لوگوں تک پہنچ پانا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کی ان کی سروس آن لائن بکینگ، ایپ اور فون سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

پریانکا کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ انہوں نے امریکہ سے بزنس منجمنٹ میں اعلی تیلیم حاصل کی ہے۔ جویلری ڈزائیننگ کے دوران جب بیوٹشین سروسیس کے بارے میں میں نے جاننا شروع کیا تو پایا کہ جو سہولتیں موجود ہیں، ان میں ن صرف زیادہ پیسہ لگتا ہے، بلکہ پارلر میں جاکر اپنی باری کا انتظار بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرافک میں وقت الگ کھپ جاتا ہے۔ اس کے بجائے اگر مقررہ وقت پر اگر گھر پہنچ کر کوئی سروس دے تو اس کے کافی امکانات ہے۔ یہی سوچ کر انہوں نے نیا اسٹارٹپ شروع کیا۔

پریانکا بتاتی ہیں، ''اس میں کافی امکانات ہیں۔ خصوصاً شادی بیاہ کے موقع پر لوگ پارلر جانا پسند نہیں کرتے اسکے باوجود انہیں جانا پڑتا ہے۔ اگر انہیں گھر بیٹھے سروس مل جائے تو ان کے لئے کافی آسانی ہوگی۔ آن ڈمانڈ بیٹی سروسیس کا کاروبار ہندوستان میں قریب 500 کروڑ روپے کا ہے اور یہ 18 فیصد کی شرح سے بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں ہنرمند افراد کی مانگ بھی بڑھے گی۔''

پرینکا کی نظر حیدڑاباد کے بید وجےواڑا اور بینگلور پر بھی ہے۔ اور انہوں نے 100 قابل اور ہنرمند افراد کو پنے کاروبار کا حصہ دار بنایا ہے۔ بہت جلد ان کی تجویز مردوں کے لئے مرد افراد کی سروس مہیا کرانے کی ہے۔ اس کے لئے وہ بازار کا مطالعہ کر رہی ہیں۔ انہیں امید ہے کہ حیدرآباد میں خصوصاً گچی باولی، بنجارہ ہلز، جوبلی ہلز، بیگم پیٹ اور سکندرآباد کے علاقے میں ان کی سروسیز کی کافی مانگ ہے اور 60 فیصد گاہک دوبارہ سروس کے لئے سامنے آئے ہیں۔ اس سے اندازا لگایا جا سکتا ہے کہ کارابار پھیلنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

پچھلی صدی کے آخری دہے میں کہانیاں لکھنے کے مقصدسے صحافت میں قدم رکھا تھا۔ وہ کہانیاں جو چہروں پر پہلے اور کتابوں میں بعد میں آتی ہیں۔ اس سفر میں ان گنت چہروں سے رو بہ رو ہوا، جتنے چہرے اتنی کہانیاں، سلسلہ جاری ہے۔ पिछली सदी के आखरी दशक में कहानियाँ लिखने के उद्देश्य से पत्रकारिता में क़दम रखा था। वो कहानियाँ, जो चेहरों पर पहले और किताबों में बाद में आती हैं। इस सफर में अनगिनत चेहरों से रू ब रू हुआ, जितने चेहरे उतनी कहानियाँ, सिलसिला जारी है।

Related Stories

Stories by F M Saleem