80 سالہ آٹوڈرائیور محمد حنیف ‘100 کلومیٹر سائیکل ریس کے فاتح

0

ٹکنالوجی کے اس دور میں کسی کو پل بھر کی فرصت نہیں ہے۔ صحت کی نگہداشت پر توجہ دینے کے لیے وقت نہیں نکال پارہے ہیں۔ راحت اور آسانیوں کے لیے کئی چیزیں ایجاد ہوئیں۔ ان ایجادوں کے غلط استعمال سے اب یہ وبال جان بن رہی ہیں۔ جسمانی مشقت نہ کرنے کی وجہ سے کئی بیماریوں نے انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ان سے بچنے کے لیے اب لوگ ڈاکٹروں کے کہنے پر یاتو مارننگ واک کرتے ہیں یا پھر جم وغیرہ جاکر کسرت کرتے ہیں۔ ہم آج آپ کی ملاقات ایک ایسے شخص سے کروارہے ہیں جو اپنی عمر کے 9 ویں دہے میں شامل ہوچکا ہے، لیکن صحت کے اعتبار سے کسی نوجوان سے کم نہیں ہے۔80 سال کی عمر میں 26 جنوری 2016 کو انھوں نے ساتویں مرتبہ 100 کلومیٹر کی سائیکل ریس مکمل کی۔

محمد حنیف کا تعلق نامپلی حیدرآباد سے ہے۔ انھوں نے برکت پورہ عنبرپیٹ کے ہائی اسکول سے 9 یں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد وہ تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ اس وقت اسکول میں پولیس ٹریننگ بھی دی جاتی تھی۔ اس ٹریننگ میں پنڈت جواہر لال نہرو نے 1964ءمیں اپنے ہاتھوں سے محمد حنیف کو ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔ اب وہ زہرہ نگر روڈ نمبر10 بنجارہ ہلز میں رہتے ہیں۔ پولیس میں ملازمت کرناچاہتے تھے لیکن بعض ناگزیر وجوہات کی بناءپر ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ لیکن انھوں نے کسرت جاری رکھی اور آج ان کی صحت کا یہی راز ہے۔ انھوں نے مختلف کام بھی کئے ہیں۔ گذشتہ 50 سال سے وہ روزگار کے لیے آٹو چلارہے ہیں۔

محمد حنیف کے 6 بچے ہیں۔ ان میں 2 لڑکے ہیں۔ بڑا لڑکا دبئی میں برسرروزگار ہے۔ چھوٹا بیٹا ابھی انٹرسکینڈر ایر میں زیر تعلیم ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ حرکت میں برکت ہے اس لیے وہ ہمیشہ محنت کرتے رہتے ہیں۔ اس سے ان کے افراد خاندان بھی منع نہیں کرتے۔ سب کی خوشی سے وہ کام کرتے ہیں۔

روز صبح وہ 4:30 بجے بیدار ہوجاتے ہیں۔ مارننگ واک کے بعد وہ اپنے کاروبار سے لگ جاتے ہیں۔ صبح اسکول کے بچوں کا راتب بھی ہے۔ محمدحنیف بچوں کو پابندی سے گھر سے اسکول اور اسکول سے گھر لاتے ہیں۔

ماضی میں بعض لوگوں نے سائیکل پر حج کا ارادہ ظاہر کیا تھا اور اسے عملی جامع بھی پہنایا تھا ۔ محمد حنیف بھی اس طرح کا ارادہ ظاہر کرچکے ہیں۔ اسے عملی جامع پہنانے کے لیے وہ حیدرآباد سے 6 ساتھیوں کے ہمراہ سائیکل پر 2006ءمیں حج کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے وہ براہ ِ دہلی لاہور تک سائیکل پر پہنچے۔ یہاں پر جنرل پرویز مشرف نے بذریعہ طیارہ ان کے حج کر روانہ کرنے کا انتظام کیا۔ اس طرح محمد حنیف حج کے لیے بھی تشریف لے گئے۔

سفر کے دوران کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا ،

”سائیکل پر سفر کے دوران ہم عادل آباد کے جنگلوں میں پہنچ گئے۔ یہاں ہمیں بتایا گیا کہ آدم خور جانور یہاں کھلے عام گھومتے رہتے ہیں۔ ہم نے سوچا کہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی بھی جانور ہمیں تکلیف نہیں پہنچاسکتا۔ ایسا ہی ہوا۔ جنگلی جانور ،شیر وغیرہ ہمیں دیکھے لیکن کسی بھی جانور نے ہم پر حملہ نہیں کیا اور سب جنگل میں واپس لوٹ گئے۔ تب ہم سمجھ گئے یہ بے شک اللہ کے گھر کو جانے کا ارادہ کرنے والوں کو یہ تکلیف دینے نہیں بلکہ استقبال کرنے آئے تھے“۔

سائیکل ریس میں مسلسل حصہ لینے کے بارے میں جب ان سے پوچھا گیا تو انھوںنے بتایا، ”موجودہ دور میں صحت کے تعلق سے کوئی بھی خاص توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ جسمانی مشقت کی کمی کی وجہ سے بیماریاںبڑھ رہی ہیں۔ صحت کی برقراری کے لیے سائیکلنگ ایک اچھی کسرت ہے۔ ہر سال میں اس سائیکل ریس میں نہ صرف حصہ لیتاہوں بلکہ اسے مکمل بھی کرتاہوں۔ 100 کلومیٹر کی ریس سبح 7 بجے شروع ہوتی ہے اور 2 .30 بجے ختم ہوتی ہے۔ اس طرح مسلسل سائیکل چلانے کے بعد مختلف پڑاﺅ بھی ملتے ہیں جہاں ٹھہر کر پانی وغیرہ پی سکتے ہیں اس کے بعد مکمل 100 کلومیٹر کی ریس کا اختتام ہوتا ہے۔ “

100 کلومیٹر کی ریس مکمل کرنے کے بعد وہ سبھی کی توجہ کے مرکز بن جاتے ہیں۔ سینکڑوں لوگوں کے بیچ نحیف سے نظرآنے والے حنیف سب سے طاقتور ثابت ہوتے ہیں۔ انھوں نے میڈلس کو صحت کے نام معنون کیا ہے۔

محمد حنیف اپنے عمل کے ذریعہ سے لوگوں کو یہ بتارہے ہیں کہ ہم جس طرح صحت کے لیے کوشش کریں گے ہمیں صحت بھی ویسے ہی ملے گی۔ بیمار ہونے کے بعد لوگ موٹی موٹی رقم دواخانوں میں ڈالتے ہیں اور اگر دواخانے میں شریک ہوجائیں تو نہ صرف پیسے خراب ہوتے ہیں بلکہ وقت کا بھی بے جا اسراف ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو وہ اپنا قیمتی مشورہ سے اس طرح دیتے ہیں”صحت بہت بڑی نعمت ہے۔ نوجوانوں کو اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ جسمانی ورزش اس دورمیں نہایت ضروری ہے۔ اگر نوجوان فٹ نہ رہیں تو وہ دوسروں کے کام کیسے آئیں گے۔ سماجی خدمت کے لیے خود اچھی صحت کے حامل ہونا ضروری ہے۔ صبح سویر اٹھنا چاہے ۔ جسمانی ورزش اور سائیکل وغیرہ کرناچاہیے۔ بیماریوں کے اس ماحول میں اچھی صحت کے لیے کوشش کرنا لازمی ہے“۔

محمد حنیف کا جذبہ سبھی کے لیے قابل تقلید ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کو جدوجہد سے عبارت کیا ہے۔

کچھ اور دلچسپ کہانیوں کے لئے FACEBOOK پر جائیں اور لائک کریں۔

یہ کہانیاں بھی ضرور پڑھیں۔۔۔


سبحان بیکرس نئی اڑان کے لئےتیار۔۔۔ گھر اور بچے ہی ہیں کامیابی کی تجربہ گاہ

جسے ماں کے پیٹ میں مارنے کی کی گئی تھی کوشش، اس نے لوٹایا 850 کا بچپن